آسانی و راحت اپنے مقررہ وقت پر آئے گی
اللہ کی محبت کیسے حاصل کریں۔ اپنے دلوں میں اللہ کی محبت کی عمارت از سرِنو مضبوط بنیادوں پر کیسے کھڑی کریں؟ اللہ کی محبت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کے لیے ہم اللہ کی خوبصورت صفات پر غور کرتے ہیں، اور انہی میں سے ایک صفت ’’حکمت‘‘، بالخصوص زمانۂ ابتلا میں حکمتِ الٰہی، ہماری سابقہ گفتگو کا موضوع تھی۔ آج کی گفتگو میں ہم اسی صفت کو ایک دوسرے رخ سے دیکھیں گے، اور وہ ہے کہ ابتلا کی مدّت کے تعیّن میں اللہ کی حکمت۔
اپنی مصیبت کے دوران بعض اوقات میں یہ سوچا کرتا تھا کہ ’’اب تک تو اس (آزمائش کے) تجربے نے میرے ایمان و یقین کو بے حد فائدہ پہنچایا ہے۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ آزمائش طول پکڑ گئی تو اس کا اثر اس کے برعکس ہو سکتا ہے‘‘۔ پھر میں خود سے کہتا: ’’تمہیں اس سے کیا؟ تم تو محض ایک غلام ہو۔ تم یہ معاملہ اللہ کے لیے چھوڑ دو، وہ الحکیم ہے، الخبیر ہے، وہ العلیم ہے! وہ بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ آزمائش کا دورانیہ، اس کی شدت، اس کے اوقات اور اس کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ وہ جو چاہتا ہے اختیار کرتا ہے، اور جو کچھ بھی وہ اختیار کرتا ہے اس میں وہ الحکیم (سب سے زیادہ حکمت والا) ہے ‘‘۔
آئیے اس تصور کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے غزوۂ احزاب کے واقعے پر غور کرتے ہیں:
احزاب کی آزمائش بالکل صحیح وقت پر آئی اور بالکل صحیح وقت پر اس کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ یہ آزمائش تب تک جاری رہی جب تک کہ مومنین اور منافقین کے درمیان ایک واضح تفریق نہ ہو گئی اور لوگوں کا اصل ظرف و کردار نمایاں اور واضح نہ ہو گیا۔ سو آزمائش کا ان فوائد کے حصول تک جاری رہنا اللہ تعالیٰ کی حکمت و رحمت میں سے تھا، کیونکہ اس آزمائش کے ذریعے ہی مومنین منافقین سے خبردار ہو گئے اور ان کے ان الفاظ اور ان میں چھپے اس زہر سے واقف ہو گئے جو وہ انتہائی ہوشیاری سے نکالا کرتے تھے۔ پھر یہ بھی اللہ کی حکمت و رحمت سے ہی تھا کہ آزمائش اس قدر طویل اور مزید اتنی سخت نہ ہوئی کہ جس کے سبب بعض مسلمان سیدھے راستے سے بھٹک جاتے یا اپنا ایمان و یقین کھونے لگتے۔
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا (الاحزاب:۲۲)
’’اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، جب انہوں نے (دشمن کے) لشکروں کو دیکھا تھا تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ وہی بات ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔ اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تابع داری کے جذبے میں اور اضافہ کر دیا تھا۔‘‘
جب مومنین نے دشمن اتحاد کو دیکھا تو وہ صابر اور ثابت قدم رہے۔
الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى (البخاری)
’’صبر تو وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔‘‘
اللہ تعالی نے مومنین کو نجات عطا فرمائی اور ان کے ایمان کی حفاظت کی۔ اس نے ان کی ایسے الفاظ ادا کرنے کی جانب رہنمائی فرمائی کہ جن سے ان کا ایمان مزید مضبوط ہو گیا۔مفسرینِ قرآن بتاتے ہیں کہ مومنین نے جب یہ کہا کہ:
’’ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ…‘‘
تو ان کی مراد سورۃ البقرۃ کی یہ آیت تھی:
قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (البقرۃ: ۲۱۴)
’’(مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ “ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟” یا د رکھو ! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔‘‘
ابنِ عاشور کے مطابق یہ آیت غزوۂ احزاب سے ایک سال قبل نازل ہوئی تھی۔
لیکن کیا آزمائش جاری نہ رہی؟ اور اس کی شدت میں اضافہ نہ ہوتا چلا گیا؟ مشرکین کی جانب سے مدینہ کا محاصرہ پورا ایک ماہ جاری رہا۔ ایک ماہ جو بھوک، سردی اور خوف پر مشتمل تھا، جس کے دوران مشرکین خندق کے کمزور مقامات سے مسلمانانِ مدینہ پر مسلسل حملے کرتے رہے۔ اور حالات اس وقت بد سے بدترین ہو گئے جب مسلمانوں کو علم ہوا کہ قبیلۂ بنو قریظہ کے یہود نے بھی مسلمانوں کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ دیا ہے اور مشرک دشمن کی صف میں جا کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب تھا کہ کسی بھی وقت بنو قریظہ اپنے دروازے مشرکین کے لیے کھول سکتے تھے اور انہیں مدینہ میں تباہی و بربادی پھیلانے کے لیے راستہ فراہم کر سکتے تھے، کہ وہ مسلمانوں کا قتلِ عام کرتے، ان کو تعذیب کا نشانہ بناتے اور ان کی عزتیں پامال کرتے۔
اس وقت کو اللہ تعالی نے ایسے بیان فرمایا:
اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا۔ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا (الاحزاب:۱۰،۱۱ )
’’یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں، اور کلیجے منہ کو آ گئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے۔ اس موقع پر ایمان والوں کی بڑی آزمائش ہوئی اور انہیں ایک سخت بھونچال میں ڈال کر ہلا ڈالا گیا۔‘‘
اور عین یہی وہ لمحہ تھا کہ جب اللہ نے مومنین کو ان کی آزمائش سے نجات عطا فرمائی۔ اللہ ربّ العزت نے ایک تیز ہوا بھیجی جس نے مشرکین کے خیمے اکھاڑ پھینکے، ان کے لشکر کو منتشر کر دیا اور وہ شکست خوردگی کی حالت میں پلٹ گئے۔ سبحان اللہ، وقت کی کیا ہی زبردست تعیین ہے!
آئیے ہم چند سوالات پر غور کرتے ہیں:
- اگر مشرکین کو شکست دینے میں مزید وقت لگتا تو کیا نتائج نکل سکتے تھے؟
- اور اگر فتح کچھ عرصہ قبل آ جاتی تو کیا ہوتا؟
اگر مسلمانوں کو مشرکین کے مقابل جیتنے میں کچھ مزید وقت لگ جاتا، تو ممکن تھا کہ بعض مخلص مسلمان بھی وہی باتیں کہنے لگتے اور وہی کچھ کرنے لگتے جو منافقین نے کہا اور کیا، کہ:
’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم سے روم و فارس کی فتح کا وعدہ کیا ہے، مگر ہمارا یہ حال ہے کہ ہم دشمن کے گھیرے میں ہیں، اور قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نہیں نکل سکتے۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے دھوکے کے سوا کوئی وعدہ نہیں کیا!‘‘ (الطبری)
اگر فتح آنے میں مزید تاخیر ہو جاتی تو ممکن تھا کہ مومنین کے دلوں میں بھی شبہات پیدا ہو جاتے، جو ان کے لیے غم و حزن کا سبب ہوتے، جو ان کی نیکیوں کو کھا جاتے اور ان کے (ایمان والے) ماضی کو داؤ پر لگا دیتے۔ لیکن اللہ رب العزت نے اپنی حکمت و رحمت کے ساتھ ان کے ایمان کی حفاظت فرمائی اور فتح کے آنے میں غیر ضروری تاخیر نہ ہوئی۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہر مومن کے ایمان کے بقدر ہی اس کی آزمائش کرتا ہے۔
اب دوسرے سوال کی جانب آتے ہیں:
فتح جلد کیوں نہ آ گئی؟ احزاب کی جانب سے مدینہ کا محاصرہ کر لیے جانے کے اگلے ہی دن اللہ نے کیوں آندھی نہ بھیج دی؟ یا پہلے ہفتے ہی میں کیوں یہ نصرتِ الٰہی نہ آ گئی؟ یا پہلے نہ سہی، محاصرے کے دوسرے ہفتے میں ہی یہ آندھی و طوفان آ جاتا؟ محاصرہ ایک ماہ تک طویل کیوں ہو گیا؟
اللہ نے اس مخصوص مدّت کو بہت حکمت کے ساتھ مقرر و متعین فرمایا تھا۔ ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے، اور اللہ جل شانہ ہی اپنی حکمتوں سے بہترین طور پر واقف ہیں، کہ اللہ تعالی چاہتے تھے کہ اس آزمائش کے ذریعے مومنین کو مضبوط کریں۔ جس قدر سخت امتحان ہوتا ہے، اس سے کامیابی سے گزر جانے والا اتنا ہی زیادہ قوی ہو کر نکلتا ہے، اور اللہ کے ہاں اس کا مقام و مرتبہ اتنا ہی بلند ہو جاتا ہے۔
ایک اور وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس آزمائش نے انہیں اللہ کے سامنے مزید عاجزی اختیار کرنے والا بنا دیا، اور انہیں اپنی کمزوری کی اس حالت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ شدت سے محسوس ہوئی۔ ان میں یہ تکبر پیدا نہ ہو سکا کہ اپنے صبر و استقامت کو اپنا ذاتی کمال سمجھنا شروع کر دیتے، بلکہ وہ ہر کمال کی نسبت اللہ عز و جل ہی کی جانب کرنے لگے ، جس نے انہیں تب آزمائش سے نجات عطا فرمائی جب مزید مشکلات سہارنے کی ان میں قوّت و ہمت نہ رہی تھی۔
نہ تو فتح کی آمد میں اتنی تاخیر کی گئی کہ جس سے مومنین کے دل متاثر ہونے لگتے اور ان کا ایمان تباہ ہو جاتا، اور نہ ہی وہ ایسے کسی ابتدائی مرحلے پر عطا کر دی گئی جب ابھی آزمائش نے شدت اختیار ہی نہ کی تھی، اس سے قبل کہ مومنین اپنا ایمان مضبوط کر پاتے، اللہ کے سامنے مزید عاجزی اختیار کرتے اور یہ یقین حاصل کر لیتے کہ ان کے پاس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں ۔ آزمائش عین اس وقت تک جاری رہی کہ جب تک مومنین منافقین سے علیحدہ و ممیز نہ ہو گئے، اور منافقین کی حقیقت آشکارا نہ ہو گئی۔
اس لیے میرے بھائیو! اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمتوں پر غور کیا کیجیے۔ تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں جو دانا، اور علیم و خبیر ہے۔ وہ آزمائش و ابتلا کے ذریعے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، مگر اس دوران وہ ان کے ایمان و اعمال کو ضائع نہیں ہونے دیتا ۔
خلاصہ
یقین رکھیے کہ ابتلا کی ایک مدت متعین ہے اور اس مدّت کے تعین میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بے پایاں حکمت موجود ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭













