احادیث غزوہ ہند سے مستنبط ہدایات وارشارات
یہ پانچوں احادیث جن کے ماخذسمیت ہم صحت و ضعف کے اعتبار سے علم حدیث میں ان کا مقام و مرتبہ پہلے بیان کرچکے ہیں۔ ان میں سچی پیش گویاں ، بلند علمی نکات اور بہت سے اہم ماضی و مستقبل کے حوالے سے واضح اشارات موجود ہیں جن میں عام مسلمانوں کی لئے بالعموم اور بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے بالخصوص خوشخبریاں اور بشارتیں پائی جاتی ہیں۔ لیکن ان بشارتوں اور خوشخبریوں کی حلاوت و لذت کو وہی لوگ پوری طرح محسوس کرسکتے ہیں جنہیں اللہ نے کسی نہ کسی انداز سے اس مبارک غزوہ میں شریک ہونے کی سعادت بخشی ہے۔ذیل میں ہم ان تمام اشارات و نکات کا بالترتیب ذکرکریں گے جو ان حادیث سے نکالے گئے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی محبت ایمان کی شرط اول :
ان احادیث میں نبی کریم ﷺ کی محبت کا بیان ہے جو حضرت ابو ہریرہ ؓ کے الفاظ حدثنی خلیلی سے مترشح ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی محبت ایمان کا اولین تقاضا، اس کی دلیل، اس کی علامت اور اس کا ثمرہ ہے۔محض محبت بھی کافی نہیں بلکہ ایسی والہانہ محبت چاہیے کہ ایک مومن کی نظر میں نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کائنات کی ہر چیز سے بلکہ اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہوجائے۔
”لا یؤمن احدكم حتى أكون أحب اليه من والده و ولده والناس أجمعين1“
’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اسے، اس کے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب اور پیارا نہ ہوجاؤں۔‘‘
زہرہ بن معبد ؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام ؓ سے سنا ہے کہ:
”کنا مع النبي ﷺ و ھو آخذ بید عمر بن الخطاب فقال لہ عمر یا رسول اللہ ﷺ لانت احب الي من کل شيء الا من نفسي۔ فقال النبي ﷺ لہ لا واللذی نفسی بیدہ ھتی اکون احب الیک من نفسک۔ فقال لہ عمر فانہ الان واللہ لانت احب الی من نفسی فقال النبیﷺالان یا عمر2“
’’ہم ایک موقع پر حضور ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا کہ حضرت عمر ؓ بولے: یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے ہر چیز سے عزیز ہیں سوائے اپنی جان کے۔ حضورﷺ نے فرمایا : ’’نہیں عمر! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سےبھی بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں (تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوگا )‘‘۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا:’’اب آپﷺ،اللہ کی قسم ! مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضورﷺ نے فرمایا:’’اب بات بنی ہے عمرؓ!!‘‘۔
نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کی والہانہ محبت:
ان احادیث میں آنحضرتﷺ کے ساتھ صحابہ کرام ؓ کی الفت و محبت کا حال بھی بیان ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہےکہ صحابہ کرام کو آپ ﷺ کے ساتھ والہانہ عقیدت اور بے پناہ محبت تھی اور وہ اس محبت اور تعلق پر فخر کیا کرتے تھے اور اپنی گفتگو میں اور خصوصاً احادیث روایت کرتے وقت اس قلبی تعلق پر فخر کیا کرتے تھے اور یہ محض ایک زبانی دعویٰ ہی نہیں تھا بلکہ ان کی ساری زندگی میں عملاً اس محبت اور چاہت کے واضح اور نمایاں اثرات نظر آتے تھے حتیٰ کہ عروہ بن مسعود ثقفی نے صلح حدیبیہ کے موقع پر جب اس والہانہ محبت کا مظاہرہ دیکھا تو وہ بھی اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا ۔”محمد کے ساتھی ان سے جس طرح محبت کرتے ہیں وہ دنیا کے کسی شاہی دربار میں نظر نہیں آتی“3۔
صحابہ کرام کونبیﷺ کی سچائی پر پختہ یقین تھا:
ان احادیث مبارکہ میں یہ چیز بھی نظر آتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آنحضرتﷺکی ہر بات اور ہر خبر کے سچا ہونے کا اٹل یقین تھا، خواہ وہ ماضی کے متعلق ہو یا مستقبل کے حوالے سے، خواہ اس کا ذریعہ وحی الٰہی ہو یا کچھ اور۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس قسم کی خبریں اور پیشین گوئیاں صرف نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہیں ہونی شدنی حقیقت جان کر اپنے دلوں میں ایسی آرزوئیں پالتے رہے، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے کہ وہ انہیں غزوہ ہند میں شریک ہونے کی سعادت عطا فرمائے۔
سندھ کا وجود:
حدیثِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضور کے زمانے میں ایک ایسا خطہ ارضی دنیا میں موجود تھا جسے سندھ (تقریباً موجودہ پاکستان) کے نام سے جانا جاتا تھا۔
ہندوستان کا وجود:
اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عہد رسالت میں روئے زمین پر ایک ایسا ملک بھی موجود تھا جسے“ہند” کہا جاتا تھا۔
سندھ عرب کے پڑوس میں اور اس پر چڑھائی غزوہ ہند سے پہلے:
یہ حدیث جس میں غزوہ سندھ و ہند کا ذکر آیا ہے، اس میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ سندھ کا علاقہ عرب کے پڑوس میں واقع ہے نیز یہ کے غزوہ سندھ غزوہ ہند سے پہلے ہوگا۔
سندھ اور ہند پر کفار کا قبضہ:
مزید یہ کہ عہد رسالت مآبﷺمیں سندھ اور ہند دو ایسے خطوں کے طور پر معروف تھے جن پر کفار کا قبضہ اور تسلط تھا اور زمانۂ نبوت کے بعد بھی ایک عرصہ تک باقی رہا جبکہ ہندوستان پر مزید، غیر معلوم مدت تک ان کا قبضہ بر قرار رہنے کا امکان ہے۔
نبی کریمﷺ ان حقائق سے آگاہ تھے:
ان احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺان تمام حقائق سے آگاہ اور واقف تھے خواہ اس کا ذریعہ وحی الٰہی ہو یا تجارتی تعلقات یا دونوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے جاسوسوں اور خفیہ انٹیلی جنس کے ذریعے آپ نے یہ معلومات حاصل کی ہوں کیونکہ غزوات میں آپ یہ طریقہ کار اختیار کرتے تھے۔اگرچہ پہلے دو احتمال زیادہ قرین قیاس ہیں لیکن تیسرا احتمال بھی محال نہیں لیکن اس کے لیے ہمارے پاس کوئی نقلی دلیل نہیں ہے۔
سندھ و ہند کی تاریخ:
ان احادیث میں دونوں ممالک (سندھ و ہند)میں مستقبل میں پیش آنے والے بعض تاریخی واقعات کا حوالہ ہے،اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں مسلمان ان ممالک (سندھ و ہند) سے جنگ کریں گے۔
غیب کی خبر، پیشین گوئیاں:
سندھ اور ہند کی طرف ایک اسلامی لشکر کی روانگی اور جہاد اور اور پھر کامل فتح کی بشارت کی شکل میں ان احادیث میں مستقبل بعید کی خبر اور پیش گوئی بھی موجود ہے۔
رسالت محمدیﷺ کی حقانیت کا ثبوت:
مخبر صادقﷺ کی پیش گوئی آج ایک حقیقت بن چکی۔ خلافت راشدہ اور پھر خلافت امویہ اور عباسیہ کے ادوار میں غزوہ ہند کی شروعات ہوئی اور پھر ہندوستان پر انگریزی راج کے دوران بھی یہ جہاد جاری رہا اور آج تقسیم ہند کے بعد بھی ہے اور ان شاءاللہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مجاہدین سرزمین ہند سے کفار کا قبضہ و تسلط ختم کرکے، ان بادشاہوں (حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر خلیفۃالمسلمین کے سامنے نہ لے آئیں۔ ان میں سے بعض واقعات کا حدیث نبوی کے مطابق پیش آجانا حضرت محمدﷺکی نبوت کی صداقت کی دلیل ہے۔
بیت المقدس کی بازیابی اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کی بشارت:
ان احادیث میں غزوۂ ہند اور فتح بیت المقدس دونوں واقعات کا مربوط انداز میں ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کا مسلمان حاکم ایک لشکر روانہ کرےگا جسے اللّٰہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔ اس میں پوری امت مسلمہ کے لیے بیت المقدس کی آزادی اور مسجد اقصیٰ کی بازیابی کی بشارت عظمیٰ ہے اور یہ پیش گوئی بھی موجود ہے کہ اس غزوہ کے دوران مجاہدین ہند اور مجاہدین فلسطین کے مابین زبردست رابطہ اور باہمی تعاون موجود ہوگا۔اس سے یہ حقیقت از خود واضح ہوجاتی ہے کہ ہندوستان کے بت پرست اور سرزمین معراج پر قابض یہودی عالم اسلام کے مشترک،بدترین دشمن ہیں انہیں ہندوستان اور فلسطین کے مسلم علاقوں سے بے دخل کرنا واجب ہے۔
جہاد تا قیامت جاری رہے گا:
ان احادیث میں غزوۂ اور جہاد آخری کو کسی خاص زمانے اور خاص وقت کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد آخری زمانے تک جاری رہے گا حتیٰ کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمانوں اتر کر دجال کو قتل کردیں اور اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ کہ دجال اعظم کے اکثر پیرو کار یہودی ہوں گے۔
جہاد دفاعی بھی ہے اور اقدامی بھی:
یہ پانچوں احادیث اس بات پر واضح طور پر دلالت کررہی ہیں کہ غزوہ ہندوستان میں جہاد صرف دفاع تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں حملہ اور پیش قدمی ہوگی اور دارالکفر کے اندر گھس کر کفار سے جنگ کی جائے گی۔غزوہ اور بعث کے دونوں الفاظ اسباب میں صریح ہیں۔ غزوہ کا لغوی مفہوم”اقدامی جنگ“ ہے۔ جنگ دو طرح کی ہوتی ہے: اول”دعوتی و تہذیبی جنگ“ (غزو فکری)۔ دوم ”عسکری و فوجی جنگ“ اور اسلام کی نظر میں دونوں طرح کی جنگ مطلوب ہے۔یہ دونو ں قسم کا جہاد پہلے بھی ہوا ہے اب بھی ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا، البتہ مذکورہ احادیث میں جس غزوہ اور جنگ کی پیش گوئی ہے اس سے مراد عسکری و فوجی جہاد ہے۔ واللہ اعلم!
دشمنوں کی پہچان:
ان احادیث میں اسلام اور مسلمانوں کے دو بدترین دشمنوں کی پہچان کرائی گئ ہے۔ ایک بت پرست ہندو، دوسرے کینہ پرور یہودی۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ حضورﷺ نے غزوہ ہند اور سندھ کا ذکر فرمایا اور ظاہر ہے کہ ایسا غزوہ صرف کفار کے خلاف ہی ہوسکتا ہے اور آج ہندوستان میں آباد کفار، اور بت پرست ہندو ہیں اور حدیث ثوبان میں یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اور ان کے ساتھی دجال اور اس کے یہودی رفقاء کے خلاف لڑیں گے۔ اس طرح گویا ایک طرف حدیث میں کفر اور اسلام دشمنی کی قدر مشترک کی بنا پر یہود و ہنود کو ایک قرار دے دیا گیا اور دوسری طرف مسلم اور مجاہد فی سبیل اللّٰہ کی قدر مشترک کی وجہ سے مجاہدین ہند اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو ایک ثابت کردیا گیا۔
نبوی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجالس میں ہندوستان کا تذکرہ:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی مجلسوں میں ہندوستان کا تذکرہ فرمایا کرتے تھے اور یہ تذکرہ اکثر ہوا کرتا تھا اور ظاہر ہے کہ یہ تذکرہ صرف قتال اور غزوہ کے ضمن میں ہی ہوتا ہوگا نہ کہ سفر و تجارت یا سیر و سیاحت کی غرض سے۔
حضور ﷺکی نیت و آرزو:
نبی کریم ﷺ اور انکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چونکہ اکثر اوقات غزوہ ہند کا تذکرہ کیا کرتے تھے لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ اس غزوے میں شرکت کے آرزو مند تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں غور فکر کرکے اس کے لیے کوئی ابتدائی منصوبہ بندی بھی کی ہو اور اپنے صحابہ کو اس کی رغبت بھی دلائی ہو۔
غزوہ ہندوستان نبی ﷺ کا وعدہ ہے :
حدیث میں دو الفاظ آئے ہیں:
وعَدَنِي “مجھ سے وعدہ کیا“
وعَدَناَ“ہم سے وعدہ کیا“
اور وعدہ سے مراد کسی عمل خیر کا وعدہ اور وعدے میں نیت اور ارادہ لازماً پائے جاتے ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کے دل میں غزوہ ہند کی نیت اور قصد موجود تھا اور آپ ہندوستان پر چڑھائی کا ارادہ رکھتے تھے آپﷺ نے اپنا یہ ارادہ کبھی فرد واحد کے سامنے اور کبھی پوری مجلس کے سامنے ظاہر فرمایا تاکہ صحابہ کرام بلکہ قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے علم میں آجائے۔
یہ اللہ تعالٰی کا وعدہ بھی ہے :
ابو عاصم کی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں۔
” وَعَدَنا اللهُ وَرَسُوْلُه………الخ“
یہ الفاظ دلیل ہیں کہ یہ صرف حضورﷺ کا وعدہ ہی نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے اور اللہ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
﴿وَعْدَالله لاَيُخْلِف الله وَعْدَه ولكن أكثر الناس لا يعلمون 4﴾
”یہ اللہ کا وعدہ ہے۔اللہ تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا بلکہ اکثر لوگ جانتے نہیں“۔
جنگ و جہاد کی ترغیب:
ان احادیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو جنگ اور جہاد کی رغبت دلائی ہے،جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔
﴿ياأيها النبي حرض المؤمنين علي القتال ان يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين وإن يكن منكم مائة يغلبوا الفا من اللذين كفروا بأنهم قوم لا يفقهون﴾ 5
”اے نبی!ایمان والوں کو لڑائی کی ترغیب دو،اگر تم میں سے بیس آدمی ثابت قدم ہونگے تو وہ سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی ہوں گے تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ وہ کفار سمجھ نہیں رکھتے“۔
جنگ و جہاد کی یہ ترغیب صحابہ کرام، تابعین اور قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
سامراجی قوتوں کا علاج :
اس میں امت کے لئے یہ راہنمائی بھی ہےکہ دنیا میں کفار و مشرکین کے غلبہ اور سامراجی و استعماری طاقتوں اور استبدادی کاروائیوں کا علاج بھی جنگ و جہاد میں مضمر ہے۔اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔مذاکرات عالمی اداروں میں مقدمہ بازی یا اور کسی دوست یا غیر جانبدار ثالث کی کوئی کوشش یا مداخلت ضیاع وقت کے سوا کچھ نہیں۔
غزوہ ہند میں مال خرچ کرنے کی فضیلت:
ان احادیث میں غزوہ ہند میں مال خرچ کرنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اگرچہ راہ جہاد میں مال خرچ کرنا اعلیٰ درجے کا انفاق ہے لیکن غزوہ ہند میں خرچ کرنے کی فضیلت عمومی انفاق فی سبیل اللہ سے کہیں زیادہ ہے۔اسی فضیلت کی بنا پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بار بار یہ خواہش کیا کرتے تھے کہ“اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنی جان اور اپنا نیا و پراناسب مال اس میں خرچ کردوں گا “۔
غزوہ ہند کے شہداء کی فضیلت :
مذکورہ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس غزوہ میں شریک ہونے والے شہداء کی بھی بڑی فضیلت ہے کیوں کہ ان کے بارے میں آپﷺ نے“اَفْضَلُ الشُّهداءِ “ اور “خَیْرُ الشُّهَدَاءِ “ کے الفاظ بیان فرمائے ہیں۔
جہنم سے آزادی کی بشارت:
ان احادیث میں ان مجاہدین کی جہنم سے آزادی کی بشارت آئی ہے جو اس غزوہ میں شریک ہونگے اور غازی بن کر لوٹیں گے۔آپ نے ان دو جماعتوں کا ذکر فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے انہیں آگ سے محفوظ کر دیا ہے“ اور پہلی جماعت کے متعلق یہ صراحت فرمائی کہ ”وہ ہندوستان سے جنگ کرے گی“۔اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ”اگر میں اس غزوہ میں غازی بن کر لوٹا تو میں ایک آزاد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہوں گا جسے اللہ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہوگا“۔
آخری جنگ میں فتح کی بشارت:
ان میں یہ بشارت بھی موجود ہے کہ آخر زمانے میں حضرت مہدی علیہ السلام اور سیدنا عیسی ابن مريم علیہ السلام بھی دنیا میں موجود ہونگے۔اللہ تعالیٰ مجاہدین ہند کو عظیم الشان فتح عطا فرمائے گا اور وہ کفار کے سرداروں اور بادشاہوں کو گرفتار کرکے قیدی بنائیں گے۔
مال غنیمت کی خوشخبری:
اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کو بیش بہا مال غنیمت سے بھی نوازے گا۔
سیدنا عیسی علیہ السلام سے ملاقات کی بشارت:
ایک بشارت ان احادیث میں یہ ملتی ہے جو مجاہدین اس مبارک غزوہ کے آخری مرحلے میں برسرپیکار ہوں گے وہ سیدنا عیسی ابن مريم علیہ السلام کی زیارت باسعادت اور ملاقات بابرکات سے مشرف ہوں گے۔
ہندوستان کے ٹکڑے ہوں گے:
آخری اور سب سے بڑی بشارت ان احادیث میں یہ ہے کہ اس غزوہ کے نتیجے میں ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر متعدد چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم ہو جائے گا۔
جن پر ایک متفقہ بادشاہ کے بجائے کئی بادشاہ بیک وقت حکمرانی کر رہے ہونگے۔ اس کے علاوہ اہل علم نےاور بھی کئی بشارتیں ان احادیث سے نکالی ہیں،البتہ ہم نے ان احادیث کی تخریج اور ان کے دروس و اشارات اور نبوی ہدایات اجمالاً اہل علم کی خدمت میں پیش کر دی ہیں۔واللہ اعلم!
٭٭٭٭٭
1 البخاری کتاب الایمان،باب علامۃ الایمان حب الانصار حدیث:۱۷۔
2 البخاری کتاب الأیمان و النذور باب کیف کانت یمین النبی ﷺ حدیث 6632
3 الرحیق المختوم
4 الروم: ۶/۳۰ ۔
5 الانفال:۶۵/۷۔









