نابینا صحابی نے گستاخ لونڈی کو قتل کر دیا
اس کے علاوہ ایک نابینا صحابی کا واقعہ ہے جن کے پاس ایک ام ولد تھی۔ ام ولد ایسی باندی کو کہتے ہیں جس سے اس کے مالک کی اولاد بھی ہو، اور ام ولد کے لیے علیحدہ اصول ہیں۔ ان کے اس سے دو بچے تھے۔ یہ عورت رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی، وہ اس کو منع کرتے لیکن وہ پھر بھی باز نہ آتی۔ ایک رات وہ آپ ﷺ کو برا بھلا کہہ رہی تھی کہ انہوں نے خنجر لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور اسے قتل کر دیا۔ صبح جب رسول اللہ ﷺ تک یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا:
’’میں اللہ کی خاطر تم سے کہتا ہوں کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے۔‘‘
چنانچہ وہ صحابیؓ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے عرض کی:
’’اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے قتل کیا ہے۔ وہ آپ ﷺ کی توہین کرتی تھی اور میرے منع کرنے پر رکتی نہیں تھی، اس سے میرے موتیوں کی مانند دو بچے بھی ہیں اور وہ مجھ پر بہت مہربان تھی، لیکن جب رات کو اس نے آپ ﷺ کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر لے کر اسے قتل کر دیا۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’گواہ رہو! اس کا خون رائیگاں ہے‘‘۔ یعنی اس کا کوئی خون بہا نہیں اور اس کے قاتل پر کوئی سزا نہیں ہو گی۔
ذرا ان صحابی ؓ کے الفاظ پر غور کریں، ان کے دو بچے تھے اور انہوں نے ان کو موتیوں سے تشبیہ دی اور انہوں نے کہا کہ وہ عورت مجھ پر بہت مہربان تھی، وہ صحابی نابینا تھے جنہیں یقیناً ایسی رحم دل عورت کی ضرورت بھی تھی جو ان کے ساتھ حسن سلوک کرتی تھی، لیکن چونکہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے اپنی ذات سے بھی بڑھ کر محبت ہونی چاہیے، اپنے گھر والوں سے بھی بڑھ کر اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے محبت ہونی چاہیے، اسی لیے انہوں نے اسے قتل کر دیا، صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی خاطر، ان کی محبت میں۔ در حقیقت ہر مسلمان کو آپ ﷺ کے معاملے میں اسی طرح ہونا چاہیے۔
نیز آپ ﷺ نے اس فعل کی مذمت نہیں کی بلکہ اس پر رضامندی کا اظہار فرمایا اور فرمایا: ’’گواہ رہو اس کا خون رائیگاں ہے‘‘۔
اسی طرح کی ایک اور صورت حال تب پیش آئی جب ایک صحابیؓ نے اپنے قبیلے کی کسی عورت کو قتل کر دیا، اس پر رسول اللہ ﷺ کا ردعمل کیا تھا؟ کیا انہوں نے اسے سزا دی؟ نہیں! بلکہ انہوں نے فرمایا: ’’اس پر تو دو بکریاں بھی آپس میں سینگ نہیں ٹکرائیں گی‘‘۔
ہم اس واقعہ کو ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔ علامہ واقدیؒ نے اپنی کتاب میں اسے ذکر کیا ہے۔
گستاخ عورت کا قتل
اس عورت کا نام اسماء بنت مروان تھا۔ اس کا تعلق انصار کے قبیلے سے تھا اور وہ بہت عمدہ شاعری کیا کرتی تھی۔ لیکن وہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی اور اسلام کے خلاف باتیں بنا کر لوگوں میں فتنہ پھیلانے کی کوشش کرتی تھی۔ وہ لوگوں سے کہتی کہ یہ شخص یعنی محمد (ﷺ) ہمارے قبیلے کے نہیں ہیں پھر کیوں ہم نے انہیں پناہ دے رکھی ہے اور ان کی وجہ سے اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے؟ کیوں کر ہم نے انہیں ایک محفوظ ٹھکانہ فراہم کر رکھا ہے، نکالو انہیں یہاں سے!
رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کی وجہ سے انصار کو بہت کچھ جھیلنا پڑا تھا۔ معاشی طور پر انہیں ٹھیس پہنچی، ان کے بہت سے لوگ مارے گئے، ان کے شہر کا محاصرہ کیا گیا، لیکن ان کا یہ عمل خالص اللہ کے لیے تھا، اسی لیے انہیں انصار کہا جاتا ہے، یعنی وہ کہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نصرت کی۔
عمیر بن عدی ؓ ایک نابینا صحابی تھے جو اسی عورت کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں تھے تو انہوں نے قسم کھائی کہ اگر رسول اللہ ﷺ بخیر و عافیت مدینہ لوٹ آئے تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا۔
آپ ﷺ کی واپسی کے بعد عمیر بن عدی ؓ آدھی رات کو اس عورت کے گھر گئے اور سیدھا اس کے کمرے میں پہنچے۔ وہ اور اس کے اردگرد اس کے بچے سو رہے تھے اور ایک بچے کو وہ دودھ پلا رہی تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی گود میں بچہ ہے تو اس بچے کو اُٹھا کر ماں کے قریب لٹا دیا اور اپنی تلوار سے اس کے سینے پر وار کر کے اس کا خاتمہ کر دیا۔
گستاخ رسول کے قتل پر تو دو بکریاں بھی اپنے سینگ نہیں ٹکرائیں گی
اس کے بعد انہوں نے فجر کی نماز آپ ﷺ کے ہمراہ پڑھی۔ آپ ﷺ نے نماز مکمل کرنے کے بعد عمیرؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’کیا تم نے مروان کی بیٹی کو قتل کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواباً عرض کیا :’’ جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘‘۔
عمیر بن عدیؓ کو یہ خدشہ ہوا کہ شاید مجھ سے کچھ غلط ہو گیا ہے، شاید مجھے پہلے آپ ﷺ سے اجازت لے لینی چاہیے تھی کیونکہ آپ ﷺ ولی الامر ہیں۔ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا :’’یا رسول اللہ ﷺ! میں نے کچھ غلط تو نہیں کیا؟‘‘
اس پر آپ ﷺ کا جواب کیا تھا؟ کیا انہوں نے یہ کہا کہ آپ کو مجھ سے اجازت لینی چاہیے تھی؟ نہیں!
بلکہ انہوں نے فرمایا: ’’اس معاملے پر تو دو بکریاں بھی آپس میں سینگ نہ ٹکرائیں‘‘۔
یعنی یہ معاملہ اتنا واضح ہے کہ دو بکریوں میں بھی اس پر اختلاف نہیں ہو گا، جانور تک اس معاملے میں اختلاف رائے نہیں رکھتے۔
اور اب! سبحان اللہ! ہم دیکھتے ہیں کہ اس معاملے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
آپ ﷺ کہہ رہے ہیں کہ یہ بات جانوروں کی سمجھ میں بھی آتی ہے! یہ معاملہ اس قدر واضح ہے کہ دو بکریاں بھی اس پر نہیں جھگڑیں گی تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ذی شعور انسان اس پر اختلاف کرتے دکھائی دے رہے ہیں؟
یہ اتنا واضح معاملہ ہے کہ اس پر علما کا اجماع ہے، پھر اس پر اختلاف رائے ہو کیسے سکتا ہے؟ آگے ہم اسی پر بات کریں گے، ان شاءاللہ۔
قاتل کے لیے رسول ﷺکی بشارت
عمیر بن عدیؓ کے اس فعل پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اردگرد اپنے صحابہ کی جانب دیکھا اور فرمایا کہ ’’اگر تم کسی ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کی تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو‘‘۔
عمر بن خطاب ؓ بولے: ’’ذرا اس نابینا شخص کو تو دیکھو جو رات کی تاریکی میں اللہ کی اطاعت میں نکلا‘‘۔
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ان کو نابینا نہ کہو بلکہ یہ تو بینا ہیں‘‘۔
آج بہت سے لوگ…… بہت سے لوگ اندھے ہیں۔
جب عمیر ؓ واپس پلٹے تو اس عورت کے بچے اپنے قبیلے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر اسے دفنا رہے تھے۔ وہ لوگ ان کے پاس آ کر انہیں دھمکانے لگے کہ ’’ عمیر! تم ہی نے اسے قتل کیا ہے ناں!‘‘
یہ جنجو لوگ تھے، اوس اور خزرج کے وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنی آنکھیں ہی جنگوں میں کھولی تھیں۔عمیرؓ نے جواب دیا:
’’ہاں! اور میں تم سب کو چیلنج کرتا ہوں کہ تم سب کے سب آ جاؤ اور اگر تم میں سے کسی نے بھی ویسی ہی بات کی جیسی اس عورت نے کی تھی تو میں تم سے لڑوں گا ،یہاں تک کہ تمہیں ختم کر دوں یا خود ختم ہو جاؤں۔‘‘
ذرا غور کیجیے کہ یہ کون سا وقت تھا! یہ واقعہ غزوہ بدر کے فوراً بعد پیش آیا جب قبائلِ انصار کے بیشتر افراد مسلمان نہیں ہوئے تھے اور عین ممکن تھا کہ اس طرح کا فعل لوگوں کو اسلام سے دور کر دیتا کہ یہ صحابی اعلانیہ کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی میری راہ میں حائل ہوا تو میں اسے قتل کر دوں گا۔ آیا ان کے اس عمل کے نتیجے میں لوگ اسلام سے دور بھاگ گئے؟
نہیں! بلکہ علامہ واقدی کے مطابق اس کے بعد ان لوگوں میں اسلام پھیلنا شروع ہو گیا کیونکہ اس وقت تک جو لوگ مسلمان ہو چکے تھے وہ اپنی قوم کے خوف سے اپنا ایمان چھپائے بیٹھے تھے، جب انہوں نے اسلام کی یہ قوت اور شان دیکھی تو ببانگ دہل اپنے ایمان کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔
گستاخ رسول کے قتل کے لیے حاکمِ وقت کی اجازت ضروری نہیں
پس اس مذکورہ واقعے اور اس سے پہلے ذکر کردہ واقعے میں ہمارے لیے کیا اسباق ہیں؟
آج کل ہر طرف ایسے امور میں حاکم وقت یا ولی الامر سے اجازت لینے کی بات کی جا رہی ہے اور یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر آپ پر آپ کے گھر میں آ کر کوئی حملہ کرے اور آپ کو مارنا چاہے تو اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کا کیا ارشاد ہے؟
’’جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مرے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کا دفاع کرتے ہوئے مرے وہ شہید ہے، جو اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے مرے وہ شہید ہے، جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مرے وہ شہید ہے۔‘‘ (ابوداؤد، ترمذی)
یقیناً آپ سب اس حدیث سے واقف ہوں گے۔ اب اگر کوئی آپ کے گھر آ جاتا ہے اور آپ کے سر پر پستول تانے کھڑا ہے اور آپ کو قتل کرنا چاہتا ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ اس سے اپنا دفاع کریں جسے اسلامی فقہ میں ’’دفع الصائل‘‘ کہتے ہیں، اور جو واضح اور بیّن اصول ہے ، تو کیا آپ کو حاکم وقت سے اجازت لینے کی ضرورت ہو گی؟
ایک شخص آپ کو قتل کرنے کے درپے ہے اور آپ بجائے اس سے اپنا دفاع کرنے کے، ولی الامر کو فون ملاتے ہیں، اس کے سارے پروٹوکولز سے گزر کر بالآخر اس تک رسائی پاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ’’ایک شخص مجھے قتل کرنے چلا ہے، کیا میں اپنا دفاع کر سکتا ہوں؟‘‘
بھلا یہ کوئی سمجھ میں آنے والی بات ہے؟
پس اگر اس بات کی کوئی تک نہیں بنتی کہ آپ اپنے دفاع کے لیے حاکم سے اجازت لیں تو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے لیے اجازت لینے کی آپ کو ضرورت ہے؟
جس شخص نے بنی خیثمہ کی عورت کو قتل کیا تھا، کیا اس نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت لی تھی، جبکہ آپ ﷺ اس وقت حیات تھے؟ نہیں!
اور کیا ان نابینا صحابیؓ نے، جنہوں نے اپنے بچوں کی ماں کو قتل کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی؟ نہیں!
ان دونوں حضرات نے اپنا کام کر لیا اور آپ ﷺ نے ان کے عمل کو پسند کیا اور فرمایا کہ اس پر تو دو بکریاں بھی آپس میں سینگ نہیں ٹکرائیں گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اس قدر بلند ہے کہ اس معاملے میں حاکم سے اجازت لینا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ حاکم ہوتا کون ہے کہ آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت اور اس کے دفاع کے لیے اس کی اجازت کی ضرورت پڑے؟ یہ معاملہ کسی بھی حاکم کے مرتبے سے بہت اونچا اور ارفع ہے۔
میرے عزیز بھائیو اور بہنو! یہ یاد رکھیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بات کر رہے ہیں اور ان کی ناموس کے دفاع کرنے کے لیے ہمیں کسی کی بھی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا مقام اس سے بہت بلند ہے۔ آپ ﷺ تو وہ ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور اہل ایمان درود و سلام بھیجتے ہیں۔ آپ ﷺ خاص الخاص ہیں لہٰذا آپؐ کے لیے احکام بھی خاص ہی ہیں اور آپ کے معاملے میں وہ رویہ روا نہیں رکھا جا سکتا جو دیگر لوگوں کے لیے روا ہے، اور یہ بات ہم پر واضح ہونی چاہیے۔
پھر ایک اور واقعہ بنو بکر سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر کا ہے۔ بنو بکر قریش کے حلیف تھے اور ان کا یہ شاعر رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشعار کہتا تھا۔ جبکہ بنو خزاعہ بھی مشرکین تھے لیکن صلح حدیبیہ کی رو سے یہ مسلمانوں کے حلیف تھے۔ پس بنو خزاعہ کے ایک نوجوان نے اس شاعر کے سر پر مارا جس سے وہ مرا تو نہیں البتہ زخمی ہو گیا اور وہ لوگ ایک وفد کی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ لے کر حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس کا خون بہہ گیا ہے، یہ واجب القتل ہے‘‘۔
بعد ازاں جب مکہ فتح ہوا اور بنو بکر مسلمان ہو گئے تو نوفل بن معاویہ رسول اللہ ﷺ سے اس شاعر کی بابت گفتگو کے لیے آیا۔ یہ وہ شخص ہے جو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے خیانت کا مرتکب ہوا تھا۔ اس نے بنو خزاعہ کو حرم میں قتل کیا اور جب اس کے کافر ساتھیوں نے اس سے کہا کہ اللہ سے ڈرو، تم مسجد حرام میں لوگوں کو قتل کر رہے ہو! تو اس نے جواب دیا کہ ’’آج کوئی خدا نہیں (نعوذ باللہ)، فقط انتقام ہے، اللہ کو بھول جاؤ اور اپنا اپنا بدلہ لو!‘‘
یہ نوفل بن معاویہ کہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنو خزاعہ کے لوگوں کو قتل کیا، یہی پھر فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا۔
کس کا جرم زیادہ بڑا ہے نوفل کا یا اس شاعر کا؟ نوفل نے بدترین اور ہلاکت خیز حرکت کی، لیکن پھر بھی رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف کر دیا اور پھر یہ شخص اس شاعر کے معاملے کے فیصلے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’یا رسول اللہ ﷺ! اب وہ توبہ کر کے مسلمان ہونا چاہتا ہے‘‘۔ پس رسول اللہ ﷺ نے اس شاعر کی توبہ قبول کر لی۔
میں نے آپ کے سامنے اسلام کے اولین دور کے چند واقعات رکھے ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ علماء اس مسئلے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ میں یہاں اس حوالے سے علماء کے اقوال مختصراً نقل کروں گا، البتہ اس مسئلے پر دو مفصل کتابیں موجود ہیں، اگر کوئی مزید پڑھنا چاہے تو وہ ان کتب سے استفادہ کر سکتا ہے۔
ایک کتاب کا تذکرہ میں پہلے بھی کر چکا ہوں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب ’’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘ (شاتم رسول کے خلاف سونتی ہوئی تلوار)، اس کتاب کا موضوع ہی تحفظ ناموس رسالت ہے۔
دوسری کتاب ایک مالکی عالم قاضی عیاض کی ’’الشفاء فی احوال المصطفٰی‘‘ ہے۔ یہ کتاب آپ ﷺ کی سیرت پر مشتمل ہے اور آخر میں ناموس رسالت کے موضوع پر ایک باب موجود ہے۔
ائمہ کرام کے نزدیک گستاخِ رسول کی سزا
ہم ابن تیمیہؒ کے قول سے بات شروع کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ ’’جو کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین کا مرتکب ہوا، خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ، وہ واجب القتل ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے‘‘۔
ابن المنذرؒ لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے علماء کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنے والا واجب القتل ہے‘‘۔ اور یہی رائے امام مالکؒ ، اللیثؒ، امام احمدؒ، اسحاقؒ، امام شافعیؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کی بھی ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کی رائے یہ ہے کہ اگر اس جرم کا مرتکب مسلمان ہو تو وہ واجب القتل ہے اور اگر وہ غیر مسلم ہو اور معاہد نہ ہو تو اسے بھی قتل کیا جانا چاہیے۔ ان کی رائے میں صرف ذمی، یعنی وہ کافر جو جزیہ ادا کرتا ہے، اس سزا سے مستثنی ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ کفر ان کا ایسا جرم ہے جو ناموس رسالت پر حملہ کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہے۔
پس تمام علماء مسلمان اور حربی کافر کے معاملے میں اتفاق رائے رکھتے ہیں البتہ ذمیوں سے متعلق بعض جگہ اختلاف رائے ہے۔
ابن تیمیہؒ ذمیوں والے معاملے کی تفصیل میں جا کر لکھتے ہیں کہ ’’جب ایک ذمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زبان درازی کرتا ہے تو اس کا معاہدہ منسوخ ہو جاتا ہے ،لہٰذا وہ واجب القتل قرار پاتا ہے‘‘۔
الشفاء میں قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ ’’امام مالکؒ کا مذہب یہ ہے کہ جو کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کی تحقیر کرے، اسے بلا تنبیہ قتل کر دینا چاہیے‘‘۔
ابن عتاب کہتے ہیں کہ ’’قرآن اور سنت کا یہ تقاضا ہے کہ جو بھی رسول اللہ ﷺ کو ایذا دے یا ان کی شان میں گستاخی کرے، اسے قتل کر دینا چاہیے، خواہ (بظاہر) کوئی چھوٹی سی بات ہی کیوں نہ ہو‘‘۔
بلکہ امام مالکؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ’’اگر کوئی یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ (کے کرُتے ) کا بٹن گندا ہے تو اسے بھی قتل کر دینا چاہیے‘‘۔ یعنی اس قسم کی، معمولی محسوس ہونے والی بات بھی ہو تو ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہیے۔
اس بحث کے بعد قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ ’’اس کے علاوہ کوئی اختلافی رائے ہمارے علم میں نہیں، اسی رائے پر تمام علماء کا اجماع ہے‘‘۔
میرے بھائیو اور بہنو! اگر آپ میں سے کسی نے اصول فقہ کا علم حاصل کر رکھا ہو تو اسے معلوم ہو گا کہ اجماع حجت ہے۔ اجماع، یعنی علمائے کرام کے کسی رائے پر متفق ہو جانے کی حیثیت قرآن و سنت کے احکام جیسی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ۔
’’میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔‘‘ (احمد)
امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ ’’اس جرم کا ارتکاب کرنے والا واجب القتل ہے ، اس کے مسلمان یا کافر ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا‘‘۔
الواقدی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک ؒ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا کہ جس نے آپ ﷺ کے خلاف زبان درازی کی تھی اور عراق کے فقہاء نے اس شخص کو کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا تھا۔
اس پر امام مالک ؒ غضب ناک ہو گئے اور کہا:
’’اے امیرالمومنین! جب کسی امت کے نبی کی حرمت پر حملہ کیا جائے تو وہ امت باقی کیسے رہ سکتی ہے؟ جو کوئی انبیاء علیہم السلام کی توہین کا مرتکب ہو وہ واجب القتل ہے اور جو کوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین کرے اسے کوڑے لگائے جائیں۔‘‘
امام مالک نے جب یہ سارا ماجرا سنا تو وہ ان نام نہاد فقہاء پر بہت ناراض ہوئے جنہوں نے یہ غلط فتوی صادر کیا تھا اور فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف زبان درازی دو علیحدہ جرم ہیں، کہ جن میں فرق ہے۔ اگر کوئی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زبان کھولے گا تو اس کا انجام موت ہے اور جو کوئی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف بات کرتے گا ،اس کے لیے کوڑوں کی سزا ہے۔
اس مذکورہ واقعے کے حوالے سے قاضی عیاض کہتے ہیں کہ ’’یہ واقعہ ہم سے امام مالکؒ کے ایک سے زیادہ رفقاء نے اور ان لوگوں نے بیان کیا ہے جنہوں نے ان سے متعلق کتابیں لکھی ہیں‘‘ ۔نیز وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نہیں جانتا کہ عراق کے یہ فقہاء کون تھے کہ جنہوں نے ایسا فتوی صادر کیا کہ ہم نے پہلے ہی عراقی علماء کی آراء نقل کر دی ہیں جو کہتے ہیں کہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا قتل ہے‘‘۔
پھر وہ اس معاملے کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ممکن ہے کہ یہ ان علماء میں سے ہوں جن کے علم کی ثقاہت معروف نہیں، یا پھر وہ ہوں جن کے فتاوی مستند نہیں یا پھر یہ نفس کی پیروی کرنے والے علمائے سوء ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مذکور شخص نے جو کہا ہو وہ توہین کے زمرے میں آتا ہی نہ ہو (اور اس معاملے میں اختلاف ہو کہ وہ توہین کا مرتکب ہوا بھی ہے یا نہیں کہ خلیفہ نے امام مالکؒ کو تفصیل نہیں بتائی تھی) یا پھر اس شخص نے اس جرم کے بعد توبہ کر لی ہو۔ کیونکہ اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب ہو وہ واجب القتل ہے‘‘۔
منافقین اور علمائے سوء کا طرز عمل
میرے بھائیو اور بہنو! اس خطبے کی تیاری کے لیے تحقیق کرتے ہوئے مجھے بہت سے عجیب و غریب فتاویٰ ملے۔ اور یہ جان کر مجھے بہت حیرت ہوئی کہ بعض لوگ اللہ کے دشمنوں کو راضی کرنے کی کوشش میں کس طرح سر کے بل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ (سورۃ المائدۃ: ۵۲)
’’آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ دوڑ دوڑ کر ان میں گھس رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے، ایسا نہ ہو کہ کوئی حادثہ ہم پر پڑ جائے۔‘‘
یہ منافقین ہیں اور ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے۔ یہ ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے حق بات کہہ دی تو کہیں ہم پر کوئی مصیبت نہ آ جائے۔ یہ لوگ اللہ سے زیادہ اللہ کے دشمنوں سے ڈرتے ہیں۔
اسلامی دنیا کے مسلمانوں نے جو کچھ سنا، اس پر وہ غم و غصے سے بھر گئے، اور اپنے فطری رد عمل کی وجہ سے وہ سڑکوں پر نکل آئے ۔ ان بھولے بھالے مسلمانوں کے دل رسول اللہ ﷺ کی محبت سے سرشار ہیں، اور یہ محبت ان کی فطرت میں رچی بسی ہے۔ یہ علماء نہیں بلکہ عام مسلمان ہیں جو اپنے نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی یہی محبت انہیں مظاہروں کے لیے سڑکوں پر کھینچ لائی۔
خواہ ہم ان جلسوں جلوسوں اور ان کے ممکنہ فوائد سے اور ان کے ما بعد اثرات سے اتفاق کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں، ہمارے لیے اصل چیز وہ جذبہ ہے جو مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نکال لاتا ہے، یہ ان کی فطرت اور ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے جو ان سے یہ کرواتی ہے اور وہ پرچم وغیرہ نذر آتش کرتے ہیں۔ یہ تو علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اور انہیں شریعت کے احکام بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ (سورۃ آل عمران : ۱۸۷)
’’تم ضرور لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں۔‘‘
یعنی علماء کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ احکامات چھپانے کی بجائے ان کو کھول کھول کر بیان کریں۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کی درست جانب رہنمائی کرتے اور انہیں اللہ کے احکام بتلاتے، انہوں نے ان مظاہروں کی ، جھنڈے جلانے کی اور ان کے سڑکوں پر نکلنے کی مذمت کر کے انہیں مزید اُلجھن میں ڈال دیا اور ان میں سے بعض نے تو یہ اور اس قسم کی دیگر منفی باتیں کہہ کہہ کر ڈنمارک کی مصنوعات کے بائیکاٹ تک کی مذمت کی کہ’’ اس طریقے سے تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی اور ہمیں فاصلوں کو بڑھانے کی بجائے انہیں گھٹانے کی ضرورت ہے‘‘۔
ان سب خرافات کے بیچ، حدیث میں مذکور اللہ کا وہ حکم کہ ’’اگر تم حق بیان نہیں کر سکتے تو خاموش رہو‘‘، وہی حکم کہ جس کی وضاحت مطلوب تھی، کہاں کھو گیا ؟
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ (بخاری ، مسلم)
’’جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘
آج یہ لوگ جُبّہ و دستار پہن کر لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں اور ان کے افعال کی مذمت کر رہے ہیں کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے اور ویسا نہیں کرنا چاہیے!
اور لوگ! انہوں نے کیا کیا؟ وہ اپنے گھروں سے احتجاج کے لیے نکلے اور ان کا مطالبہ ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ تھا! میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ (احتجاج کا ) یہ طریقہ محمد ﷺ کے پیروکاروں کی بجائے گاندھی کے پیروکاروں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ آپ ﷺ تو وہ ہیں کہ جنہوں نے فرمایا :
أَنَا نَبِيُّ الْمَرْحَمَةِ ، أَنَا نَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ (بیہقی ، ترمذی)
’’میں نبیٔ رحمت ہوں اور میں جنگ کا نبی ہوں۔‘‘
نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
بُعِثْتُ بِالسَّيْفِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ (مسند احمد)
’’مجھے قیامت کے دن تک کے لیے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہے، یہاں تک کے اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ۔‘‘
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ(بخاری و مسلم)
’’مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘
ایک مرتبہ آپ ﷺ نے اہل قریش سے کہا:
جئتکم بذبح(مسند احمد)
’’میں تمہارے پاس ذبح کا حکم لے کر آیا ہوں۔ ‘‘
ہم محمد ﷺ کے پیروکار اور امتی ہیں، گاندھی کے نہیں! ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کون ہیں اور ہم کس کی بات کر رہے ہیں۔ یہاں معاملہ رسول اللہ ﷺ کا ہے اور مذکورہ جرائم ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے جرائم ہیں۔
اس کے بعد بات حد سے بڑھ گئی ، جب ایک سویڈش لارسی ولز (Larce Wills) نے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے خاکے بنائے، نعوذ باللہ، یہ الفاظ منہ سے نکالنا بھی مشکل لگتا ہے، اس نے آپ ﷺ کو ایک کتے کی شکل میں دکھایا (نعوذ باللہ من ذالک)۔
اور اس پر یہ بد قماش آ کر اُن لوگوں کے خلاف فتوے جاری کرتے ہیں جنہوں نے اس لعین کو دھمکایا! ان نام نہاد علماء نے اس صریح کفر کے خلاف آواز اُٹھانے اور لوگوں کے سامنے شرعی حکم رکھنے کے بجائے اگر زبان کھولی بھی تو صرف مسلمانوں کی مذمت کے لیے! تو پھر عالم کا کردار کہاں نبھایا ؟
علم سے منسوب اشخاص کو یا تو اس کردار کا حق ادا کرنا چاہیے اور حق اور سچ کو صاف صاف کھول کر بیان کرنا چاہیے اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو علم کی یہ دستار اتار کر گھر بیٹھ جانا چاہیے ۔
یہ کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں بلکہ یہ محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کا معاملہ ہے ۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا تھا کہ ’’جب تم دیکھو کہ میں نے اس کا سر دبوچ لیا ہے تو اس پر اپنی تلواروں سے حملہ کر دینا‘‘، یہ تھا محمد بن مسلمہؓ کا عمل! مگر افسوس! آج ہم میں کوئی محمد بن مسلمہ نہیں!
ہمیں اپنی جان، مال، اور ہر میسر ذریعے سے آپ ﷺ کا دفاع کرنا ہے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے ہم پر۔ ہم ان نام نہاد علماء کے بارے میں وہی بات کہہ سکتے ہیں جو قاضی عیاض نے کہی تھی کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ یہ علماء ہیں کون!‘‘ اور ہم قاضی عیاض ہی کے الفاظ میں کہتے ہیں کہ :
’’ہو سکتا ہے یہ وہ علماء ہوں جن کا علم معتبر نہ ہو یا جن کے فتاویٰ قابل اعتماد نہ ہوں یا یہ وہ لوگ ہوں جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘
ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں کہ ’’رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنے والے کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگر سیرت میں اس کے برعکس ہمیں کوئی واقعات ملتے ہیں تو اس لیے کہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کے پاس آ کر توبہ کر لی اور مسلمان ہو گئے، اور اگر انہوں نے توبہ نہ کی ہوتی تو ان کے لیے حکم شرعی یہی رہتا‘‘۔
نیز وہ کہتے ہیں کہ ’’آپ ﷺ کو برا بھلا کہنا دیگر تمام جرائم سے بڑا جرم ہے، اسی لیے اس کی سزا بھی دوسرے جرائم کی سزاؤں سے بڑھ کر ہے اور اگر ایسا کرنے والا حربی کافر ہو تو ہم پر آپ ﷺ کی نصرت واجب ہو جاتی ہے اور ایسے شخص کا خون بہانا افضل ترین اور واجب ترین اعمال میں سے ہے اور یہ ایسا عمل ہے کہ جس کے لیے سبقت کرنی چاہیے اور یہ جہاد فی سبیل اللہ کی اعلیٰ ترین صورتوں میں سے ایک ہے‘‘۔
یہ تھے ابن تیمیہ ؒ کے، ہمارے حق گو علماء کے الفاظ!
چند اعتراضات کا جائزہ
اب ہم چند اعتراضات پر بات کرتے ہیں جو اس ضمن میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک وہ واقعہ ہے کہ جب کچھ یہود رسول اللہ ﷺ کے پاس ملاقات کے لیے آئے تو انہوں نے السلام علیکم کہنے کی بجائے السّام علیکم کہا کہ جس کے معنی ہیں، تمہیں موت آئے۔ جب حضرت عائشہ ؓ نے ان کو برا بھلا کہا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر چیز میں نرمی پسند کرتا ہے۔ (بخاری)
لہٰذا ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں توہینِ رسالت کرنے والوں سے اسی طرح نرمی سے پیش آنا چاہیے۔ ابن تیمیہ ؒ اور قاضی عیاض نے اس پہلو کو بھی تشنہ نہیں چھوڑا اور اس اعتراض کا بھی جواب دیا ہے۔
قاضی عیاض ؒ کہتے ہیں کہ ’’یہ اور اس جیسی دیگر احادیث اسلام کے اولین دور کی ہیں، اس دور کے بعد شریعت کا حکم یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ پس ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کو معاف کر دینے کا یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں کہ ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں بالکل واضح طور پر آپ ﷺ کی توہین نہیں کی گئی تھی کیونکہ یہ ایسے الفاظ تھے جنہیں سب نہیں سمجھ سکتے‘‘۔ اور پھر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ’’ ایسے لوگوں کو معاف کر دینے کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو تھا مگر ہمارے پاس نہیں ہے‘‘۔
یہ آپ ﷺ کا حق ہے، ان کا اپنا معاملہ ہے ، لہٰذا وہ چاہیں تو معاف کریں اور چاہیں تو نہ کریں، چونکہ یہ وہ اذیت ہے جو براہ راست ان کی ذات کو پہنچائی گئی ہے، لہٰذا معاف کرنے کا حق بھی صرف انہی کو ہے۔ البتہ ہمیں ایسے مجرم کو معاف کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ اسی طرح ہے گویا کوئی میرا مال چرائے اور آپ جا کر اسے معاف کر دیں! آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے پھر آپ کیسے اسے معاف کر سکتے ہیں؟ اگر اسے کوئی معاف کر سکتا ہے تو وہ میں ہوں، آپ نہیں۔ اسی طرح یہ آپ ﷺ کا اختیار ہے کہ وہ معاف کریں یا نہیں لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں۔
ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں کہ ’’رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد ہم (ایسے کسی بھی معاملے میں ) کسی کو معاف کرنے کے مجاز نہیں۔ ہم خود کو اذیت پہنچانے والوں کو تو معاف کر سکتے ہیں ، لیکن گر کوئی آپ ﷺ کو اذیت پہنچائے تب ہم ہرگز اسے معاف نہیں کر سکتے‘‘۔
ایک اور اعتراض جو پیش کیا جاتا ہے وہ یہ کہ کفار اللہ تعالیٰ کی توہین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہےــ اشارہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہوتا ہے، پس یہ تو توہین رسالت سے بھی زیادہ بڑی بات ہے۔
اس پر ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں کہ ’’جب وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے کلمات کہتے ہیں تو ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی توہین کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ان کا عقیدہ ہے جس پر وہ یقین رکھتے ہیں، لہٰذا یہ کہتے ہوئے ان کی نیت توہین کی نہیں ہوتی، البتہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ان کی نیت مسلمانوں کو ایذا پہنچانا اور اسلام کے خلاف اپنے بغض کا اظہار ہوتی ہے ، لہٰذا ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔
خلاصہ کلام
پہلی بات یہ کہ نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی سے آپ ﷺ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور نہ اس سے آپ ﷺ کے مرتبے میں کوئی فرق آتا ہے۔ آپ ﷺ تو سب سے زیادہ معزز اور مکرم ہیں، آپ کا تو نام ہی محمد ﷺ ہے ،یعنی سب سے زیادہ سراہے جانے والے۔ ہر دن کے ہر لمحے میں دنیا کے مختلف حصوں میں، مختلف اوقات میں کسی نہ کسی مینار سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے ، اور پکارا جاتا ہے: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ اور فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ رب العزت اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی نازل فرماتے ہیں۔
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ (سورۃ الاحزاب: ۵۶)
’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔‘‘
دنیا کے ہر کونے میں مومنین آپ ﷺ پر درود بھیج رہے ہوتے ہیں لہٰذا یہ خبثاء جو کچھ بھی آپ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
البتہ ہمیں ضرور اس سے نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ اگر ہم اسی طرح آپ ﷺ کی توہین ہوتے رہنے دیں تو یہ ہمارے لیے باعث گناہ ہے۔ پس نقصان تو ہمارا ہے اس لیے پروا بھی ہمیں ہی ہونی چاہیے نہ کہ نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو، کہ وہ تو ہر نقصان سے محفوظ و مامون ہیں۔
فتح کی بشارت
دوسری بات: اگرچہ کفار کے اس قسم کے افعال ہمیں طیش دلاتے ہیں مگر یہ اس بات کی نشانی ہے کہ کفار کی شکست اب قریب ہی ہے۔ کیونکہ ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں کہ ’’بہت سے قابل اعتماد، تجربہ کار اور فقہی علم رکھنے والے مسلمان، شام کے شہروں اور قلعوں کے اور عیسائیوں کے محاصرے کے تجربات بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہم کسی قلعے یا شہر کا ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ مدت سے محاصرہ کیے ہوئے ہوتے مگر اس سے ان کو کچھ فرق نہیں پڑ رہا ہوتا تھا، اور ہم بس ہمت ہار کر ہٹنے ہی والے ہوتے تھے ، لیکن اگر اس جگہ کے لوگ آپ ﷺ کی توہین کر دیتے تو یکایک ہی وہ علاقہ فتح ہو جاتا ، حتی کہ بعض اوقات تو ایک یا دو دن کا وقت بھی نہ لگتا اور بزور قوت وہ قلعہ یا علاقہ فتح ہو جا تا تھا۔ اسی لیے جب کبھی ہم سنتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں تو ہم اسے فتح کی نوید سمجھتے ہیں ، اگرچہ ان کے اس عمل پر ہمارے دل نفرت اور غیض و غضب سے بھر جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہم اسے بشارت کے طور پر لیتے تھے کہ یہ ہماری عن قریب فتح کی نشانی ہے۔ اور یہی سورۂ کوثر کی اس آیت کا مطلب ہے:
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (سورۃ الکوثر: ۳)
’’بے شک آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے۔‘‘
آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے بدترین واقعات رونما ہو رہے ہیں ، شاید یہی کہنا درست ہو کہ اس سلسلے میں یہ تاریخ کے بدترین واقعات ہیں ۔ توہین رسالت کا یہ سلسلہ ڈنمارک کے ایک اخبار سے شروع ہوا اور پھر بہت سی حکومتوں اور اخبارات نے آزادی رائے کے عنوان کے تحت ان سے اظہار یکجہتی کیا اور یوں یہ خاکے ساری دنیا میں پھیل گئے۔
پھر اس کے بعد سویڈن میں خاکے بنائے گئے جن میں آپ ﷺ کو اس صورت میں دکھایا گیا کہ اس سے بڑھ کر توہین آمیز کوئی چیز نہیں ہو سکتی!
اس کے علاوہ اللہ کی کتاب کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے! اسے ٹوائلٹ پیپر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس پر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی ہے۔
پس یہ جو کچھ ہو رہا ہے اور جس وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے، اگرچہ مسلمانوں کے دل اس پر غضب ناک ہوتے ہیں، لیکن یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ ان کفار کا انجام نزدیک ہے۔
آخری بات میرے عزیز بھائیو اور بہنو! جو ہمیں بحیثیت اُمت، بحیثیت مسلمان کبھی نہیں بھولنی چاہیے!
۶۱۵ء میں، مسلمانوں کے خلاف چھٹی صلیبی جنگ کے دوران، جب صلیبیوں نے مصر کے شہر دمیاط پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا تو اس وقت صلاح الدین ایوبی کی جانب سے امیر محمد کامل، منصورہ میں ان کے خلاف لڑ رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ صلیبیوں میں سے ایک شخص تھا جو روزانہ باہر نکلتا اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدترین گستاخی کرتا اور وہ ہر روز اپنا یہ عمل دہراتا۔ مسلمانوں کے امیر محمد کامل کی دلی خواہش تھی کہ کسی طرح اس شخص پر قابو پا لیا جائے، لہٰذا انہوں نے اس کا چہرہ اچھی طرح ذہن نشین کر لیا۔
دس سال بعد صلیبی تو ناکام و نامراد لوٹ گئے لیکن مذکورہ شخص واپس نہ گیا اور مسلمانوں کے خلاف مزید لڑنے کے لیے شام کی طرف چلا گیا، جہاں الحمدللہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ امیر محمد کامل کو دس سال بعد بھی وہ شخص یاد تھا۔ انہوں نے اسے مدینہ بھیج دیا اور وہاں کے امیر کو حکم دیا کہ اس کو آپ ﷺ کی قبر کے سامنے جمعہ کے دن ذبح کیا جائے۔ دس سال تک انہوں نے اس شاتم رسول کو اپنے ہدف پر رکھا ہوا تھا۔
پس میرے بھائیو اور بہنو! ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان ایسے مرد و خواتین پیدا کر دے جن کی تعریف اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ(سورہ المائدۃ: ۵۴)
’’وہ اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔‘‘
ایسے لوگ جو کفار کو یہ باور کرا سکیں کہ آپ ﷺ کی توہین کر کے دراصل انہوں نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے اور اس کا یہ غبار اب کبھی نہیں چھٹے گا!
٭٭٭٭٭













