وزارتیں اور صوبے
فتحِ کابل کے بعد جب امارتِ اسلامیہ کی مکمل حاکمیت کا مرحلہ شروع ہوا تو ابتدائی طور پر کابینہ پچیس وزراء اور گیارہ اہم اداروں (محکموں) پر تشکیل دی گئی۔ ان اداروں میں بلدیۂ کابل (میونسپلٹی) اور استغاثۂ کابل (کابل پراسیکیوشن) بھی شامل تھے۔
سرکاری نظام کو فعال بنانے کے لیے ملا صاحب نے ابتدائی کابینہ صوبہ قندھار کے مختلف محکموں کے ڈائریکٹرز میں سے منتخب کی۔ بعد ازاں انہوں نے ایک فرمان کے ذریعے ان تمام افراد کو ہدایت جاری کی کہ وہ متعلقہ وزارتوں کی ذمہ داریاں سرپرست وزراء کی حیثیت سے سنبھالیں اور اپنے فرائض انجام دیں۔
وزارتوں اور دیگر عمومی اداروں کی باگ ڈور ایک خودمختار ادارے، ’’ریاستُ الوزراء‘‘ کے سپرد تھی، جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
بعد ازاں وزارتِ عدلیہ کی کوششوں سے شوریٔ وزراء کے لیے ایک باقاعدہ قانون مرتب کیا گیا، جو امیرالمومنین کی جانب سے منظور ہوا۔ اس قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی وزراء کی تعداد میں تبدیلی کی گئی، اور امارتِ اسلامیہ کی تنظیمِ نو کے تحت ۲۱ وزارتیں اور ۸ بڑے ادارے قائم کیے گئے۔
اس قانون کی ایک شق میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ:
’’وزارتیں امارتِ اسلامیہ کے مرکزی اداروں میں شمار ہوں گی، جو اپنے سپرد کردہ امور کی انجام دہی کی پابند ہوں گی۔ یہ وزارتیں اپنی تمام سرگرمیاں شریعتِ اسلامی کے احکام، نافذہ قوانین، امارت کے فرامین، اور قانونِ وزراء کی روشنی میں سرانجام دیں گی۔‘‘
امارتِ اسلامیہ کی وزارتیں دارالحکومت کابل میں اپنی سابقہ عمارتوں ہی میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں۔ وزراء کی تقرری، تبدیلی اور معزولی کے اختیارات کے ساتھ ساتھ، وزارتوں کو محکموں کی سطح پر لانا یا کسی محکمے کو وزارت کا درجہ دینا، مختلف وزارتوں کو باہم ضم کرنا یا کسی وزارت کو ختم کرنا، یہ تمام اختیارات صرف اور صرف امیرالمومنین، ملا محمد عمر مجاہد کے پاس محفوظ تھے۔
افغانستان کے ۳۲ صوبوں میں سے صرف صوبہ بدخشان کا مرکز امارتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں نہ آ سکا تھا، جبکہ دیگر اکتیس صوبوں میں امارتِ اسلامیہ کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ گزشتہ نظام کی طرح امارتِ اسلامیہ میں بھی انتظامی تقسیم کے اعتبار سے صوبوں کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا تھا، اور جن صوبوں میں کوئی اہم اور مرکزی شہر موجود تھا، اسے زون کا درجہ دے دیا گیا۔
تمام والیان (گورنرز) اپنے اپنے صوبوں میں امارتِ اسلامیہ کے نمائندے کی حیثیت رکھتے تھے اور ہر نوع کی حکومتی پالیسی پر عمل درآمد کے پابند تھے۔ ان کی تقرری امیرالمومنین کی جانب سے کی جاتی تھی اور وہ براہِ راست انہی کے حضور جوابدہ ہوتے تھے۔
علمائے کرام کی شوریٰ
جمادی الثانیہ ۱۴۲۰ھ (مطابق ستمبر۔اکتوبر ۱۹۹۹ء) میں امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نے ایک اہم تجدیدی اقدام کے طور پر افغانستان کے ہر صوبے اور ضلع کی سطح پر علمائے کرام کی شوریٰ کے قیام کا فرمان جاری فرمایا۔ اس فرمان کے ساتھ ہی شوریٰ کے لیے ایک باقاعدہ لائحۂ عمل بھی امارتِ مقام کی جانب سے جاری کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں ایک نگران اور خودمختار حکومتی ادارے کی حیثیت حاصل ہوئی۔
یہ شورائیں ملک بھر میں تقریباً ہر ضلع کی سطح پر قائم کی گئیں۔ ایک جانب یہ حکومتی امور کی نگرانی کا کام سرانجام دیتی تھیں، جبکہ دوسری جانب عوام میں اختیارات کی تقسیم اور شمولیت کے عمل کو فروغ دیتی تھیں۔ چونکہ ہر صوبے اور ضلع کی شوریٰ میں مقامی افراد ہی کو شامل کیا جاتا تھا، اس لیے وہ نہ صرف حکومتی اہلکاروں کی مؤثر نگرانی کرتی تھیں بلکہ مقامی سطح پر رہنمائی اور اصلاح کا فریضہ بھی بخوبی سرانجام دیتی تھیں۔
ان میں شمولیت کے لیے کم از کم متوسط درجے کی تعلیم ضروری تھی، نیز رکن کا ماضی نیک نامی پر مبنی ہونا چاہیے تھا اور اس کا کسی غیر اسلامی یا امارتِ اسلامیہ کے مخالف گروہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔
ہر شوریٰ کی ساخت امیر، نائب امیر، منتظم اور ذمہ دارِ تعلقات پر مشتمل ہوتی تھی۔ ان شوراؤں کے اراکین کی تعداد کم از کم دس مقرر کی جاتی، جو ہر ماہ کم از کم ایک مرتبہ صوبائی یا ضلعی مرکز میں اجلاس منعقد کرتے، تاہم ضرورت کے پیشِ نظر اضافی نشستوں کا انعقاد بھی ممکن تھا۔
درجِ بالا شوریٰ کے بنیادی فرائض
۱۔ دعوت و اصلاح
دعوتِ دین کے فروغ کے لیے مجالس کا انعقاد، جن کے ذریعے عوام کی دینی و اخلاقی اصلاح کی جائے۔ دشمنانِ اسلام کے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دینا اور عوام کو ان سے باخبر رکھنا۔ اسی طرح جہاد اور نظامِ اسلامی کے استحکام کے لیے اجتماعی و خصوصی پروگرام ترتیب دینا، اور ان کے ذریعے عوام و خواص کی فکری رہنمائی کرنا۔
۲۔ نگرانی اور اطلاع رسانی
اس حوالے سے شوریٰ کے لائحۂ عمل میں واضح کیا گیا ہے کہ شوریٰ ہر صوبے اور ضلع میں امارتِ اسلامیہ کے ذمہ داران کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔ اگر کوئی ذمہ دار شریعت یا امارتِ اسلامیہ کے قوانین کے خلاف عمل کرتا ہوا پایا جائے تو شوریٰ اسے اپنی مجلس میں طلب کر کے اس سے باز پرس کرے گی۔
اگر متعلقہ ذمہ دار اپنے عمل کے حق میں معقول دلائل پیش نہ کر سکے تو اسے نصیحت کی جائے گی کہ وہ اس روش سے باز آ جائے۔ اور اگر وہ سزا یا معزولی کا مستحق قرار پائے تو اس بارے میں امارتِ مقام کو تحریری اور مستند اطلاع دی جائے گی، تاکہ وہ اس کی اصلاح کی کوشش کرے یا ضرورت پڑنے پر اسے عہدے سے معزول کر دے۔
یہ امر بھی ضروری ہے کہ باز پرس شوریٰ کے اراکین کی موجودگی میں کی جائے، اور محض شکایت کی بنیاد پر، یا متعلقہ ذمہ دار کی غیر موجودگی میں کوئی فیصلہ صادر نہ کیا جائے۔ مزید برآں، شوریٰ کا ہر فرد اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ از خود کسی قاضی یا ذمہ دار کو طلب کرے، بلکہ یہ اختیار شوریٰ کے امیر کو حاصل ہے، جو اراکین کے مشورے سے یہ اقدام کرے گا۔
علمائے کرام کی شوریٰ حکومتی ذمہ داران یا قاضیوں کے معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتی، الّا یہ کہ ان کے کاموں میں واضح کوتاہی یا صریح خلاف ورزی پائی جائے۔ بصورتِ دیگر ذمہ داران کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ لائحہ اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں، جبکہ شوریٰ کی ذمہ داری صرف نگرانی اور متعلقہ حکام کو اطلاع فراہم کرنے تک محدود رہے گی۔
۳۔ مشورہ
صوبائی اور ضلعی سطح پر قائم شوریٰ متعلقہ والی (گورنر) اور ضلعی منتظم (ڈپٹی کمشنر) کو مختلف امور میں مشورے فراہم کرے گی۔ اسی طرح اگر شوریٰ کسی اجلاس میں والی یا ضلعی منتظم کی شرکت ضروری سمجھے، تو متعلقہ صوبے یا ضلع کے حکومتی اہلکار اس مجلس میں شریک ہوں گے۔
شوریٰ کے لائحۂ عمل میں یہ بھی درج ہے کہ وہ عوام کے درمیان جاری تنازعات میں، فریقین کی رضا و رغبت سے صلح کروا سکتی ہے۔ تاہم اگر کوئی فریق اس فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو اسے عدالت سے رجوع کرنے کا مکمل حق حاصل ہو گا۔
علمائے کرام کی شوریٰ کے بارے میں امیرالمومنین کے فرمان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ شوریٰ حکومتی ذمہ داران کی اصلاح کی کوشش کرے گی، انہیں نصیحت کرے گی، ان میں احساسِ ذمہ داری بیدار کرے گی، اور عوام کی فکری و دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے گی۔
مفتی محمد معصوم افغانی، جو ان شوراؤں کی تشکیل میں کلیدی کردار رکھتے تھے، بیان کرتے ہیں:
’’یہ شوریٰ اپنی تشکیل اور تنظیم کے اعتبار سے پورے ملک کی سطح پر (سوائے ایک محدود علاقے کے جو امارت کے کنٹرول میں نہیں تھا) علماء اور مشائخ کی ایک وسیع جماعت تھی۔ اس میں سات سو (۷۰۰) سے زائد علما و مشائخ شامل تھے، جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اصلاح و ارشاد، حکام کی نگرانی، عوامی مسائل کے حل، متنازع فریقین کے مابین مصالحت، اور دیگر فلاحی و دینی امور میں سرگرمِ عمل تھے۔”
مزید برآں مفتی محمد معصوم افغانی فرماتے ہیں:
’’جب کسی ضلع یا صوبے کی شوریٰ کے پاس عوام کی جانب سے کسی حکومتی ذمہ دار کے خلاف شکایت پیش کی جاتی، تو اگر شوریٰ کے علماء کے نزدیک اصلاح ممکن ہوتی، وہ خود اصلاح کی کوشش کرتے۔ بصورتِ دیگر، یہ شکایت شوریٰ کے ایک نمائندے کے ذریعے مرکزی دفتر کو ارسال کی جاتی، جہاں سے اسے امیرالمومنین تک پہنچایا جاتا۔
اس معاملے کی تحقیق کے لیے اکثر شوریٰ کے مرکزی دفتر کے ذمہ دار یا کسی متعلقہ ادارے کو ہدایت دی جاتی کہ وہ اس کی مکمل چھان بین کرے۔ جب الزامات ثابت ہو جاتے تو امیرالمومنین مناسب فیصلہ صادر فرماتے، مثلاً متعلقہ ذمہ دار کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا، اسے نئی ذمہ داری سونپنا یا ملازمت سے برطرف کر دینا۔ جرم کی نوعیت کے مطابق اسے سزا بھی دی جاتی تھی۔
ان اقدامات کے نتیجے میں تقریباً ایک سال کے اندر چالیس سے زائد مختلف نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں آئیں۔‘‘
امارتِ اسلامیہ کے تجدیدی کارنامے
افغانستان پر چند سالہ حکمرانی کے دوران، امارتِ اسلامیہ نے اگرچہ مسلسل جنگوں، داخلی و خارجی مخالفت، پابندیوں، اقتصادی مشکلات اور دیگر بے شمار چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن اپنی عوام کی امیدوں پر پورا اُترنے اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب رہی۔ یوں اس نے تمام حکومتی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
امارتِ اسلامیہ کی مختلف النوع دینی، اصلاحی، ترقیاتی، سماجی اور دیگر خدمات کو تفصیل سے بیان کرنے کے لیے ایک مکمل کتاب درکار ہو گی، چہ جائیکہ انہیں ایک ہی باب میں سمیٹ دیا جائے۔ تاہم، ملامحمد عمر مجاہد کی سوانح حیات کے تناظر میں بحیثیت امیر، ان کے تاریخی کارناموں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جاتی ہے۔
نفاذِ شریعت
امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں امارتِ اسلامیہ کا سب سے عظیم، تاریخی اور قابلِ فخر کارنامہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر شریعتِ اسلامی کا نفاذ تھا۔ اس سلسلے میں امارتِ اسلامیہ کے عملی اقدامات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
- اسلامی حکومت کے قیام اور قرآن و سنت کی بالادستی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔
- سیاسی قیادت اہلِ ایمان اور صالح افراد کے سپرد کی گئی، جبکہ بدکار، لبرل، کمیونسٹ اور کفار نواز عناصر کو قیادت سے الگ کیا گیا۔
- عدالتی نظام کو مکمل طور پر اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالا گیا۔
- حدودِ اللہ اور قصاص کا عملی نفاذ کیا گیا۔
- امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے نظام کو فعال اور مؤثر بنایا گیا۔
- چوری، قتل، رہزنی، بدامنی، افراتفری اور ظلم و ستم کا خاتمہ کیا گیا۔
- سینما، فحش فلموں، موسیقی اور دیگر منکرات کا خاتمہ کیا گیا۔
- سود، ذخیرہ اندوزی، ناجائز مالی معاملات، نقدی جرمانوں اور مالی بے ضابطگیوں کا انسداد کیا گیا۔
- بدعنوانی، کرپشن، رشوت، غصب، خردبرد اور بیت المال کے ناجائز استعمال کا خاتمہ کیا گیا۔
- حکمرانوں اور سرکاری عہدیداروں کی مراعات یافتہ و پرتعیش زندگی، فضول خرچی اور اعزازی القابات کا خاتمہ کیا گیا۔
- سرکاری و تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرتی زندگی کے دیگر شعبوں میں مرد و زن کے ناجائز اختلاط کا سدباب کیا گیا۔
- شرعی حجاب کے فروغ اور نفاذ کو یقینی بنایا گیا۔نوروز اور دیگر جاہلی رسوم، خرافات اور بدعات کا خاتمہ کیا گیا۔
- چرس، بھنگ اور دیگر نشہ آور اشیاء پر پابندی عائد کی گئی، جبکہ امارتی اہلکاروں پر سگریٹ نوشی بھی ممنوع قرار دی گئی۔
- اسلامی وضع قطع، داڑھی، پگڑی اور مقامی لباس کے فروغ کو یقینی بنایا گیا۔
- خواتین کے اسلامی حقوق کی بحالی کے لیے کوششیں کی گئیں۔
- مدارس اور مساجد کی خدمت کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں خصوصاً وزارتوں میں مساجد کا قیام عمل میں لایا گیا۔
- قومی، لسانی، نسلی اور علاقائی جاہلانہ تعصبات کی نفی اور تردید کی گئی۔
- اہلِ ذمہ کے تمام حقوق کو شرعی اصولوں کے مطابق محفوظ رکھا گیا۔
- اسی نوعیت کے دیگر اصلاحی اور انتظامی اقدامات بھی کیے گئے۔
اسلامی عدالتی نظام کا قیام
حکومتِ اسلامی کا ایک اہم رکن، قضاء اور شرعی عدالتیں ہیں، جو عدل و مساوات کی تطبیق اور حق حق دار کو سونپنے کے ذمہ دار ہیں، ملا محمد عمر مجاہد قضائی امور کے جائزے اور عدالتی نظام کے نفاذ پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔
ملا صاحب نے قندھار کی فتح کے بعد روس کے خلاف جہاد کے دور کے ایک جری اور نامور قاضی، مولوی سید محمد (جو مولوی پاسنی صاحب کے نام سے معروف تھے) کو قندھار کی عدالتِ مرافعہ (Appellate / High Courts) کا سربراہ مقرر کیا۔
موصوف مولوی صاحب اپنی سختی اور دو ٹوک فیصلوں کی وجہ سے پہلے ہی خاص شہرت رکھتے تھے۔ ان کے منصبِ قضا سنبھالنے کے بعد عدالتی نظام ایک بار پھر اپنے وقار اور حقیقی شان و شوکت کی طرف لوٹ آیا۔
مولوی شہاب الدین دلاور صاحب، جو ساڑھے تین سال تک قندھار کی عدالتِ تمییز (Supreme Court / Apex Court) (سپریم کورٹ/اعلیٰ عدالت) کے سربراہ رہے، بیان کرتے ہیں کہ ملا صاحب نے قندھار صوبے میں خصوصی عدالتِ تمییز کے حوالے سے مجھ سے فرمایا:
’’میں نے جنوبِ مغرب زون کے نو صوبوں کو اس عدالت سے منسلک کیا ہے، کیونکہ امارت کے اکثر عسکری رہنماؤں کا تعلق انہی صوبوں سے ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ اس عدالت کے تمام امور میرے براہِ راست مشاہدے میں رہیں، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عسکری رہنماؤں کے دباؤ یا ان کی رعایت کے باعث کسی کا حق متاثر ہو۔‘‘
دلاور صاحب بیان کرتے ہیں کہ ملا صاحب منصبِ قضا کے بارے میں اسی بلند مقام اور عظمت کے قائل تھے، جیسا کہ شریعت نے اسے عطا کیا ہے۔ وہ امورِ قضا میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتے تھے۔ ساڑھے تین سال کے عرصے میں مجھے یاد نہیں کہ ملا صاحب نے قضائی معاملات میں صراحتاً، اشارۃً یا دلالۃً کسی نوع کی مداخلت کی ہو، نہ کسی کے حق میں سفارش کی اور نہ ہی کسی فیصلے میں رد و بدل کی بات کی۔
دلاور صاحب اس ضمن میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں:
’’عبیداللہ نامی ایک طالب، جو محکمۂ امن ہیڈکوارٹر قندھار کا اہلکار تھا، ایک شخص کے قتل کے جرم میں ملوث پایا گیا۔ یہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا اور صرف دو ہفتوں کے اندر ابتدائی عدالت (ٹرائل کورٹ) اور عدالتِ مرافعہ (ہائی کورٹ) نے قاتل پر حدِ قصاص جاری کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔
بعد ازاں یہ مقدمہ عدالتِ تمییز (سپریم کورٹ) میں پیش ہوا۔ ہم نے جب اس کی مکمل تحقیق کی تو معاملہ وہی نکلا جو نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں بیان ہوا تھا۔ اس دوران قاتل کے بعض رشتہ دار، جن میں امارت کے اعلیٰ عہدیداران بھی شامل تھے، اس کوشش میں تھے کہ کسی نہ کسی طرح قصاص میں تاخیر کی جائے تاکہ مقتول کے ورثاء کو معافی پر آمادہ کیا جا سکے۔
جب ہم نے قصاص کے نفاذ کے لیے حتمی فیصلہ ملا صاحب کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے کسی بھی سفارش کو قبول نہ کیا اور حکمِ قصاص کی توثیق کرتے ہوئے اسے برقرار رکھا۔ اس کے بعد ریڈیو کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ اگلے دن سہ پہر چار بجے فلاں طالب کو قصاصاً قتل کیا جائے گا۔
اس موقع پر قاتل کے رشتہ داروں اور سفارشیوں نے قصاص کو مؤخر کرانے کے لیے ایک اور عذر پیش کیا کہ قاتل پر لوگوں کے قرض ہیں اور متعدد افراد اس سے اپنے مطالبات کا دعویٰ رکھتے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے ان قرضوں کی ادائیگی کی جائے۔ ملا صاحب نے اس معاملے پر مجھے طلب کیا۔ جب میں حاضر ہوا تو انہوں نے پوری صورتِ حال بیان کی۔ میں نے عرض کیا کہ اس مسئلے میں علمائے کرام سے رہنمائی لی جائے کہ آیا قرضوں یا اس نوع کے دیگر امور کی بنا پر قصاص کو مؤخر کیا جا سکتا ہے؟
علمائے کرام نے اس بارے میں واضح فتویٰ دیا کہ ایسے معاملات قصاص کے نفاذ میں مانع نہیں بن سکتے۔ اس کے بعد ملا صاحب نے حکم فرمایا کہ قصاص نافذ کیا جائے۔ چنانچہ اگلے روز جب قصاص کے لیے لوگوں کو بلایا گیا تو کثیر تعداد میں لوگ جمع ہو گئے تاکہ اس شرعی حکم کا عملی نفاذ دیکھ سکیں۔
اسی اثنا میں جب مقتول کے ورثاء نے امارتِ اسلامیہ کی عدالت کا عدل و انصاف اپنی آنکھوں سے دیکھا اور قاتل کو قصاص کے لیے ان کے حوالے کیا گیا تو عین آخری مرحلے پر انہوں نے اسے معاف کر دیا۔ یہ منظر حاضرین کے لیے نہایت پُراثر، جذباتی اور سبق آموز ثابت ہوا۔‘‘
امارتِ اسلامیہ کی عدالتوں نے شرعی احکام کے نفاذ کے ذریعے اس امر کو یقینی بنایا کہ حقوق اپنے مستحقین تک پہنچیں، اور حدود و قصاص کے عملی اطلاق کے ذریعے بدامنی اور انتشار سے دوچار افغانستان میں مثالی امن و استحکام قائم کیا گیا۔
امارتِ اسلامیہ کے قیام کے دوران جاری کیے گئے قصاص کے واقعات کی تعداد غالباً سو سے متجاوز نہ تھی، مگر ان محدود شرعی اقدامات میں اللہ تعالیٰ نے ایسی تاثیر رکھی تھی کہ ان کی برکت سے لاکھوں انسانوں کی جان، مال اور عزت و آبرو محفوظ ہو گئی۔ امارتِ اسلامیہ کے عہد میں جس طرح حدِ زنا، حدِ سرقہ، رجم اور دیگر حدود نافذ کی گئیں، اسی طرح اُن قاضیوں کو بھی عوام کے بھرے مجمعوں میں کوڑے لگائے گئے جو قضائی معاملات میں خیانت یا رشوت ستانی کے مرتکب پائے گئے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



