جہنم میں لے جانے والے اعمال
وہ اعمال کہ جن کی وجہ سے انسان دائماً جہنمی قرار دے دیا جاتا ہے یا ایسے گناہ کہ جن کے مرتکب عارضی طور پر جہنم میں اپنے کیے کی سزا بھگتتے ہیں، آج ہمارا موضوع ہیں۔
کسی بھی چیز کو سیکھنے کا بہترین طریقہ، اس کی تعلیم دینا ہے۔ یہ معروف اصول ہے علم کے حصول کا کہ جو کچھ آپ خود سیکھنا چاہتے ہیں ، اسے دوسروں کو سکھانا شروع کر دیں۔
ایک معروف عرب عالم، جو کہ بہت اچھے خطیب بھی تھے، اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں چھوٹا سا تھا مگر میری عادت تھی کہ کسی بھی دینی کتاب کو پڑھنے کے بعد میں کریانے کی دکان پر چلا جاتا اور وہاں دکاندار، گاہک اور جو دیگر افراد بھی موجود ہوتے، میں انہیں اپنا حاصل مطالعہ سناتا۔ علم کے حصول کا یہی درست طریقہ ہے اور اسی طرح انسان کو بات کرنا اور بات پہنچانا بھی آ جاتا ہے۔ شاید آپ نے احمد القحطان کا نام سنا ہو، یہ انہی کا ذکر ہے۔
پس جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں، اسے ہمیں خود تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اپنے اہل خانہ اور اپنے دوستوں اور خاندان کے لوگوں تک پہنچانا چاہیے کہ یہی وہ علم ہے کہ جسے سیکھنے اور جاننے کی ہمیں ضرورت ہے اور یہی علم ہمیں جہنم سے بچانے اور جنت میں داخل ہونے کا اہل بنا سکتا ہے۔ ہم اللہ سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں اہل جنت میں شامل فرمائے۔
دائمی عذاب
جہنم کا دائمی عذاب جھیلنے کی سزا کفار اور منافقین کو ملے گی۔ ان کی سزا لاکھوں یا کروڑوں اربوں سال پر مبنی نہ ہو گی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (سورۃ البقرۃ: ۳۹)
’’ اور جو لوگ کفر کا ارتکاب کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔‘‘
کسی کے دل میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ کافر کی دنیوی زندگی تو ساٹھ ستّر اسّی برس ہو گی مگر سزا اسے ہمیشگی کی ملے گی، آخر کیوں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اسے ساٹھ کے بجائے اکسٹھ برس کی عمر میں موت آتی وہ تب بھی کافر ہی ہوتا، وہ اسّی برس کا ہو جاتا پھر بھی اللہ کی آیات کو اسی طرح جھٹلاتا رہتا، اور اگر اسے ہمیشگی کی زندگی ملتی تب بھی وہ یہی کرتا کہ اس کی نیت ہی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ اللہ کی آیات کو جھٹلائے گا اور اس کی نافرمانی ہی کرے گا، پس اس کو عذاب اس کی نیت کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور نیت بہت اہم ہے۔
کفار کے علاوہ منافقین ہوں گے جو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور یہ جہنم کے بدترین درجے میں ہوں گے۔ اللہ فرماتے ہیں:
اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ(سورۃ النساء: ۱۴۵)
’’ یقین جانو کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔‘‘
جہنم کا سب سے نچلا درجہ بدترین ہو گا اور وہی منافقین کا ٹھکانہ ہو گا۔ منافقین اس لیے کفار سے بدتر جگہ ہوں گے کہ نہ صرف انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جھوٹ، دھوکہ اور فریب میں بھی ملوث رہے، جب کہ حق ان کو پہنچ چکا تھا، وہ اسے قبول کر سکتے تھے مگر وہ بہروپیے بنے رہے کہ ہم اس کے پیروکار ہیں جبکہ درحقیقت انہوں نے اس کا انکار ہی کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی سزا بھی کفار سے زیادہ سخت ہو گی جن کے سامنے حق شاید اپنی پوری سچائی کے ساتھ اس طرح، اتنا واضح نہ تھا جتنا کہ منافقین کے سامنے۔
نیز منافق امت کو جس قدر ضرر پہنچاتا ہے کافر اس قدر نہیں پہنچا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن میں بہت تفصیل سے منافقین کی صفات کے بارے میں بتا کر ان کے چہروں کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کی، مکر و فریب اور جھوٹ اور دھوکے کے لبادے میں چھپی دشمنی، امت کو ایسا ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے جو ایک اعلانیہ کھلے دشمن کی چالیں نہیں پہنچا سکتیں۔
اگر ہم امت کے بڑے بڑے فتنوں اور ابتدائی مشاجرات کی تفصیل دیکھیں تو ان کی وجہ منافقین ہی تھے۔ عین اس وقت کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں موجود تھے، مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان مدینہ کے اندر بسنے والے منافقین ہی نے پہنچایا ۔
عارضی سزا
یہ ان مسلمانوں کے لیے ہو گی جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہوں گے مگر انہوں نے اتنے گناہوں کا ارتکاب کیا ہو گا کہ جو موت کی سختی، قبر کی وحشت و عذاب، قیامت کے دن طویل انتظار اور مشقت سے بھی نہ دھل سکے ہوں گے، پس انہیں بھی ان کے گناہوں کے بقدر کچھ مدت کے لیے جہنم میں ڈالا جائے گا۔
ایسے بہت سے گناہ ہیں کہ جن کے نتیجے میں ایک مسلمان کو جہنم کا عذاب سہنا پڑ سکتا ہے، البتہ ہم ان میں سے چند کا ذکر کریں گے کہ قرآن یا حدیث میں جن کی سزا جہنم کی آگ بتائی گئی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف انہی گناہوں کی پاداش میں مسلمان کو جہنم کی سزا بھگتنی پڑ سکتی ہے، وہ تو کوئی بھی گناہ ہو سکتا ہے، مگر ہم صرف چند ایک کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔ اور میں اس سلسلے میں شیخ عمر الاشقر کی کتاب کو ہی سامنے رکھوں گا، انہوں نے اس سلسلے میں بہت سے مآخذ سے استفادہ کیا ہے اور جنت اور جہنم کے موضوع پر بہت بہترین کتاب تحریر کی ہے۔
ہم درج ذیل گناہوں کا ذکر کریں گے :
- گمراہ فرقے
- بے انصاف قاضی
- احادیث وضع کرنا
- تکبر
- قتل
- سود
- لوگوں کے مال پر ناحق قبضہ
- الرکون الی الظالمین
- کاسیات عاریات اور کوڑا بردار محافظ دستے
- خودکشی
- جانوروں کے ساتھ ظلم
- دنیوی اغراض کے لیے دینی علم کا حصول
- درخت کاٹنا
اب ہم بالترتیب ان کا ذکر کرتے ہیں۔
1. گمراہ فرقے
آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہود اکہتّر فرقوں میں بٹے، عیسائی بہتّر فرقوں میں اور یہ امت مسلمہ تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی، جو سب کے سب جہنم کی آگ میں ہوں گے، سوائے ایک فرقے کے۔
پس آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق یہ امت اپنے سے پہلی امتوں سے زیادہ فرقوں میں بٹے گی اور ان فرقوں میں سے صرف ایک نجات پائے گا اور باقی سب جہنم میں جائیں گے۔
ایک اہم بات:
فرقوں سے ہماری مراد مختلف مذاہب یعنی مختلف مکاتب فکر نہیں ہیں، نہ ہی اس سے ہمارا مقصد ایک ہی دین کی ترویج میں مگن مختلف جماعتیں ہوتی ہیں، بلکہ یہ ان فرقوں کا ذکر ہے کہ جو شریعت کے مسلمہ اصولوں میں امت سے اختلاف رکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے مذاہب کی بنیاد ایسے اصولوں پر رکھی ہے جو اسلام کے قطعی اصولوں اور عقائد سے ماسوا ہیں، مثلاً ایک نئے نبی کی آمد پر یقین رکھنا ،یہ تو بنیادی اسلامی عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اب قادیانی، جو ایک نئے نبی پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے ایک نیا فرقہ ایجاد کر لیا جو جہنمی ہے۔ اسی طرح بہائیہ فرقہ بھی انہی گمراہ فرقوں میں شامل ہے۔ کچھ وقت پہلے تک وہ خود کو اسلام کے پیروکار ہی کہتے تھے مگر بعد ازاں انہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ ایک علیحدہ مذہب کے پیروکار ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
کیا امت کی اکثریت جہنمی ہو گی؟
نیز میں اس مذکورہ حدیث کے حوالے سے ایک اور بات بھی واضح کر دوں کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امت کے اکثر افراد جہنم میں جائیں گے۔ انسان کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ تہتّر میں سے بہتّر فرقے جہنمی ہوں گے تو شاید امت کا بیشتر حصہ جہنم میں جائے گا۔ ایسا نہیں ہے کیونکہ امت کی اکثریت ایسے عوام پر مشتمل ہے جو فرقوں کی بحث میں شامل ہی نہیں ہیں، وہ صرف اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور مسجد جا کر نماز ادا کر لیتے ہیں، لہٰذا وہ کسی گمراہ فرقے کا حصہ نہیں ہوتے۔ وہ نماز روزہ زکوۃ حج پر عمل کرتے ہیں، بنیادی عقائد درست رکھتے ہیں اور کسی گمراہ فرقے کے گمراہ عقائد سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔
مزید یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ حدیث یہ نہیں کہتی کہ یہ گمراہ فرقے ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، ان میں سے کچھ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور کچھ اپنی سزا کی مدت تک جہنم میں رہیں گے۔
2. غیر منصف قاضی
ترمذی شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں؛ ان میں سے دو قسم کے جج جہنم میں جائیں گے اور ایک قسم جنتی ہو گی۔
جو دو طرح کےقاضی جہنم میں جائیں گے ان میں سے ایک وہ ہے کہ جو جانتا ہے کہ جو فیصلہ وہ کر رہا ہے وہ غلط ہے مگر وہ پھر بھی، دنیوی اغراض کے حصول کے لیے، غلط فیصلہ کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا قاضی جہنم میں جائے گا۔
پھر ایک دوسری قسم کا قاضی ہو گا جو لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہو گا مگر اس کے پاس مطلوب علم نہ ہو گا اور وہ اپنی اس جاہلیت کی بنا پر اپنے فیصلوں سے لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہو گا، اس کے بارے میں بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ جہنم میں جائے گا۔
اور تیسرا وہ قاضی ہو گا جو مطلوب علم بھی رکھتا ہو گا اور اس علم کو شریعت کے تقاضوں کے مطابق درست فیصلے کرنے میں استعمال بھی کرتا ہو گا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا قاضی جنت میں جائے گا۔
3. احادیث گھڑنا
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
وَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ(بخاری)
’’ اور جو شخص عمداً میرے اوپر جھوٹ بولے تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں تلاش کرے۔‘‘
یہ حدیث مسلم شریف اور دیگر کئی کتب حدیث میں بھی نقل کی گئی ہے۔
جو کوئی بھی اپنی طرف سے کوئی بات نبی کریم ﷺ سے منسوب کرے گا، خواہ وہ اچھی ہی بات ہو، اس کا ٹھکانا جہنم ہو گی۔
موضوع احادیث کا نقل کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، البتہ اس کا وبال احادیث گھڑنے کے گناہ جیسا شدید نہیں ہے، لہٰذا ہمیں احادیث ہمیشہ بہت احتیاط سے نقل کرنی چاہیے ہیں۔
4. تکبر و رعونت
یہ بہت ہی خطرناک گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں، مسلم شریف کی حدیث ہے:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ۔
’’ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔‘‘
ذرہ برابر تکبر بھی انسان کو جنت سے دور کرنے کا باعث بن جائے گا، یاد رہے کہ یہ متکبر دل کی بات نہیں ہو رہی کہ جس میں رعونت ہی رعونت بھری ہے، بلکہ یہ اس دل کا ذکر ہے کہ جس میں ایک ذرے کے برابر بھی تکبر ہے اور وہ تکبر اسے جنت میں داخل نہ ہونے دے گا۔
جب آپ ﷺ نے یہ فرمایا تو ایک صحابی نے عرض کیا:
إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَکُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً
’’ انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں!۔‘‘
صحابہ نے یہ سمجھا کہ انسان جو یہ چاہتا ہے کہ اس کا حال اچھا نظر آئے تو شاید یہ بھی تکبر کے زمرے میں آتا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ، يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ
’’اللہ خود جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر ، حق کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے ۔‘‘
حق کسی کے سامنے واضح ہو جائے اور وہ تعصب اور رعونت کی وجہ سے اسے قبول نہ کرے یہ تکبر ہے، نیز یہ کہ انسان کو خود پر اور اپنے علم پر اس قدر زعم ہو کہ وہ کسی بھی دوسرے کی جانب سے آئی کوئی چیز قبول کرنے کی طرف مائل ہی نہ ہوتا ہو، خواہ اسے معلوم ہو کہ وہ حق ہے، یہ بھی تکبر ہے۔
5.قتل
بے گناہ لوگوں کو بلا وجہ قتل کرنا بھی ایسا خطرناک گناہ ہے جو انسان کو جہنم کی وادیوں میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا (سورۃ النساء: ۹۳)
’’ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا، اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ‘‘
اس ایک آیت میں تمام کی تمام وعیدیں موجود ہیں، جہنم میں ہمیشہ رہنے کی سزا، اللہ تعالیٰ کا غضب اور لعنت اور عظیم عذاب۔ یہ تو اس شخص کے لیے ہے کہ جس نے ایک مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا۔
وہ شخص جو ایک کافر کو قتل کرے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟
اگر تو قتل ہونے والے کا مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ تھا تو اس بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ (بخاری)
’’ جس نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا ۔‘‘
بعض روایات میں معاہد کی جگہ ذمی کا لفظ بھی آیا ہے۔
6. سود
اللہ رب العزت نے سود میں مبتلا ہونے والوں کے لیے عذاب جہنم کی وعید سنائی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے جن سات کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا ہے، سود ان میں سے ایک ہے۔ سود کوئی معمولی گناہ نہیں، بلکہ یہ تباہی ہے۔ اللہ رب العزت سود کھانے والوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:
فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ (سورۃ البقرہ: ۲۷۹)
’’ تو خبردار ہو جاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔‘‘
ابن عباسؓ اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سود خور قیامت کے دن اپنی قبر سے نکلے گا، کالَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ، اس شخص کی طرح جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو، چھلانگیں لگاتا اور اس شخص کی طرح لرزتا کانپتا کہ جس پر کہ شیطان مسلط ہو گیا ہو، اور پھر فرشتے اس کے پاس اسلحہ لے کر آئیں گے اور اس سے کہیں گے کہ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ، تمہاری اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ ہے!
یہ بہت خطرناک گناہ ہے اور آج کی جدید دنیا میں یہ اس حد تک پھیل چکا ہے گویا پوری کی پوری دنیا ہی سود کے سمندر میں غوطے کھا رہی ہے۔
7. لوگوں کا مال ناحق بٹورنا
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ۣوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا (سورۃ النساء:۲۹، ۳۰)
’’ اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضا مندی سے وجود میں آئی ہو (تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔ اور جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر ایسا کرے گا، تو ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے، اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔‘‘
8. الرکون الی الظالمین (ظالموں کی طرف میلان)
کسی بھی ظالم جابر بادشاہ، حاکم، لیڈر یا فرد کے لیے اگر آپ کے دل میں عزت و احترام، محبت یا قدردانی کے جذبات ہیں ،تو پھر ہو سکتا ہے کہ قیامت کے دن آپ کا انجام بھی اسی کے ساتھ ہو۔ ہمیں ظالموں اور جابروں سے دور رہنا چاہیے اور ان کے برے اعمال سے براءت کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ کسی بھی شکل میں تعاون نہیں کرنا چاہیے کہ جو ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ (سورۃ ھود: ۱۱۳)
’ اور (مسلمانو) ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، کبھی دوزخ کی آگ تمہیں بھی آ پکڑے اور تمہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی قسم کے دوست میسر نہ آئیں، پھر تمہاری کوئی مدد بھی نہ کرے۔‘‘
اس آیت میں ظالموں کا ذکر ہے مگر یہ گناہ پر اصرا رکرنے والوں پر بھی منطبق ہوتی ہے، ہمیں ظلم اور گناہ سے براءت کےاظہار کے طور پر ان سے دور رہنا چاہیے، البتہ یہ کافی نہیں ہے۔
عام فہم یہ ہے کہ جب تک ہم خود گناہ میں ملوث نہیں ہوتے، تب تک ہم بری ہیں ہر گناہ سے، یہ بالکل غلط ہے۔ اگر آپ خود گناہ نہیں کرتے مگر گناہ اور ظلم کرنے والوں کی صحبت سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ ہی آپ انہیں ان کے ظلم و جبر اور گناہ سے روکتے ہیں، تو یہ فی ذاتہ خود گناہ ہے۔
مثلاً کسی ظالم کے محافظ کے طور پر کام کرتے ہوئے آپ خود تو ظلم نہیں کر رہے مگر آپ ایک ایسے شخص کی حفاظت پر مامور ہیں جو ظالم ہے تو آپ اس کے ظلم میں شریک ہیں، اور آپ کی یہ شرکت آپ کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
امام احمد بن حنبلؒ کے پاس ایک شخص آیا جو عباسی خلیفہ کے ماتحت پولیس میں بھرتی تھا، اس دور میں حکومت میں اگرچہ کچھ خیر بھی تھی مگر بہت سی برائیاں بھی جاری تھیں، پس اس شخص نے امام صاحب سے دریافت کیا :
’’ کیا میں بھی ظالم کی معاونت کرنے والوں میں شامل ہوں ؟‘‘
امام صاحب نے فرمایا:
’’نہیں! بلکہ تم خود ظالم ہو۔‘‘
تم معاونت کرنے والے نہیں ہو، بلکہ تم تو اس سکیورٹی فورس، اس فوج کا حصہ ہو جس نے اس حکومت کو اقتدار میں قائم کر رکھا ہے، تم صرف ان کی جانب مائل نہیں ہو بلکہ تم تو اس نظام کا حصہ ہو۔
9. کاسیات عاریات اور کوڑا بردار دستے
نبی کریم ﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے، اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے بھی ہے کہ میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جو جہنم میں جائیں گے، مگر میں نے ابھی تک انہیں دیکھا نہیں ہے، یعنی وہ مستقبل میں آئیں گے۔
ان میں سے ایک گروہ کاسیات عاریات کا ہے، یعنی ایسی عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود بے لباس ہوں گی، انہوں نے لباس پہن رکھے ہوں گے مگر ایسے لباس کہ جن کا ہونا اور نہ ہونا ایک برابر ہے، تنگ اور چست یا فحش لباس، ان عورتوں کو آپ ﷺنے جہنمی قرار دیا۔
دوسرا گروہ کوڑا بردار مردوں کا ہو گا۔ یہ وہی گروہ ہے جس کے متعلق ہم نے گزشتہ نکتے میں پڑھا۔ جدید ہتھیاروں کی ایجاد سے پہلے محافظ دستے (سکیورٹی فورسز) کوڑوں اور لاٹھیوں کے ساتھ گھوما کرتے تھے اور آپ ﷺ نے ان کے لیے جہنم کی وعید سنائی کیونکہ یہی ظلم کو قائم رکھنے کا کام کرتے ہیں۔
10. جانوروں کے ساتھ ظلم
بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے آگ کی مستحق ٹھہری۔ دوسری طرف وہ حدیث بھی ہم جانتے ہیں جس کی رو سے ایک عورت ایک کتے کی وجہ سے جنت کی مستحق ٹھہری، جس پر شفقت کرتے ہوئے اس نے اسے پانی پلایا۔
پس جانوروں کے ساتھ شفقت یا ظلم کا برتاؤ انسان کے انجام کا تعین کر سکتا ہے۔ یعنی ہمیں اپنے کسی بھی عمل کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، نجانے کون سا عمل ہماری نجات کا سبب بن جائے ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک عورت نے ایک بلی کو قید کر رکھا تھا، نہ اسے خود کچھ کھانے کو دیتی اور نہ ہی اسے چھوڑتی کہ وہ اپنے لیے کچھ تلاش کر لے ، یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی اور اس کی وجہ سے اس عورت کو جہنم میں داخل کر دیا گیا۔
11. دنیوی اغراض کے لیے دینی علم کا حصول
حفظِ قرآن، شریعت کا، فقہ کا علم سیکھنا، وہ اعمال ہیں کہ جنہیں ہم جنت میں داخلے کا پروانہ سمجھتے ہیں، کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
مَنْ سَلَکَ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ عِلْمًا سَلَکَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَی الْجَنَّةِ (ترمذی)
’’ اگر کوئی شخص علم کا راستہ اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا ایک راستہ آسان کر دے گا ۔‘‘
مگر یہی اعمال کچھ لوگوں کو جہنم میں لے جائیں گے۔ ایسے لوگ جو قرآن و شریعت کا علم حاصل کریں گے مگر ان کا مقصد دنیا کا حصول ہو گا، پس یہ حصول علم انہیں جہنم کی طرف لے جائے گا۔ ان کے حصول علم کا مقصد شہرت ، لوگوں کی اقتدا کرنا، اس کے ذریعے دنیا کا فائدہ حاصل کرنا یا قراءت و خطابت میں اپنا نام پیدا کرنا ہو گا، تو ایسے شخص کے لیے نبی کریم ﷺ نے جہنم کی وعید سنائی ہے، فرمایا:
مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَی بِهِ وَجْهُ اللَّهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنْ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (ابن ماجہ)
’’ جس نے کوئی ایسا علم، جس سے رضائے الٰہی کا حصول مقصود ہونا چاہیے، اس لیے حاصل کیا تاکہ کچھ دنیا ملے، وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا۔‘‘
12. ’’السِّدر‘‘ درخت کاٹنا:
یہ درخت عرب میں ہوتا ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ (ابو داؤد)
’’جو شخص (بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا ۔‘‘
ابو داؤد (جو اس حدیث کے راوی ہیں) سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا :
’’ یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو، جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب، بلا ضرورت ناحق کاٹ دے تو (مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔ ‘‘
اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ کوئی عمومی اصول ہے کہ درختوں کو کبھی کاٹا ہی نہیں جا سکتا، بلکہ کسی قابل قبول سبب سے ، مثلاً جلانے یا تعمیرات کے لیے درخت کاٹنا جائز ہے، البتہ مذکورہ حدیث میں بلا ضرورت درخت کاٹنے پر وعید سنائی گئی ہے۔ نیز عرب میں درختوں کی ویسے ہی کمی ہے، دور دور کہیں کوئی سایہ دار درخت دکھائی دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے جانوروں کو چارہ ڈھونڈنے کے لیے بہت دور دور جانا پڑتا ہے، لہذا بلا وجہ درخت کاٹنا بہت بڑا نقصان ہے، پھر حدیث میں فی فلاۃ کے الفاظ ہیں جن کا معنی ہے دشت یا چٹیل میدان، پس ایسی جگہ موجود درخت کا کاٹنا، شہری علاقوں میں درخت کاٹنے سے مختلف ہے۔
13. خودکشی
بخاری شریف کی حدیث ہے:
مَنْ تَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَحَسَّی سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا
’’ جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اور اس میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور جس نے زہر پی کر خود کشی کر لی وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اسی طرح ہمیشہ پیتا رہے گا اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خود کشی کر لی تو اس کا ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے وہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔‘‘
حدیث میں ایسے افراد کے ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنے کا ذکر ہے جبکہ ہم ان اعمال کا ذکر کر رہے ہیں کہ جن کی وجہ سے ایک مسلمان کو کچھ وقت کے لیے جہنم کی سزا سہنی پڑے گی!
حدیث میں یہاں ہمیشہ ہمیشہ سے معنی بہت طویل مدت ہے جو اس شخص کو جہنم میں گزارنی ہو گی، ایسی مدت کہ جو ہمیشگی ہی معلوم ہو، مگر پھر اگر اس شخص کے اعمال میں لاالہ الا اللہ موجود ہو گا تو بالآخر اسے جہنم کی آگ سے چھٹکارا حاصل ہو ہی جائے گا اور وہ جنت میں داخل کر دیا جائے گا، مگر یہ گناہ اتنا سنگین ہے کہ اس کے لیے اتنی طویل مدت تک جہنم کی سزا جھیلنی ہو گی۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہم نے جہنم کا موضوع مکمل کر لیا ہے۔ آئندہ ہم جنت کے موضوع پر بات کریں گے ان شااللہ۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم
٭٭٭٭٭













