مسلمانوں کو یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان پڑھ ہیں، پنکچر والے ہیں اور بچیوں کو پردے کی بیڑیوں میں رکھ کر انہیں زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے نہیں دیتے۔ لیکن یہاں معاملہ کچھ الگ ہے ۔
دسمبر ۲۰۲۱ء میں اڈوپی کرناٹک کے گورنمنٹ پی یو گرلز کالج میں مسلم طالبات کو اسکول میں داخلے سے اس لیے روک دیا جاتا ہے کہ انہوں نے حجاب پہنا ہوا تھا۔ بہت منت سماجت کے بعد بھی طالبات کو اجازت نہیں دی گئی ۔ مسلم طالبات کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی حجاب میں آتی رہی ہیں تو اب کیا ہو گیا ہے ؟ احتجاج کا دور شروع ہوتا ہے لیکن کہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ ہندو طالب علم بھگواگمچھا1زعفرانی رنگ کا رومال جسے بھگوا غنڈے گلے میں ڈال کر رکھتے ہیں۔ گلے میں ڈال کر احتجاج کے خلاف احتجاج کرنے لگتے ہیں ۔
مجبوراً مسلم طالبات کو انصاف و برابری کے حق کے لیے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے ۔ اس امید کے ساتھ کہ ان کے ساتھ نا انصافی نہیں کی جائے گی اور انہیں ان کا بنیادی حق ضرور دیا جائے گا۔ لیکن جس چیز کو ماننے سے مسلمان بچتے ہیں ،کتراتے ہیں ، اسی کی ایک چھوٹی سی جھلک کورٹ نے مسلمانوں کو دکھا دی۔
۱۵ مارچ ۲۰۲۲ء کو کرناٹک ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا:
- حجاب پر اس لیے پابندی لگائی جا سکتی ہے کہ حجاب اسلام میں ضروری نہیں ہے۔
- حکومت کو اسکول میں یونیفارم طے کرنے کا حق ہے ۔
- قرآن حجاب نہ پہننے والوں کو سزا نہیں دیتا، اس لیے اسے ضروری نہیں کہا جا سکتا ۔
- حجاب کا مقصد اسلام سے شروعات کے وقت عورتوں کو چھیڑ چھاڑ سے بچانا تھا۔ اب چونکہ وہ حالات اب باقی نہیں رہے ، اس لیے حجاب کی اب ضرورت نہ رہی ۔
- حجاب ایک کلچرل پریکٹس ہے ، یہ مذہبی پریکٹس نہیں ہے ۔
کورٹ نے الٹا مسلمانوں کو جواب دینے کو کہا۔ اس فیصلے نے مسلمانوں کو ایک بار پھر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سوال پیدا ہونے شروع ہو گئے کہ بھلا کورٹ کون ہوتا ہے ہمارے مذہب کی تشریح کرنے والا؟
Essential Religious Practice Test کا سہارا لیکر بھارتیہ کورٹ اسلام میں مداخلت کر رہا ہے ۔ اس ٹیسٹ کا سہارا لیکر کورٹ مذہب میں اصلاح کرنے والا بن جاتا ہے ، جس کا مقصد مذہب میں سدھار کے نام پر تبدیلی کرنا ہے ۔
ایک فیصلے میں بھارتیہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسے یہ طے کرنے کا حق ہے کہ کون سی Practice مذہب میں ضروری ہے اور کون سی نہیں ۔ جس سے کورٹ کو یہ اجازت مل جاتی ہے کہ وہ مذہب کے داخلی معاملات کو زیر بحث لائے۔
جس کی مثال حنیف قریشی کیس میں سامنے آئی ہے ۔ کورٹ نے کہا کہ اسلام میں گائے ذبح کرنا ضروری نہیں ہے۔ ۱۹۹۵ء میں بحث کرتے ہوئے کہ کیا حکومت کو یہ حق ہے کہ وہ کسی مسجد کو اپنے قبضے میں لے لے؟ کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مسجد عبادت کی جگہ ہونے کی حیثیت سے اسلام میں Essential نہیں ہے۔
اگست ۲۰۲۶ء میں اترپردیش ، الہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے حجاب میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا معاملہ آیا، شاید اس امید پر کہ عدالت کو مسلمانوں کی لاچاری و کمزوری پر ترس آ جائے اور مسلم طالبات کو حجاب میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کی اجازت مل جائے۔ لیکن ہم شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ منت و سماجت سے بھلا کسی کو حق ملا ہے ؟ اس بار بھی کورٹ نے مفتی بن کر حجاب کے خلاف فیصلہ سنا دیتا ہے ۔
چیف جسٹس رِتو راج اوستھی نے فیصلہ سنایا کہ مسلم عورتوں کا حجاب پہننا اسلام میں لازم نہیں ہے۔
پورے ملک میں حجاب کے خلاف ماحول بنا یا جا رہا ہے ، گودی میڈیا گلا پھاڑ کر چیخ رہا ہے ، مسلم طالبات کو آزادی کے نام پر زبردستی پردے سے باہر لانے کی پوری قوت کے ساتھ کوشش کی جا رہی ہے ۔ غم و فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ہر روز گھر واپسی کے نام پر ، مسلم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ہندو بنایا جا رہا ہے اور پھر کچھ عرصے بعد انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔
اس گھناؤنے مشن کے لیے ہندو تنظیمیں ہندوؤں کو انعامات و تمغوں سے نواز رہی ہیں ۔ ہندوؤں کو مسلم لڑکیوں کو پھنسانے کےلیے خاص آفرز کی جاتی ہیں تاکہ امت مسلمہ کی نسلوں کو خراب کیا جا سکے۔
حال ہی میں، بی جے پی سے منسلک ABVP گروپ نے کچھار آسام کالج میں مسلم با پردہ طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی ، انہیں مارا پیٹا اور نفرت کی آگ میں جلتے ہندوؤں نے طالبات کا حجاب نوچنے تک کی کوشش کی۔
ممبئی کوپر ہسپتال میں ایک مسلم وکیل ظہرہ شیخ کو اس لیے داخل نہیں ہونے دیا گیا کیوں کہ انہوں نے برقعہ پہن رکھا تھا۔ مسلم خاتون کے زور دار احتجاج کرنے کے بعد بھی پولیس و انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
بھارت میں آئے روز نفرت سے بھرے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں مسلم خواتین کا برقعہ دیکھ کر، داڑھی و ٹوپی دیکھ کر ہندوؤں کی بھگتی جاگ جاتی ہے اور ماحول کو بگاڑنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی جاتی ۔
آج بھارت میں خصوصاً مسلم طالبات سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ تعلیم یا حجاب؟ الحمد اللہ غیرت مند مسلم طالبات نے حجاب کو پسند کیا ، پھر چاہے اس کے لیے حکومتی اداروں کو خیرباد کہنا ہی کیوں نہ ہو۔ حکومت و انتظامیہ ، عدالت و میڈیا نے ہر طرح کی زور آزمائی کر لی، لیکن الحمد اللہ با پردہ مسلم لڑکیاں پردہ میں علم کو حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ ڈٹی رہیں۔
یہ لڑائی حجاب یا یونیفارم کی نہیں ہے، بلکہ یہ لڑائی حق و باطل کی لڑائی ہے ۔ کسی تعلیمی ادارے ، سرکاری یا شخصی ادارے میں سکھوں کو پگڑی ، کڑے یا کرپان سے روکا نہیں جاتا ۔ منگل سوتر یا مانگ میں سندور لگانے والی کسی ہندو خاتون کو ڈریس کوڈ کے نام پر نہیں روکا جاتا۔
روکا جاتا ہے تو صرف مسلمان کو، بدسلوکی کی جاتی ہے تو صرف مسلمان سے، سدھار کے نام پر مذاق اڑایا جاتا ہے تو صرف اسلام کا، غیر ضروری قرار دیا جاتا ہے تو صرف سنتِ محمدیہ ﷺ کو۔
لیکن پارلیمنٹ میں پوجا کی جاتی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، پارلیمنٹ میں بھگوہ رنگ کے کپڑے پہنے جاتے ہیں تب بھی کوئی مسئلہ نہیں!
۲۰۱۶ء میں انڈین ائیر فورس میں ایک مسلمان کو داڑھی کاٹنے پر مجبور کیا گیا ، پھر سپریم کورٹ تک یہ جھگڑا پہنچا ، انصاف کی دہائی دی گئی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ داڑھی رکھنا اسلام میں ضروری نہیں ہے۔
نفرت پر مبنی ایک اور واقعہ سامنے آیا جب جون ۲۰۲۴ء میں ممبئی کے ’’این جی اچاریہ اینڈ ڈی کے مراٹھی کالج‘‘ نے نقاب ، برقعہ اور ٹوپی پر پابندی عائد کر دی۔ مسلم طلبہ نے کورٹ کا رخ کیا لیکن انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ عدالت نہیں بلکے سناتن دربار ہے ۔ کورٹ نے ڈریس کوڈ میں مداخلت سے انکار کر دیا۔
حکومت و انتظامیہ ، ہندو تنظیموں کے دباؤ کی وجہ سے ملک بھر میں حجاب پہننے والی طالبات کو اسکو ل و کالج سے روکنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں ، جو اس ملک میں ہندو اجارہ داری کی عکاسی کرتا ہے ۔
سوال یہاں یہ ہے کہ سناتنی ، اکھنڈی دربار کے ججوں کو آخر کس نے یہ اجازت دی کہ وہ یہ فیصلہ کریں اسلام میں کیا چیز لازم ہے اور کیا نہیں ؟
حجاب کا معاملہ ہو یا پھر داڑھی رکھنے کا، ہند عدلیہ کس بنیاد پر یہ طے کرتی ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں ؟
یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ بھارتیہ عدلیہ Essential Religious Practise Test کی آڑ میں جس دیدہ دلیری سے مسلمانوں پر فیصلے تھوپ رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ شروعات ہو، اور سناتنیوں کا اگلا قدم اسلام کے دیگر معاملات میں مداخلت کرنا ہو جیسے نماز ، روزہ یا قرآن پاک کی تلاوت پر پابندی لگانا، وغیرہ، جس کی مثالیں سامنے آ بھی چکی ہیں۔
قرآن و حدیث کی تشریح کا نظام اسلام میں موجود ہے، وہ فقہ ہے جو پندرہ سو سالوں سے مرتب ہوئی ہے ۔ یہ ان عدالتوں کا کام نہیں جن کے انکار کا اللہ کا دین حکم دیتا ہے ۔
اس دین کے ساتھ مذاق اور اس کو نعوذ باللہ دبانے و تحریف کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے جب کفار کی عدالتیں ہمارے دینی امور کی تشریح شروع کریں؟
ان عدالتوں سے دینی تشریحات تو دور کی بات، اپنے باہمی مسائل حل کرانے کی بھی شریعت اجازت نہیں دیتی ہے ۔
مطلوب کیا ہے ؟
- کفار، ان کے دین باطل اور ان کے نظام سے برات ، نفرت اور دشمنی ۔
- خود دین اسلام پر کاربند رہنا، اس کی دعوت و فہم عام کرنا۔
- مسلم کمیونٹی کا دین پر عمل، اس کی دعوت اور اس کے دفاع پر اتحاد و اتفاق۔
٭٭٭٭٭
- 1زعفرانی رنگ کا رومال جسے بھگوا غنڈے گلے میں ڈال کر رکھتے ہیں۔ ↩︎













