دیسی لبرل ازم کا سٹیج دو دہائیاں قبل تک انگریزی روز نامے ڈان کے صفحات، ڈان ہی کے امیجز میگزین، آنٹی اگنی، اوپینئن صفحہ، انگریزی روز نامے دی نیوز اور اس کے ہفتہ وار میگزین اَس وغیرہ کے صفحات ہوتے تھے۔ پھر دیسی لبرل ازم کا برانڈ دیگر انگریزی ناموں اور ویب سائٹوں کے فروغ کے ساتھ پھیلتا گیا۔ مغربی این جی اوز اور انہی این جی اوز کے ٹرینڈ پر چلتی ہوئی دیسی این جی اوز کے ایما پر دیسی لبرل ازم اور سیکولر ازم کے فروغ کے لیے کچھ بلاگز وجود میں آنے لگے۔ سوشل میڈیا کا نیا سیلاب فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب ڈیڑھ عشرے قبل جب پاکستان کے ساحلوں سے ٹکرانا شروع ہوا تو ایک نئے طوفانِ بدتمیزی کی فضا ہموار ہو گئی۔ اردو زبان میں اس طرح کی بدتمیزی ایک آدھ جگہ اس زمانے میں ابھری اور جلد ہی اسی زمانے میں ہی یہ دھول مٹی بیٹھ گئی۔ اردو میں اس مذکورہ ’ثقافت‘ کے سوشل میڈیا پر فروغ کے لیے بھی کئی کوششیں کی گئیں؛ وکی پیڈیا کی جانب سے ایک دہائی قبل یا اس سے کچھ مہ و سال اوپر نیچے اردو کانفرنسیں، ایک کینیڈائی مشن پر لگے محسن عباس کی منعقد کردہ کانفرنسیں اور ڈان گروپ ہی کے زیر انتظام اردو کانفرنس (جس میں پیش کردہ ’سازش‘ کے متعلق ابو شامل نے اپنے بلاگ پر لکھا) معروف ہیں۔
انگریزی زبان میں البتہ یہ بے لگام وائرس پھیلتا رہا اور اس بے حد و حساب جہالت کے فروغ کا عَلَم ڈان اور دی نیوز سے بھی زیادہ ایکسپریس ٹریبیون نے سنبھال لیا، خاص کر اس کے ’بلاگز‘ کے ویب صفحے نے۔ فکری زہر کے اعتبار سے تو ڈان بلا مقابلہ شدید ترین قاتل زہر کا پھیلاؤ کرنے والا ہے لیکن ظاہری وار میں ٹریبیون ہی اول نمبر ٹھہرے گا۔ راقمہ غالباً ایکسپریس ٹریبیون اور اس کے بلاگز کی اس وقت سے قاریہ ہے جب سے یہ منصوبہ (پراجیکٹ اور سازش دونوں معنی میں) لانچ ہوا ہے۔
یوں تو اس کی زہر افشانی اور دین دشمنی کے کئی پہلو ہیں، لیکن رمضان المبارک میں ہمارا موضوع امور رمضان ہی سے متعلق ہے۔ میں جب سے ٹریبیون کو فالو کر رہی ہوں تو قریباً ہر رمضان ہی میں، میں نے اس پر کوئی نہ کوئی زہر افشانی دیکھی ہے ۔چند چیدہ چیدہ واقعات یا خبریں اور بلاگز جو فوری یاد آرہے ہیں، کچھ اس طرح ہیں:
- A man was beaten in Islamabad last week because he was eating publicly in Ramadan
- Restaurants ordered to stay closed in Ramadan
- I’m not fasting this Ramadan because I’m expecting
- I’m not fasting this Ramadan because I’m a nursing mom
وغیرہ وغیرہ۔
لیکن آج ہمارے دین کے اس اہم ستون اور اہم فریضے ’روزے‘کے بارے میں زبان درازی، اس فریضے کا استہزا اور اس مہینے اور اس کے مبارک احکام کا مذاق اڑانے کے لیے دینِ لبرل ازم و سیکولر ازم کا ایک نیا دستہ اردو زبان میں جھنڈا اٹھائے میدان میں آ نکلا ہے۔ اس (بے غیرت) بریگیڈ کا نام بی بی سی اردو ہے (یوں تو بی بی سی اپنے یوم پیدائش سے ہی اسلام کے خلاف ایک سیکولر –دراصل دین دشمن– مشنری ادارہ ہے لیکن اس کی دشمنی کا اظہار اب تک شعائر و علاماتِ دینیہ سے متعلق تھا، میری معلومات کی حد تک پہلی بار کسی بنیادی فریضے یا واجب سے متعلق معاملے پر ’زیادہ کھل کر‘ اردو زبان میں زبان درازی کی گئی ہے)۔
پچھلے ایک دو سالوں میں بی بی سی اردو نے ان گنت ایسے فیچرز، رپورٹیں اور کالم لکھے بلکہ آڈیو اور ویڈیو میں براڈ کاسٹ کیے جن کا تعلق ان امور سے ہے جن کے بارے میں کوئی بھی شریف انسان اپنی خلوت میں میاں اور بیوی جیسے رشتے میں بھی گفتگو (ضرورت کے سوا) کرنا پسند نہ کرے، یا جہاں بات کرنا لازم ہو؛ امورِ دین میں فقہی معاملات میں یا امور دنیا میں میڈیکل معاملات وغیرہ میں ۔ پھر جن میڈیکل پیچیدگیوں کے متعلق بات کی گئی ہے وہ statistics کے اعتبار سے اعشاریہ پانچ فیصد سے بھی کم ہیں اور دیگر امور عموماً میڈیکلی اور جدید طریقوں کی بجائے بڑی بوڑھیاں زیادہ بہتر آج کی ’ایڈوانسڈ‘ دنیا میں بھی ’ایڈریس‘ کر لیتی ہیں۔ بہر حال یہاں لبرل تہذیب کا دلدادہ اور محض اعتراض کرنے والا ذہن یقیناً سوال اٹھائے گا (بلکہ اٹھایا ہی گیا ہے)کہ یہ امور انسانی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں تو ان کو taboo کا درجہ کیوں دیا جائے؟ تو پہلے اس کا جواب دیکھ لیجیے:
قضائے حاجت اس ضرورت سے زیادہ اہم امر ہے جس امر سے متعلق پبلک پلیٹ فارمز پر بات ہو رہی ہے، تو کیا کل کلاں اس سارے عمل کے متعلق ویڈیوز و آڈیوز بھی پبلش کرنا لازمی ٹھہرے گا (گو کہ انگریزی و ہندی فلم انڈسٹری میں اس کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے)۔
ہر امر کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ یہ معاملات پبلک میں زیرِ بحث لانا انسانی شرافت و قدر کے مخالف و متضاد ہیں۔ امریکہ جیسے فارورڈ ملک میں بھی کچھ حدود ہیں اور امریکہ میں بھی اگر آپ بعض حدوں کو پھلانگیں تو آپ کی تادیب کی جاتی ہے۔ مثلا کلنٹن –مونیکا افئیر کے نتیجے میں کلنٹن کا مواخذہ (impeachment)، جنرل میک کرسٹل نے اوبامہ پر بعض اعتراضات اپنی اوقات سے بڑھ کر کیے تو اس سے استعفیٰ لیا گیا ، جنرل پیٹریاس نے جب راز اپنی گرل فرینڈ صحافی کو بتائے تو وہ مستعفی ہوا اور ٹرمپ کا تو دو بار مواخذہ ہوا؛ یعنی حدود چاہے انسانی ساختہ نظام ہی کیوں نہ ہوں، ان میں بھی پائی جاتی ہیں!
یہ ’امور ‘ انسانوں نے آج اکیسویں صدی میں دریافت نہیں کیے، ہزاروں سالوں سے انسانوں میں پائے جاتے ہیں اور سابقہ انسان ان سب میں نتیجے کے اعتبار سے آج کے انسان سے زیادہ کامیاب رہے ہیں اور انسانوں (روم اور پومپئی کے جانورنہیں) نے ان سب کے اجتماعی زندگی میں ذکر سے پرہیز کیا ہے اور انہیں شرافت کا مخالف جانا ہے۔
بی بی سی اردو کی حالیہ واردات رمضان المبارک کی تقدیس پر حملہ ہے۔ بی بی سی اردو نے ان خواتین کے ’حق‘ میں آواز اٹھائی ہے جو اللہ کے بنائے عورتوں سے متعلق فطری نظام کے سبب روزے نہیں رکھ سکتیں یا نماز ادا نہیں کرتیں۔
بی بی سی اور اسی طرح کے نظریات کی عورتوں (جن کے وجود سے افکار تک کچھ بھی ’عورت ‘ یعنی چھپا ہوا نہیں ہے) جنہوں نےمخصوص سروے وغیرہ اور رپورٹ کی تیاری میں مدد کی ہے اور اس خاص فیچر میں جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کا عمومی جواب تو اول الذکر تین نقاط میں مختصراً آ چکا ہے کہ اس فطری نظام سے گزرنے کے زمانے میں کیوں سب کو یہ نہ بتایا جائے کہ ہم کس حالت سے گزر رہی ہیں اور کیوں سب کے سامنے کھل کر کھایا پیا نہ جائے۔ البتہ ٹریبیون و بی بی سی کے جن اعتراضات کا ذکر نہیں ہوا یا جن پر ہم نے بات نہیں کی ان پر کچھ تبصرہ کرنے اور جواب دینے کی دائرۂ حیا میں رہتے ہوئے کوشش کرتے ہیں۔
ان کو اعتراض ہے کہ جب اسی فطری نظام کے سبب اللہ کے دین میں نماز اور روزے سے چھوٹ رکھی گئی ہے اور یہ نہایت بنیادی فقہی معاملہ ہے جس کا اکثریت کو علم ہوتا ہے (گو کہ روزے بعد میں رکھنا واجب ہے) تو کیوں نہ پبلک میں کھایا جائے، جب کوئی شخص مسافر ہو تو وہ کیوں پبلک میں نہ کھائے پیے، ریستوران کیوں بند رہیں اور غیر مسلم بھی کیوں پبلک میں نہ کھائیں پیئں؟
دراصل رمضان اللہ کے دین کے اہم فرائض میں سے بھی ہے اور شعائر میں سے بھی۔ اس لیے کسی کی کیسی ہی حاجت کیوں نہ ہو اس کا اس ماہ مقدس میں پبلک میں کھانا پینا اصولاً درست نہیں۔ آپ بھلے کتنا ہی قیمتی اور اعلیٰ لباس زیب تن کیے ہوئے ہوں لیکن اگر آپ اسلام آباد کلب یا لاہور جم خانہ کے طے کردہ لباس میں وہاں نہیں جائیں گے تو آپ کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی! اگر آپ کسی بادشاہ یعنی صدر و وزیر اعظم بلکہ کسی وزیر و مشیر ہی نہیں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں یا اس کی زیر سربراہی تقریب میں بیٹھے ہوں تو وہاں اس کے سامنے کھانے پینے کو آداب مجلس کے خلاف جانیں گے اور اگر وہ واضح اعلان کروا دے کہ ابھی کھانا منع ہے تو وہاں کھانا جرم ٹھہرے گا۔ یہ دنیا کے عام و خاص بادشاہوں کا معاملہ ہے تو اللہ جو ’اَلمَلِک‘ ہے اس کا حکم ماننا اور اس کے شعائر کی تعظیم کرنا کیوں لازم نہیں؟ شادیوں میں کھانا ’کھل‘ جانے کے بعد جو لوگ کھانے پر ہلہ بولتے ہیں معاشرے میں کتنے مطعون کیے جاتے ہیں حالانکہ اب کھانا کھانا بعد از تقریب نکاح ’جائز‘یعنی ’کھل‘ چکا ہوتا ہے۔ جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے تو ان کے لیے بھی پہلے بیان کی گئی بات میں جواب موجود ہے، مزید عرض ہے کہ یہ زمین کلمہ پڑھنے والوں کی ہے اور یہاں حکم بھی لا الٰہ الا اللہ کے مطابق چلے گا۔ یہ بھی غور کیجیے کہ کیا کوئی مسلم کسی غیر مسلم (عیسائی) کے چرچ میں جا کر اذان دے سکتا اور نماز پڑھ سکتا ہے؟ کیا آج کے فرانس میں کوئی عورت نقاب اوڑھ سکتی ہے؟ لبرل ازم و سیکولرازم کے نظریاتِ آزادئ اظہار میں ’مکمل برہنگی ‘ بھی ایک ’حق ‘ اور ’قدر ‘ ہے تو کیا اس حق کے مانگنے اور قدر کے حامل کو بی بی سی اور ٹریبیون خود اپنے دفتر میں یا یہ ادارے جن کا نمک کھاتے ہیں ان حکومتوں (برطانیہ تا امریکہ) کے اعلیٰ ایوانوں اور عدالتوں یا ملکۂ برطانیہ کے سامنے اظہار کے لیے آزاد چھوڑا جائے گا؟ یہ دوغلا معیار چہ معنی دارد؟
ان کا کہنا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ماں خود اپنے بیٹے کو اس نظام کے متعلق بتائے کہ میں اس سے گزرتی ہوں اور جس عورت سے تم بیاہے جاؤ گے وہ بھی اسی سے گزرے گی اور دنیا کی سب عورتیں اس سے گزرتی ہیں۔ پنجابی محاورہ ہے کہ خاصاں دیاں گلاں عاماں نوں نئیں دسی دے (خواص کی باتیں عوام کو نہیں بتاتے)۔ گویا ان کے مشورے کے متعلق گریڈ سولہ کے افسر کو گریڈ بائیس کے رازوں اور امور سے متعلق بریفنگ دینی چاہیے اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کو کور کمانڈرز کانفرنس میں شریک کرنا چاہیے کہ گریڈ سولہ کا افسر اور فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کبھی نہ کبھی تو اس لیول پر شاید پہنچ ہی جائے، تو پہلے ہی روز کیوں نہ سب بتا دیا جائے؟ باپ نے ایک دن کاروبار بیٹے ہی کو سپرد کرنا ہے تو پہلے ہی روز سب کاروباری راز اپنے رازدان فرزند کو کیوں نہ بتائے اور کیوں نہ ’باس چیئر ‘ پر پہلے ہی روز وارث کو بٹھا دے؟ دراصل رازوں اور معاملات کی اہمیت و تدریج اور مقام کے مطابق گفتگو و معاملہ مسلّم امر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مذکورہ اسلام دشمن ہی نہیں انسانیت دشمنوں کو ’انسانی معاشرہ‘ نہیں ’گلابی اور بھوری رنگت‘ والے حیوان کا باڑہ چاہیے جہاں کی روزِ ازل سے اقدار وہی ہیں جو یہ ’متمدن‘ آج انسانیت کو دینا چاہتے ہیں۔
ان کو اعتراض ہے کہ حاملہ خواتین یا اپنے بچوں کو دودھ پلانے والی مائیں کیوں روزہ رکھیں (حالانکہ شریعت مخصوص حالات میں چھوٹ کے مخصوص احکام یہاں بھی لاگو کر سکتی ہے)۔ یا فطری نظام سے گزرتی خواتین (جو اس زمانے میں جسمانی، ذہنی اور جذباتی مشکلات و تکالیف کا بھی اکثر شکار ہوتی ہیں) کیوں سحری و افطاری تیار کرنے کی تکلیف سے گزریں؟
دراصل یہ مشاہدہ عام ہے کہ جو مرد جس قدر دین دار اور متشرع ہوتا ہے اس کی متعلقہ خواتین (ماں، بہن، بیٹی، بہو اور خاص کر بیوی) اسی قدر زیادہ سکھی ہوتی ہیں اور ایسے مرد حضرات گھر داری کے کاموں میں، فطری نظام کے زمانے، پیدائش اولاد کے مراحل اور پرورش اولاد میں بھی اپنی خواتین خاص کر بیویوں کے ممد و معاون اور حامی و غم گسار ہوتے ہیں اور سحری و افطاری بھی اسی سب کا ایک جزو ہیں۔
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ حمل سے یا دودھ پلانے اور سحری و افطاری کی تیاری پر اعتراض کرنے والی سبھی عورتیں ’ورکنگ ویمن‘ ہیں۔ یعنی انہیں اپنی نائن ٹو فائیو جاب، بسوں اور سڑکوں پر دھکے کھانے وغیرہ جیسی جسمانی مشقتوں پر تو کوئی اعتراض، مشکل یا تکلیف اس زمانۂ خاص سے گزرتے ہوئے نہیں، لیکن اس فطری نظام سے گزرنے کے دوران یا پرورش اولاد میں سحری و افطاری کی تیاری جیسی جسمانی مشقتوں اور روزہ رکھنے پر اعتراض ہے!
دراصل ان ’مہمات‘ کا مقصد کسی بھی قسم کی صلاح و فلاح ، عورتوں کے حقوق کی حفاظت یا نام نہاد ’فیمن ازم‘نہیں بلکہ ہیجان پھیلانا، گھٹیا جذبات کی تسکین اور سب سے بڑھ کر اللہ اور اس کے دین کا مذاق اڑانا ہے۔
سوچئے یہ رمضان کے دشمن، سیکولر ہیں یا منافق؟







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



