ایک بار پھر وطن پاکستان میں مسلمانوں کے ایمان کا امتحان لینے کی کوشش کی گئی۔ مدعیٰ یہ تھا کہ یہود و نصاریٰ اور ان کے حواری پاکستان کی عوام کے دلوں سے حبِ دین نکالنے میں کس قدر کامیاب ہوئے ہیں۔ میرا اشارہ اس واقعے کی جانب ہے جو پچھلے دنوں اسلام آباد میں رونما ہوا۔ قرآن مجید کے اوراق کو گندگی کے ڈھیر پر پھینک کر اہلِ ایمان کے ایمان کا امتحان لیا گیا۔ اس واقعہ کو ابھی ایک مہینہ بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ ایبٹ آباد جیل میں عمران نامی ایک خبیث نے قران کریم کی توہین کی۔ عمران کے جیل میں آنے کی وجہ بھی اس کی گستاخی ہی بنی تھی۔ جبکہ اس سے پہلے بھی عمران ہری پور جیل میں اس گھناؤنے و خبیث فعل کا مرتکب ہو چکا ہے۔ یعنی عمران نے تیسری بار دین کی توہین کی، جب اس فعل پر جیل میں موجود قیدی مشتعل ہو گئے تو پولیس نے درمیان میں آ کے اسے بچایا اور دو دن بعد اعلان کیا کہ جیل کے حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ سبحان اللہ یہ حادثہ اس پاکستان میں رونما ہوا جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی تھی، جس کے باسی اس کو مدینۂ ثانی خیال کرتے ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ اس پاکستان میں اسلام کے نام کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہا۔ یہ پاکستان میں ہونے والے دجل کی انتہا کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچھلے کچھ سالوں میں توہینِ دین کےتیئس سو سے زیادہ مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ یہ گستاخیاں و توہین اب اس اسلامی ریاست میں روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ بھلا اس بڑی تعداد میں سے کتنے لوگوں کو اپنے اس گھناؤنے فعل پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ، شریعت اور دين كی بات کی بات تو چھوڑ ہی دیجیے۔ تہتّر کے آئین اور اس میں ہونے والی دو درجن کے قریب ترمیموں والے دستور کے مطابق ہی کس کس کا احتساب کیا گیا؟ بلکہ اس ملک میں تو ایسے خبیثوں کو الٹا عزت کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔ انہیں بحفاظت اپنے آقاؤں تک پہنچانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ان کی راہ میں حائل ہونے والوں کو نشان عبرت بنایا جاتا ہے۔
کیا آپ کو یاد نہیں کہ چند ماہ قبل پشاور میں ایک گستاخ کے قاتل مرد مجاہد غازی فیصل خالد کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ مردان یونیورسٹی کے مشال خان کے قتل کے مقدمے میں پینتالیس طلبہ کے ساتھ بھلا کیا سلوک ہواَ سلمان تاثیر کے قاتل مرد مجاہد، محبِ رسولؐ ممتاز قادری کا بھلا کیا انجام ہوا؟! جبکہ اس کے برعکس مشال خان ، سلمان تاثیر ، آسیہ مسیح اور دوسرے گستاخانِ رسولؐ و دین ریاست کے ہیرو ٹھہرے۔ بھلا اب بھی ریاست کی تقدیس کا راگ الاپنے والوں کو اس ریاست کی حقیقت سمجھ نہیں آئی؟ کیا اب بھی ریاست کا بت ویسی ہی مقدس گائے کہلائے گا؟!
چھپاکر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
سن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں
یہ خاموشی کہاں تک؟ لذت فریاد پیدا کر
زمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
یہی آئین قدرت ہے، یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل میں گام زن، محبوب فطرت ہے
ہم خوب جانتے ہیں کہ دین کی نصرت کا راستہ کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ کسی چوک میں گلے پھاڑ کے نعرے ’مارنا‘ اس مصیبت کا حل ہر گز نہیں ہے ۔ نہ ہی کہیں دو چار جذباتی تقریریں کرنے سے یہ مشکل حل ہو جائے گی بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزمِ مصمم کریں جو ہمارے دین کی اہانت کرنے کی جرأت کرتے ہیں۔ چاہے اس کی خاطر ہماری جان بھی چلی جائے لیکن ہمارے بعد ہمارے دین، ہمارے نبیؐ، اور ہمارے قرآن کی ناموس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کا خیال بھی نہ آ سکے۔ لیکن یہ کام تو مردوں میں سے اٹل جوان ہی کر سکتے، یہ تو وہی کر سکتا ہے جس کا ایمان نفاق سے پاک ہو، جو اپنے ایمان میں سچا ہو !
فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ (سورۃ العنکبوت: ۳)
’’ لہٰذا اللہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سچائی سے کام لیا ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔ ‘‘







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



