اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک راز سے قرآن حکیم میں پردہ اٹھا دیا۔ یوں تو ہر شخص چاہتا ہے کہ کائنات کا خالق و مالک اس سے محبت کرے۔ لیکن رب کائنات کس کو اپنی محبت سے نوازے گا اس کا پیمانہ بتا دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (سورۃ آل عمران: ۳۱)
’’ (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘
گویا خالق کائنات نے اپنی محبت حاصل کرنے کا راستہ اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا۔ ساتھ ہی ساتھ لغزشوں کی معافی بھی اسی راستے عطا فرمانے کا پروانہ جاری فرمایا۔ ایک لطیف نقطہ یہاں یہ ہے کہ محبت کے پیرائے میں طاعت کا مضمون یعنی محبت سچی ہی تب ہو گی اگر اطاعت ہو گی ورنہ وہ زبانی دعوے کہلائے جائیں گے۔ اور غور طلب یہ ہے کہ محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے دعوے ہی نہیں بلکہ ذکر کر کے واضح فرما دیا کہ اللہ کی محبت کے دعوے داروں سے فرما دیجیے کہ آپ کی اطاعت کریں۔ اللہ ان سے محبت فرمائے گا۔
نبی الملاحم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان گنت درود اور ان گنت سلام ہو۔ آپ کی ذات اقدس پر درود و سلام پڑھنا بلاشبہ محبت کی علامت ہے اور پڑھنے والے کے لیے باعث رحمت اور خیر و برکت ہے۔ لیکن محض اسی پر اکتفا کرنے سے بات اُدھوری رہ جائے گی۔
ایک مسلمان کے لیے لازم ہے سیرت مصطفٰی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک گوشہ کو سینے سے لگائے اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زندگی کی ہر ہر ساعت میں اپنے لیے رہنمائی تلاش کرے اسے لائق اتباع سمجھے۔ نبوی طریقِ دعوت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت شرق و غرب میں پھیلانے کی جہد مسلسل کا حصہ بنے۔ ہر دینی تقاضے پر لبیک کہے، احکاماتِ دین کو نہ صرف خود پر لاگو کرے بلکہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے۔ کیونکہ سیرت طیبہ کے عمیق مطالعے سے یہی نچوڑ نکلتا ہے اور یہی حقیقی اطاعت و فرمانبرداری کہلائے گی۔
آج کے فتنہ زدہ لوگوں کی خواہشات کے برعکس سیرت طیبہ کے مطالعے کے دوران یہ ممکن نہیں کہ بدر و احد کے سنہرے اوراق کو حذف کیا جائے۔ غزوات النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہک سیرت مطہرہ کے دریچوں سے ہمیشہ آتی رہے گی۔ ان شاءاللہ !
کوئی لاکھ چاہے کہ دین کو محض غریب کی مدد تک محدود کر دیا جائے اور سیاسی غلبہ حاصل کرنے کا تصور ہی معدوم کر دیا جائے لیکن ایک مومن کبھی بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنی کے پر نور احکام سے منہ نہیں موڑ سکتا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ہر لمحہ تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ یہی وجہ ہے نبی الملاحم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیوانے اربوں ڈالر کی پراپیگنڈہ انڈسٹری ، طاقت کے وحشیانہ استعمال اور ہر طرح کے ظلم و جبر کے باوجود اپنا راستہ خوب جانتے ہیں۔ یہ شمع جل رہی ہے اور ہمیشہ جلتی رہے گی۔ ان شاءاللہ !
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات اور سرایہ کے بعد صحابہ نے یہ سلسلہ جاری و ساری رکھا جو آج تک نسل در نسل ان کے جانشین جاری رکھے ہوئے ہیں۔ الحمدللہ!
آج بھی جہاں امت نجی زندگی میں مسواک اور سر ڈھانپنے سے لے کر تہجد کے اوقات میں گریہ و زاری کو اپنائے ہوئے ہے وہیں دین کے معاشی ، سیاسی اور عسکری شعبہ جات میں بھی امت کے خوش نصیب ترین افراد اس توفیق سے بہرہ مند ہیں کہ وہ کفر کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ بلاشبہ آج عالمی جہاد کی قیادت اور کارکنان مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ نجی ، معاشرتی اور اجتماعی زندگی الغرض ہر پہلو میں نبی الملاحم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اطاعت کے اصول پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ اسی میں امت کے ہر فرد کی دنیوی و اخروی نجات کا راز پوشیدہ ہے۔
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
