نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ماہانہ مضامین اگست 2026ء

بنگالی مسلمانوں کا انقلابی شعور

تاریخ اور شناخت کے تناظر میں مستقبل کا لائحہ عمل

by عبد الرحیم
in اگست 2026ء, حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
0

ایامِ قدیم ہی سے بنگال کے عوام ظلم و استبداد کے خلاف برسرِ پیکار اور انقلابی جذبوں سے سرشار رہے ہیں۔ اہلِ بنگال بارہا کافر اور جابر حکمرانوں کی یلغار کا شکار ہوئے۔ بیسیوں مرتبہ انہیں جارحیت اور طوفانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، تباہی اور نقصانات کے کڑوے گھونٹ پینے پڑے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک نہ ایک دن ظالم کا زوال ضرور واقع ہوا، اور بالآخر ظلم و استحصال کی سیاہ رات کا خاتمہ ہو کر رہا۔

حوادث کے خواہ کتنے ہی طوفان کیوں نہ برپا ہوں، ظالم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے میں کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے، بنگال کے مسلمانوں نے کبھی انقلاب اور مزاحمت کا راستہ ترک نہیں کیا۔ اگر کبھی شکست سے دوچار ہوئے بھی، تو ایک نئے عزم کے ساتھ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن کفر اور جبر کو ان بنگالی مسلمانوں نے کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔

بسا اوقات ظلم کی شبِ تاریک بہت طویل ہو گئی، لیکن یہ انقلابی بنگالی کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوئے۔ بار بار اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ اٹل فرمان بنگال کی سرزمین اور ان مسلمانوں کی زندگی میں ایک ابدی حقیقت کا روپ دھار کر جلوہ گر ہوا:

اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ ۭ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ؁(سورۃ آل عمران: ۱۴۰)

’’ اگر تمہیں ایک زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی اسی جیسا زخم پہلے لگ چکا ہے۔ یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور مقصد یہ تھا کہ اللہ ایمان والوں کو جانچ لے، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘

ارضِ بنگال کی انقلابی تاریخ

فاتحِ بنگال اختیار الدین محمد بختیار خلجی ﷫ کی فتحِ بنگال کی بدولت اس خطے میں مسلم حکومت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

گوڑ گوبند کے خلاف مہم، ہندتوا کا قلع قمع اور فتحِ سلہٹ

بنگال کے ممتاز مسلم سلطان شمس الدین فیروز شاہ نے اپنے دورِ حکومت میں کلمۃ اللہ کی سربلندی اور مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کے لیے مختلف اطراف میں جہادی مہمات روانہ کیں۔ سلہٹ کے علاقے کا حکمران، گوڑ گوبند، ہندتوا کا کٹر پیروکار اور مسلمانوں پر شدید مظالم ڈھانے والا تھا۔ یہ بات مشہور ہے کہ اس کے زیرِ تسلط علاقوں میں مسلمانوں کے لیے گائے ذبح کرنے پر مکمل پابندی عائد تھی، اور اس نام نہاد جرم کی پاداش میں مسلمانوں کو انتہائی ہولناک سزائیں دی جاتی تھیں۔

مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب ہونے اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے پیشِ نظر مقامی مسلمانوں نے دہلی سلطنت کو مدد کے لیے پکارا۔ اسی تسلسل میں ۱۳۰۳ء میں شاہ جلال ﷫ کی قیادت میں تشریف لانے والے صوفیائے کرام اور سلطنت کی افواج نے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے گوڑ گوبند کو شکستِ فاش دی۔ اس شاندار کامیابی کے نتیجے میں سلہٹ میں مسلم حکومت کا پرچم لہرایا اور اسلام کی دعوت، تعلیم اور عدل پر مبنی معاشرتی نظام تیزی سے پھیلنے لگا۔ درحقیقت یہ واقعہ بنگال کے مسلمانوں کی جانب سے ظلم اور مذہبی جبر کے خلاف متحد ہو کر مزاحمت کرنے کی ایک قدیم اور روشن مثال ہے۔

راجہ گنیش کا غاصبانہ قبضہ اور بنگال کے علماء، صوفیاء اور مسلم عوام کی مزاحمت

الیاس شاہی خاندان کے اواخر میں جب مسلم سلاطین کمزور پڑ گئے تو ہندوؤں کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا۔ 1414ء میں الیاس شاہی خاندان کے آخری سلطان علاؤ الدین فیروز شاہ کو معزول کر کے با اثر زمیندار گنیش نے تختِ حکومت پر قبضہ جما لیا۔ اسلامی حکومت کی بساط لپیٹ کر براہِ راست ایک ہندو راجہ کا اقتدار پر قابض ہونا، بنگال کے عوام نے ہرگز برداشت نہیں کیا۔ علمائے کرام، صوفیاء اور معززین سمیت تمام عام مسلمانوں نے گنیش کی حکومت کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا، اور اسے تخت سے ہٹانے کے لیے ان کی کوششیں اور منصوبہ بندیاں مسلسل جاری رہیں۔ اس عظیم مقصد کی خاطر انہوں نے جونپور کے سلطان ابراہیم شرقی کی مدد حاصل کی اور انہیں گنیش کے خلاف مہم سر کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ 1418ء کے لگ بھگ ایک متوقع فوجی مہم کے خطرے کے پیشِ نظر راجہ گنیش تخت سے دستبردار ہو گیا، اور اس کے بیٹے نے اسلام قبول کر لیا۔ معروف صوفی بزرگ نور قطب العالم کی ثالثی میں گنیش کے نو مسلم بیٹے جلال الدین کو سلطان منتخب کیا گیا۔

اس تاریخی واقعے کے ذریعے بنگالی مسلمانوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ اگر اسلام کے سوا کوئی اور نظریہ ان پر مسلط کیا گیا تو وہ اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ استحصال اور کفر کے سیاہ بادل بظاہر بنگال کے آسمان پر کتنے ہی کیوں نہ چھا جائیں، ایک نہ ایک دن یہ آسمان توحید کی ابدی روشنی سے ضرور منور ہو گا۔

بادشاہ اکبر کے سیکولر ’دینِ الٰہی‘ اور استحصال کے خلاف بنگال کے عوام کی ناقابلِ فراموش مزاحمت

برصغیر پاک و ہند کی پوری تاریخ میں اکبر ایک بدترین، انتہائی ظالم اور جابر حکمران گزرا ہے۔ یورپی انلائٹنمنٹ (روشن خیالی) کے ذریعے دنیا بھر میں مغربی سیکولرازم مسلط کیے جانے سے بہت پہلے، مختلف خطوں میں سیکولرازم جیسے جن نظریات نے جنم لیا، ان میں بادشاہ اکبر کا ایجاد کردہ ’دینِ الٰہی‘ نمایاں حیثیت کا حامل تھا۔ جب اس نے تمام مذاہب کی آمیزش سے تیار کردہ اس کفریہ نظریے کو مسلط کرنے کی مذموم کوشش کی، تو اسے مختلف مقامات پر علماء اور مجاہدین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

ان جری سرفروشوں میں بنگال کے لوگوں نے کئی دہائیوں تک جس طرح اکبر کو مسترد کیا اور اس کے خلاف مزاحمت کی، وہ واقعی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔ پورے بنگال پر قبضہ جمانے میں اکبر کو تقریباً 25 سے 30 سال کا طویل عرصہ لگا۔ اس دوران اکبر کی فوج کو بار بار بنگال کے عوام کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ اسے شکست کا تلخ مزہ بھی چکھنا پڑا۔

یہ بات بجا ہے کہ اکبر کے خلاف لڑنے والے تمام بنگالیوں نے محض دین کے لیے جہاد نہیں کیا تھا۔ بہت سے ہندو راجاؤں نے بھی بارہ بھویاں (بارہ زمینداروں) کے حلیف بن کر محض سیاسی اور معاشی وجوہات کی بنا پر اکبر کے خلاف جنگ لڑی، اور مسلمانوں میں سے بھی بعض کے غالباً ایسے ہی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ لیکن اتنی بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اکبر کے خلاف جنگ لڑی اور اس کے کفریہ نظریے ’دینِ الٰہی‘ کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ کے حصے کے طور پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ تاریخ کی کتابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں ہندوستان کے مرکزی دھارے کے علمائے کرام کی طرح بنگال کے علماء اور عوام بھی اکبر کو مرتد اور دین کا باغی ہی سمجھتے تھے۔ عیسیٰ خان، ان کے بیٹے موسیٰ خان، اور افغان سپہ سالار معصوم خان کابلی وغیرہ کی ولولہ انگیز قیادت میں بہت سے بنگالیوں نے اکبر کے خلاف اس جدوجہد کو اپنا دینی فریضہ سمجھ کر انجام دیا۔ اگر بنگالیوں کی یہ عظیم مزاحمت نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ اکبر اپنا کفریہ نظریہ مزید کئی خطوں میں پھیلا سکتا، اور اگر جنگ و جدل کی یہ مصروفیت آڑے نہ آتی تو اس کا نظریہ، نظامِ حکومت اور ظلم یقینی طور پر کئی گنا زیادہ طاقتور ہو کر سامنے آتا۔

اکبر کی موت کے بعد اس کے نظریاتی زوال کے پیچھے جہاں مجدد الف ثانی ﷫کی دعوت کا نمایاں کردار ہے، وہیں بنگال سمیت ہندوستان کے مختلف خطوں کے مسلمانوں کے جہاد اور مزاحمت کا کردار بھی ناقابلِ انکار ہے۔ درحقیقت اسی شاندار جدوجہد اور مزاحمت کی برکت سے اکبر کا ’دینِ الٰہی‘ کبھی امن و استحکام کے ساتھ حکومت نہیں کر سکا، اور اس دور میں ہندوستان کی سرزمین پر مستقل طور پر اپنی جڑیں مضبوط کرنے سے قاصر رہا۔

برطانوی استعمار مخالف تحریک میں بنگال کے مسلمانوں کا شاندار کردار

بنگالی مسلمانوں کی جدوجہد کی تاریخ محض ہندتوا اور شہنشاہ اکبر کے ہمہ مذہبی نظریے کے خلاف لڑائی تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ ہندوستان پر انگریزوں کے غاصبانہ قبضے کے بعد سے، ہندوستان اور پاکستان کے مسلمانوں کے شانہ بشانہ بنگالی مسلمانوں نے بھی انگریزوں کے خلاف شجاعت اور فخر کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔

سید احمد شہید بریلوی ﷫ کی انگریز اور سکھ مخالف جہادی تحریک میں بنگال کے مسلمانوں نے خفیہ طور پر بڑے پیمانے پر شرکت کی اور اس کی بھرپور حمایت کی۔

سید احمد شہید﷫کے ممتاز شاگرد، شہید تیتو میر ﷫ کی جرات مندانہ مزاحمت بنگالی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ تیتو میر ﷫ نے برطانوی حکمرانوں اور ان کے حواری ظالم زمینداروں کے خلاف مسلح مزاحمت کی بنیاد رکھی۔ ناریل باڑیا کا مشہور ’بانس کا قلعہ‘ آج بھی بنگال کی آزادی پسندانہ جدوجہد کی علامت مانا جاتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے 1831ء میں جامِ شہادت نوش کیا، لیکن ان کی یہ تحریک بعد کی برطانوی مخالف جدوجہد کے لیے ایک سرچشمہِ الہام بنی رہی۔ بنگال کے مسلمانوں کی یہ جدوجہد محض سیاسی آزادی کے لیے نہیں تھی، بلکہ یہ مذہبی آزادی، سماجی انصاف اور معاشی نجات کے مطالبے پر بھی مبنی تھی۔

سید احمد شہید ﷫ کی شہادت کے تیس سال بعد بھی مولانا عنایت علی اور ولایت علی کی قیادت میں ان کی تحریک کا جو مبارک تسلسل جاری رہا، اس میں بھی بنگالی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

برطانوی ہند کے اعلیٰ سول سروس (ICS) افسر، مشہور مؤرخ اور ماہرِ شماریات ولیم ہنٹر نے اپنی شہرہ آفاق کتاب The Indian Musalmans میں بنگال اور انڈیا کے مختلف خطوں کے جہادی نیٹ ورک کا تذکرہ کیا ہے، اور اس نیٹ ورک کو اس وقت کی برطانوی سلطنت کے لیے شدید تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔ ہنٹر لکھتا ہے:

“ان کے پیروکاروں کو ملک کے مختلف حصوں، جیسے بنگال میں راجشاہی، بہار میں پٹنہ، اور پنجاب کی سرحد جیسے ایک دوسرے سے بظاہر انتہائی دور دراز علاقوں میں بغاوت کی تبلیغ کرتے پایا گیا۔ اس پورے عرصے کے دوران ان ’انتہا پسندوں‘ نے سرحدی قبائل کو برطانوی طاقت کے خلاف مستقل دشمنی کی حالت میں رکھا۔‘‘

“Their followers were found preaching sedition in different parts of the country so far apart as Rajshahi in Bengal, Patna in Bihar, and the Punjab Frontier. Throughout the whole period the fanatics kept the border tribes in a state of chronic hostility to the British Power.”1The Chronic Conspiracy Within Our Territory: Chapter II

یہ ہنٹر کا ایک انتہائی مشہور بیان ہے، جس میں اس نے بنگال سے لے کر شمال مغربی سرحد تک پھیلے ہوئے ایک منظم نیٹ ورک کا تصور پیش کیا ہے۔

ہنٹر مزید لکھتا ہے:

’’ہماری مسلم رعایا میں موجود ’انتہا پسند‘ گروہ مسلسل مال اور افراد کی فراہمی کے ذریعے اس سرحدی کیمپ کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔‘‘

“The fanatical sects among our Muhammadan subjects have been feeding it with an inexhaustible supply of money and men.”2The Standing Rebel Camp on our Frontier: Chapter I

اس کے علاوہ، انیسویں صدی میں برطانوی استعماری تسلط اور زمیندارانہ استحصال کے خلاف بنگال کے مسلم معاشرے نے کئی طاقتور تحریکیں کھڑی کیں۔ حاجی شریعت اللہ ﷫ کی مخلصانہ قیادت میں فرائضی تحریک نے مسلمانوں کی دینی اصلاح، سماجی بیداری اور ظالمانہ ٹیکس نظام کے خلاف عوامی شعور بیدار کیا۔ بعد ازاں، ان کے جانشین دودو میاں نے کسانوں کے حقوق کے تحفظ کی اس تحریک کو مزید وسعت دی۔

یہ تمام واقعات روزِ روشن کی طرح ظاہر کرتے ہیں کہ بنگال کی تاریخ میں ناانصافی، جبر اور مذہبی و سیاسی تسلط کے خلاف مزاحمت ایک مسلسل اور بار بار دہرائے جانے والے سلسلے کا نام ہے۔

ہندتوا کی آلۂ کار شیخ حسینہ کا زوال، نامکمل انقلابِ باراں اور بنگال کے مسلمانوں کے کاندھوں پر باقی ماندہ ذمہ داریاں

جولائی کی عوامی بغاوت میں سینکڑوں شہداء کے بہتے خون اور زخمیوں کی بے لوث قربانیوں کے طفیل، اللہ کے بے پایاں فضل و کرم سے بنگلہ دیش کے طلباء اور عوام نے شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا۔ اس عمل سے انہوں نے ایک بار پھر ظلم کے خلاف اپنے بیدار انقلابی شعور کا ثبوت دیا ہے۔ پندرہ سال تک اقتدار کی مسند پر براجمان رہ کر شیخ حسینہ نے اپنی طاقت کو اس قدر مستحکم کر لیا تھا اور تمام مخالفین کو اس بے دردی سے کچل دیا تھا کہ بظاہر اسے اقتدار سے ہٹانے کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ لیکن جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے چاہا، تو محض چند ہی دنوں میں اس کی پوری سلطنت تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر رہ گئی۔

درحقیقت یہ صورتحال بالکل سورۃ الحشر میں بیان کردہ یہودیوں کی حالت سے مشابہت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

هُوَ الَّذِيْٓ اَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِڼ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ يَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا ۤ وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ ۤ فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ۝ (سورۃ الحشر: ۲)

’’وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافر لوگوں کو ان کے گھروں سے پہلے اجتماع کے موقع پر نکال دیا۔ (مسلمانو) تمہیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ وہ نکلیں گے، اور وہ بھی یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے۔ پھر اللہ ان کے پاس ایسی جگہ سے آیا جہاں ان کا گمان بھی نہیں تھا، اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی اجاڑ رہے تھے۔ لہٰذا اے آنکھیں رکھنے والو ! عبرت حاصل کرو۔‘‘

بالکل اسی طرح ہر دور میں قرآنِ مجید میں بیان کردہ سنتِ الٰہی بار بار پوری ہوئی ہے:

وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ

’’اور یہ (ہار جیت کے) دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں……‘‘

بنگال کی اسی درخشاں انقلابی تاریخ سے مسلم بنگال کے عوام کی حقیقی شناخت واضح ہوتی ہے۔ اس سرزمین پر اسلام کا پیغام پہنچنے کے بعد، دعوت اور جہاد کے ذریعے یہ ناقابلِ یقین تیزی کے ساتھ چاروں طرف پھیل گیا، اور پورے بنگال کا مشرق و مغرب اور شمال و جنوب اسلام کی ابدی روشنی سے منور ہو گیا۔ اس خطے کی تقریباً پوری آبادی نے اسلام کو سچے دل سے قبول کر لیا۔ اسی وقت سے اسلام اس بنگالی قوم کی شناخت کا محور و مرکز بن گیا، اور یہی دین ان کی بغاوت اور جدوجہد کا سب سے بڑا محرک ثابت ہوا۔

بنگالی مسلمانوں کی بغاوت اور جدوجہد کی طویل تاریخ کا عمیق جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نظریاتی اعتبار سے انہیں بنیادی طور پر تین طرح کے دشمنوں سے نبرد آزما ہونا پڑا ہے۔

  1. گوڑ گوبند یا راجہ گنیش جیسے حکمران جو صریحاً ہندتوا کے پیروکار تھے۔
  2. شہنشاہ اکبر ایک سیکولر کردار کا حامل تھا، اس کا ایجاد کردہ ’دینِ الٰہی‘ موجودہ دور کے سیکولرازم سے بہت حد تک مماثلت رکھتا ہے۔
  3. شہید تیتو میر اور حاجی شریعت اللہ وغیرہ کی تحریکیں برطانوی استعمار کے خلاف برپا تھیں۔ ان استعمار پرستوں نے مادیت پرستی، صارفیت، سرمایہ داری اور سیکولرازم سمیت مغربی تہذیب سے پھوٹنے والے نظریات کو بڑے پیمانے پر پھیلا کر شاہ جلال کی اس سرزمینِ مقدس کو آلودہ کر دیا تھا۔

ماضی کی طرح آج کے اس پر فتن دور میں بھی ہمارے بنگالی مسلمانوں کے سامنے بنیادی مسئلے کے طور پر وہی تینوں نظریات ایک بار پھر موجود ہیں، اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا بنگالی مسلمانوں کی شناخت کا انمٹ حصہ بن چکا ہے۔

  1. ہندتوا اور بھارتی جارحیت
  2. سیکولرازم، سوشلزم، تکثیریت (Pluralism) وغیرہ
  3. جدید عالمی نظام، جمہوریت اور سرمایہ داری کے ذریعے مسلط کردہ بالواسطہ استعمار اور مغربی یلغار۔

اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے جولائی کی تحریک میں حسینہ کی ظالم حکومت کا تختہ الٹ کر ہم نے بلاشبہ ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ہم ابھی تک منزلِ مقصود تک نہیں پہنچے۔ حسینہ کے ذلت آمیز زوال اور فرار سے اس ملک میں ہندتوا اور بھارتی جارحیت کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ ہندتوا کی اہم مہرہ اور ایجنٹ، حسینہ شکست کھا کر فرار ہو چکی ہے۔ نتیجتاً، عوام پہلے کی نسبت کسی حد تک زیادہ آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اور عوام کی شہادتوں اور قربانیوں کی برکت سے گمشدگیوں اور قتل و غارت گری کا وحشت ناک سلسلہ وقتی طور پر ہی سہی، تھم ضرور چکا ہے۔

تاہم، بنگال کے عوام کو یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ ابھی ہماری مکمل فتح نہیں ہوئی۔ ابھی تک ریاست اسی حسینہ کے بنائے ہوئے طاغوتی آئین کے تحت چل رہی ہے، وہ آئین جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کرتا ہے، عوام کی شرعی امنگوں کو پامال کرتا ہے اور سیکولرازم، جمہوریت، سوشلزم اور قوم پرستی جیسے چار کفریہ نظریات کو ہر چیز کی بنیادی اساس اور سرچشمہ قرار دیتا ہے۔ انگریزوں کے چھوڑے ہوئے کالے قوانین اور لادین نظامِ تعلیم آج بھی جوں کے توں نافذ العمل ہیں۔ سرمایہ دارانہ استحصال کے ذریعے امیر دن بدن امیر تر ہو رہے ہیں، اور غریب مکمل طور پر محرومی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ مزید برآں، مغربی تسلط اور بالواسطہ استعمار پوری طرح موجود ہے۔ اور جب تک یہ دونوں سنگین مسائل جوں کے توں موجود ہیں، کسی بھی وقت ان کے راستے دوبارہ ہندتوا کی جارحیت کے مسلط ہونے کا شدید خطرہ باقی ہے۔

اسی لیے بنگالی مسلمان جس طرح ہندتوا کی ایجنٹ شیخ حسینہ کے خلاف طوفان بن کر گرجے تھے، بالکل اسی طرح انہیں سیکولرازم اور مغربی بالواسطہ استعمار کے خلاف بھی اپنی لڑائی پوری استقامت سے جاری رکھنی ہو گی۔ جس طرح انہوں نے ہندتوا اور بھارتی جارحیت کو مسترد کیا تھا، بعینہٖ اسی طرح سیکولر سرمایہ دارانہ یلغار کو بھی پاؤں تلے روندنا ہو گا۔

جولائی کی تحریک میں لاکھوں زبانوں پر ایک ہی نعرہ گونجتا تھا: ’’ابو سعید، مگدھو شیش ہوئنی جُدھو‘‘،یعنی تحریک میں جامِ شہادت نوش کرنے والے دو سرفروش شہداء، ابو سعید اور مگدھو کے نام پر نعرہ لگا کر مظاہرین یہ واضح پیغام دیتے تھے کہ یہ جدوجہد ابھی جاری ہے۔

یہاں تک کہ حسینہ کے عبرتناک زوال کے بعد بھی مختلف بغاوتوں اور سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے یہی نعرہ بلند کیا گیا ہے۔ یہ بات درحقیقت اپنے لفظی معنوں میں بھی صد فیصد سچ ہے، اور اس حقیقت کو سب کو دلوں میں نقش کر لینا چاہیے۔ جب تک اس غلیظ سرمایہ داری، کفر پر مبنی سیکولرازم اور ظالمانہ نوآبادیاتی نظام کا قلع قمع نہیں ہو جاتا، جب تک ہم شریعت کے عدل و انصاف کے سائے میں پناہ نہیں لے لیتے، تب تک ہمیں اپنی یہ جدوجہد جاری رکھنی ہو گی۔ بظاہر کتنا ہی مشکل کیوں نہ لگے، اس سیکولرازم اور ظالمانہ نظام کو ایک ناقابلِ تغیر مقدر کے طور پر ہرگز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

ذرا سوچیے، کیا ہم نے جولائی سے پہلے اپریل کے مہینے میں بھی یہ تصور کیا تھا کہ حسینہ کا اتنی جلدی زوال ہو جائے گا؟ لیکن کیا اللہ تعالیٰ کا وہ اٹل فرمان ایک بار پھر ہماری زندگیوں میں روزِ روشن کی طرح سچ ثابت نہیں ہوا: وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ(اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری پھیرتے رہتے ہیں۔)

حسینہ نے بظاہر اپنی طاقت کو اس قدر مضبوط کر لیا تھا کہ بعض لوگ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب چکے تھے۔ اگر ان کی طرح باقی سب بھی مایوس ہو جاتے، اور حسینہ ہی کی آمریت کو اپنا مستقل مقدر مان لیتے، تو کیا آج ہم یہ خوبصورت دن دیکھ پاتے؟ کیا بنگال کے مسلمان یہ نسبتاً آزادی محسوس کر پاتے؟

تاریخ گواہ ہے کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب انگریزوں کو بھی ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ لیکن کچھ تاخیر سے ہی سہی، دو سو سال بعد ہی سہی، کیا ان کا سورج غروب نہیں ہوا؟

لہٰذا، آج کا یہ استحصالی عالمی نظام بظاہر کتنا ہی مستحکم اور ناگزیر کیوں نہ لگے، سیکولرازم، برطانوی کالے قوانین اور نوآبادیاتی نظام سے نجات پانا بظاہر کتنا ہی مشکل اور ناممکن کیوں نہ محسوس ہو، حقیقت میں ان کا زوال ایک دن ہو کر رہے گا، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہمیشہ کی طرح سچ ثابت ہو کر رہے گا۔ چنانچہ کفر اور ظلم کے اس کچرے کو مستقل مقدر کے طور پر قبول کرنے کی کوئی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہیں ہے۔ بلکہ مکمل اتحاد، ٹھوس منصوبہ بندی، پیہم کوششوں اور ان تھک جدوجہد کے ذریعے، بنگال کے مسلمانوں کو مستقل آزادی کی جانب یونہی مسلسل آگے بڑھتے رہنا ہو گا!

٭٭٭٭٭

  • 1
    The Chronic Conspiracy Within Our Territory: Chapter II ↩︎
  • 2
    The Standing Rebel Camp on our Frontier: Chapter I ↩︎
Previous Post

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | چھٹی قسط

Next Post

بنگلہ دیش کا قانون خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہے؟

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اگست 2026

21 اگست 2026
مَعرکے ہیں تیز تَر! | ستمبر تا نومبر 2024
عالمی جہاد

مَعرکے ہیں تیز تَر! | اگست 2026

21 اگست 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: بیالیس (۴۲)

21 اگست 2026
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
نقطۂ نظر

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

20 اگست 2026
سوشل میڈیا کے جاسوس
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا کے جاسوس

20 اگست 2026
سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)
اوپن سورس جہاد

سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

20 اگست 2026
Next Post
بنگلہ دیش کا  قانون  خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہے؟

بنگلہ دیش کا قانون خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہے؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اگست 2026ء
اگست 2025

اگست 2026ء

by ادارہ
20 اگست 2026

Read more

تازہ مطبوعات

سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
جہادِ شام کے اسباق
مطبوعات حطین

جہادِ شام کے اسباق

فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کا بیان ”فَلنُقَاتِلهُم بُنيَانًا مَرصُوصًا“ مقدمہ و حواشی کے ساتھ مترجم: مولانا عمار خان     ...

ستمبر, 2026
د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو
مطبوعات حطین

د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو

  لیکوال: شيخ ډاکټر سامي بن محمود العُريدي ژباړن: مولوي عماد الدین خالد     ډاونلوډ کړی       ...

ستمبر, 2026
مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مطبوعات حطین

مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں

مصنف: شیخ ڈاکٹر سامی بن محمود العریدی مترجم: مفتی عامر احمد سلطانی     ڈاؤن لوڈ کریں       ...

ستمبر, 2026
مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version