سری لنکا کا امریکی جنگی طیاروں کو زمینی رسائی دینے سے انکار |
غیرت زدہ تو ڈوب گیا ایک ہی بوند میں
بے غیرتوں کو کوئی سمندر نہیں ملا
سری لنکن صدر انُورا کمارا ڈسانائیکے نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ 26 فروری کو، جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، امریکہ نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنے میزائلوں سے مسلح جنگی طیاروں میں سے دو اس جنوبی ایشیائی ملک کے جنوب میں ایک شہری ہوائی اڈے پر تعینات کرنا چاہتا تھا۔
صدر ڈسانائیکے نے کولمبو میں ملکی پارلیمان کو بتایا کہ امریکی محکمہ دفاع جبوتی میں ایک ایئر بیس سے نکال کر ایسے دو امریکی جنگی طیارے سری لنکا کے شہری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے متالا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر تعینات کرنا چاہتا تھا۔ سری لنکا نے ان جنگی طیاروں کو اپنے ہاں زمینی رسائی دینے یا ان کی اپنی سرزمین پر تعیناتی کی اجازت دینے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ سری لنکا اپنی غیر جانبداری قائم رکھنا چاہتا تھا۔ امریکی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی تھی کہ یہ ملک نہیں چاہتا تھا کہ اس کی سرزمین کو کسی ایسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، جن کے نتیجے میں تنازعے کے فریقین میں سے کسی ایک کو بھی کوئی فائدہ یا نقصان ہو۔ بحر ہند میں واقع یہ جزیرہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے نہ چاہتے ہوئے بھی اس وقت کسی حد تک متاثر ہوا جب اسی مہینے ایک امریکی آبدوز نے ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو سری لنکا کے ساحلوں کے پاس تار پیڈو سے تباہ کر دیا تھا۔ عام طور پر حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے جتنے بھی متنازع فیصلے کیے گئے ان کے جواز میں پاکستان کی معاشی مجبوریوں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور یہاں ایک ایسا ملک امریکہ کو انکار کر رہا ہے جس کی معاشی حالت پاکستان سے قدرے زیادہ خراب رہی ہے۔ سری لنکا نے 2022ء میں ڈیفالٹ کیا جبکہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے ڈیفالٹ سے بچتا آ رہا ہے۔ دونوں ممالک جڑواں خسارے (بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ) کی وجہ سے سنگین معاشی چیلنجز سے دوچار ہیں۔ سری لنکا اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کے بعد 2022ء میں 51 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں پر سود ادا نہ کر سکا تھا اور ڈیفالٹ کر گیا۔ پاکستان کی طرح سری لنکا کو بھی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، کرنسی کی قدر میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن ان تمام زمینی حقائق اور مشکلات کے باوجود سری لنکا جیسی کمزور ریاست نے قومی مفاد کے منافی فیصلے سے خود کو بچا لیا۔
اسرائیل کو تیل فراہم کرنے والی بی ٹی سی پائپ لائن خطرے میں |
وروزان گیغامیان کے مطابق، ترکی اور آذربائیجان اس وقت ایک ایسے منظر نامے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جس میں ایران کے خلاف جنگ پھیلنے کی صورت میں نہ صرف خلیج فارس کے ممالک کے توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بلکہ باکو، تبلیسی، سیہان آئل پائپ لائن بھی خطرے کی زد میں ہو گی۔ یہ پائپ لائن اسرائیل کو تیل فراہم کرتی ہے اور آذربائیجان اور ترکی کی علاقائی حکمت عملی کے لیے اہم ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ ترکی حال ہی میں امریکہ ایران کشیدگی کو کم کرنے اور دشمنی ختم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ دوسری جانب آذربائیجان اس حقیقت کو چھپانے کے لیے سرکاری اعداد و شمار کو غلط ثابت کر رہا ہے کہ وہ اسرائیلی تیل کا تقریباً 45 فیصد سپلائی کرتا ہے۔ اسرائیل کو آذربائیجان کے تیل کی برآمدات کے لیے پانچ اہم مقامات میں سے ایک کے طور پر درج کیا گیا ہے (تقریباً 5-10% تمام برآمدات) تاہم، 2025ء میں، ’’اسرائیل لائن آئٹم ‘‘شائع شدہ برآمدی ڈیٹا سے غائب ہو گیا تھا۔ اسرائیل کو سپلائی کیے جانے والے تیل کے اعداد و شمار ڈیٹا میں غائب ہیں، حالانکہ 2022ء کے بعد سے اس کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل میں آنے والے تیل کو اب ترکی کو برآمد ہونے والے تیل کے طور پر ’’ری لیبل‘‘ کیا جاتا ہے۔ آذربائیجانی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ سیہان کی بندرگاہ سے آذربائیجانی تیل کی منزل کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتے۔ مبصرین کے نزدیک یہ شماریاتی دھوکہ معلومات اور پروپیگنڈے کے مقاصد کے لیے تو کام کر سکتا ہے، لیکن جنگی نقطہ نگاہ سے بہرحال یہ پائپ لائن خطرے میں رہے گی۔
فلسطینیوں کو مغربی کنارے سے اردن دھکیلنے کا منصوبہ |
الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں محمد منصور لکھتے ہیں کہ اسرائیل کے حالیہ زمین رجسٹری قوانین اور مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں فوجی کارروائیوں سے فلسطینیوں کی ’’خاموش منتقلی‘‘ (silent transfer) کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ اقدامات دراصل اردن کو فلسطینیوں کا ’’متبادل وطن‘‘ بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اردن میں یہ بات کبھی سازشی نظریہ سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے کے بڑے علاقوں کو ’’اسرائیلی ریاست کی زمین‘‘ قرار دے کر رجسٹر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ کام اب فوجی انتظامیہ کے بجائے براہ راست وزارتِ انصاف کے ذریعے ہو گا۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بزالیل سموٹریچ نے اسے ’’بستیوں کا انقلاب‘‘ قرار دیا ہے۔ فوجی آپریشن ’’آئرن وال‘‘ کے تحت جنین اور طولکرم کے پناہ گزین کیمپوں کو کچلا جا رہا ہے۔ ایک نئے اسرائیلی فوجی بریگیڈ کا نام ’’گیلیڈ بریگیڈ‘‘ رکھا گیا ہے، جو اردن کے قریب علاقے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مغربی کنارے میں زندگی ناقابلِ برداشت بنا کر فلسطینیوں کو آہستہ آہستہ اردن کی طرف دھکیلنا ہے۔ اردن اور عثمانی دور کے پرانے رجسٹری ریکارڈز کو مٹا کر فلسطینی جائیدادوں کے قانونی تحفظ کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اردن کے سابق نائب وزیر اعظم ممدوح العبادی نے خبردار کیا کہ سموٹریچ کا نظریہ اب صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ اسرائیلی ریاست کا سرکاری عقیدہ بن چکا ہے۔ اگر ہم نہ جاگے تو حکمتِ عملی ’ہم یا وہ‘ کی ہو گی۔ کوئی تیسرا راستہ نہیں۔ ریٹائرڈ میجر جنرل مامون ابو نوار نے کہا کہ یہ ’’غیر اعلانیہ جنگ‘‘ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اردن، وادیٔ اردن (Jordan Valley) کو فوجی زون قرار دے تاکہ نقلِ مکانی روکی جا سکے۔ ان کے بقول اردن کی ’’دوسری فوج‘‘ قبائل اور خاندان ہیں جو اس صورتحال کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اردن کے ماہرین اور سابق حکام اب سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 35 سال بعد لازمی فوجی بھرتی (Flag Service) دوبارہ شروع کی جائے۔ تمام شہریوں کو ہتھیار اٹھانے کی تربیت دی جائے۔ بچوں کو عبرانی زبان سکھائی جائے تاکہ ’’دشمن کی زبان جاننے والا ان کے شر سے محفوظ رہے‘‘۔ کنگ حسین برج (اللنبی برج) پر سخت نگرانی اور اگر ضرورت پڑی تو فوری بند کر دیا جائے۔ الجزیرہ کے مصنف محمد منصور نے اس رپورٹ میں صرف اردنی حکومت کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے باتیں لکھیں جو اگرچہ تکنیکی اعتبار سے درست تو معلوم ہوتی ہیں لیکن اس میں اردنی ریاست کے مفاد کو اس حد تک اہمیت دینا کہ فلسطینیوں کی جانب سے اردن میں داخلے کے امکانات ہی معدوم ہو جائیں تو ایسے میں اردنی حکومت کا کردار بھی اسرائیل کی مانند ظالمانہ ہو گا۔ مکرر عرض ہے کہ فلسطینیوں کی مغربی کنارے سے بے دخلی اسرائیل کا ظالمانہ و غاصبانہ منصوبہ ہے مگر اردن کا فلسطینیوں کے لیے اردن میں داخلے کے راستے محدود کرنا اتنا ہی مکروہ فعل ہو گا اگرچہ وہ اسے اسرائیل سے حفاظت کا لیبل لگائے ۔
بھارت نے میزائل سسٹم اور طیاروں کی خریداری کے لیے 25 ارب ڈالر کی منظوری دے دی |
بھارت نے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ طیاروں، روسی ساختہ دفاعی میزائل سسٹم ایس400 اور بغیر پائلٹ کے حملے کرنے والے طیاروں کی خریداری کے لیے 25 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔
بھارت کی وزارت دفاع کے مطابق دفاعی خریداری کے لیے 25 ارب ڈالر کی اس منظوری میں ٹینک کا گولا بارود، گن سسٹمز اور فوج کے لیے فضائی نگرانی کا نظام، بھارتی فضائیہ کے زیراستعمال سوکھوئی30 کی صلاحیت بڑھانے اور کوسٹ گارڈ کے لیے ہوور کرافٹ کی خریداری شامل ہے۔ اس کے علاوہ روس کی کمپنی جے ایس سی روسوبورون سے ٹونگوسکا فضائی دفاعی نظام کے حصول کے لیے 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے الگ معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ بھارت نے مجموعی طور پر 71 ارب ڈالر مالیت کے 55 منصوبوں کی منظوری دی ہے اور 31 مارچ کو ختم ہونے والی مالی سال کے دوران مزید 2.28 ٹریلین بھارتی روپے کی مالیت کے دیگر 503 معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ہیں اور یہ اعداد و شمار ایک مالی سال کے دوران اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
بھارت نے گزشتہ ماہ اپنی فضائیہ کے لیے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں اور بحریہ کے لیے بوئنگ پی81 کی خریداری کے لیے 40 ارب ڈالر کی رقم کی منظوری دے دی تھی۔ اسٹاک ہام انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی دستاویزات کے مطابق بھارت دفاع کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے اور سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک میں یوکرین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ یوکرین جنگ سے قبل پہلے نمبر پر تھا۔ بھارت حالیہ برسوں میں بیرونی شراکت داروں کے ساتھ اور اپنے طور پر بندوقوں اور ڈرونز سے لے کر جنگی طیاروں اور آبدوزوں تک مقامی سطح پر تیار کرنے پر زور دے رہا ہے۔ 2026-27ء کے لیے مختص کل دفاعی بجٹ86 بلین ڈالر ہے، جو دفاع کے لیے بڑے پیمانے پر عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے بیشتر دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے میں بھارت کے بڑھتے دفاعی بجٹ کا اصل سبب چین ہے ۔ جبکہ پاکستان کو بھارتی حکومت ایک manageable سکیورٹی مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے۔ لیکن پھر بھی اس بات کے امکان موجود ہیں کہ بھارت میں کسی حملے کے سبب پاکستان بھارتی سرکار کی نظر میں ترجیحی مسئلہ بن جائے۔
کراچی سے خواتین کے قیمتی ملبوسات تیار کرنے والے کارخانے کی کابل منتقلی |
افغان نیوز ایجنسی پژواک کی رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ کابل میں خواتین کے قیمتی ملبوسات کی ایک فیکٹری میں درجنوں ایسے افراد کام کرتے ہیں جو حال ہی میں پاکستان سے اپنے ملک واپس آئے ہیں۔ اس فیکٹری نے، جو پہلے کراچی میں آپریشنل تھی، اب اپنا مکمل سیٹ اپ کابل منتقل کر دیا ہے۔ فیکٹری کے انچارچ کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ کراچی میں اس شعبے سے وابستہ افغان تاجر مستقبل قریب میں افغانستان واپس آ جائیں گے اور یہاں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھیں گے۔
یہ بھی واضح رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان سے بڑی تعداد میں کارخانے، فیکٹریاں اور ٹیکسٹائل ملز بند بھی ہوئی ہیں اور بڑی تعداد میں بنگلہ دیش شفٹ ہوئی ہیں۔ بنیادی وجہ بجلی و گیس کی بڑھتی قیمتیں، اور سہولیات کا فقدان ہے جس نے پیداواری لاگت کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ مصنوعات نہ ہی ملکی سطح پر مقابلہ کر سکتی ہیں نہ ہی عالمی منڈی میں۔ ماہر معاشیات قیصر بنگالی اس صورتحال کی ایک توجیح یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ پاکستان میں فوجی کمپنیوں کو جو مواقع میسر ہیں اس کے سبب عام سویلین صنعتکاروں کے لیے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کر سکیں اور یہ حال ہر اس شعبے کا ہے جہاں فوج کی تجارتی کمپنیاں مقابلے پر موجود ہیں۔ پاکستان میں مقامی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے لیے ان مسائل کے ساتھ ایک اور سنگین مسئلہ بھتہ خور گروہوں کا بھی ہے جن کے متعلق اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان کی سرپرستی خفیہ اداروں کی جانب سے کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ ویسے تو سارا سال ہی چلتا ہے لیکن الیکشن سے قبل اس میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے ۔ ایک طرف خفیہ ادارے الیکشن کو ’مینج‘ کرنے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے سیاستدانوں ، صحافیوں اور میڈیا لابنگ پر بے تحاشا پیسہ خرچ کرتے ہیں ۔ ان مقاصد کے لیے فنڈز جنریٹ کرنے کے لیے جہاں اور دوسرے غیر قانونی ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں وہیں ایک اہم ذریعہ یہ بھتہ خور کرمنلز بھی ہیں ۔ کراچی کی بلدیہ فیکٹری کا واقعہ تو سبھی کو معلوم ہے جس میں بھتہ نہ دینے کی پاداش میں فیکٹری کو جلایا گیا۔ اس سانحے میں ڈھائی سو کے قریب جانیں ضائع ہوئیں جو اس فیکٹری کے عام ورکر تھے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں کاروبار کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے یہ پاکستان اور خلیجی ممالک میں موجود سرمایہ کاروں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں اور امارت اسلامیہ افغانستان کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
یہودیوں کی حفاظت کے لیے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز |
اسرائیل کے ایک سیاستدان کی جانب سے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ تجویز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ میزائل حملوں کے خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیاسی شخصیت اوری اسٹینر نے تجویز پیش کی کہ یونان کے تقریباً 40 غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب یہ خیال پہلی بار سامنے آیا تو اسرائیلی عوامی گفتگو میں اس کا بڑے پیمانے پر مذاق اڑایا گیا۔ بہت سے مبصرین اور میڈیا آؤٹ لیٹس نے اس تجویز کو ’’غیر حقیقی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاجسٹک، سیاسی اور مالیاتی رکاوٹیں بہت زیادہ ہوں گی۔ خود مختاری، یونان اور یورپی یونین کے ردعمل، اور جنگ کے دوران بڑی شہری آبادیوں کو بیرون ملک منتقل کرنے کے عمل کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔ کئی سالوں تک یہ خیال اسرائیلی اسٹریٹجک سوچ میں حاشیے پر رہا ہے۔ تاہم، 2023ء کے اواخر سے علاقائی سلامتی کا منظر نامہ ڈرامائی طور پر بدل گیا ہے، جس نے اس تصور کو دوبارہ بحث میں لایا ہے۔ تازہ کشیدگی نے ان خدشات کو زندہ کر دیا ہے کہ اسرائیل کی شہری آبادی غیر معمولی پیمانے پر مسلسل میزائل حملوں کی زد میں ہے۔ جنگ نے پہلے ہی اسرائیل کے اندر بڑے معاشرتی اور آبادیاتی نتائج پیدا کیے ہیں۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ اسرائیلی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ سٹینر کے جزیرے کی تجویز کے حامیوں کا استدلال ہے کہ اس تصور کو ایک مستقل نقل مکانی کے منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہنگامی صورت حال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، ایک قسم کا سویلین بیک اپ سسٹم جو فوجی دفاعی میکانزم کی تکمیل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
پاکستان کس طرح بیرون ملک اپنا امیج بدلنے کی کوشش کر رہا ہے؟ |
نیویارک ٹائمز کے لیے الیان پیلٹیئر ( Elian Peltier ) اور ضیاء الرحمان نے ایک مضمون میں لکھا ہے پاکستان کی حکومت نے بیرون ملک اپنے امیج کو نئے سرے سے تشکیل دینے کے لیے ایک بڑی مہم کا آغاز کیا ہے اور یہ کوشش اب افغانستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع سے نمٹنے کے طریقہ کار میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ یہ میڈیائی جارحیت (media offensive) پاکستان کی اس نئی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد خود کو مغرب (بشمول صدر ٹرمپ) کے لیے ایک اہم شراکت دار اور خطے میں ایک سفارتی قوت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان کے سکیورٹی محکموں کے نمائندوں نے صحافیوں کو ریاست کے حامی یا دوستانہ انگریزی زبان کے نیوز آؤٹ لیٹس یا چینلز شروع کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ یہ معلومات اُن حکام اور صحافیوں کے مطابق ہیں جن سے ان منصوبوں کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔ اکتوبر میں پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نے اپنے انگلش چینل کو بھی نئے سرے سے پاکستان ٹی وی کے نام سے لانچ کیا۔ اس کا ایک ڈیجیٹل شعبہ بھی قائم کیا گیا جس کا مقصد غیرملکی پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنا اور بیرون ملک پاکستان کے بیانیے کو فروغ دینا ہے۔ ان نئے میڈیائی آؤٹ لیٹس کے دو اہم اہداف رہے ہیں، انڈیا اور پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان حکومت۔ ان آؤٹ لیٹس کے صحافی پاکستان کے روایتی حریف انڈیا پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور طالبان کے خلاف فوجی مہم کو اُن الفاظ میں بیان کرتے ہیں جو زیادہ تر پاکستانی فوج کے بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ان دعووں کو تقویت دینا کہ تمام حملوں میں افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، باوجود اس کے کہ شواہد اس کے برعکس تھے۔ انگریزی کے نیوز چینلز لانچ کرنے کی اس کوشش میں شامل ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ یہ اقدام گزشتہ مئی میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی فوجی جھڑپ کے بعد شروع کیا گیا جب سوشل میڈیا پر انڈیا نواز مواد کی بھرمار سے پاکستان ’مغلوب‘ ہو گیا تھا۔ گزشتہ برس تنازع کے دوران انڈین اور پاکستانی، دونوں ملکوں کے میڈیا نے غلط خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے میڈیا ایگزیکٹیوز کی ’حوصلہ افزائی اور ان سے درخواست‘ کی کہ وہ ان بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے انگریزی چینلز شروع کریں جس کے بدلے میں جزوی طور پر انہیں ٹیکس چھوٹ فراہم کی گئی۔ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اپیل حب الوطنی کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان چینلز کو کتنی فنڈنگ ملی ہے لیکن یہ ضرور کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی انگریزی چینل ریاستی تعاون کے بغیر جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ یہ چینلز پاکستان کی وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انڈیا سے مختصر جنگ کے بعد سے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کیے ہیں جو اسے اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کہتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے کرپٹو کے ذریعے صدر ٹرمپ کے رفقاء کو اور معدنی سودوں کے ذریعے ان کی انتظامیہ کو مائل کیا ہے۔
اپنی سفارت کاری کو تقویت دینے کے لیے پاکستان اُن کامیاب ریاستوں کے زیرِاثر چینلز کی نقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اپنے ممالک کے پیغامات کو پھیلاتے ہیں اور بیرون ملک ان کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں جیسے ترکی کا ٹی آر ٹی یا قطر کا الجزیرہ۔
ایک آزاد تحقیقی ادارے ’گیلپ پاکستان‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے کہا کہ ’حکومت کا خیال ہے کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ٹیلی ویژن چینلز کو فنڈ دے سکتی ہے جنہیں وہ آسان ابلاغ کے لیے ترجمان کے طور پر استعمال کرے گی‘۔ تین پاکستانی صحافیوں نے بتایا کہ ان سے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے رابطہ کیا تھا جسے ریاست کا ایک اہم رابطہ کار سمجھا جاتا ہے تاکہ ان منصوبوں میں سے ایک شروع کیا جا سکے۔ ان نئے اداروں کو اُسی معاملے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے ملک کی معروف ایڈیٹرز کی تنظیم نے پاکستانی میڈیا پر حکومت کا ’مکمل کنٹرول‘ قرار دیا ہے۔ رپورٹرز اور انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کو بڑھتی ہوئی سنسرشپ اور مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے بشمول بینک اکاؤنٹس کا منجمد ہونا اور حکومتی اشتہارات کی معطلی، جبری برطرفی، گرفتاریاں اور قید۔ کئی صحافیوں کو ’غلط اور جعلی معلومات‘ کو جرم قرار دینے والے قانون کے تحت گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ملک کا سب سے مشہور اخبار ’ڈان‘ اس وقت ایک مالی بحران کا شکار ہے جب حکومت نے اشتہارات کی آمدنی روک دی۔ اخبار کے مطابق اس کی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر ہے۔
پاکستان ریلوے کی حالت زار ، آخر مسئلہ کہاں ہے؟ |
15 مارچ، کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس نوشہرو فیروز میں ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے سے متعلق سامنے آنے والی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرین کی تقریباً 60 فیصد بوگیوں کی بریکیں کام نہیں کر رہی تھیں۔ اہم بات یہ ہے کہ روہڑی سٹیشن پر ہونے والی انسپکشن کے دوران ہی یہ بات علم میں آ گئی تھی کہ ٹرین کی 18 میں سے 10بوگیاں ناقص حالت میں ہیں، جن میں نو بغیر بریک کے چل رہی ہیں۔ اس کے باوجود ٹرین کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دے کر سینکڑوں مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا۔ مینٹیننس نقائص کے باوجود ٹرین کو سفر کی اجازت دینا اور حادثے میں ایک شخص کا جاں بحق ہونا، یہ واقعہ پاکستان ریلوے کے انتظامی نظام میں موجود خامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور یہ کوئی پہلا حادثہ بھی نہیں تھا ۔ ذیل میں چند بڑے حادثات کی فہرست ملاحظہ فرمائیں:
- 1953ء جھم پیرکے قریب ٹرین حادثے میں 200 افراد جاں بحق ہوئے۔
- 1954ء میں جنگ شاہی کے قریب ٹرین حادثے میں 60 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔
- 29 ستمبر 1957ء گمبر ٹرین حادثے میں 300 افراد ہلاک، 150 زخمی ہوئے۔
- 22 اکتوبر 1969ء کو لیاقت پور کے قریب ٹرین حادثے میں 80 افراد جان سے گئے۔
- 22 اکتوبر 1987ء مورو (سندھ) کے قریب ٹرین بس سے ٹکرائی 28 افراد ہلاک، 60 زخمی ہوئے۔
- 4 جنوری 1990ء کو پنوں عاقل کے قریب سانگی میں ٹرین حادثے میں 307 افراد جان سے گئے۔
- 8 جون 1991ء مسافر ٹرین مال گاڑی سے ٹکرائی، کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے ۔
- 16 مارچ 2002ءشیخوپورہ کے قریب لاہور فیصل آباد ٹرین پٹری سے اترنے کے سبب حادثے میں 7 ہلاک، 15 زخمی ہوئے۔
- 26 ستمبر 2002ء سبی کے قریب کوئٹہ ایکسپریس پٹری سے اتری (پل گر گیا) 7 ہلاک، 57 زخمی ہوئے۔
- 20 ستمبر 2003ء کو ملکوال (منڈی بہاؤالدین) کے قریب ٹرین بس سے ٹکرائی، 28 ہلاک، 10 زخمی ہوئے۔
- 13 جولائی 2005ء کو گھوٹکی کے قریب تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 120 افراد جاں بحق اور 1000 زخمی ہوئے۔
- 19 دسمبر 2007ء کو مہراب پور میں ٹرین پٹری سے اترنے کے سبب 50 ہلاک، 200 زخمی ہوئے۔
- جولائی 2013ء میں خان پور کے قریب ٹرین رکشے سے ٹکرا گئی، 14 افراد جان سے گئے۔
- 25 جولائی 2013ء کو گوجرانوالہ کے قریب ٹرین پٹری سے اتری، 2 ہلاک ہوئے۔
- 2 جولائی 2015ء کو گوجرانوالہ میں خوفناک ٹرین حادثہ پیش آیا، 19 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
- 17 نومبر 2015ء کو بلوچستان میں ٹرین حادثے کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق 96 زخمی ہوئے۔
- 3 نومبر 2016ء کو کراچی کے علاقے لانڈھی میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکرائیں، 21 افراد جاں بحق 40 زخمی ہوئے۔
- 11 جولائی 2019ء کو رحیم یار خان کے قریب اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، جس میں 20 مسافر جاں بحق اور 60 زخمی ہوئے۔
- 31 اکتوبر 2019 کو رحیم یار خان میں تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی کے سبب 74 ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔
- 28 فروری 2020ء کو روہڑی کے قریب پاکستان ایکسپریس بس سے ٹکرائی، 19 ہلاک، 30 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
- 7 جون 2021ء کو گھوٹکی (ڈہرکی) میں دو مسافر ٹرینوں کے تصادم میں 65 ہلاک، 150 سے زائد زخمی ہوئے۔
- 27 اپریل 2023 کو ٹنڈو مستی خان میں کراچی ایکسپریس میں آتشزدگی کے سبب 7 ہلاکتیں ہوئیں۔
- 6 اگست 2023ء کو ہزارہ ایکسپریس نوابشاہ میں پٹری سے اتر گئی جس کے سبب 30 ہلاک، 100سے زائد زخمی ہوئے۔
سال 2019 پاکستان ریلوے کی تاریخ کا بدترین سال ثابت ہوا، جس میں 100 سے زائد حادثات ہوئے۔
اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب فقط بدانتظامی کے اور انفراسٹرکچر کی بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب ہو رہا ہے ؟ اگر انفراسٹرکچر بہتر نہیں بنایا جا رہا تو کیا وجہ ہے؟ اگر آپ لمبے سفر کے لیے ٹکٹ بک کروانے جائیں تو آپ کو ٹکٹ پندرہ دن پہلے بک کروانا ہو گی یعنی مسافر ٹرینیں تو بھرپور کمائی کرتی ہیں۔ پھر مسئلہ کہاں ہے؟ اس معاملے کی ذرا گہرائی سے تحقیق کی جائے تو ایک اور اہم ایشو سامنے آتا ہے وہ یہ کہ ریلوے کی بدحالی کا دور تب سے شروع ہوا جب فوج نے ٹرانسپورٹیشن کے لیے تجارتی ادارے نیشنل لاجسٹکس سیل کی بنیاد ڈالی۔ این ایل سی نے پہلے تیل کی ترسیل کے لیے ریلوے کے ساتھ شراکت کی اور پھر یہ ترسیل بتدریج ریل سے روڈ کی طرف لے جا کر خود اس شعبے کا بڑا اور واحد کھلاڑی بن گیا۔ اس طرح پاکستان ریلوے کی آمدن کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ این ایل سی نے قبضہ کر لیا۔ کرنل ریٹائرڈ عبدالرحیم ایک انٹرویو میں یہ تذکرہ بھی کرچکے ہیں کہ ایک آرمی افسر کو فقط اس وجہ سے تشدد کا نشانہ بنا کر لاپتہ کیا گیا کہ اس نے این ایل سی اور فوج کے افسران کی ملی بھگت سے ہونے والی یومیہ کروڑوں روپے کی تیل کی چوری کے سکینڈل کو بے نقاب کیا تھا۔
مختلف حکومتوں کے ادوار میں ریلوے کی اپ گریڈیشن کے لیے چین سے معاہدے تو کیے گئے لیکن وہ بھی کرپشن اور بد انتظامی کی نذر ہوئے جس نے مسائل میں مزید اِضافہ کیا ہے۔
ٹرمپ کی بدتہذیبی، بدمعاشی اور غرور بھرا لہجہ ہی امریکہ کا اصل چہرہ ہے |
27 مارچ 2026ء کو فلوریڈا کے میامی میں Future Investment Initiative (FII) Priority Summit (سعودی عرب کے PIF کی حمایت یافتہ انویسٹمنٹ کانفرنس) میں ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان’’خوشنودی‘‘ حاصل کرنے کے لیے مجبوراً ’’اچھا برتاؤ‘‘ (یعنی مطیع، تعاون کرنے والا اور فائدہ مند ڈیلز دینا) کرنا پڑ رہا ہے۔ یعنی ٹرمپ یہ بتانا چاہتا ہے کہ اب سعودی عرب کو امریکہ/ٹرمپ کی شرائط پر چلنا پڑے گا، نہ کہ الٹا۔ یہ ٹرمپ کے روایتی “America First” اور blunt اندازِ بیان کی مثال ہے۔ بہت سے صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے اسے ناگوار، عوامی ذلت اور امریکی سلطنت کا غرور قرار دیا۔ یقیناً یہ سفارتی آداب کی خلاف ورزی تھا ۔ سفارتی آداب کی خلاف ورزی کا ایک اور مظاہرہ صدر ٹرمپ نے جاپان کی خاتون صدر کے سامنے بھی کیا ۔ واقعہ 19 مارچ 2026ء کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں پیش آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جاپان کی وزیراعظم سانائے تکائچی سے پہلی سرکاری ملاقات تھی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں (فروری 2026ء میں شروع ہونے والے آپریشن) اور علاقائی سلامتی کے موضوعات پر بات ہو رہی تھی۔ ایک جاپانی صحافی (موریو چجِیوا، TV Asahi سے) نے سوال کیا کہ امریکہ نے ایران پر حملے سے قبل اپنے اتحادیوں (بشمول جاپان) کو پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’’ہم نے کسی کو نہیں بتایا کیونکہ ہمیں سرپرائز چاہیے تھا‘‘۔ پھر اس نے پرل ہاربر (1941ء کا جاپانی حملہ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم نے کسی کو نہیں بتایا کیونکہ ہم سرپرائز چاہتے تھے۔ سرپرائز کے بارے میں جاپان سے بہتر کون جانتا ہے؟ ٹھیک؟ آپ نے مجھے پرل ہاربر کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟ ٹھیک ہے؟ آپ سرپرائز پر ہم سے کہیں زیادہ یقین رکھتے ہیں‘‘۔ ٹرمپ کی جانب سے اس بھونڈے مذاق پر وزیراعظم تکائچی کی آنکھیں پھیل گئیں، انہوں نے گہری سانس لی، مسکراہٹ غائب ہو گئی، وہ کرسی پر ہل گئیں اور خاموش رہیں۔
تورو تاماگاوا (جاپانی براڈکاسٹر TV Asahi کے تجزیہ کار/کمپیرٹر):
’’ یہ صدر ٹرمپ کے ناخوشگوار پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کرتا کہ جاپانی وزیراعظم اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں۔‘‘
ایزورو ماکِہارا (University of Tokyo کے جاپانی سیاست کے پروفیسر اور دانشور):
’’یہ وہ بات ہے جو بالکل نہیں کہی جانی چاہیے تھی۔ ٹرمپ اگلے مرحلے میں ’ہیروشیما اور ناگاساکی ٹھیک تھے نا؟‘ کہہ سکتا ہے۔ جاپانی عوام اسے قبول نہیں کر سکتے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کچھ جاپانی اسے ٹرمپ کا معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے، مگر یہ ناقابل قبول ہے۔ ہیتوشی تاناکا (سابق جاپانی سفارت کار اور Japan Research Institute کے مشیر)نے ایکس پر لکھا کہ قومی رہنما برابر ہوتے ہیں، ٹرمپ کو خو کرنے کے لیے جھکنا نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے وزیراعظم تکائچی کے جواب نہ دینے پر تنقید کی۔ بہرحال زیادہ تر صحافیوں اور دانشوروں نے اسے سفارتی طور پر غیر مناسب قرار دیا۔ ٹرمپ کے ان بیانات کے علاوہ حالیہ دیگر بیانات بھی دیکھیں تو ان میں غرور، دھونس اور بدمعاشی کی جھلک ملے گی اور یہی امریکہ کا اصل چہرہ ہے۔
یہ امن سفارت کاری کم بے چارگی زیادہ ہے |
عمران خورشید ایشیا ٹائمز کے لیے لکھتے ہیں کہ پاکستان کا امن کا کھیل سفارت کاری سے زیادہ مایوسی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی امن سفارت کاری اس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کی نشانی نہیں، بلکہ یہ اس بات کا پیمانہ ہے کہ مغرب کے پاس معتبر ثالث کہلانے والے کتنے کم ہیں۔ کیا پاکستان واقعی عالمی سطح پر اہم ہو گیا ہے یا اسے صرف اسٹریٹیجک طور پر ایسا دکھایا جا رہا ہے؟ قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے موجودہ تشہیر زیادہ تر اس کی عالمی اثر و رسوخ یا صلاحیتوں میں اضافے کی وجہ سے نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ کے جاری تنازع کے دوران مغربی مفادات کی وجہ سے ایک اسٹریٹیجک مبالغہ آرائی ہے۔ اس مبالغہ آرائی کو وسیع اسٹریٹیجک تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ جنگ، جسے امریکہ نے مختصر اور فیصلہ کن سمجھا تھا، اب دوسرے ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور زیادہ پیچیدہ اور طویل ہو گئی ہے۔ محدود بمباری سے صورتحال جلد مستحکم ہو جائے گی، یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا ہے۔ ایران کا جواب غیر متوقع اور اہم رہا ہے، اس نے صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ کمرشل اور توانائی کے مفادات کو بھی نشانہ بنایا، جس سے جنگ کی قیمت بڑھ گئی۔ اسٹریٹیجک اثرات گہرے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا گیا ہے اور عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں اور عالمی معیشت ممکنہ طور پر تباہ کن کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں مزید اضافے کا امکان ہے جو صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ ایسے میں امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ وہ علاقے میں ایک اور طویل جنگ میں پھنس جائیں۔ امریکہ میں اس کو “Forever Wars” کہا جاتا ہے جو اس کے وسائل ختم کرتی ہیں اور اسے انڈو پیسیفک سمیت دیگر اسٹریٹیجک تھیٹرز پر توجہ مرکوز کرنے سے روکتی ہیں۔ بہت سے خلیجی ممالک ثالثی کاکردار ادا نہیں کر سکتے۔ وہ تنازع کے فریق ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کو ثالث کے طور پر لایا اور پیش کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان ہی کیوں؟ جواب اس کی بڑھتی ہوئی آزاد عالمی حیثیت میں نہیں بلکہ اسٹریٹیجک سہولت اور پاکستان کی اپنی مجبوریوں میں ہے۔ پہلے، پاکستان نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا ہے جس میں NATO طرز کی شق شامل ہے کہ ایک پر حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اگر جنگ طویل ہوئی تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ جنگ میں کھینچا جا سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو تصادم کو روکنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ وہ ایک ایسی جنگ میں نہ پھنسے جو ہر لحاظ سے انتہائی مہنگی ہو گی۔ دوسرے، پاکستان کے اندرونی حالات انتہائی حساس ہیں۔ ونسن سینٹر کے ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ اس وقت جب پاکستان کئی سالوں یا دہائیوں میں سب سے شدید اندرونی انتشار کا شکار ہے، اسے مزید تصادم اور ایران کے ساتھ تناؤ کا خطرہ برداشت نہیں۔ پاکستان کے لیے تین پڑوسیوں کے ساتھ سنگین تناؤ میں پھنس جانا، یہ جیو پولیٹیکل طور پر سب سے بدترین صورتحال ہے۔ پاکستان کی معاشی کمزوری ایک اہم عنصر ہے۔ ملک بیرونی مالی امداد پر بہت انحصار کرتا ہے، بشمول IMF بیل آؤٹ اور خلیجی ریاستوں سے تاخیر سے تیل کی ادائیگیاں۔ اس کی معاشی حالت نمایاں طور پر خراب ہو چکی ہے۔ پاکستان کو یہ خوف بھی ہے کہ اگر وہ مغربی ایشیا کے تنازع میں پھنس گیا تو بھارت مشرقی محاذ کھول سکتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر واضح کرتے ہیں کہ پاکستان خود کو ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے ، یہ اس کی بیرونی اور اندرونی دباؤ اور مجبوریوں کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا پاکستان کے عالمی سفارت کاری میں بڑھتے ہوئے کردار کی وسیع داستان کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔ یہ بھی نہ بھولیں کہ پاکستان اکثر امریکہ کا قریبی مگر ماتحت اتحادی رہا ہے جو علاقائی مقاصد کے حصول میں کام آتا ہے۔ اس کے کردار کے کسی بھی جائزے میں اس بات کو مد نظر رکھنا ہو گا، کیونکہ پاکستان اکثر بیرونی طور پر تشکیل دیے گئے فریم ورک میں کام کرتا رہا ہے۔ افغانستان سے لے کر وسیع مغربی ایشیا تک۔ یہ موجودہ ثالثی کی کوششیں بھی اسی ڈائنامک کو ظاہر کرتی ہیں۔ پاکستانی رہنماؤں، بشمول وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق دار کی ٹویٹس، ڈونلڈ ٹرمپ کے Truth Social اکاؤنٹ پر فعال طور پر شیئر کی جا رہی ہیں، جو نسبتاً نادر بات ہے، اور جو امریکہ کے مقاصد سے ہم آہنگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی وقت، جبکہ پاکستان ثالثی کی بات کر رہا ہے، اس نے افغانستان میں اپنے فوجی آپریشنز نہیں روکے، جس سے اس کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں۔ پاکستان کے حالیہ حملوں میں شہری تنصیبات، بشمول ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے 400 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جس سے اس کا غیر جانبدار ثالث ہونے کا دعویٰ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ مغربی اور دیگر میڈیا کے کچھ حصوں کی طرف سے پاکستان کے کردار کے حوالے سے مبالغہ آرائی، جو اکثر مغربی اسٹریٹیجک غور و فکر کی عکاسی کرتی ہے، اسے ایک وسیع اسٹریٹیجک کمیونیکیشن کا حصہ سمجھا جائے جو پاکستان کو قابل مذاکرات کار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مثبت نتیجے کے امکان کو خارج نہیں کرتا۔ اگر پاکستان تصادم کو کم کرنے میں حصہ ڈال سکا تو یہ علاقے اور وسیع بین الاقوامی برادری دونوں کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس کے اقدامات کے پیچھے محرکات کیا ہیں۔
یہ خبر اس لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ ایشیا ٹائمز ہانگ کانگ میں قائم ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو خود کو ’’مغربی میڈیا کے مقابلے میں ایشین نقطہ نظر‘‘ پیش کرنے والا اور ’’آزاد اور غیر جانبدار‘‘ ادارہ کہتا ہے اور ایشیا بھر کی جیو پولیٹیکل اور جیو اکنامک خبروں کا بڑا ذریعہ ہے۔ ہانگ کانگ میں ہونے کے سبب اسے Pro-China بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی یاد دلاتے چلیں کہ سلیم شہزاد جو اسلام آباد میں ایشیا ٹائمز کے بیورو چیف تھے 2011ء میں پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغوا ہوئے اور بعد ازاں ان کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے دوستوں بالخصوص ہیومین رائٹس واچ کے ڈائریکٹر علی دایان حسن کو پہلے سے مطلع کررکھا تھا کہ وہ آئی ایس آئی سے مسلسل دھمکیاں وصول کر رہے ہیں۔
حکومت ماحولیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر قرض لے گی |
حکومت نے ماحولیاتی آفات سے نمٹنے کیلیے ایک ارب ڈالر کا بجٹ سپورٹ قرض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے “Climate Disaster Resilience Enhancement Program” کے تحت ایک ارب ڈالر قرض لینے کی منظوری دے د ی ہے، اس میں سے 500 ملین ڈالر فوری طور پر جاری کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم قدرتی آفات کی صورت میں استعمال کے لیے رکھی جائے گی۔ یہ رقم جون سے پہلے موصول ہونے کی توقع ہے۔ اس کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کو کم کرنا بھی ہے۔ دستاویزات کے مطابق یہ قرض ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر عمل درآمد، ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے قیام اور سیلاب سے بچاؤ جیسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ ورلڈ بینک کے 40 ملین ڈالر کے پبلک ریسورس موبلائزیشن منصوبے کو مہنگے لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز اور فرنیچر کی خریداری کے باعث مؤخر کر دیا گیا، منصوبے میں بعض آلات کی قیمتیں غیر معمولی طور پر زیادہ بتائی گئیں، جس میں 3 ہزار ڈالر کے لیپ ٹاپ اور مہنگے فرنیچر سیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موجود ادارہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) جس کی سربراہی ایک لیفٹیننٹ جنرل کرتا ہے اور مینجمنٹ میں بھی فوجی افسران سر فہرست ہیں اپنے بھاری بھرکم اخراجات کے باوجود صرف یہی پرفارمنس دے پاتا ہے کہ آندھی و بارشوں کا تھریٹ الرٹ جاری کر دیتا ہے جبکہ عملی طور پر آفات میں ریسکیو پرفارمنس صفر ہوتی ہے ۔ آرمی ہیلی کاپٹرز غیر ملکی کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرتے تو نظر آتے ہیں لیکن سیلاب میں پھنسے عام پاکستانی اس سروس سے عموماً محروم ہی رہتے ہیں۔ ریسکیو سروس حاصل کرنے کا فرق صرف ملکی و غیر ملکی کی وجہ سے ہی نہیں ہے بلکہ ایک بڑی وجہ وہ بھاری فیسیں بھی ہیں جو کوہ پیما ریسکیو کرنے پر پاکستان آرمی ایوی ایشن کو ادا کرتے ہیں۔ حکومت ماحولیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر قرض لے گی۔ حکومت نے ماحولیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر کا بجٹ سپورٹ قرض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
٭٭٭٭٭








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



