شرقِ افریقہ (صومالیہ)
۱۰مئی ۲۰۲۶ء: حرکت شباب المجاہدین نے صومالیہ کے صوبہ بائی کے شہر بیدوا کے مضافات میں لگائے گئے ایک گھات حملے میں دو کرنل قتل کر دیے:
- کرنل یونس ابراہیم: ڈویژن ۶۰ برگیڈکا نواں ڈپٹی کمانڈر
- کرنل علی عدو : ڈویژن ۶۰ برگیڈ کاآٹھواں ڈپٹی کمانڈر
۶جولائی ۲۰۲۶ء: حرکت شباب المجاہدین نے صومالیہ کے بیدوا شہر کے صدارتی محل پر شدید بمباری کی۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب صومالی صدر اور حکومت کے اعلیٰ عہدیدار ، جنوب مغربی صومالیہ کی انتظامیہ کے سربراہ کی تقریبِ تنصیب میں شرکت کے لیے وہاں موجود تھے۔ اس فضائی حملے میں ایتھوپیا کی افواج کے دو فوجی اور حکومتی ملیشیا کا ایک رکن مارا گیا اور تین دیگر زخمی ہوئے۔ جبکہ وہاں موجود عہدیداروں کی چار گاڑیاں تباہ کردی گئیں۔
۲۸جولائی ۲۰۲۶ء: حرکت شباب المجاہدین نےکینیا کی فوج پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ۱۵فوجی مارے گئے جبکہ ۱۲ زخمی ہوئے۔ ایک بکتر بند گاڑی اور پانچ موٹر سائیکل تباہ کی گئیں۔ یہ حملہ ہلونغا کے مضافات میں، لفی ڈسٹرکٹ، ماندورا کاؤنٹی کے اس صومالی علاقے میں کیا گیا جو کینیا کے قبضے میں ہے۔
مغرب اسلامی (برکینا فاسو)
۲۹ مئی ۲۰۲۶ء: جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین نے بنین کے علاقے’’کولو‘‘ میں، جو برکینا فاسو کےسرحد کے ساتھ متصل ہے، بنین کی فوج پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ۱۲فوجی ہلاک ہوئے۔ جبکہ مجاہدین کو مختلف قسم کا اسلحہ غنیمت میں حاصل ہوا۔
۱۱جون ۲۰۲۶ء: جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین نے برکینا فاسو کے صوبہ ’’کیا‘‘ کے علاقے فونسا میں ایک چھاپہ مار کارروائی میں برکینا فاسو کے ۲۰ فوجی اہلکاروں کو ہلاک کردیا، جبکہ مجاہدین کو مختلف قسم کے ہتھیار غنیمت میں حاصل ہوئے۔
۳۰جولائی ۲۰۲۶ء:جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین نے نائیجر کے صوبہ ’’تیلابیری ‘‘ کے گاؤں دیاغرو میں فوجی چھاونی پر تعارضی حملہ کیا جس کے نتیجے میں ۲۱ اہلکار مارے گئے، جبکہ مجاہدین نے مختلف قسم کے ہتھیار غنیمت میں حاصل کیے۔
۲۲ جولائی ۲۰۲۶ء: جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین نے مالی کے صوبہ موبتی کے شہر سومادوغو کے اطراف میں، مالی فوج پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ۱۹ فوجی مارے گئے، جبکہ مجاہدین کو مختلف قسم کے ہتھیار بھی غنیمت میں حاصل ہوئے۔
۲۲ جولائی ۲۰۲۶ء: جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین نے صوبہ موپتی کے شہر کونا میں مالی فوج کی بیس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ۲۱ فوجی مارے گئے اور ایک معروف کمانڈر مالک مانغو زخمی ہو گیا، جبکہ مجاہدین کو اس حملے میں ۵ موٹر سائیکلوں سمیت ہلکے ہتھیار بھی غنیمت میں حاصل ہوئے۔
۱۲جولائی ۲۰۲۶ء: جماعت نصرت الاسلام والمسلمین نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اُمتِ مسلمہ کو مالی اوربرکینا فاسو میں مزید فتوحات کی خوشخبری سنائی، جس کی مختصر تفصیل یہاں پیش کی جارہی ہے:
’’اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہمارے مجاہدین نے مالی اور برکینا فاسو میں دشمن کے متعدد عسکری مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کا آغاز بروز ہفتہ ۴ جولائی کو ہوا۔ جہاں ہمارے مجاہدین نے بہادری، ایثار، قربانی اور فداکاری کی عظیم داستان رقم کی، اور دشمن کو جانی و مالی طور پر بھاری نقصان پہنچایا، جن میں فوج اور ملیشیا کے متعدد مقامات، صدارتی دفاتر اور عسکری تنصیبات پر کنٹرول اور حملے شامل ہیں۔ جس کی تفصیل درجہ ذیل ہیں:
مالی میں عسکری مقامات جہاں حملے کیے گئے:
- سیفاری
- سوفارا
- کنیروبا (دارالحکومت باماکو کے مغرب میں)
- کواکورو
- کونا
- لیری
- سومادوقو
- کاراکانی
- سینی کورو
- غورل بوج
برکینافاسو میں عسکری مقامات جہاں حملے کیے گئے:
- دین
- تیوو
- سغینغا
- تییرا
- دلفان
- کوکارنی
- توغی
- توغوری
اسی طرح تحریک ازواد کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں ہمارے فوجی دستوں نے شمالی مالی میں دشمن کے ٹریننگ سنٹر، فضائی اڈوں اور صدر دفاتر پر وسیع پیمارے پر حملے کیے جو انفیف، غاوا اور اجلہوک میں واقع ہیں۔ اس میں انغماسی کارروائیاں، استشہادی حملے، توپ خانے کی بمباری، چھاپے اور گھات لگا کر حملے شامل تھے، جس کے نتیجے میں مالی فوج اور روسی (فیلق) فوجی دستوں کے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اللہ کے فضل سے دشمن کی درجنوں گاڑیاں اور عسکری وسائل مفلوج کر دیے گئے، اور مالی و روسی فضائی قوت کو کافی نقصان پہنچایا گیا۔ اس میں ایکMi-24 ہیلی کاپٹر گرانے اور اس میں موجود تمام روسی عملے کے مارے جانے کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں کئی ڈرونز کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ(سورۃ یونس: 58)
’’(اے پیغمبر) کہو کہ : یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوا ہے، لہٰذا اسی پر تو انھیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس تمام دولت سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کر کر کے رکھتے ہیں۔‘‘
۱۳جولائی ۲۰۲۶ء : جماعت نصرۃ الاسلام المسلمین نے مالی میں داعشی خوارج کے ایک سرکردہ راہنما سعد فادا کو ٹارگٹ کلنگ حملے میں ہلاک کردیا۔
پاکستان
۸ مئی ۲۰۲۶ء: اتحاد المجاہدین پاکستان نےشمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں پاکستانی فوج کی گاڑی پر مائن حملہ کیا۔جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوئی جبکہ اس میں سوار ۷ فوجی مارے گئے۔
۹مئی ۲۰۲۶ء: اتحاد المجاہدین پاکستان نے ضلع بنوں میں مریان کے علاقے لیڈی پل (منڈان روڈ) پر واقع پولیس اور فوج کی مشترکہ چیک پوسٹ پر ایک بڑا تعارضی حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں ۲۹ پولیس اہلکار مارے گئے۔
اتحاد المجاہدین پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق حملے سے قبل مقامِ ہدف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پولیس چوکی کے قریب کسی بھی قسم کی آبادی نہیں تھی۔ مسلمان عوام کی حفاظت کے پیشِ نظر کارروائی سے سے قبل چوکی کی جانب آنے والے راستوں کو بند کردیا گیا۔اس کے بعد فدائی ساتھی نے بارود سے بھری گاڑی کو پوسٹ کے عین وسط میں پہنچادیااور صحیح سلامت واپس نکلنے میں کامیاب ہوئے۔بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے سے چوکی کا اکثر حصہ زمین بوس ہوا۔ اس کے بعد تعارضی کارروائی کا آغاز ہوا۔مجاہدین کی اچانک یلغار نے دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ اس دوران بنوں شہر سے مدد کے لیے آنے والی فوج پر گھات لگائی گئی جوکہ اللہ کے فضل سے کامیاب رہی۔ اوربالآخر کئی گھنٹوں کی مستقل لڑائی کے بعد پولیس چیک پوسٹ فتح کر لی گئی۔ اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں مجاہدین کو کثیر تعداد میں غنیمت حاصل ہوئی۔ جس میں دوشکہ، سنائپر، راکٹ اور بندوقیں شامل ہیں۔
کاررووائی کے بعد پولیس اہلکاروں کے نام بیان جاری کرتے ہوئے پیغام دیا گیا کہ چند پیسوں کی لالچ میں دشمنانِ دین کے ساتھ تعاون، ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ، خود کو ایک ناکام و فاسد جمہوری نظام کے لیے قربان نہ کیجیے، کیونکہ یہ محض ایک خودکشی ہے۔ امریکی غلام فوجی جرنیل تمہیں اپنے مذموم مقاصد اور کرسی کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں، خود عیاشیوں اور پرتعیش زندگی گزارتے ہیں، تمہارے خون کے بدلے وہ امریکہ سے ڈالر بٹورتے ہیں۔ ہم تمہیں قتل کرنےکا شوق نہیں رکھتے، ہمارا مقصد صرف ظلم و فساد کے اس نظام کو ختم کرنا ہے۔ اگرتم اس باطل نظام کے ساتھ تعاون چھوڑ دو تو ہمارا تم سے کوئی جھگڑا نہیں ۔
۲۴ مئی ۲۰۲۶ء: اتحاد المجاہدین پاکستان نے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی تحصیل تانگر میں فوج کی ایک چوکی پر تعارضی حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں چوکی میں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا اور بعد ازاں اس شرط پر رہا کردیا گیا کہ وہ مستقبل میں فوج میں ڈیوٹی نہیں کریں گے۔ مجاہدین نے ایک کروڑ بیس لاکھ کی لاگت سے تعمیر کی گئی چوکی کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔
۲۵ جون ۲۰۲۶ء: اتحاد المجاہدین پاکستان کے مجاہدین پر جنوبی وزیرستان کی تحصیل اعظم ورسک کے علاقے سرکی خیل (درس) کے مقام پر شریعت دشمن فوج نے چھاپہ مارنے کی کوشش کی۔ مجاہدین نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے، دشمن کا محاصرہ کرلیا۔یہ جھڑپ صبح سے شام تک جاری رہی۔ جس کے نتیجے میں ۸ فوجی ہلاک اور ۵ زخمی ہوئے۔ جبکہ ایک کواڈ کاپٹر ڈرون بھی مار گرایا گیا۔
۱۵ جولائی ۲۰۲۶ء:اتحاد المجاہدین پاکستان کے فدائی مجاہد محمود رحمہ اللہ نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ضلع بنوں کے تھانہ ’’میریان‘‘پر فدائی حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں میں مذکورہ مرکز کا بیشتر حصہ تباہ ہوگیا اور ۳۰کے لگ بھگ اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ یہ تھانہ پولیس، امن کمیٹی اور فوج کا مشترکہ مرکز تھا۔
۱۵ جولائی ۲۰۲۶ء: اتحاد المجاہدین پاکستان کے فدائی مجاہد والفقار رحمہ اللہ نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا کے علاقے ’’کڑی کوٹ‘‘ میں سکول کی عمارت میں بنائے گئے فوج کے ایک مرکز پر فدائی حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں ۵۰ کے لگ بھگ شریعت دشمن فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔
بنوں میں فوجی آپریشن : ۱۰ روزہ صورتحال
ضلع بنوں میں مسلسل دو کامیاب انغماسی و استشہادی حملوں کے بعد شریعت دشمن فوج نے دس روزہ آپریشن کا اعلان کردیا۔ آپریشن کےاصل حقائق کے بارے میں اتحاد المجاہدین پاکستان نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجاہدین کے خلاف آپریشن کے نام پر حکومت نے ظلم کا ایک نیا باب کھول رکھا ہے۔ مظلوم عوام کے گھروں میں گھس کر ان کے املا ک کو تباہ کیا جارہا ہے۔ کئی مظلوم اور بے گناہ قیدیوں کو جیلوں سے نکال کر شہید کیا گیا۔ معصوم عوام کے گھروں پر چھاپوں کے دوران وہاں سے سونا اور نقدی لے کر دعوی ٰ کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سہولت کار تھے۔ مسلسل کئی دنوں سے مواصلاتی نظام معطل کیا گیا ہے تاکہ مظلوموں کی آواز اپنے ہم وطنوں تک نہ پہنچ سکے۔
دوسری طرف مجاہدین کے ساتھ براہِ راست مقابلے کے دوران فوج اور پولیس کی حالت یہ ہے کہ ۲۰ مجاہدین کے مقابلے کے لیے ہزاروں اہلکاروں پر مشتمل فورس لے کر آتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنے ہلاک شدہ اہلکاروں اور تباہ شدہ گاڑیوں کو میدان جنگ میں چھوڑ کر فرار ہوجاتے ہیں۔
اعلامیے میں مزید واضح کیا گیا کہ مجاہدین جاری آپریشن کا مقابلہ جواں مردی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بنوں کے مختلف راستوں میں فوج پر کامیاب گھات اور مائن حملے کیے جارہے ہیں۔ میریان اور ملحقہ علاقوں میں مجاہدین اور فوج و پولیس کے درمیان تین روز تک جنگ جاری رہی۔
تلگی اور ہنی کلی کے علاقوں میں ہونے والے معرکوں میں مصدقہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دس روزہ لڑائی میں ۳۰ اہلکار ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
