عذابِ اہل جہنم
عذاب جہنم کے مختلف درجات ہوں گے۔ جہنم میں جو شخص سب سے ہلکے اور سب سے کم درجے کے عذاب کا مستحق ہو گا، اس کے حوالے سے بخاری شریف کی ایک حدیث ہے:
يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَکَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ أَکُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ نَعَمْ! فَيَقُولُ: أَرَدْتُ مِنْکَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِکَ بِي شَيْئًا، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِي۔
’’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب پانے والے سے پوچھے گا : اگر تجھے روئے زمین کی تمام چیزیں میسر ہوں تو کیا تو وہ فدیے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا : ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے تجھ سے اس سے زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پیٹھ میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، لیکن تو میرے ساتھ شرک پر مصر رہا۔ “
اللہ فرمائیں گے کہ میں نے تو تم سے پوری دنیا بھر سونا نہیں مانگا تھا، میں نے تو اس سے بہت ہلکی چیز تم سے مانگی تھی، بہت سہل کام تمہیں کرنے کو کہا تھا اور وہ بھی تم نے نہیں کیا! آج کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو چند روپوں کی خاطر، نہ کہ سونے سے بھری پوری دنیا کے بدلے اپنا دین چھوڑ دیتے ہیں ۔ کتنے لوگ ہیں جو چند روپوں کی خاطر نماز چھوڑتے ہیں، کتنے ہیں جو چند ٹکوں کی خاطر جمعے کی نماز کی پروا نہیں کرتے اور کتنے ہی ایسے ہیں جن کے ذہن و دل میں اپنے دین اسلام کی فکر و خیال ہی نہیں آتا، محض اس فانی دنیا کی فکروں میں گھلتے رہتے ہیں۔ ہم سالہا سال اس دنیا کے لیے محنت کرتے ہیں، اپنے آپ کو کھپاتے ہیں، گھلاتے ہیں مگر اتنے سالوں کی خواری کے بعد ہمیں حاصل کیا ہوتا ہے؟ ایک انسان زیادہ سے زیادہ کس قدر کما سکتا ہے؟ وہ جس قدر بھی کما لے کیا وہ اس قابل ہے کہ وہ اس کے بدلے اپنا دین چھوڑ دے؟ ہرگز نہیں۔ وہ جو جہنم کی سب سے ہلکی سزا پا رہا ہو گا، اس کے اختیار میں ہو تو وہ پوری دنیا کو سونے سے بھرکر فدیے میں دے دے اور اپنی جان اس عذاب سے چھڑا لے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے تو اس سے بہت ہی آسان چیز کا مطالبہ اس دنیا میں کیا تھا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، مگر اس نے انکار کیا۔
اور یہ سب سے ہلکی سزا کیا ہے جہنم کی جس کے بدلے ایک جہنمی روئے زمین کی تمام دولت فدیے میں دینے کو تیار ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ (بخاری)
’’ قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم وہ شخص ہو گا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگ کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔ ‘‘
یہ جہنم کی سب سے ہلکی سزا ہے، ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں جہنم کی آگ سے۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُکِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ کَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ (بخاری)
’’ حضرت ابوسعید خدری ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا (ابو طالب) کا ذکر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ امید ہے قیامت کے دن انہیں میری شفاعت کچھ نفع دے جائے گی کہ وہ آگ کے درمیانے درجے میں کر دیے جائیں گے کہ آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ کھولنے لگے گا۔ ‘‘
ابو طالب کو جہنم کے اس ہلکے عذاب والے درجے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش اور شفاعت کے بعد ڈالا جائے گا۔
منافقین کی سزا
منافقین جہنم کے سب سے نچلے (سب سے زیادہ عذاب والے) درجے میں ہوں گے۔
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (سورة النساء :۱۴۵)
’’ منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے ۔‘‘
عذاب کی مختلف انواع
کھال بھون ڈالنے کا عذاب
جہنمیوں کو متفرق عذاب دیے جائیں گے، جن میں سے ایک عذاب کھال کو بھون ڈالنے کا عذاب ہو گا۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا (سورۃ النساء: ۵۶)
’’ بےشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے، ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جائیں گی، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بےشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔ ‘‘
ہم جانتے ہیں کہ درد محسوس کرنے والے اعصاب کی سب سے زیادہ تعداد پٹھوں اور گوشت کی نسبت جلد میں موجود ہوتی ہے، لہٰذا جلد ہی سب سے زیادہ تکلیف اور درد محسوس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کی جلد جل جائے گی اور اس کے اعصاب میں درد محسوس کرنے کی صلاحیت نہ رہے گی تو اللہ ان کی جلد تبدیل کر دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں اور ہم پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ جلد کی وہ تہہ کس قدر موٹی ہو گی۔
پگھلنے کا عذاب
عذاب کی ایک اور قسم پگھلنا ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ ۭ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهٖ مَا فِيْ بُطُوْنِهِمْ وَالْجُلُوْدُ (سورۃ الحج: ۱۹،۲۰)
’’ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے، ان کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی چھوڑا جائے گا، جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔‘‘
یہ پانی اس قدر کھولتا ہوا ہو گا کہ سر پر پڑنے والا یہ پانی ان کے جسموں کے اندر تک سب کچھ پگھلا ڈالے گا۔
چہرے پر عذاب
چہرہ جسم کا سب سے قابل تکریم اور نازک حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ (سورۃ المومنون: ۱۰۴)
’’ آگ ان کے چہروں کو جھلس ڈالے گی، اور اس میں ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی۔ ‘‘
گھسیٹنے کا عذاب (سحب)
اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍيَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ (سورۃ القمر: ۴۷ تا ۴۹)
’’ یقیناً یہ مجرمین گمراہی میں ہیں اور یہ آگ (کے مختلف طبقات) میں ہوں گے۔ جس دن یہ گھسیٹے جائیں گے آگ میں، اپنے چہروں کے بل، (ان سے کہا جائے گا کہ) اب چکھو آگ کی لپٹ کا مزا! یقیناً ہم نے ہر چیز ایک اندازے کے مطابق پیدا کی ہے۔ ‘‘
چہروں کی سیاہی کا عذاب
یہ ذلت اور اہانت کا عذاب ہے۔
وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ ۚ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (سورۃ یونس: ۲۷)
’’ رہے وہ لوگ کہ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں، تو (ان کی) برائی کا بدلہ اسی جیسا برا ہو گا ،اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی، اللہ (کے عذاب) سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہو گا، ایسا لگے گا جیسے ان کے چہروں پر اندھیری رات کی تہیں چڑھا عتدی گئی ہیں، وہ دوزخ کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ‘‘
سبحان اللہ! یہ عذاب ہمیشگی کا عذاب ہے، چند ماہ و سال کی بات نہیں ہے، بلکہ اربوں کھربوں سال اور اس کے بعد بھی یہ جاری رہے گا اور کبھی ختم نہ ہو گا۔
اہل جہنم عذاب میں گھرے ہوں گے
عذاب کی یہ تمام شکلیں کسی ایک سمت نہیں ہوں گی بلکہ یہ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گی، اوپر نیچے دائیں بائیں ہر طرف سے وہ عذاب میں گھرے ہوں گے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ (سورۃ العنکبوت: ۵۴)
’’ اور یقینا ً جہنم ان کو گھیرے میں لے لے گی۔ ‘‘
آگ نے ہر جانب سے ان کو گھیر رکھا ہو گا، وہ جس سمت بھی جائیں گے وہاں آگ ہی کو اپنا منتظر پائیں گے، کیوں؟ ایسا کیونکر ہو گا کہ آگ صرف ہاتھ، پاؤں یا چہرے کو نہیں جلائے گی بلکہ ان پر احاطہ کیے ہوئے ہو گی؟ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (سورۃ البقرۃ: ۸۱)
’’ ( آگ تمہیں) کیوں نہیں (چھوئے گی) ؟ جو لوگ بھی بدی کماتے ہیں اور ان کی بدی انہیں گھیر لیتی ہے، تو ایسے لوگ ہی دوزخ کے باسی ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ‘‘
چونکہ انہوں نے دنیا میں خود کو گناہوں سے گھیر رکھا تھا، لہٰذا جہنم میں آگ نے انہیں گھیر رکھا ہو گا۔ ہر عمل کا بدلہ اس کے مطابق ہی ہوتا ہے۔
آگ کا دلوں میں گھسنا
جہنم کی آگ جہنمیوں کے دلوں میں گھس جائے گی۔ اللہ ہی جانتے ہیں کہ یہ کیسے ہو گا ، آیا یہ نفسیاتی تکلیف ہو گی یا جسمانی۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَـطَّلِــعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَةِ (سورۃ الھمزۃ: ۴ تا ۷)
’’ہرگز نہیں ! اس کو تو ایسی جگہ میں پھینکا جائے گا جو چورا چورا کرنے والی ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم وہ چورا چورا کرنے والی چیز کیا ہے ؟ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ جو دلوں تک جا چڑھے گی۔‘‘
آنتوں کے گھسیٹنے کی سزا
یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو لوگوں کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے تھے اور خود ا س پر عمل نہ کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
يُجَائُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا کَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ: أَيْ فُلَانُ! أَلَسْتَ کُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَی عَنْ الْمُنْکَرِ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي کُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَفْعَلُهُ وَأَنْهَی عَنْ الْمُنْکَرِ وَأَفْعَلُهُ (بخاری)
’’ قیامت کے دن ایک شخص کو لا کر اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اس میں گدھے کی طرح چکی پیسے گا یعنی وہ اپنی انتڑیوں کے گرد چکر لگائے گا۔ اہل جہنم اس کے گرد جمع ہو کر پوچھیں گے : اے فلاں ! کیا تو امربالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کیا کرتا تھا ؟ وہ کہے گا : میں اچھی بات کے لیے لوگوں کو ضرور کہتا تھا لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتا تھا اور بری بات سے لوگوں کو منع کرتا تھا لیکن خود اس کا مرتکب ہوتا تھا۔‘‘
یہ سزا ہے دوہرے معیار رکھنے والوں کی، ان کی جو جس چیز کی تبلیغ کرتے ہیں اس پر خود ہی عمل نہیں کرتے، نا صرف یہ لوگ اپنے اس عمل کا عذاب چکھیں گے بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ زنجیروں میں بھی جکڑے ہوئے ہوں گے اور ان کی وجہ سے بھی بوجھل ہوں گے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلٰسِلُ ۭ يُسْحَبُوْنَ (سورۃ غافر: ۷۱)
’’ ’ جب ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے (اس حالت میں ) انہیں گھسیٹا جائے گا ۔‘‘
وہ اپنی زنجیروں کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوں گے اور انہیں ان کی زنجیروں کے ذریعے گھسیٹا جائے گا۔
ہتھوڑوں کا عذاب
وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ (سورۃ الحج: ۲۱، ۲۲)
’’ اور ان (کی سرکوبی) کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے، جب بھی وہ چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں غم کے مارے ، تو انہیں اسی میں واپس لوٹا دیا جائے گا اور (ان سے کہا جائے گا کہ) چکھو اب مزہ اس جلانے والے عذاب کا ۔‘‘
جہنمی جہنم کی دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کریں گے اور وہاں موجود فرشتے لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر انہیں واپس جہنم میں گرائیں گے اور انہیں زنجیریں ڈال کر واپس کھینچا جائے گا۔ اور اس کے نتیجے میں ان کا درد و الم اور ان کی حسرت میں اضافہ ہو گا۔
حسرت و ندامت
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۚ وَقُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (سورۃ یونس: ۵۴)
’’ اور جب وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنی شرمندگی کو چھپانا چاہیں گے، اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہو گا، اور ان پر ظلم نہیں ہو گا۔ ‘‘
دنیا میں ٹھٹھے لگانے اور مزے کرنے والوں کو آخرت میں حسرت و ندامت کا سامنا ہو گا۔ اب وہ کس سے اس کا شکوہ کر سکیں گے، کس کے سامنے رونا رو سکیں گے قیامت کے دن، کوئی بھی ان کی مدد نہ کرے گا۔ دنیا میں انہوں نے انبیاء کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اس سے منہ موڑ ا اور اعراض برتا تو قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام بھی ان سے اعراض برتیں گے۔ دنیا میں انہوں نے اللہ رب العزت کے احکامات کو پس پشت ڈالا انہیں نظر انداز کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں نظر انداز کر دیں گے۔
وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ (سورۃ الجاثیۃ: ۳۴)
’’ اور ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم نے یہ بات بھلا ڈالی تھی کہ تمہیں اپنے اس دن کا سامنا کرنا ہوگا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے، اور تمہیں کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔ ‘‘
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِيْرًا (سورۃ الفرقان:۱۳، ۱۴)
’’ اور جب ان کو اچھی طرح باندھ کر اس کی ایک تنگ جگہ میں پھینکا جائے گا تو وہاں یہ موت کو آواز دے کر پکاریں گے۔ (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج تم موت کو صرف ایک بار نہ پکارو، بلکہ بار بار موت کو پکارتے ہی رہو۔ ‘‘
وہ چاہیں گے کہ انہیں ختم کر دیا جائے، پکاریں گے اس کے لیے مگر اللہ فرمائیں گے کہ ایک بار نہیں بار بار پکارو، تمہاری پکار رائیگاں جائے گی، اس کا جواب نہیں دیا جائے گا، آج تمہاری شنوائی نہ ہو گی۔
وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا ۚ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ ۭ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاۗءَكُمُ النَّذِيْرُ ۭ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ (سورۃ فاطر: ۳۷)
’’ اور وہ اس دوزخ میں چیخ پکار مچائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں باہر نکال دے تاکہ ہم جو کام پہلے کیا کرتے تھے، انہیں چھوڑ کر نیک عمل کریں، (ان سے جواب میں کہا جائے گا کہ) بھلا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کسی کو اس میں سوچنا سمجھنا ہوتا، وہ سمجھ لیتا ؟ اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی آیا تھا، اب مزا چکھو! کیونکہ کوئی نہیں ہے جو ایسے ظالموں کا مددگار بنے۔ ‘‘
اب انہیں اللہ کی یاد آئے گی، اب وہ اسے پکاریں گے مگر اب اللہ فرمائیں گے:
اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ (سورۃ الزخرف: ۷۷)
’’ تمہیں تو اب ہمیشہ (یہیں) رہنا ہے۔ ‘‘
اور ایک اور آیت میں ہے:
قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَاۗلِّيْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ (سورۃ المؤمنین: ۱۰۶، ۱۰۷)
’’ وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آ گئی تھی اور (ہم تسلیم کرتے ہیں کہ) ہم گمراہ لوگ تھے ۔ اے ہمارے پروردگار ! (ایک بار) ہمیں یہاں سے نکال دے، اگر ہم دوبارہ یہی کریں تو پھر ہم واقعی ظالم ہوں گے۔ ‘‘
بہت سی آیات ہیں کہ جن میں اہل جہنم کے فریادیں کرنے کا ذکر ہے۔
معبودانِ باطلہ کا حال
اب کچھ ذکر ان معبودوں کا کہ جنہیں یہ اہل جہنم اللہ کے سوا پوجتے تھے، ان کا کیا حال ہو گا؟ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هٰٓؤُلَاۗءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا ۭ وَكُلٌّ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (سورۃ الانبیاء:۹۸، ۹۹)
’’ (اے شرک کرنے والو ! ) یقین رکھو کہ تم اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں، تمہیں اسی جہنم میں جا اترنا ہے۔ اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو اس (جہنم) میں نہ جاتے، اور سب کے سب اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ‘‘
قیامت کے دن ان جھوٹے معبودوں کو ایک طرف کر دیا جائے گا اور اللہ رب العزت ان کے پجاریوں سے فرمائیں گے کہ جاؤ اپنے ان معبودوں ہی کی پیروی کرو، اور پھر یہ معبودان باطلہ جہنم میں پھینک دیے جائیں گے اور ان کے پیروکار بھی ان کی پیروی میں جہنم میں جا گریں گے۔
البتہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پوجتے رہے ان کا کیا معاملہ ہو گا؟ عیسیٰ علیہ السلام تو یقیناً اللہ کے نبی ہیں جو جنتوں کے اعلیٰ ترین درجات میں ہوں گے ۔معاملہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے تو کبھی انہیں اپنی پوجا کے لیے نہیں کہا، البتہ وہ تو صلیب کو پوجتے رہے تو ان کا معبود صلیب ہی ٹھہرے گی جس کے ساتھ وہ جہنم میں جا گریں گے۔ اور تمام کے تمام معبودان باطلہ کا یہی انجام ہو گا۔
شرک یہی تو ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت، کسی سے اجر کی امید رکھنا۔ پس اللہ قیامت کے دن ان سے یہی کہیں گے کہ جس کی تم نے عبادت کی اور جس سے امید رکھی، اپنا اجر اسی سے جا کر وصول کرو اور یہی عین عدل ہے۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
