خطوط کا انسانی زندگی، زبان و ادب اور تاریخ پر گہرا اثر ہے۔یہ سلسلہ ہائے خطوط اپنے انداز میں جدا اور نرالا ہے۔ اس کو لکھنے والے القاعدہ برِّ صغیر کی لجنۂ مالیہ کے ایک رکن، عالم و مجاہد بزرگ مولانا قاری ابو حفصہ عبد الحلیم ہیں، جنہیں میادین جہاد ’قاری عبد العزیز‘ کےنام سے جانتے ہیں۔قاری صاحب سفید داڑھی کے ساتھ کبر سنی میں مصروفِ جہاد رہے اور سنہ ۲۰۱۵ء میں ایک صلیبی امریکی چھاپے کے نتیجے میں، قندھار میں مقامِ شہادت پر فائز ہو گئے، رحمہ اللہ رحمۃ ً واسعۃ۔ قاری صاحب نے میدانِ جہاد سے وقتاً فوقتاً اپنے بہت سے محبین و متعلقین (بشمول اولاد و خاندان) کو خطوط لکھے اور آپ رحمہ اللہ نے خود ہی ان کو مرتب بھی فرمایا۔ ادارہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ ان خطوط کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ اللہ پاک ان خطوط کولکھنے والے، پڑھنے والوں اور شائع کرنے والوں کے لیے توشۂ آخرت بنائے، آمین۔ (ادارہ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ
عزیز بھائی!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
بعد سلام ! امید ہے کہ آپ بفضل اللہ تعالیٰ مع ایمان و صحت کے خیر و عافیت سے ہوں گے۔ ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ بھائیوں کی نیک دعاؤں سے خیر و عافیت سے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو اور تمام بھائیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور شیاطین، نظرِ بد سے حفاظت فرمائے ،آمین!
سچی بات یہ ہے کہ میں آپ سب کو بہت یاد کرتا رہتا ہوں اور رب تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ملاقات کے لیے کوئی راستہ نکالے تاکہ برسوں کی یادیں ایک دوسرے سے بانٹ سکیں۔حضرت یوسف علیہ السلام نے ہمارے لیے جو اسوہ چھوڑا ہے وہی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک اپنے محبوب ترین باپ و بھائی سے دور رہےاور صعوبتیں جھیلیں مگر ایک لمحے کے لیے ’تقویٰ‘ کا دامن نہیں چھوڑا ، نہ ماحول سے سمجھوتا کیا اور نہ ہی بے صبری سے کام لیا ۔بالآخر اللہ رب العالمین نے ان کے تقویٰ و صبر کی قدر کرتے ہوئے نہ صرف ان کے محبوب ترین ہستیوں سے ملایا بلکہ ان کو اقتدار سے بھی نوازا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی محسن کااجر ضائع نہیں فرماتا ۔
﴿اِ نَّ اللہَ لَا یَضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴾
’’اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یوسف علیہ السلام کے اسوہ پر عمل کرنے کی ہمت عطا فرمائے،آمین!
عزیز بھائی! یہ ماحول ہی ہے جو انسان کو اپنے لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ہمیں اس سے ہر حال میں بچنا ہوگا۔ہم جس ماحول میں زندگی گزار رہےہیں وہ کسی قید و بند سے کم نہیں۔اس لیے میرے عزیز بھائی قید و بند میں جس طرح ایک آدمی مجبور ہوکر اضطراری زندگی گزارتا ہے اسی طرح ہمیں بھی اس فانی دنیا میں اضطراری زندگی گزارنی ہوگی۔اسی کا نام ایک طرح کی ہجرت ہے۔نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا:
وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْه [بخاری]
ابن ماجہ کی روایت میں ہے:
وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ
’’ اصل ہجرت کرنے والا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کےمنع کردہ امور سے رک جاتا ہے یعنی تمام گناہوں سے اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے ‘‘
جہاں تک عملی ہجرت کی بات ہے اس کی نوبت تونفس کو قابو کر نے کے بعد ہی آتی ہے۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اُن اُن امور سے اپنے آپ کو بچاتے رہیں جو ہمارے ایمان و عقیدے کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ مثلاً نظامِ تعلیم کے ایک ایک جزء کولے لیجیئے ،معیشت کے ایک ایک تانے بانے کو ایک نظردیکھ لیجیئے ، میڈیا سے نشر ہونے والی تمام خرافات نظر میں رکھیے یہ سب ہمارے ایمان و عقیدہ کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ان تمام چیزوں کو کلی طور پررد کر دینا ہمارےلیے لازمی ہے۔ ان کو رد کر نے میں کسی قسم کا تردّدا ور شکوک و شبہات میں مبتلا ہونا، ان میں کسی معمولی نوعیت کا فائدہ یابھلائی دیکھ کر دنیا کے دوسرے لوگوں کی طرح اس سے متاثر ہونا اور اس کی وکالت شروع کر دینا جیساکہ دوسرے متأثرین کا شیوا ہے ہمارے لیے اس میں موت کا پیغام ہے۔
میرے پیارے بھائی !دنیا میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے کسی فائدہ کا پہلو نہ نکلتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو شراب جیسی حرام اور اُمُّ الخبائث اور جوئے کے بارے میں بھی اس حقیقت کو واضح کیا:
﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ ط قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ز وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَاط﴾
’’ (اے پیغمبر) لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں تو کہہ دو کہ اُن میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کےلئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر اُن کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں۔‘‘ [سورۃالبقرہ: ۲۱۹]
اس کے علاوہ دجالی چمک دمک کے بارے میں نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا :
إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّھَا النَّارُ فَمَاءٌ بَارِدٌ وَأَمَا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّھَا نَارٌ فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌ.
’’دجّال اپنے ساتھ پانی اور آگ لے کر نکلے گا۔جس کو لوگ پانی سمجھیں گے وہ حقیقت میں جھلسا دینےوالی آگ ہو گی اور جس کو وہ آگ سمجھیں گے حقیقت میں وہ پانی ہوگا۔ پس تم میں سے جو شخص دجال کو پائے تو وہ اپنے آپ کو اس چیز میں ڈالے جس کو وہ اپنی آنکھوں سے آگ دیکھتا ہےاس لئے کہ وہ آگ حقیقت میں میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔‘‘
اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دجالی نظام کا تھوڑا بہت جو فائدہ آسائش پہنچانے والی چیز کی صورت میں ہمیں نظر آتا ہے وہ در اصل اس کی آگ ہی کا دھواں ہے۔اس کے نظام سے بغاوت کی صورت میں جو تکالیف و آزمائش اُمنڈ آتی ہے وہ حقیقت میں اللہ کے ہاں سرخروئی کا ذریعہ ہے جو کہ میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی مانند ہے۔
ان تمام چیزوں کا رد جو دجالی فتنوں کی شکل میں ہمارے ماحول کو خراب کر رہا ہے اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر کلمۂ طیبہ کا حقیقی تقاضہ پورا نہیں ہو سکتا۔ [لا الہ الا اللہ] ’’ کوئی معبودِ حقیقی نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے‘‘۔ اس کلمہ کا پہلا حصہ ’ کوئی حقیقی معبود نہیں‘اس بات کے تحت ان تمام غیر حقیقی معبودوں کو انکار کرنا ہے اور اس کوکلی طور پر رد کرنا ہےجس کے تحت یہ نظام کھڑاہے۔اور کلمۂ طیبہ کے دوسرے حصہ کا تقاضہ جس میں کہا گیا ’علاوہ اللہ کے یعنی اللہ ہی معبودِ حقیقی ہے‘، اس بات کے تحت اللہ تعالیٰ کو معبودِ بر حق سمجھ کر ، اس کو رازق مان کر ، اس کو حیات و موت دینے والا جان کر اسی پر قدم جمائے رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ نےاسی کا حکم دیاہے:
﴿فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَھَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾
’’جس نے طاغوت کا انکارکیا اور اللہ پر ایمان لایا اُس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ (سب کچھ) سنتا اور جانتا ہے ‘‘ [سورۃ البقرہ: ۲۵۶]
شریعت کے تقاضہ کے مطابق شریعت مخالف نظام و نظریہ کے کلی طور پر رد کر نے کے بعد عملی قدم اُٹھانا ہے ۔اس کے دو پہلو ہیں: (الف) انفرادی طورپر خود بھی اور اپنے اہل وعیال کو بھی شریعت سے متصادم تمام گندے امور سے بچانا ہے، مثلاً دل چاہ رہا ہے کہ ٹی وی ڈراموں میں ہونے والی آزادانہ محفل دیکھنا و سننا کو ئی حرج نہیں یا اہل و عیال تقاضہ کررہے ہیں کہ مرد و زن کے مخلوط شادی بیاہ میں شریک ہوا جائے۔یہ اور اسی طرح کے ہزار ہا نافرمانی والے کاموں سے عملی طورپر اجتناب کرنا لازمی ہے۔(ب) عملی کاموں میں دوسرا پہلو یہ ہے کہ حالات کو بدلنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے کیوں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا:
من رأیٰ منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فإن لم یستطع فبلسانہ وإن لم یستطع فبقلبہ، ذلك أضعف الإیمان۔
’’تم میں سے جو کوئی بُرائی ہوتے ہوئے دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے ہاتھ سے روکے، اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتاتو زبان سے اسے بُرا کہے اور اگر زبان سے بُرا کہنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے چاہیے کہ اسے دل میں بُرا جانے، یہ کمتر درجہ کا ایمان ہے۔‘‘
ظاہری بات ہے کہ یہ کام انفرادی سطح پر توممکن نہیں اس لئے کسی ایسی اجتماعیت سے منسلک ہواجائے جو منہاجِ نبویﷺکے مطابق معاشرہ کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالنے کا عزم رکھتی ہو اور نہ صرف معاشرہ کو بدلنے کا عزم رکھتی ہو بلکہ اس کے مطابق عملی جد و جہد بھی کر رہی ہو، تو وہ اس سے منسلک ہو اور حالات کو بدلنے کی حتی الامکان کوشش کرے ۔
انفرادی طور پر نظام و نظریہ کے رد اور عملی قدم اُٹھانے کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں اس دجّالی ماحول میں اپنے ایمان اور اپنے اہل وعیال کا ایمان نہیں بچا سکتا اوروہ اس بات کی استطاعت بھی رکھتا ہے کہ اس ماحول سے نکل کر دوسری کہیں ایسی جگہ جہاں اپنے اہل وعیال کے ساتھ کوچ کر سکتا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو لے کر وہاں سے ہجرت کر جائے ۔ اگر وہ اس کی استطاعت رکھنے کے باوجود بھی اس ناگفتہ بہ ماحول سے ہجرت نہیں کرتا اور اسی ماحول میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کےمطابق اللہ تعالیٰ کے اس تنبیہ کے زد میں آنے کا خدشہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِھِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوا فِيھَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَھَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾
’’بے شک جن کی جان فرشتے قبض کر رہے تھے اس حال میں کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں توان سے فرشتے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ کیا اللہ کی زمین فراخ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بُری جگہ ہے۔‘‘ [سورۃالنساء:۹۷]
اصل مسئلہ ایمان کا ہے کیونکہ یہ ایک بندۂ مؤمن کا اصل سرمایہ ہے۔یہ وہ وقت ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے اپنی پیشین گوئیوں میں بتایا کہ ایک وقت آئے گا جوکہ فتنہ کا زمانہ ہوگا، اس وقت ایک مسلمان کے لئے چند بکریاں بہترین سرمایہ ثابت ہوں گی جسے لے کر وہ پہاڑوں کے دامن میں جائے گا اور اپنے دین و ایمان محفوظ بنائے گا، جیساکہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے :
یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ ، یَتَّبِعُ بِھَا شَعَفَ الجِبَالِ وَمَوَاقِعِ الْقَطَرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہٖ مِنَ الْفِتَنِ۔
’’وہ دن دور نہیں کہ مسلمان کا بہترین مال چند بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کے چوٹیوں یا بارانی علاقوں پر جائے گا، اس غرض سے کہ فتنوں سے اپنے دین کو بچالے‘‘۔
[بخاري،عن أبي سعید الخدریؓ،باب التعرب في الفتنۃ]
اس حدیث ِ پاک کی روح سے شریعت مخالف ماحول سے نکل کر کسی اور مقام پر منتقل ہونا جہاں وہ اپنے ایمان کو محفوظ بنا سکتا ہے وہ وہاں منتقل ہو جائے اور اپنا ایمان اور اپنے اہل و عیال کا ایمان محفوظ بنائے۔ یہ کام بھی حقیقی استطاعت سے مشروط ہے ۔
اگر حقیقی استطاعت نہ ہو تو اس کے لئے ’اضطرار ‘ہے۔ یہ ’اضطرار‘ کیا ہے ؟ اضطراری کیفیت دراصل یہ ہے کہ فرض کیجیے کہ ایک انسان کو قید خانہ میں ڈال دیاگیا، وہ اب مجبور ہے کہ اسے جو دیا جائے وہ کھائے خواہ حلال ہو یا حرام لیکن اگر اُسے معلوم ہو کہ اسے جو کچھ دیاجارہا ہے وہ حرام ہے تووہ اضطراری حالت میں صرف اتنی چیز کھاسکتا ہےجتنی جان بچانے کےلیے ضروری ہو، لیکن اگر وہ اسے رضا ورغبت کے ساتھ پیٹ بھر کر کھا لے تو وہ باغی کہلائے گا۔ اگر وہ پیٹ بھر کر کھالے اورآنے والے وقت کے لئے ذخیرہ بھی کر لے تو وہ باغی بھی ہوگا اور عادی بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اضطراری حالت میں مسلمان کے لئے رہنما اصول قرآن حکیم میں بتا دیا ہے:
﴿ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾
’’اور اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو( کھانا) حرام کردیا ہے۔ ہاں جو شخص مجبور ہو جائے (بشرطیکہ) اللہ کی نافرمانی نہ کرے اور ضرورت کی حدسے تجاوز نہ کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘[سورۃ البقرۃ :۱۷۳]
اس اضطراری کیفیت کو اور ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں کہ ہم ایک دسترخوان پر کھانے کے لیے بیٹھے ہیں۔ اس دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے رکھےہوئے ہیں۔ جن میں اُم الخبائث شراب کے ساتھ سؤر کا گوشت بھی رکھا ہوا ہے۔ ایک مؤمن کے لیے اس دسترخوان پر کھانا کھانا کس قدر دشوار ہوگا اور اس کے حلق سے کھانا مشکل ہی سے گزرے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی دسترخوان بھی نہیں کہ وہ اس دسترخوان سے کھانا کھا لے۔ اس طرح کے دسترخوان پر یہ کراہت ، دشواری ، مشکلات یہ اضطراری کیفیت کے زمرے میں آتی ہے۔ تو شریعت مخالف گندہ معاشرہ میں ہماری کیفیت بھی اسی طرح کی گھٹن کی ہو ۔ ایک مؤمن اس اضطراری ماحول میں حرام کھانا ، حرام میں ملوّث ہونا تو کجا وہ مشتبہات کے قریب بھی نہ بھٹکے گا۔
اس اضطراری کیفیت میں رہتے ہوئے اسے یہ عزم مصمم بھی ہونا ضروری ہے کہ جیسے ہی استطاعت ہو ایمان کی خاطر ’ہجرت ‘ کا کوئی موقع ہاتھ آجائے تو شریعت مخالف گندے ماحول سے نکلے گا اور اچھے ماحول میں منتقل ہو جائے گا۔
اگر کوئی شخص کسی ایسی اجتماعیت سے منسلک ہے جو منہاجِ نبوی ﷺ کے مطابق دین کا کام کر رہی ہے تو اس کے لیے امیر کی اطاعت بھی لازم ہے کیونکہ سمع و اطاعت شریعت کی اساس ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَة.
’’ایک مسلمان پر سمع و اطاعت پسند و نا پسند ہر دو صورت میں لازم ہے اور اس وقت تک سمع و اطاعت لازم ہے جب تک امیر معصیت کا حکم نہ دے جب وہ معصیت کا حکم دے تو اس کا نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے۔ [بخاری و مسلم ،ابوداؤد]
سنن ترمذی میں عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة في اليسر والعسر والمنشط والمكره۔
’’ہم نے رسول اللہ ﷺ سے آسانی و سختی اور خوشی و نا خوشی ہر چہارموقع پر سمع و اطاعت پر بیعت کی۔‘‘
امیر کی اجازت لازم کیوں ہے؟ اس لیے کہ امیر کی نظر تمام امور پر مرکوز ہوتی ہے ۔ انہیں ماحول کی نزاکت پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے اور وہ اس کی تبدیلی کا خواہا ں بھی ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ پوری دنیا بشمول مسلم دنیا میدان ِ جنگ میں اب تبدیل ہو چکی ہے۔
اسی لئے اسی ماحول میں رہ کر دعوت و تبلیغ کے ذریعہ شریعت سے متصادم گندے ماحول کو بتدریج تبدیل کرتے رہنا ہے ۔ جہاں یہ دعوت و تبلیغ کارگر ثابت نہ ہو اور دشمن کے خلاف کاروائی کر نا ناگزیر ہو وہاں کاروائی کر نا بھی مقصود ہو۔اس صورت میں ماحول کی خرابی کے باوجود ’ہجرت‘ امیر کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے۔
اب رہی یہ بات کہ وہ شریعت سے متصادم گندے ماحول میں کسی صورت میں نہ اپنا ایمان محفوظ بنا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے اہل و عیال کا ایمان محفوظ کرسکتا ہے ۔اس سے بھی ایک قدم آگے وہ اس گندے ماحول میں ملوّث ہوئے بغیر دشمنوں سے چھپ بھی نہیں سکتا اور نہ امیر کی ہدایت کے مطابق کام کرسکتا ہے۔تو اُسے چاہیے کہ وہ امیر سےدرخواست کرتارہے اور اپنے آپ کو امیر کے سپرد کردے اور امیر سے کہہ دے کہ میرے اور میرے گھروالوں کے ایمان کی حفاظت اور دشمنوں سے بچاؤ آپ ہی کے ذمّہ ہےتو بعید نہیں کہ امیر اُسے وہاں سے محفوظ مقام پر ’ہجرت‘ کرنے کی اجازت دے دے۔
میں آپ کے تمام حالات سے کم و بیش باخبر ہوں۔ پریشان نہ ہوں، صبر سے کام لیجیے ،اللہ کی مدد آنے ہی والی ہے۔ ویسے بھی ہمارے دل ایک ساتھ ہی دھڑکتے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ بڑا فاصلہ ہے ۔لیکن یہ ناپ و تول اور اسکیل کا فاصلہ ہے۔ مؤمن کا دل اور ہی ہوتا ہے، وہ تو لمحوں میں عرشِ عظیم کی سیر کرتا ہے۔صرف اللہ کا دامنِ رحمت تھامے رہیں،اسی سے لو لگائیں ، اللہ کے ہاں دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں۔ اللہ مؤمنوں کا دوست ہے ۔ ارشاد ہے:
﴿اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُھُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾
’’ جولوگ ایمان لائے ہیں اُن کا دوست اللہ تعالیٰ ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے ‘‘[سورۃ البقرہ:۲۵۷]
والسلام ، دعاؤں کا طلبگار
آپ کا بھائی
٭٭٭٭٭


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



