نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے

بنگلہ دیش کا قانون خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہے؟

by شاکر احمد فرائضی
in اگست 2026ء, حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
0

سترہ کروڑ نفوس پر مشتمل کوئی بھی قوم ایسے نظامِ انصاف کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، جہاں ایک درندہ محض پندرہ دن میں آزادانہ دندناتا پھرے، جبکہ ایک مظلوم پندرہ سال تک انصاف کی دہلیز پر آنکھیں بچھائے بیٹھی رہے۔

۲۵ ستمبر ۲۰۲۰ء کی وہ سیاہ رات تھی۔ ایک خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ سلہٹ کے مراری چند کالج کے ہاسٹل کیمپس گئی، مگر جب وہ گھر لوٹی، تو وہ پہلے جیسی انسان نہیں رہی تھی۔ اس حکمرانِ وقت جماعت کے طلبہ ونگ کے غنڈوں نے اس کے شوہر کو رسیوں سے باندھ دیا، اور اسے گھسیٹ کر ہاسٹل کے ایک تاریک کمرے میں لے جا کر اجتماعی اجتماعی زیادتی (گینگ ریپ) کا نشانہ بنایا۔ آٹھ وحشی درندے! بعد ازاں، ڈی این اے کی شہادتوں نے ان میں سے چھ کے جرم پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔

آج اس دلخراش سانحے کو قریباً چھ برس بیت چکے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ء کے اوائل تک، بمشکل اس مقدمے کے فیصلے کی تاریخ طے پا سکی ہے، اور وہ بھی ٹربیونلز کی غلام گردشوں میں دھکے کھانے، ریاستی اپیلوں کے ذریعے پیدا کردہ رکاوٹوں، اور عین اس حکومت کی جانب سے روا رکھی گئی دانستہ تاخیر کے بعد، جس کے کاندھوں پر انصاف فراہم کرنے کی بھاری ذمہ داری عائد تھی۔ ملزمان برسوں تک حراست میں آنے اور ضمانتوں پر رہا ہونے کا مکروہ کھیل کھیلتے رہے۔ اور وہ مظلوم خاتون، ہر روز اپنے اس رستے ہوئے زخم کی کسک سہتی رہی۔

یہ کوئی انوکھا یا استثنائی واقعہ نہیں ہے، بلکہ بنگلہ دیش میں، اب یہی ایک بھیانک معمول بن چکا ہے۔

وہ اعداد و شمار جو ہمارے لیے باعثِ ننگ و عار ہیں

اس سے قبل کہ ہم کسی تفصیلی بحث کا آغاز کریں، ذرا حقائق اور اعداد و شمار کو اپنی زبانِ حال سے گواہی دینے دیجیے۔

۲۰۲۰ء سے لے کر جون ۲۰۲۵ء کے درمیانی عرصے میں، پورے بنگلہ دیش کے اندر اجتماعی زیادتی کے اکتیس ہزار سے زائد مقدمات سرکاری سطح پر درج کیے گئے، اور یاد رہے، یہ محض وہ واقعات ہیں جو باقاعدہ رپورٹ ہو سکے۔ سپریم کورٹ کے معروف وکیل اور ’آئین او سالش کیندر‘ (ASK) کے چیئرمین زیڈ آئی خان پنا نے بھی بعینہِ اسی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: ’’میرا ماننا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم تو محض اخبارات کے فراہم کردہ اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہیں، اور بوقتِ ضرورت پولیس سے مقدمات کی تصدیق کروا لیتے ہیں۔ یہ ایک فطری سی بات ہے کہ اگر مظلومین پولیس کے پاس فریاد لے کر ہی نہ جائیں، تو یہ تعداد بظاہر کم ہی نظر آئے گی‘‘۔

پولیس ہیڈکوارٹرز نے خود اس امر کی تصدیق کی ہے کہ سال ۲۰۲۵ء میں اجتماعی زیادتی کے ۷,۰۶۸ مقدمات درج ہوئے، جبکہ ۲۰۲۴ء میں یہ تعداد ۵,۵۶۶ تھی۔ محض نو دنوں کے مختصر دورانیے میں، یعنی ۲۰ جون سے ۲۹ جون ۲۰۲۵ء کے درمیان، ملک بھر سے اجتماعی زیادتی کے ۲۴ اندوہناک مقدمات رپورٹ ہوئے۔ سول سوسائٹی کے مختلف حلقے اب بجا طور پر اسے ایک ’’وبائی مرض‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

اور اس پوری سنگین صورتِ حال پر ہمارے نظامِ انصاف کا ردعمل کیا ہے؟

مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنے کی شرح 3.66 فیصد سے بھی کم ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی چشم کشا رپورٹ کے مطابق، درحقیقت یہ شرح اس سے بھی کہیں کم ہے، یعنی ۱ فیصد سے بھی نیچے۔ ’براک‘ (BRAC) کی ایک تفصیلی تحقیق، جس میں عدالت سے نمٹائے گئے ۳۸۵ مقدمات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، یہ ہولناک انکشاف کرتی ہے کہ باقاعدہ فردِ جرم عائد کیے گئے ۴۷۹ ملزمان میں سے محض ۳۶ مجرموں کو سزا سنائی جا سکی۔ اندازاً گیارہ ہزار خواتین، جنہوں نے حکومتی اور ریاستی ذرائع ابلاغ سے باقاعدہ قانونی دعوے کیے، ان میں سے صرف ۱۶۰ بدنصیب خواتین ہی اپنے حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچتے دیکھ سکیں۔ خدارا بتائیے، کیا یہ کوئی نظامِ انصاف ہے؟ یہ تو محض منظم مایوسی اور استحصال کا ایک سفاک نظام ہے۔

وہ لرزہ خیز مقدمات جنہیں سب کچھ بدل دینا چاہیے تھا، مگر کچھ نہ بدلا

سوہاگی جہان تنو کا قتل

۲۰ مارچ ۲۰۱۶ء کو کومیلا وکٹوریہ گورنمنٹ کالج کی ہونہار طالبہ سوہاگی جہان تنو کی لاش، انتہائی سخت سکیورٹی والے مینامتی آرمی کنٹونمنٹ کی جھاڑیوں سے برآمد ہوئی۔ اسے وحشیانہ تشدد اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر وہاں پھینک دیا گیا تھا۔ بعد ازاں، ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ نے بھی اس اندوہناک اجتماعی زیادتی کی تصدیق کر دی۔ ’’خواتین اور بچوں پر انسدادِ جبر کے قانون‘‘ کے تحت، تفتیشی افسران کو یہ واضح ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ۱۸۰ دنوں کے اندر اپنی تفتیش ہر صورت مکمل کریں، اگرچہ عدالتیں اس مقررہ مدت میں توسیع کا اختیار رکھتی ہیں، اور اس سے تجاوز کر جانے کی صورت میں کوئی مقدمہ خود بخود خارج یا داخلِ دفتر نہیں ہو جاتا۔ قانون کی وہ واضح ہدایات جو اپنے زور پر نافذ نہ ہو سکیں، انہیں کم از کم کڑے ادارہ جاتی احتساب کے ذریعے تو یقینی بنایا ہی جانا چاہیے تھا۔ مگر افسوس صد افسوس! ایسا کچھ نہ ہو سکا۔

قریباً ایک دہائی گزرنے تک، عدالت میں ایک بھی چارج شیٹ داخل نہ کی جا سکی۔ یہ مظلوم مقدمہ پولیس سے جاسوسی برانچ (DB)، پھر کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID)، اور وہاں سے پولیس بیورو آف انویسٹی گیشن (PBI) کی راہداریوں میں بے بسی سے گھومتا رہا، اس دوران چھ مختلف تفتیشی افسران تبدیل کیے گئے، مگر احتساب کا حاصل صفر ہی رہا۔ تنو کا نام تو بنگلہ دیش میں ’استثنیٰ اور قانون سے بالا بے لگام مجرموں‘ کی گویا ایک لغوی تعریف بن کر رہ گیا۔ کنٹونمنٹ کی وہ اونچی دیواریں جو اس معصوم کی جان کی حفاظت کرنے میں تو ناکام رہیں، ایک طویل عرصے تک اسی کے درندہ صفت قاتلوں کے لیے ایک مضبوط ڈھال ضرور بنی رہیں۔ اس کے مقدمے میں ہونے والی یہ لامتناہی تاخیر کسی آئینی یا قانونی مجبوری کی عکاس نہیں، بلکہ سیدھے لفظوں میں ان ذمہ دار اداروں کی دانستہ غفلت اور احتساب کے مکمل فقدان کا منہ بولتا ثبوت ہے، جنہیں اس خونِ ناحق کی تفتیش سونپی گئی تھی۔

پھر، مسلط کردہ خاموشی اور جبر کی ایک طویل دہائی کے بعد، کارروائی کی پہلی ہلکی سی لہر پیدا ہوئی۔ اپریل اور جون ۲۰۲۶ء کے دوران، پولیس بیورو آف انویسٹی گیشن کو تین مخصوص مشتبہ افراد، جو سب کے سب فوج کے سابق اہلکار تھے، کے ڈی این اے میچنگ کے باقاعدہ عدالتی احکامات موصول ہوئے۔ چنانچہ سابق سینئر وارنٹ افسر حفیظ الرحمٰن کو گرفتار کر کے جسمانی ریمانڈ پر لے لیا گیا۔ جبکہ باقی دو مفرور ملزمان، سابق سارجنٹ زاہد اور سابق فوجی شاہین، کی گرفتاری کے لیے عدالت نے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرنے کا حکم صادر کیا۔ ایک ایسا سلگتا ہوا مقدمہ، جسے خود ریاست نے پورے دس سال تک سرد خانے میں دفن کیے رکھا تھا، بالآخر جزوی طور پر ہی سہی، اب کھلنا شروع ہو گیا۔

مگر ذرا رُک کر دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ اس ساری کارروائی کا اصل مطلب کیا ہے؟ محض ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ابتدائی مرحلے تک پہنچنے اور ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں لانے کے لیے بھی پورے دس سال کا طویل عرصہ، ایک حکومت کا خاتمہ، اور مسلسل عوامی دباؤ درکار تھا۔ آج تک کوئی چارج شیٹ عدالت میں داخل نہیں کی جا سکی، کسی باقاعدہ ٹرائل کا آغاز نہیں ہوا، کسی ایک مجرم کو بھی سزا نہیں مل سکی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تنو کو آج بھی انصاف نہیں مل سکا۔ سال ۲۰۲۶ء کی یہ حالیہ پیش رفت گزشتہ ایک دہائی کی مجرمانہ اور دانستہ غفلت کے داغ کو ہرگز دھو نہیں سکتی، بلکہ یہ تو محض اس تلخ حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ یہ غفلت دراصل ہمیشہ سے ایک شعوری انتخاب تھا، کوئی ناگزیر قانونی مجبوری نہیں۔

بیگم گنج، نواکھالی کی خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی جسے براہ راست نشر کیا گیا

۲ ستمبر ۲۰۲۰ء کی بات ہے، بیگم گنج کے ذیلی ضلعے کے ایک گاؤں جوئے کرشنا پور میں، ایک نہتی گھریلو خاتون کو سرِ عام برہنہ کیا گیا، لاٹھیوں سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور پھر جرائم پیشہ گروہ ’’دلاور باہنی‘‘ کے وحشی غنڈوں نے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور انتہا تو یہ ہے کہ اس مجرمانہ فعل کے دوران وہ اس کی ویڈیو بھی بناتے رہے۔ ایک درندے کو باقاعدہ چلاتے ہوئے سنا گیا: ’’یہ فیس بک پر جائے گی‘‘۔ تو دوسرے نے شیطانی ہنسی کے ساتھ جواب دیا: ’’نہیں، چلو لائیو (براہِ راست) چلتے ہیں‘‘۔

جب اس مظلوم خاتون کی عصمت تار تار کی جا رہی تھی، تو وہ درد سے چیخ رہی تھی: ’’میں تمہیں اپنا باپ، اپنا بھائی کہہ کر پکار رہی ہوں، خدارا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے واسطے، مجھے جانے دو!‘‘ مگر ان ظالموں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ تاہم، مظلومہ کی ان تڑپتی ہوئی سسکیوں اور الفاظ میں، ہمارے اس معاشرتی بحران کا سب سے گہرا المیہ چھپا ہوا ہے، اس نے عین اس وقت اس واحد اور سچے ضابطہِ حیات کا واسطہ دے کر پکارا، جس کے بے لوث اصول، اگر نافذ ہوتے، تو ان درندوں کو اس تاریک کمرے میں قدم رکھنے سے قبل ہی خوفِ خدا سے لرزا دیتے۔

یہ شرمناک ویڈیو ۴ اکتوبر ۲۰۲۰ء کو وائرل ہوئی، یعنی اس گھناؤنے جرم کے ارتکاب کے پورے ۳۳ دن بعد، اور آپ حیران ہوں گے کہ پولیس کو اس ہولناک واقعے کی اس وقت تک کانوں کان خبر نہ تھی، جب تک کہ انٹرنیٹ کے طوفان نے انہیں حرکت میں آنے پر مجبور نہ کر دیا۔ گرفتاریاں بھی تب ہی عمل میں لائی گئیں جب شدید عوامی غیظ و غضب نے اس واقعے کو قالین کے نیچے دھکیلنا اور نظر انداز کرنا یکسر ناممکن بنا دیا۔ بالآخر طویل کارروائی کے بعد، ۱۳ ملزمان کو ۱۰ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

’مانوشیر جونو فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے، پورے بنگلہ دیش میں رونما ہونے والے اجتماعی زیادتی کے ۲۵ مختلف مقدمات پر کی گئی ایک جامع تحقیق سے یہ لرزہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ، اگرچہ بنگلہ دیشی قانون کے تحت اجتماعی زیادتی ایک ناقابلِ ضمانت جرم ہے، اس کے باوجود زیرِ جائزہ ان تمام مقدمات میں ملزمان کو گرفتاری کے محض ۱۵ دنوں کے اندر اندر انتہائی باقاعدگی کے ساتھ ضمانتیں مل گئیں، دراصل، یہ ادارہ جاتی ناکامی اور ملی بھگت کا ایک ایسا منظم تسلسل ہے جس کی لپیٹ سے بیگم گنج کا مقدمہ بھی، اتنے شدید ترین عوامی ردعمل کے باوجود، بالآخر اپنے آپ کو بچا نہ سکا۔

ایم سی کالج، سلہٹ: جہاں ریاست نے خود اپنے ہاتھوں سے انصاف کا راستہ روک دیا

ستمبر ۲۰۲۰ء میں پیش آنے والا ایم سی کالج کا مشہورِ زمانہ مقدمہ اپنے اندر ایک انتہائی انوکھا اور شرمناک پہلو رکھتا ہے: دسمبر ۲۰۲۲ء میں جب ہائی کورٹ نے یہ واضح حکم صادر کیا کہ مقدمے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اسے ’اسپیڈی ٹرائل ٹربیونل‘ (فوری سماعت کے ٹربیونل) میں منتقل کیا جائے، تو عوامی لیگ کی حکومت نے نہایت ڈھٹائی سے اس منتقلی کو رکوانے کے لیے باقاعدہ اپیل دائر کر دی، یاد رہے، یہ وہی برسراقتدار جماعت تھی جس کے اپنے ہی طلبہ ونگ کے غنڈوں نے اس اجتماعی زیادتی کا ارتکاب کیا تھا، اور اب وہی جماعت اپنے کارکنوں کے خلاف ہونے والی تیز تر قانونی کارروائی کو التوا کا شکار کرنے کے لیے مختلف قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی تھی۔

شدید کشمکش کے بعد، یہ منتقلی بالآخر مئی ۲۰۲۵ء میں جا کر عمل میں آئی، یعنی جرم کے ارتکاب کے قریباً پانچ سال بعد۔ فیصلے کی تاریخ ۱۴ جولائی ۲۰۲۶ء مقرر کی گئی۔ سوچیے، پانچ سال اور دس مہینے کا طویل عرصہ! اور وہ بھی ایک ایسے مقدمے کے لیے جس میں آٹھ گرفتار مشتبہ افراد موجود تھے، ڈی این اے کے ٹھوس شواہد ان میں سے چھ کے جرم کی کھلی تصدیق کر رہے تھے، اور متعدد ملزمان کے باضابطہ اعترافی بیانات بھی ریکارڈ پر موجود تھے۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بنگلہ دیش میں انصاف اندھا نہیں ہے، بلکہ یہ ظالمانہ حد تک امتیازی اور جانبدار ہے۔

یہ نظام کس طرح محض مایوس کرنے کے لیے ہی تشکیل دیا گیا ہے؟

اجتماعی زیادتی کے سنگین مقدمات میں بنگلہ دیش کے مروجہ قانونی نظام کی ناکامی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے، بلکہ درحقیقت یہ ایک ساختی اور سیاسی نوعیت کا المیہ ہے۔

التوا کا سنگین بحران : مقدمات کے لامتناہی انبار

سال ۲۰۲۵ء کے اوائل تک، ملک بھر میں قائم ۱۰۱ ’’خواتین اور بچوں پر انسدادِ جبر کے ٹربیونلز‘‘ میں تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ مقدمات زیرِ التوا پڑے ہیں۔ ان میں سے پینتیس ہزار سے زائد مقدمات تو ایسے ہیں جو پانچ برس سے بھی زیادہ عرصے سے لٹکے ہوئے ہیں۔ کسی ایک مقدمے کو نمٹانے کا اوسط وقت ۱۳۷۰ دن، یعنی قریباً چار سال بنتا ہے۔ غور کیجیے کہ ۲۰۲۴ء میں، ان عدالتوں کے اندر موجوددو لاکھ سات ہزار سے زائد مقدمات کے انبار میں سے محض چھپن ہزار مقدمات کو ہی کسی انجام تک پہنچایا جا سکا۔

ضمانت کا شرمناک کھیل

’’خواتین اور بچوں پر انسدادِ جبر کا قانون‘‘ اجتماعی زیادتی کو صریحاً ایک ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیتا ہے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ قانونی سقم کے منظم استحصال کے ذریعے، اس شق کو بالکل بے معنی اور کھوکھلا بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ دفاعی وکلاء انتہائی باقاعدگی کے ساتھ ہائی کورٹ سے حکمِ امتناعی (Stay Order) حاصل کر لیتے ہیں، بعینہِ جیسا کہ ۲۰۲۲ء کے اترا ویسٹ اجتماعی زیادتی کیس میں دیکھا گیا، جہاں ہائی کورٹ کے ایک حکمِ امتناعی نے، فردِ جرم عائد ہونے کے قریباً دو سال بعد تک کسی ایک گواہی کے سنے جانے کا راستہ بھی سختی سے روکے رکھا۔ ’’مانوشیر جونو فاؤنڈیشن‘‘ کے زیرِ مطالعہ تمام ۲۵ مقدمات کا حال یہ رہا کہ ان میں محض پندرہ دن کے اندر اندر ضمانت دے دی گئی۔ قانون تو پکار پکار کر کہتا ہے کہ یہ جرم ’’ناقابلِ ضمانت‘‘ ہے؛ مگر ہماری عدالتوں کا عملی رویہ اس کے بالکل برعکس اور متصادم ہے۔

شواہد کا المیہ

کسی بھی مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں، اور قابلِ قبول شواہد اکٹھے کرنے کے لیے اعلیٰ فرانزک صلاحیت ناگزیر ہے۔ مگر المیہ دیکھیے کہ بنگلہ دیش کے پاس نہ تو اس درجے کے تربیت یافتہ فرانزک اہلکار میسر ہیں، نہ ہی جدید آلات سے آراستہ لیبارٹریاں دستیاب ہیں، اور نہ ہی سرے سے وہ معیاری طریقہ کار موجود ہے جس کی بدولت وسیع پیمانے پر اجتماعی زیادتی کے ایسے مقدمات تیار کیے جا سکیں، جو ہر قسم کے قانونی جھول سے پاک ہوں۔ میڈیکل رپورٹس، جو دراصل اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، انہیں خود ’’بنگلہ دیش جوڈیشل سروس ایسوسی ایشن‘‘ ایک ’’بنیادی رکاوٹ‘‘ گردانتی ہے، جو منظم تاخیر کا سب سے بڑا سبب بنتی ہیں۔ رہی سہی کسر یوں پوری ہوتی ہے کہ مقدمے کے عین بیچ میں ہی تفتیشی افسران تبدیل کر دیے جاتے ہیں، اور بعض اوقات تو ایک ہی مقدمے میں چھ چھ بار یہ تبادلے ہوتے ہیں، جیسا کہ مظلومہ تنو کی تفتیش کے دوران دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں متعلقہ ادارے کی یادداشت اور شواہد کی تحویل کا سارا تسلسل مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔

اسلامی عدل: ایک ایسا نظامِ عدل جو یقینی، فوری اور متناسب ہو

انصاف کا وہ عظیم اسلامی خاکہ، جس کی بنیاد اس تحریر میں بالخصوص فقہِ حنفی پر رکھی گئی ہے، اجتماعی زیادتی کے اس ناسور سے ایک ایسی بے داغ شفافیت، غیر معمولی اخلاقی قوت اور ساختی منطق کے ساتھ نمٹتا ہے، جس کی گرد کو بھی ہمارا یہ ورثے میں ملا ہوا بوسیدہ نوآبادیاتی نظام ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔

فقہِ حنفی کا خاکہ: سیدنا امام ابو حنیفہ ﷫کا فرمان کیا ہے؟

فقہِ حنفی کے عظیم بانی، سیدنا امام ابو حنیفہ النعمان ﷫ نے اس شنیع فعل کی تعریف باقاعدہ ’اجتماعی زیادتی‘، یعنی زبردستی کی گئی غیر قانونی جنسی قربت، کی اصطلاح کے تحت بیان فرمائی ہے۔ یاد رہے کہ حنفی فقہ میں اسے باہمی رضامندی سے کیے گئے ’زنا‘ سے قطعی طور پر الگ اور ممتاز رکھا گیا ہے۔ یہ تفریق محض قانونی ہی نہیں، بلکہ گہری اخلاقی جہت بھی رکھتی ہے: ان میں سے ایک تو دو فریقین کے مابین ہونے والا صریح گناہ ہے، جبکہ دوسرا ایک معصوم و مجبور انسان پر مسلط کیا جانے والا انتہائی پرتشدد جرم ہے۔

اجتماعی زیادتی کے حوالے سے بنیادی حنفی مؤقف کو مندرجہ ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:

  • مظلوم کے لیے نہ تو کوئی سزا مقرر ہے اور نہ ہی اس کے لیے کسی قسم کی شرمندگی کی گنجائش ہے۔ یہ امام ابو حنیفہ ﷫ کا ایسا دو ٹوک اور غیر مبہم فیصلہ ہے، جو امام سرخسی ﷫ کی مایہ ناز تصنیف ’المبسوط‘ اور علامہ ابن عابدین ﷫ کی شہرہ آفاق کتاب ’رد المحتار‘ جیسی بنیادی حنفی کتب میں پوری صراحت کے ساتھ درج ہے۔ جس مظلوم عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا ارتکاب کیا گیا ہو، وہ ’زنا‘ کے شرعی اور قانونی الزام سے مکمل طور پر بری الذمہ ہے۔ اس نے ہرگز کوئی گناہ نہیں کیا، بلکہ وہ تو خالصتاً ایک مظلوم ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ سنہرا اصول فقہِ حنفی کے اندر، ان نام نہاد جدید قانونی نظاموں کے ’مظلوم کو موردِ الزام ٹھہرانے‘ جیسی فضول بحثیں شروع کرنے سے پورے ہزار سال قبل ہی پوری قطعیت کے ساتھ طے کر دیا گیا تھا۔
  • اگر کسی قانونی سقم کے باعث ’حد‘ ثابت نہ ہو سکے، تو اس صورت میں مجرم پر لازم ہے کہ وہ ’تعزیر‘ کی سخت سزا بھگتنے کے ساتھ ساتھ، مظلومہ کو ’مہر‘، یعنی قرار واقعی مالی معاوضہ، بھی ادا کرے۔ جیسا کہ امام سرخسی ﷫ کی ’المبسوط‘ میں مرقوم ہے کہ جب ’حد‘ کے لیے درکار سخت شواہد کا مطلوبہ معیار پورا نہ ہو پا رہا ہو، تو مجرم پر یہ پابندی عائد ہوتی ہے کہ وہ مظلومہ کی معاشرتی تلافی کے طور پر اسے ’مہر المثل‘، یعنی اس کے خاندان کی ہم پلہ خواتین کے مقررہ مہر کے برابر رقم، ادا کرے۔ یہاں اس مقام پر ایک انتہائی باریک فقہی نکتے کو سمجھنا ضروری ہے: حنفی فقہ میں، جب مجرم کے اپنے ’اقرار‘ یا شرعی ’شہادت‘ کے ذریعے ’حد‘ مکمل طور پر ثابت ہو جائے، تو پھر صرف حد ہی نافذ کی جاتی ہے، اور اس صورت میں مہر کو اس کے ساتھ شامل نہیں کیا جاتا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حق (حق اللہ) اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ نافذ ہو جائے، تو شرعاً وہی مکمل عدالتی کارروائی شمار ہوتا ہے۔ تاہم، یہ بالخصوص ’تعزیر‘ کا وہ راستہ ہے، جو عملی اور زمینی حقائق کے اعتبار سے تقریباً ہر حقیقی مقدمے میں لاگو ہوتا نظر آتا ہے، جہاں قاضی کی صوابدیدی سزا کے ساتھ ساتھ مہر ادا کرنا بھی مجرم پر واجب ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، اس حنفی خاکے کی روشنی میں، انصاف بیک وقت تادیبی (سزا دینے والا) بھی ہے اور تلافی کرنے والا بھی، جو ایک حد درجہ متوازن اور اندرونی طور پر ہم آہنگ نظام کے تحت اپنا کام کرتا ہے۔
  • جب ’اقرار‘ (اعترافِ جرم) کے ذریعے جرم ثابت ہو جائے، تو اس کی حتمی فوجداری سزا ’زنا‘ کی شرعی ’حد‘ ہے۔ اگر درندہ خود اپنے منہ سے اعتراف کر لے، اور یاد رہے کہ حنفی مکتبِ فکر میں اعترافی بیانات فیصلہ کن اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، تو پھر ہر صورت میں ’حد‘ کی سزا لاگو ہوتی ہے: یعنی شادی شدہ مجرم (محصن) کے لیے سنگسار کرنے (رجم) کا حکم ہے، اور غیر شادی شدہ (غیر محصن) کے لیے ۱۰۰ کوڑے (جلد) مارنے کی سزا مقرر ہے۔ یہاں فقہ حنفی کے ایک انتہائی اہم امتیازی پہلو کو باریک بینی سے سمجھنا نہایت ضروری ہے: ائمہ احناف رحمہم اللہ کے نزدیک، غیر شادی شدہ مجرم کے لیے جلاوطنی یا قید کی سزا بذاتِ خود حد کا حصہ ہرگز نہیں ہے۔ یہ درحقیقت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ بنیادی سزا کا جزو نہیں ہے۔ البتہ، اگر ’قاضی‘ حالات کے تقاضوں اور مقدمے کی سنگینی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ضروری خیال کرے، تو وہ اپنے صوابدیدی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے مزید ’تعزیر‘ کے طور پر جلاوطنی یا قید کی اضافی سزا ضرور سنا سکتا ہے، لیکن بحیثیتِ مجموعی، یہ حد میں شامل نہیں ہے اور اسی حیثیت سے یہ واجب بھی نہیں کہلائے گی۔ دورِ حاضر کے ممتاز حنفی فقیہ، مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ، اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ‘The Case for the Hudood Ordinances’ میں اس بات کی مدلل تصدیق کرتے ہیں کہ ’زنا‘ کی حد پوری قوت کے ساتھ ’اجتماعی زیادتی‘ پر بھی لاگو ہوتی ہے، اور شادی شدہ مجرم کے لیے ’رجم‘ کی ہولناک سزا قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ، دونوں سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ وہ نہایت صراحت کے ساتھ یہ بیان فرماتے ہیں کہ کسی معقول شرعی عذر کے بغیر اس سزا کو معطل کرنا، سیدھے سیدھے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قطعی حکم کو ترک کر دینے کے مترادف ہے۔
  • دوسری جانب، جب ’حد‘ ثابت نہ ہو سکے، تو ’تعزیر‘، یعنی قاضی کی مقرر کردہ سخت صوابدیدی سزا، نافذ کرنا حکومت پر واجب ہو جاتا ہے، یہ کوئی محض اختیاری امر نہیں ہے۔ درحقیقت، حنفی فقہ کا یہ مؤقف ہمارے اس جدید دور میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ علامہ ابن عابدین﷫ اپنی مایہ ناز تصنیف ’رد المحتار‘ میں پوری صراحت کے ساتھ یہ بیان فرماتے ہیں کہ اجتماعی زیادتی کے سنگین مقدمات میں تعزیر کے تحت مجرم کو سزائے موت تک بھی دی جا سکتی ہے، اور یاد رہے کہ یہ کوئی کم تر یا ثانوی درجے کا متبادل نہیں ہے، بلکہ یہ تو حکومت کے کندھوں پر عائد ایک لازمی فریضہ ہے۔ عہدِ حاضر میں تقابلی اسلامی قانون کے سب سے بڑے انسائیکلوپیڈسٹ، پروفیسر ڈاکٹر وہبہ الزحیلی ﷫، اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’الفقہ الاسلامی و ادلتہ‘ میں رقم طراز ہیں:

’’کسی بھی جرم کے مظلوم کو کبھی بھی حقیقی انصاف سے محروم نہیں چھوڑا جاتا؛ کیونکہ اگر ملزم کا جرم سخت ترین حد کی سزا کے نفاذ کے لیے درکار کڑی شرائط کے علاوہ دیگر دستیاب شواہد سے بھی ثابت ہو جائے، تو تمام فقہائے کرام کے متفقہ فیصلے (اجماع) کے تحت اسے عبرت ناک سزا دی جا سکتی ہے۔‘‘

وہ مزید اس امر کی تصدیق فرماتے ہیں کہ عدالت کو اس طرح ثابت ہونے والے جرم پر تعزیر کا درست تعین کرنے اور اسے پوری قوت سے نافذ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس مقام پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاسۃ شرعیہ کا تصور، یعنی معاشرے میں انصاف کے بلاامتیاز نفاذ کے لیے سلطنت کا وسیع انتظامی اختیار،حنفی مکتبِ فکر کو جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کا سب سے طاقتور ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ ’ایس ایس آر این‘ (SSRN) پر ’’اجتماعی زیادتی کا جرم اور حنفی تصور سیاست‘‘ کے دقیق موضوع پر شائع ہونے والا ایک مفصل فقہی تجزیہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے:

’’خالصتاً ایک سیاسی جرم ہونے کی حیثیت سے، اس کے لیے اسلامی قانون میں حدود کے جرائم کے لیے مقرر کردہ اس مخصوص معیاری ثبوت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ انتہائی سنگین نوعیت کے مقدمات میں، عدالت بے دھڑک سزائے موت سنا سکتی ہے جسے معاف کرنے یا کم کرنے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے، مظلوم یا اس کے قانونی ورثاء کے پاس نہیں۔‘‘

اس ساری بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ مرکزی حنفی تصور کے عین مطابق، اسلامی اصولوں پر گامزن بنگلہ دیش کو یہ مکمل عدالتی اختیار حاصل ہو گا کہ وہ چار چشم دید گواہوں کی کڑی شرط کے بغیر بھی،محض تعزیر اور سیاست کے وسیع طریقہ کار کے ذریعے، موجودہ دور کے فرانزک شواہد، مصدقہ میڈیکل رپورٹس اور حالات سے اخذ شدہ اعترافِ جرم کی بنیاد پر، اجتماعی زیادتی کے سفاک مجرم کو بلا تردد سزائے موت سنا سکے۔

  • قرائنی شواہد (Circumstantial evidence) یعنی ’قرائن‘ بھی، تعزیر کے اثبات کے لیے مکمل طور پر معتبر اور حجت مانے گئے ہیں، اور اس اصول کی جڑیں روایتی حنفی فقہ میں انتہائی مضبوطی کے ساتھ پیوست ہیں۔ آج کے دور کے جدید فرانزک شواہد، طبی یا میڈیکل رپورٹس، ڈی این اے پروفائلنگ، جسم پر پائے جانے والے تشدد کے واضح نشانات، مادہ منویہ یا خون کے دھبوں کی موجودگی، یہ سب کے سب اسلامی قانونِ شہادت کے سنہرے اصولوں کے تحت ’قرائن‘ ہی میں شمار کیے جاتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر وہبہ الزحیلی ﷫ قرائن کی جامع تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کے لیے بنیادی طور پر دو عناصر درکار ہوتے ہیں: اول، ایک بالکل واضح اور ثابت شدہ حقیقت، اور دوم، اس حقیقت اور زیرِ بحث متنازعہ معاملے کے درمیان پایا جانے والا ایک مضبوط منطقی تعلق۔ غور کیا جائے تو یہ ایک ایسا جامع معیار ہے جسے جدید ڈی این اے شواہد پوری حتمیت کے ساتھ پورا کرتے ہیں، کیونکہ وہ حیاتیاتی شناخت کو تقریباً سو فیصد یقین کے ساتھ ثابت کر دیتے ہیں۔ تعزیر کے باب میں قرائن کی اس وسیع قبولیت کی جڑیں روایتی حنفی کتب میں پوری صراحت کے ساتھ بکھری پڑی ہیں۔ امام کاسانی ۂ اپنی بے مثال تصنیف ’’بدائع الصنائع‘‘ میں حنفی فقہ کا یہ کلیدی فرق یوں قائم فرماتے ہیں: حدودکے برعکس، ’’ایک تعزیری جرم کسی درجے کے شبہے کی موجودگی میں بھی پایہِ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے‘‘، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تعزیر کے جرائم، چونکہ وہ براہِ راست اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مطلق حق کے بجائے بندے کے انفرادی حق سے متعلق ہوتے ہیں، اس لیے شریعت نے ان میں شواہد کے معیار کو نسبتاً زیادہ وسیع اور لچکدار رکھا ہے۔ درحقیقت، یہی وہ کشادہ فقہی دروازہ ہے جس کے راستے سے فرانزک اور جدید طبی شواہد، حنفی فوجداری قانون کے اندر مکمل قانونی جواز کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ امام سرخسی ﷫ بھی ’’المبسوط‘‘ میں اس موقف کی بھرپور تائید فرماتے ہیں، اور یہ آفاقی اصول طے کرتے ہیں کہ تعزیر کے مقدمات میں، قاضی ان انتہائی سخت شواہد کے اصولوں کا پابند نہیں ہے جو حدود پر لاگو ہوتے ہیں، بلکہ وہ اپنے سامنے پیش کیے گئے شواہد کے مجموعی وزن کی بنیاد پر، اپنا مکمل عدالتی صوابدیدی اختیار (یعنی اجتہاد) آزادی سے استعمال کر سکتا ہے۔ علامہ ابن نجیم ﷫ ’’الأشباه والنظائر‘‘ میں یہ نادر اصول درج فرماتے ہیں: ’’الأصل أن للحال منزلة كمنزلة المقالة‘‘، یعنی حالات و واقعات کو شریعت میں وہی ٹھوس قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے، جو ایک صریح اور واضح زبانی بیان کو حاصل ہے۔ یہ وہ فقید المثال حنفی اصول ہے جو جائے وقوعہ کی باریکیوں، فرانزک رپورٹ، ڈی این اے پروفائل، اور مظلوم کے جسم پر موجود تشدد کے لرزہ خیز نشانات کو نہ صرف مقدمے سے متعلق بناتا ہے، بلکہ تعزیر کی کارروائی میں انہیں قانونی طور پر گواہی کے بالکل ہم پلہ اور مساوی لا کھڑا کرتا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا (IIUM) کی جانب سے شائع ہونے والا ایک عصری تحقیقی اجماع بھی اس بات کی پر زور تصدیق کرتا ہے:

’’جب قرائنی شواہد کے نتیجے میں جرم پایہِ ثبوت کو پہنچ جائے، تو اجتماعی زیادتی بلاشبہ تعزیر کی سخت سزا کا حقدار بن جاتا ہے، جیسے کہ شرمگاہ پر موجود تشدد کے نشانات، مظلوم یا ملزم کے جسم پر پائی جانے والی مزاحمت کی علامات، ان کے جسم یا کپڑوں پر مادہ منویہ یا خون کے دھبوں کی موجودگی، یا کوئی مستند میڈیکل رپورٹ، یہ سب شواہد تعزیر کے نفاذ کے لیے بالکل کافی سمجھے جائیں گے۔‘‘

اسلامی قانون پر ہونے والی ایک ہم مرتبہ نظرثانی شدہ (peer-reviewed) تحقیق بھی اسی امر کی مزید تصدیق کرتی ہے:

’’علمائے دین اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ تعزیری جرائم کو ثابت کرنے کے لیے قرائن کا سہارا لینے پر شریعت میں کوئی ممانعت یا اعتراض نہیں ہے۔‘‘

یہ فقہِ حنفی کا بالکل طے شدہ اور حتمی مؤقف ہے، اور اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ فرانزک شواہد کا ہر وہ چھوٹا بڑا ٹکڑا، جسے بنگلہ دیش کی موجودہ سیکولر عدالتیں پہلے ہی قبولیت بخش چکی ہیں، وہ اسلامی قانون کے شورائی نظام کے تحت نہ صرف پوری طرح قابلِ قبول ہے، بلکہ درندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے ایک واجب اور ٹھوس بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔

دیگر مکاتبِ فکر کیا گراں قدر اضافہ کرتے ہیں؟

اسلامی فقہ کے دیگر تینوں بڑے مکاتبِ فکر اگرچہ ان بنیادی اصولوں پر کلی طور پر متفق ہیں، تاہم وہ اس فقہی خاکے کو مزید وسعت اور فکری گہرائی عطا کرتے ہیں:

فقہ مالکی:

فقہ مالکی جس کے عظیم بانی سیدنا امام مالک بن انس ﷫ ہیں، کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ اجتماعی زیادتی بلاشبہ شریعت کے سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک، مظلوم کی اپنی گواہی جب طبعی شواہد (physical evidence) کے ساتھ مل جائے، تو وہ سزا کے یقینی نفاذ کے لیے بالکل کافی سمجھی جائے گی، بالخصوص تعزیر کے باب میں، کیونکہ اس نوعیت کے شواہد حد قائم کرنے کے لیے درکار چار گواہوں کے کڑے معیار کے بجائے شرعی قرائن کے زمرے میں آتے ہیں، اور یوں وہ قاضی کی سخت صوابدیدی سزا کے لیے ایک نہایت مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، مہر کے مالی معاوضے کے حوالے سے امام مالک ﷫ کی آواز سب سے زیادہ مضبوط ہے، جو اسے ہر حال میں مظلوم کا ایک قطعی اور حتمی حق قرار دیتے ہیں۔

فقہِ شافعی:

فقہ شافعی جس کی بنیاد سیدنا امام محمد بن ادریس الشافعی ﷫ نے رکھی، بڑی صراحت کے ساتھ یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ زنا کی حد اس درندہ صفت زانی پر پوری قوت کے ساتھ لاگو ہوتی ہے، جبکہ جس مجبور عورت کے ساتھ یہ زبردستی کی گئی ہو، وہ شرعی و اخلاقی لحاظ سے مکمل طور پر بری الذمہ ہے۔ یاد رہے کہ شافعی مکتبِ فکر بھی حالات و واقعات سے ثابت شدہ قرائن کی بنیاد پر مجرم کو سخت ترین تعزیر کی سزا دینے کی کھلی اجازت فراہم کرتا ہے۔

فقہ حنبلی:

فقہ حنبلی جس کے مؤسس سیدنا امام احمد بن حنبل ﷫ ہیں، اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں اس وقت براہِ راست ’حرابہ‘ کا کڑا حکم لاگو کرتا ہے، جب اس گھناؤنے فعل کے ساتھ مسلح زبردستی، اغوا، یا مظلوم اور اس کے خاندان کو ہراساں و خوفزدہ کرنے کے عناصر بھی شامل ہو جائیں۔ اسلامی قانونِ تعزیرات میں حرابہ کی انتہائی سخت اور عبرت ناک سزائیں مقرر ہیں، جیسا کہ سورۃ المائدہ آیت نمبر ۳۳ میں ربِ ذوالجلال نے خود بیان فرمایا ہے کہ سولی چڑھانا، قتل کر دینا، جلاوطن کرنا، یا مخالف سمتوں سے ہاتھ پیر کاٹ ڈالنا۔ اگر ہم بیگم گنج کے دلخراش واقعے پر غور کریں، جہاں ایک جرائم پیشہ اور مسلح گروہ نے ایک نہتی خاتون کو دبوچ کر، منظم دہشت گردی کے سائے میں اس کی عصمت تار تار کی، تو حنبلی فقہ کی رو سے یہ سفاکانہ عمل سیدھا ’حرابہ‘ کے دائرے میں آتا ہے۔

غرض چاروں جلیل القدر مکاتبِ فکر اور تیرہ صدیوں پر محیط علمی و تحقیقی ورثے کے اس پار سے اُبھرنے والا پیغام بالکل متفقہ اور یکساں ہے: درندے کو ہر حال میں سزا دی جاتی ہے، مظلوم کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، اور یہ سزا نہایت متناسب، سوفیصد یقینی اور بلاتاخیر ہوتی ہے۔

نظریہِ انسداد (Deterrence Doctrine): اسلامی انصاف ہی کیوں واحد حقیقی حل ہے؟

درحقیقت، یہ وہ مقامِ عبرت ہے جہاں اسلامی فقہ محض ایک کتابی نظریے کے دائرے سے نکل کر، ایک زندہ اور ٹھوس عملی نظام کی شکل اختیار کر لیتی ہے، اور ساتھ ہی ہمارے موجودہ فرسودہ قانونی ڈھانچے کے اس بحران کو حل کرنے میں پائی جانے والی ساختی نااہلی کو مکمل طور پر بے نقاب کر کے رکھ دیتی ہے۔

شریعتِ مطہرہ میں حدود کا تصور، جو کہ اسلامی قانون کی جانب سے حتمی طور پر مقرر کردہ سزائیں ہیں، بنیادی طور پر محض انتقام یا بدلہ لینے کے جذبے سے عبارت نہیں ہے۔ اس کا اصل اور بنیادی مقصد معاشرے میں انسداد یا جرائم کی جڑ سے روک تھام (یعنی ’ردع‘) ہے۔ امام کاسانی ﷫ نے اپنی عظیم اور بے مثال حنفی تصنیف ’بدائع الصنائع‘ میں اس فلسفے کی بڑی خوبصورت وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کسی مجرم کو سخت سزا دینے کا مقصد محض ایک مخصوص فرد کو اذیت سے دوچار کرنا نہیں ہے، بلکہ معاشرے کے ہر اس فرد کو، جس کے دل میں جرم کرنے کا کوئی ارادہ مچل رہا ہو، یہ بات پوری صراحت کے ساتھ سمجھا دینا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا میزانِ عدل حرکت میں آنے سے نہ تو کبھی ہچکچاتا ہے، نہ کسی قسم کی تاخیر کا شکار ہوتا ہے، اور نہ ہی وہ کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرتا ہے۔

اس فلسفے کی منطق بالکل سادہ اور دو ٹوک ہے۔ گویا یہ اخلاقیات کے میدان میں لاگو ہونے والا ریاضی کا کوئی اٹل اصول ہو۔

آج کے بنگلہ دیش میں بیٹھا کوئی بھی درندہ اپنے ذہن میں ایک بڑا عقلی اور منطقی حساب لگاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے سزا پانے کا امکان ۴ فیصد سے بھی کم ہے۔ اگر وہ بالفرض گرفتار ہو بھی جائے، تو دو ہفتوں کے اندر اندر ضمانت مل جانے کے قوی امکانات موجود ہوتے ہیں۔ سیاسی پشت پناہی، گواہوں کو ڈرانا دھمکانا، یا پھر کسی چرب زبان وکیل کی خدمات حاصل کر لینا، یہ سب وہ ہتھکنڈے ہیں جو کسی بھی مقدمے کو ایک دہائی تک التوا کی کھائی میں دھکیل سکتے ہیں۔ اور اگر اتفاق سے اسے سزائے موت سنا بھی دی جائے، جیسا کہ سرکاری اعداد و شمار خود گواہ ہیں، تو شاید اسے عملی طور پر کبھی تختہ دار پر نہ لٹکایا جائے۔ ذرا سوچیے، بنگلہ دیش کی پوری ۵۴ سالہ تاریخ میں صرف ۱۹ وحشی درندوں کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا گیا ہے۔ یہ پورا عدالتی نظام اس کے مکمل حق میں کام کرتا ہے، اور وہ یہ تلخ حقیقت بخوبی جانتا ہے۔ بات سیدھی سی ہے، جب سزا ملنے کا یقین صفر کے قریب پہنچ جائے، تو جرائم کی شرح از خود اپنی انتہا کو چھونے لگتی ہے۔ یہ کوئی خیالی نظریہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو سبب اور اثر کا بالکل سیدھا سا فطری اصول ہے۔

دوسری جانب، اسلامی قانون کا خاکہ اس مجرمانہ حساب کتاب کو یکسر الٹ کر رکھ دیتا ہے۔ جب ایک شخص اپنے دل کی گہرائیوں سے، اور پورے یقین کے ساتھ، یہ جانتا ہو کہ محض اس کا اعترافِ جرم ہی حد کو نافذ کر دے گا، کہ مظلوم کے مہیا کردہ فرانزک شواہد اور میڈیکل رپورٹ مل کر ایسے ٹھوس قرائن تشکیل دیتے ہیں جو اسے سخت ترین تعزیر کا نشانہ بنانے کے لیے بالکل کافی ہیں، اور یہ کہ قاضی شرعی و مذہبی طور پر فوری کارروائی کرنے کا پابند ہے، تو یقین جانیے، جرم کے ارتکاب سے بہت پہلے ہی اس کا سارا حساب کتاب الٹ جاتا ہے۔ اسلامی عدالتوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے کسی قانونی سقم کی گنجائش نہیں ہوتی۔ وہاں مقدمے کو لٹکانے کے لیے التوا کی کوئی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی۔ اور روئے زمین پر ایسا کوئی سیاسی رسوخ موجود نہیں ہوتا، جو اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اٹل فیصلے سے بچا سکے۔

تاہم، اس مقام پر ایک انتہائی باریک وضاحت پیش کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ اسلامی نظام عدل، بیک وقت انصاف اور دیانت دونوں کے مضبوط ستونوں پر استوار ہے۔ جہاں کہیں کسی الزام میں مضبوط قرائن کی کمی واقع ہو، یعنی جہاں شواہد کمزور، متنازعہ یا سرے سے غائب ہوں، وہاں ملزم کو ’’شک کا فائدہ‘‘ بدستور حاصل رہتا ہے۔ دراصل یہ اسلامی قانون میں شامل ایک بنیادی اور کلیدی تحفظ ہے، جسے خاص طور پر جھوٹے الزامات کی وبا سے نمٹنے کے لیے رکھا گیا ہے، کیونکہ بہتان تراشی کسی بھی معاشرے کے لیے ایک حقیقی اور انتہائی سنگین تشویش کا باعث ہوتی ہے۔ چنانچہ، ایسے مشتبہ مقدمات میں، ملزم کو اس کی بنیادی بے گناہی کے مفروضے کے تحت ضمانت مل سکتی ہے۔ لیکن، جہاں کہیں ٹھوس اور مضبوط قرائن پوری طرح موجود ہوں، یعنی جہاں جائے وقوعہ کے فرانزک شواہد، میڈیکل رپورٹس، اعترافِ جرم، اور جسم پر پائے جانے والے تشدد کے نشانات آپس میں مل کر ناقابلِ تردید شواہد کی ایک مربوط تصویر پیش کر رہے ہوں، تو وہاں کسی بھی ملزم کو یہ چھوٹ نہیں دی جا سکتی کہ وہ ضمانت پر آزاد دندناتا پھرے، گواہوں کو ڈرائے دھمکائے، قانون کی گرفت سے فرار ہونے کی راہ تلاش کرے، یا کسی خستہ حال نظام کے صبر کا مزید امتحان لے۔ ایسے واضح مقدمات میں، شواہد کا بھاری وزن بذاتِ خود، باقاعدہ ٹرائل سے قبل کسی بھی قسم کی رہائی کو شرعاً ناقابلِ جواز بنا دیتا ہے۔ اسلامی فقہ کا خاکہ نہ تو شواہد کو نظر انداز کر کے ملزمان کو خود بخود ضمانتیں بانٹتا پھرتا ہے، اور نہ ہی شواہد کی مکمل عدم موجودگی کے باوجود ہٹ دھرمی سے ضمانت دینے سے انکار کرتا ہے۔ یہ تو دراصل حراست اور سزا کو، عدالت کے روبرو موجود قرائن کے اصل وزن کے عین مطابق پوری دیانتداری سے متوازن کرتا ہے، اور صد افسوس کہ یہی وہ بنیادی کام ہے جسے انجام دینے سے بنگلہ دیش کا مروجہ نظام مکمل طور پر انکاری ہے۔

سلطنتِ عثمانیہ کے دورِ زریں میں، حنفی قانون کو سب سے بہترین اور مرتب انداز میں مدون کرنے والے جلیل القدر فقیہ، علامہ ابن عابدین ﷫، اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’رد المحتار‘ میں لکھتے ہیں کہ سنگین جنسی تشدد کے لرزہ خیز مقدمات میں ’تعزیر‘ کا نفاذ محض کوئی اختیاری امر نہیں ہے، بلکہ یہ تو سلطنت کی گردن پر واجب الادا ایک شرعی فریضہ ہے۔ وہ بڑی مضبوط دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انصاف کے مسند پر بیٹھا وہ امام یا حکمران، جو شواہد کے بالکل واضح ہونے کے باوجود کسی ’محارب‘ (یعنی حد سے گزر جانے والے مجرم) کو قرار واقعی سزا دینے میں ناکام رہتا ہے، درحقیقت وہ روزِ قیامت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور اس مجرمانہ ناکامی کے گناہ کا بھاری بوجھ اٹھائے گا۔ یاد رکھیے! یہ کوئی ایسا سست رو فلسفہ نہیں ہے جو مقدمات میں ۱۰ سالہ طویل التوا پیدا کرے، بلکہ یہ تو وہ بیدار مغز فلسفہ ہے جو انصاف کی فراہمی میں ہونے والی تاخیر کو، بذاتِ خود ایک ناقابلِ معافی جرم قرار دے دیتا ہے۔

کلاسیکی دور کے بعد پیدا ہونے والے انتہائی مستند اور صاحبِ بصیرت حنفی فقہاء میں سے ایک عظیم نام، علامہ ابن نجیم ﷫ (وفات ۹۷۰ھ ؍ ۱۵۶۳ء)، اپنی مایہ ناز کتاب ’البحر الرائق‘ میں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ سلطانِ وقت اور اس کے مقرر کردہ نائبین پر شرعاً یہ امر واجب ہے کہ جب سزاؤں کے نفاذ کی تمام شرائط ثابت ہو جائیں، تو وہ ان کے عملی نفاذ میں ہرگز کوئی تاخیر نہ کریں، کیونکہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کرنا بذاتِ خود ظلم کی ہی ایک بدترین شکل ہے۔

یہ حوالہ ’البحر الرائق شرح کنز الدقائق‘ میں ملتا ہے، جو ایک ایسی حنفی فقہی شرح ہے جسے جنوبی ایشیا اور عرب دنیا میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے تحت کام کرنے والا کوئی بھی فرض شناس قاضی، کسی حساس مقدمے کو ۱۳۷۰ دنوں کی طویل اور صبر آزما مدت کے لیے التوا میں لٹکا کر نہیں رکھتا۔ وہ کبھی اس بے ضابطگی کی اجازت نہیں دیتا کہ ایک ہی مقدمے کی حساس فائل، چھ مختلف تفتیشی افسران کے ہاتھوں کی دھول بن کر اپنا سارا تسلسل ہی کھو بیٹھے۔ اور نہ ہی وہ اجتماعی زیادتی کے سنگین ٹرائل کو محض دو سال تک منجمد رکھنے کی خاطر، ہائی کورٹ سے لائے گئے کسی کاغذی حکمِ امتناعی کو بطور عذر یا جواز قبول کرتا ہے۔

اسلامی تصورِ انسداد (Deterrence) کس طرح معاشرے کی ازسرِ نو تشکیل کرتا ہے؟

اسلامی ماڈل کے حق میں پیش کی جانے والی سب سے طاقتور دلیل یہ نہیں ہے کہ وہ ایک سزا یافتہ مجرم کے ساتھ کتنا کڑا سلوک روا رکھتا ہے۔ بلکہ اس کی اصل کامیابی تو یہ ہے کہ وہ معاشرے کے ہر اس شخص کی نفسیات کے ساتھ کیا کرتا ہے جسے کبھی کوئی سزا ملی ہی نہیں، محض اس لیے کہ اس کڑے نظام کے خوف نے اسے کبھی وہ جرم کرنے ہی نہیں دیا۔

اسلامی قانونِ تعزیرات میں انسداد (یعنی جرائم کی جڑ سے روک تھام) بیک وقت تین مختلف سطحوں پر اپنا گہرا اثر دکھاتا ہے: انفرادی سطح، اجتماعی (کمیونٹی) سطح، اور پورے معاشرے کی سطح پر اس کا بیدار اخلاقی ضمیر، اور سچ پوچھیے تو یہ وہ سہ جہتی اور تہہ در تہہ مرتب ہونے والا حیرت انگیز اثر ہے، جسے مغرب کا مسلط کردہ نوآبادیاتی قانونی ڈھانچہ لاکھ چاہنے کے باوجود کبھی نقل نہیں کر سکا۔

سب سے پہلے انفرادی سطح پر غور کیجیے۔ اسلامی سزا کا حتمی یقین اور اس کی ناقابلِ سمجھوتہ سختی، ہر ممکنہ مجرم کے ذہن میں موجود خطرے کے حساب کتاب کو یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ جب کوئی شخص یہ جانتا ہو کہ اجتماعی زیادتی، مجو مجرم کے اعتراف، شرعی گواہی، یا پھر جدید فرانزک شواہد پر مبنی قرائن سے ثابت ہو چکا ہو، اس کی سزا کوئی دور دراز کا موہوم نظریاتی امکان نہیں، بلکہ ایک بالکل یقینی، فوری اور اعلانیہ حقیقت ہے، تو اس کے مجرمانہ رویے کا سارا نفع و نقصان کا شیطانی تجزیہ لمحوں میں زمین بوس ہو جاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس نظام کو اپنا اثر دکھانے کے لیے، اس شخص کا انتہائی متقی یا مذہبی ہونا قطعی ضروری نہیں ہے۔ اس کے لیے محض اس کا ایک عقلمند اور منطقی انسان ہونا ہی کافی ہے۔ آج بنگلہ دیش کی گلیوں میں دندناتا درندہ سزا پانے کے ۴ فیصد سے بھی کم امکان پر بے خوف ہو کر جوا کھیلتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس، ایک فعال اور بیدار اسلامی نظامِ انصاف میں اس کا ہم منصب، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مقرر کردہ قاضی کے ذریعے نافذ ہونے والے قانونِ الٰہی کی یقینی اور فولادی گرفت کے خلاف جوا کھیلتا ہے۔ اور ظاہر ہے، یہ دونوں جوئے آپس میں کسی بھی طرح برابر نہیں ہو سکتے۔

دوسرا پہلو اجتماعی (یا کمیونٹی) سطح کا ہے۔ یاد رکھیے، سرِعام عبرت ناک سزا کا نفاذ یعنی ’’عقوبہ علنیہ‘‘، جیسا کہ روایتی فقہ حنفی اور وسیع تر اسلامی شریعت میں کھول کر بیان کیا گیا ہے، محض کوئی اندھا ظلم یا خونی بربریت نہیں ہے۔ بلکہ درحقیقت یہ ایک انتہائی گہرا معاشرتی پیغام ہے۔ جب کوئی معاشرہ اپنی آنکھوں سے یہ دیکھتا ہے کہ سلطنت اجتماعی زیادتی جیسے سنگین جرم کو محض دفتری فائلوں یا قانونی ضابطے کا ایسا عام سا مسئلہ نہیں سمجھتی، جسے پندرہ پندرہ سال کے ظالمانہ التوا کی بھینٹ چڑھا دیا جائے، بلکہ وہ اسے انسانی تکریم و حرمت کی ایک ایسی سنگین اور ناقابلِ برداشت پامالی گردانتی ہے، جو کسی بھی قسم کی تاخیر کے بغیر ایک فوری اور دو ٹوک حکومتی ردعمل کا تقاضا کرتی ہے، تو اس وقت اس پوری کمیونٹی کی اخلاقی آب و ہوا ہی بدل جایا کرتی ہے۔ اجتماعی زیادتی کو پھر کبھی معمول کا واقعہ نہیں سمجھا جاتا۔ اسے چند بااثر شخصیات کے دباؤ میں آ کر مقامی پنچایت (سالش) کے پردے میں خاموشی سے دبا دینے کی جرأت نہیں کی جاتی۔ یہ کوئی ایسی معمولی چیز نہیں رہتی جس سے سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والا کوئی وڈیرا باآسانی دامن بچا کر نکل جائے۔ یہ سرِعام دی جانے والی سزا دراصل ہر عینی شاہد، ہر پڑوسی، ہر دردِ دل رکھنے والے باپ اور گلی کے ہر ممکنہ مجرم کے کانوں میں یہ گرج دار پیغام دیتی ہے: یہ معاشرہ اس درندگی کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کرتا، اور یاد رکھو! اس کے ہولناک نتائج بالکل حقیقی اور یقینی ہیں۔

بدقسمتی سے، آج کے بنگلہ دیش میں بالکل اسی بنیادی چیز کی شدید کمی ہے۔ قانون سے استثنیٰ اور بے لگام مجرموں کے اس عفریت نما کلچر نے، جو باقاعدہ دستاویزی، منظم اور گہری سیاسی نوعیت کا حامل ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے معاشرے کی رگوں میں اس کے بالکل الٹ پیغام اتارا ہے کہ اجتماعی زیادتی بالخصوص غریبوں، لاچاروں اور سیاسی رسوخ نہ رکھنے والے طبقے کے خلاف کیا جائے، تو اس کا کوئی معنی خیز اور خطرناک نتیجہ نہیں نکلتا۔ رپورٹ ہونے والے اندوہناک مقدمات میں سال بہ سال ہونے والا یہ ہوش ربا اضافہ، محض قانون نافذ کرنے والے اداروں کی روایتی ناکامی نہیں ہے۔ درحقیقت، یہ دہائیوں سے حکومت کی طرف سے دیے جانے والے اسی مجرمانہ استثنیٰ کے پیغام کا کڑوا معاشرتی پھل ہے۔ معاشرے نے اپنے تلخ مشاہدات کے ذریعے یہی سبق سیکھا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب درندے بڑی آسانی سے قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ اس کے برعکس، اسلامی قانون انہیں بالکل الٹ اور سبق آموز پیغام سکھاتا ہے، جو مستقل بنیادوں پر استوار ہے، ساختی طور پر اٹل ہے، اور کسی بھی قسم کے استثنیٰ یا رعایت سے یکسر پاک ہے۔

تیسرا اور سب سے لطیف پہلو، اجتماعی اخلاقی ضمیر کی سطح کا ہے۔ اس دائرے میں اسلام ایک ایسا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیتا ہے جس کی ادنیٰ سی نقل بھی دنیا کا کوئی جدید سیکولر قانونی نظام نہیں کر سکتا: یہ دراصل جرم پکڑے جانے کے مادی خوف کو، براہِ راست اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے خوف (یعنی تقویٰ) کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ گناہ اور سرکشی کا اسلامی تصور محض کوئی قانونی یا کاغذی شے نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں گہری روحانیت میں پیوست ہیں۔ ایک شخص جو شاید دنیا کے خستہ حال عدالتی نظام سے بچ نکلنے کا ہزارہا اندازہ لگا لے، وہ اس محکم اور لرزہ خیز علم کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ رات کے گھپ اندھیروں میں کیے گئے اس کے ہر ایک عمل کو دیکھ رہا ہے۔ وہ تقویٰ، یعنی اللہ عزوجل کا ہمہ وقت خوف اور اس کی حضوری کا احساس، جسے ایک سچا اسلامی معاشرہ اپنی عبادات، اجتماعیت، اور الٰہی احتساب کے مسلسل استحضار کے ذریعے پروان چڑھاتا ہے، انسان کے دل میں درحقیقت ایک ایسی مضبوط اور ناقابلِ تسخیر اندرونی رکاوٹ کھڑی کر دیتا ہے جسے دنیا کی کوئی جدید پولیس فورس، کوئی ہائی پروفائل ٹربیونل، اور کوئی نام نہاد قانونی اصلاحات ہرگز تیار نہیں کر سکتیں۔

رمیسا کا لرزہ خیز مقدمہ اس کے بالکل برعکس پائی جانے والی ہماری ملکی صورتحال کو، انتہائی ہولناک صراحت کے ساتھ بے نقاب کر دیتا ہے۔ جب سہیل رانا جیسے درندے کو محض ۱۹ دنوں کے اندر سزائے موت سنائی گئی، تو خوشی کے مارے پوری قوم نے جشن منایا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ نادانستگی میں جس شے کا اس قدر والہانہ جشن منا رہے تھے، وہ دراصل اسی بات کی ایک عارضی اور سرسری سی جھلک تھی، کہ ایک خالص اسلامی انصاف مستقل بنیادوں پر کیسا نظر آیا کرتا ہے۔ مظلوموں کو انصاف کے حصول کے لیے کسی سیاسی دباؤ کے بننے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے پاس تو ایک ایسا فولادی نظامِ عدل ہونا چاہیے جو اس فوری انصاف کو اپنے روزمرہ کے معمول اور معیار کے طور پر فراہم کرے، نہ کہ صدی میں ہونے والے کسی نایاب اور غیر معمولی استثنیٰ کے طور پر۔ اور سچ پوچھیے تو وہ ۱۹ دن کا طوفانی ٹرائل بھی ہنوز انصاف کی مکمل فراہمی پر ختم نہیں ہوا، وہ دونوں درندے آج بھی زندہ ہیں، ان کی سزائیں ایک نامعلوم اور غیر معینہ مدت کے لیے اپیل کے پیچیدہ عمل میں معطل پڑی ہیں، اور وہ بڑے آرام سے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کی نظرِ ثانی کے منتظر ہیں۔ یاد رہے، بنگلہ دیش نے اپنی طویل ۵۴ سالہ تاریخ میں صرف ۱۹ درندوں کو ہی پھانسی دی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ سہیل رانا کبھی تختہ دار پر لٹکے گا بھی یا نہیں!

الٰہی اور شرعی فریضے کے گہرے احساس کے تحت کام کرنے والے کسی عادل قاضی کو، حرکت میں آنے کے لیے کبھی کسی وزیراعظم کے پریس اعلان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسے متحرک اور بیدار ہونے کے لیے کسی قوم کے سڑکوں پر نکلنے یا ان کے بے قابو غم و غصے کی حاجت نہیں ہوتی۔ اسے فیصلہ سنانے کے لیے صرف اور صرف ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے، اور اپنے دل میں اس بات کے استحضار کی، کہ اللہ رب العزت اسے انصاف میں ہونے والی تاخیر کے ایک ایک دن پر کڑی جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔

جب کوئی بھی معاشرہ اپنی ہڈیوں کے گودے تک اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ اس ملک کا نظامِ عدل واقعی کام کرتا ہے، اور وہ بھی کبھی کبھار نہیں، کسی کے سیاسی دباؤ کے ماتحت نہیں، قومی سطح پر پھیلنے والے غم و غصے کے چند استثنائی مقدمات میں نہیں، بلکہ ہمیشہ، بلا تفریق سب کے لیے، اور ہر قسم کی سیاسی وابستگی و دباؤ سے مکمل طور پر بالاتر ہو کر، تو اس معاشرے میں محض اجتماعی زیادتی کے اکا دکا واقعات ہی میں کمی نہیں آتی، بلکہ اس قوم کا مجموعی اخلاقی کردار اور اس کا باطن ہی بدل جایا کرتا ہے۔ یہ نظام پھر ایسے باشعور اور ذمہ دار مرد پیدا کرتا ہے جو اجتماعی زیادتی کو کوئی ایسا آپشن ہی تسلیم نہیں کرتے، جس کا ارتکاب کر کے وہ کبھی بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ یہ ایسی روشن خیال اور ہمدرد کمیونٹیز کو جنم دیتا ہے جہاں مظلوم خاتون کو طعنے دے کر اور شرمندہ کر کے اسے ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرایا جاتا، بلکہ حصولِ انصاف کی کٹھن راہ میں اس کا ہاتھ تھام کر اس کی بھرپور مدد کی جاتی ہے۔ یہ دراصل ایک ایسی بیدار حکومت کی بنیاد رکھتا ہے جس کے اعلیٰ افسران یہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ خواتین کا تحفظ ان کی طرف سے کیا گیا کوئی سیاسی احسان ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ تو روزِ قیامت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور پوچھے جانے والا ایک عظیم فرض ہے۔

بس یہی وہ روحِ عدل ہے، جس کی آج بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ کمی ہے۔ مسئلہ محض چند کاغذی اور بہتر قوانین بنا لینے کا نہیں ہےم بلکہ درحقیقت، ایک مستحکم اور بہتر بنیاد کی فراہمی کا ہے۔

بنگلہ دیش ایک دوراہے پر

بنگلہ دیش آج ایک ہولناک اور دستاویزی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ذرا ان اعداد و شمار پر غور کیجیے: صرف ۲۰۲۵ء میں اجتماعی زیادتی کے ۷,۰۶۸ مقدمات درج کیے گئے۔ رپورٹ ہونے والے شرمناک واقعات میں سال بہ سال ۵۲ فیصد کا ہوش ربا اضافہ دیکھا گیا۔ معصوم بچوں کو درندگی کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں ۴۸ فیصد اضافہ ہوا۔ مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنے کی شرح اتنی پست ہے کہ وہ ۴ فیصد تک بھی نہیں پہنچ پاتی۔ گزشتہ ۵۴ سالوں کی طویل تاریخ میں اجتماعی زیادتی کے جرم پر محض ۱۹ درندوں کو پھانسی دی گئی۔ بے شمار مقدمات ایسے ہیں جو ایک دہائی تک عدالتوں کے چکر کاٹتے ہیں اور پھر بھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آتا۔ پلبی کے علاقے میں ایک آٹھ سالہ معصوم بچی کا بے دردی سے سر قلم کر دیا گیا، اور اندیشہ ہے کہ اس کے سفاک قاتل شاید ایک پوری نسل گزر جانے کے بعد بھی تختہ دار تک نہ پہنچ سکیں۔ سلہٹ کی وہ مظلوم خاتون، جس کی کالج کیمپس میں برسراقتدار جماعت کے غنڈوں نے عصمت دری کی اور خود حکومت نے مسلسل پانچ سال تک ان مجرموں کی کھلی پشت پناہی کی۔ نواکھالی کی وہ بے بس گھریلو خاتون، جس کے جسم پر ٹوٹنے والے درندوں نے اس کی دردناک اذیت کو کیمرے کی آنکھ میں ریکارڈ کیا اور فیس بک پر باقاعدہ براہِ راست (لائیو) نشر کیا، اور المیہ دیکھیے کہ جسے آج بھی حکومت کی طرف سے کوئی بامعنی تحفظ حاصل نہیں ہو سکا۔

لہٰذا، یہ بحث اب محض فروعی نہیں، بلکہ بنیادی ڈھانچے کی بقا کی بحث ہے۔ ضرورت ایک ایسے نظامِ عدل اور خاکے کی ہے، جو اس تعزیر پر استوار ہو جو حکومت پر لازمی ہے، نہ کہ محض اختیاری۔ جو ان قرائن پر کھڑا ہو، جو امام کاسانی، امام سرخسی، اور علامہ ابن نجیم رحمہم اللہ کی دی گئی براہِ راست حنفی سند کے ذریعے موجودہ دور کے جدید فرانزک شواہد کو مکمل طور پر شرعی و قانونی جواز بخشتے ہیں۔ جو قاضی کے اس مذہبی فریضے سے مزین ہو، جو اسے بغیر کسی التوا یا تاخیر کے فوری کارروائی کا پابند بناتا ہے، جو مہر کے اس مالی معاوضے کی ضمانت دیتا ہو، جو حد قائم نہ ہو سکنے کی صورت میں، تعزیر کی سخت سزا کے ساتھ ساتھ مظلومہ کو دنیاوی و مادی انصاف بھی فراہم کرتا ہے۔ جو شرعی حدود کی ان عبرت ناک سزاؤں پر مبنی ہو، جن کا حتمی یقین معاشرے میں جرائم کا ایک حقیقی انسداد پیدا کرتا ہے۔ اور جو دلوں میں جاگزیں اس تقویٰ پر استوار ہو، جو اندرونِ ذات سے اٹھ کر معاشرے کے پورے اخلاقی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل کرتا ہے۔ یقین جانیے، اسلامی قانون کا یہ خاکہ محض کھوکھلی اصلاحات کا لفظی وعدہ نہیں کرتا، بلکہ یہ تو انسان کی ترغیب، اس کے فریضے، بیدار ضمیر اور حتمی انجام کی سطح پر، ایک ہمہ گیر اور ساختی تبدیلی کی ٹھوس ضمانت فراہم کرتا ہے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش ۹۰ فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ایک عظیم ملک ہے۔ اس کا اپنا تابناک فقہی ورثہ، یعنی فقہِ حنفی، جس پر برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں مسلسل آٹھ صدیوں تک پوری شان و شوکت سے عمل ہوتا رہا، وہ پہلے ہی اپنے دامن میں ان تمام سلگتے سوالوں کے شافی و کافی جوابات سموئے ہوئے ہے، جن کی تلاش میں آج اس دھرتی کی بیٹیاں اپنی عصمتیں اور جانیں گنوا رہی ہیں۔ ہمیں ہر صورت اپنے اس شکستہ ترازو کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ اور خوشخبری یہ ہے کہ اس کا بے عیب خاکہ ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔ یہ خاکہ ان استعماری آقاؤں سے ورثے میں ملنے والے ان بوسیدہ نوآبادیاتی قوانین کی کتابوں میں ہرگز نہیں لکھا، جنہوں نے کبھی ہماری بیٹیوں کے نام تک جاننے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ بلکہ یہ تو ہماری اس شاندار اور روشن روایت کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا ہے، جو روزِ اول سے یہ جانتی اور سکھاتی ہے کہ کسی بھی ظلم کے پرانے ہو جانے یا اس کی میعادِ سماعت کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی، اس کی پکڑ سے بچ نکلنے کا کوئی چور دفتری راستہ نہیں ہوتا، اس میں ملزم کی ضمانت کی کوئی من پسند سماعت نہیں ہوتی، اور ظالم مجرم اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کڑے انصاف کے درمیان رکاوٹ بننے والی دنیا کی کوئی اپیل کورٹ حائل نہیں ہو سکتی۔

٭٭٭٭٭

Previous Post

بنگالی مسلمانوں کا انقلابی شعور

Next Post

سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اگست 2026

21 اگست 2026
مَعرکے ہیں تیز تَر! | ستمبر تا نومبر 2024
عالمی جہاد

مَعرکے ہیں تیز تَر! | اگست 2026

21 اگست 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: بیالیس (۴۲)

21 اگست 2026
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
نقطۂ نظر

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

20 اگست 2026
سوشل میڈیا کے جاسوس
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا کے جاسوس

20 اگست 2026
سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)
اوپن سورس جہاد

سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

20 اگست 2026
Next Post
سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اگست 2026ء
اگست 2025

اگست 2026ء

by ادارہ
20 اگست 2026

Read more

تازہ مطبوعات

سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
جہادِ شام کے اسباق
مطبوعات حطین

جہادِ شام کے اسباق

فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کا بیان ”فَلنُقَاتِلهُم بُنيَانًا مَرصُوصًا“ مقدمہ و حواشی کے ساتھ مترجم: مولانا عمار خان     ...

ستمبر, 2026
د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو
مطبوعات حطین

د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو

  لیکوال: شيخ ډاکټر سامي بن محمود العُريدي ژباړن: مولوي عماد الدین خالد     ډاونلوډ کړی       ...

ستمبر, 2026
مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مطبوعات حطین

مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں

مصنف: شیخ ڈاکٹر سامی بن محمود العریدی مترجم: مفتی عامر احمد سلطانی     ڈاؤن لوڈ کریں       ...

ستمبر, 2026
مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version