اے اللہ! آپ کا شکر ہے، کہ مجھے وہ عطا نہ کیا جو میں چاہتا تھا
سابقہ گفتگو میں ہم نے دیکھا کہ ابتلا و آزمائش ہماری مدد کرتی ہیں کہ ہم اللہ سے اپنی محبت کو مضبوط بنیادوں پر تعمیر کریں ، انہی مضبوط بنیادوں میں سے ایک بنیاد اللہ کے اسماء و صفات پر غور و تدبر کرنا ہے۔ آزمائش و مصیبت اللہ تعالیٰ کے خوبصورت ناموں اور بہترین صفات کو سمجھنے میں بھی ہماری مدد کرتی ہیں۔
سب سے پہلے ہم اللہ کی صفتِ حکمت سے متعلق گفتگو کریں گے، آزمائش و ابتلا کے دوران اللہ رب العزّت کی حکمت۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ آزمائش بعض انسانوں کو اللہ کی حکمت پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے جبکہ مومنین کااللہ کی حکمت پر یقین، آزمائش و ابتلا کے دوران اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ ابن عطا اللہ السکندریؒ فرماتے ہیں:
’’جب اللہ جل جلالہ تم پر دورِ محرومی میں فہم کے دروازے وا کر دیتے ہیں، تو یہ محرومی بذاتِ خود ایک نعمت بن جاتی ہے۔ کیونکہ جب اللہ عطا فرماتا ہے تو وہ اپنے کرم کا اظہار کرتا ہے، اور جب وہ محروم کرتا ہے تو اپنے اختیار و غلبے کا اظہار فرماتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ تمہیں اپنی صفات کی پہچان کرواتا ہے اور تمہارے ساتھ نرمی و رحمت سے پیش آتا ہے۔ فلہٰذا، محرومی تمہارے لیے صرف اسی صورت میں نقصان دہ ہے کہ جب وہ تمہیں اللہ اور اس کی صفات کی بہتر پہچان نہ کروائے۔‘‘
سو ممکن ہے کہ آپ کسی نعمت سے محروم کر دیے جائیں۔ لیکن اگر اس محرومی کے دوران اللہ آپ کو یہ توفیق دیتا ہے کہ اس نعمت سے محروم کرنے میں اللہ کی پوشیدہ حکمت پر غور کریں، تو آپ دیکھیں گے کہ غور کرنے کی یہ نعمت اس نعمت سے کئی گنا زیادہ بڑی ہے، جس سے آپ محروم کیے گئے! آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک آزمائش میں مبتلا کر کے آپ کو اپنی ذات و صفات سے آشنائی عطا فرما رہے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر آپ آزمائش کو مجسم شر سمجھتے ہیں، تو آپ کی اصل بدقسمتی آپ کے غور و فکر کے فقدان اور اللہ کی حکمت کو نہ سمجھنے میں پنہاں ہے۔
ابن قیّمؒ فرماتے ہیں:
’’ اور اگر بندہ اپنے ربّ کا حق ادا کرتا، اور وہ اس کا حق ادا کر ہی کیسے سکتا ہے؟، تو وہ جان لیتا کہ اللہ نے اسے (دنیاوی نعمتوں اور لذّتوں میں سے) جس چیز سے محروم کیا ہے، تو اس محروم کرنے میں اللہ کا کرم اس کے لیے ان نعمتوں سے کہیں بہتر ہے جو اللہ نے اپنے کرم سے اسے عطا فرمائی ہیں، کیونکہ اللہ اس کو محروم نہیں کرتا مگر اس لیے کہ اسے عطا کرے۔‘‘ (الفوائد)
فہم و تدبّر کی کلید یہ یقین ہے کہ اللہ کی حکمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے۔ اللہ کی حکمت کے حوالے سے اگر کوئی شک و شبہ آپ کے دل میں موجود ہے، تو اسے نکال پھینکیے۔ اس کی حکمت پر غیر متزلزل یقین رکھیے اور پھر غور کریں کہ اس حکمت کا اظہار کیسے ہو رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ فہم کے خزانے آپ کو عطا ہوں گے۔
دوسرا نکتہ اللہ کی حکمت کے مقابل اپنی لا علمی و جہالت کا یقین ہونا ہے:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (سورۃ البقرۃ: ۲۱۶)
’’تم پر (دشمنوں سے) جنگ کرنا فرض کیا گیا ہے، اور وہ تم پر گراں ہے، اور یہ عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو، اور (اصل حقیقت تو) اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔‘‘
میں ایک آزمائش سے گزرا کہ مجھ سے میری آزادی چھِن گئی اور میں قید کر دیا گیا۔ اپنی ابتلا کے ہر مرحلے پر میں نے چاہا کہ یہ آزمائش جلد از جلد ختم ہو جائے اور میں اپنی معمول کی زندگی کو لوٹ سکوں۔ ہر مرحلے پر میرا گمان یہ تھا کہ میرے لیے سب سے بڑی خیر کی چیز یہ ہے کہ یہ آزمائش فوری طور پر ختم ہو جائے ۔ لیکن ہر مرحلے کے بعد، مجھے احساس ہوتا کہ ابتلا کا جاری رہنا میرے لیے اس کے ختم ہو جانے سے کہیں زیادہ مفید تھا۔
بلکہ اگر آپ اب مجھ سے پوچھیں کہ کیا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ قید کی یہ آزمائش مجھ پر کبھی پڑتی ہی نہ؟ تو میرا جواب ہو گا : اللہ کی قسم نہیں! میں بہت خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے وہ عطا نہیں کیا جس کی میں خواہش کرتا تھا۔ کہ اس نے میری وہ دعائیں قبول نہیں کیں جو میں اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کی خاطر مانگا کرتا تھا۔ بلکہ اس نے میرے لیے وہ چیز چنی جو میرے لیے زیادہ نفع بخش تھی، اور میں خود اپنے لیے چننے کا اختیار رکھتا تو اسے نہ چنتا۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ابتلا کی نعمت اتنا عرصہ جاری رہی (جتنی اس کی مدّت تھی)، کیونکہ اسی کے سبب میں اللہ کی عظیم نعمتوں سے مستفید ہو سکا۔
ابن القیّمؒ فرماتے ہیں:
’’چھپے ہوئے خطروں میں سے ایک عام خطرہ یہ ہے کہ بندہ نعمت کی ایک ایسی حالت میں ہوتا ہے جو اللہ نے اسے عطا کی ہوتی ہے اور اس کے لیے چنی ہوتی ہے، لیکن پھر بندہ اس سے اکتا جاتا ہے اور اللہ سے سوال کرتا ہے کہ اسے اس حالتِ نعمت سے نکال کر ایک دوسری حالت میں پہنچا دیا جائے، جسے اپنی جہالت میں، وہ اپنے لیے بہتر تصور کرتا ہے۔ لیکن اس کا ربّ اپنی رحمتِ واسعہ کے سبب اس سے وہ نعمت واپس نہیں لیتا، اور اس کی جہالت اور وہ کمتر نعمت جس کا وہ سوال کرتا ہے، کو معاف فرما دیتا ہے۔ ‘‘
اس کے بعد وہ کہتے ہیں:
’’پس اگر اللہ اپنے بندے کے لیے خیر اور ہدایت کا ارادہ فرماتا ہے ، تو وہ اسے اپنی حالتِ نعمت کا ادراک عطا فرماتا ہے ، اسے اس نعمت پر راضی کر دیتا ہے اور اس کی رہنمائی فرماتا ہے کہ وہ اس نعمت پر اللہ کا شکر گزار بن جائے ۔‘‘
الحمدللہ! اپنی ابتلا کے اختتام کے قریب میں اس مرحلے پر پہنچا۔ اب میرے لیے وہ محض صبر کا ایک معاملہ نہیں رہ گیا تھا بلکہ اب میں اپنے ربّ کے سامنے شکر گزاری کے احساس کے ساتھ جھک گیا، کہ اس نے مجھ پر آزمائش کی نعمت اتاری۔ اپنے اس تجربے سے قبل میں سوچا کرتا تھا کہ وہ علماء و داعیین، جیسے امام احمد بن حنبلؒ، ابن تیمیہؒ ، ابن القیّمؒ، سید قطبؒ، اور دیگر جو اپنی دعوت و تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو نفع پہنچاتے ہیں، جب وہ آزاد ہوتے ہیں، تو آخر ایسے لوگوں کے لیے قید و بند کی تقدیر میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ میں اللہ کی حکمت کے بعض پہلوؤں سے واقف تھا، لیکن میرے دل میں یہ تمنّا موجود تھی کہ مجھے صحیح سے معلوم ہو جائے اور شرحِ صدر حاصل ہو۔ جب میں خود اس آزمائش سے گزرا تو ہی میں عملاً حکمتِ الٰہی کو سمجھ پایا۔
اگر آپ بھی آزمائش سے گزریں اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس آزمائش کے پیچھے چھپی اپنی حکمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تو آپ جان لیں گے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کے لیے کام کرتا ہے، اس کی شخصیت میں کچھ کمی ہوتی ہے، اور یہ کمی صرف قربانی ہی کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہے۔ یعنی جب وہ اپنی دعوت کی قیمت ادا کرتا ہے، ابتلا سے گزرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخفی حکمتوں سے آشنا ہوتا ہے، تب یہ کمی دور ہو جاتی ہے اور اس کی شخصیت مکمل ہو جاتی ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو، جو اس کے مقصد کی خاطر جدوجہد کرتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں، ایک ایسی روشنی اور ایسا فہم عطا فرماتا ہے جس کا تصور بھی وہ قید خانے کی دیواروں کے باہر نہیں کر سکتے تھے۔ پھر آپ سید قطبؒ کے لکھے اس اقتباس کا ہر لفظ سمجھ سکیں گے:
’’آزمائش و ابتلا کے ذریعے نفوس کی تربیت کرنا ضروری ہے، اور حق کے لیے لڑنے کے عزم کو خوف ، سختی، فقر، قحط، اور جان کے نقصان سے آزمایا جاتا ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ (سورۃ البقرۃ: ۱۵۵)
’اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔‘
یہ مصائب و آزمائشیں اس لیے ضروری ہیں تاکہ مومنین اپنے ایمان کی قیمت ادا کر سکیں۔ وہ اپنے ایمان (یا نظریے) کی جتنی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، اتنا ہی وہ نظریہ انہیں عزیز تر از جان ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسا نظریہ یا عقیدہ جس کی خاطر کوئی قربانی نہ دی گئی ہو، اس کی بقا کا کوئی امکان ہی نہیں، بلکہ وہ پہلے سنجیدہ جھٹکے پر ہی تحلیل ہو جاتا ہے۔ مومنین اپنے ایمان و نظریے کی خاطر جتنے مصائب برداشت کرتے ہیں، جتنی قربانیاں دیتے ہیں، اتنی ہی اس کی قدر ان کے دلوں میں بڑھتی چلی جاتی ہے اور اتنا ہی زیادہ وہ اس ایمان کی حفاظت کی خاطر مزید قربانیاں دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ قربانیاں نہ صرف مومنین کے دلوں میں اپنے ایمان کی قدر و قیمت بڑھا دیتی ہیں بلکہ ان کے دلوں میں بھی ایمان کی قدر پیدا کرتی ہیں جو مومنین کی قربانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
پھر دوسرے لوگ تب تک کسی نظریے یا عقیدے کی قدر نہیں کرتے، جب تک کہ وہ اس کے ماننے والوں کی اس کی خاطر دی گئی قربانیوں اور مصائب پر ان کا صبر نہیں دیکھ لیتے۔ مصائب و شدائد لوگوں کے اندر چھپی بہترین صلاحیتوں کو ظاہر کرتے ہیں، ان کی ہمّت و طاقت میں اضافہ کرتے ہیں، ان کے عزم و استقامت کو قوّی کرتے ہیں، ان کے دلوں پر فہم و ادراک کے ایسے روشن دروازے وا ہو جاتے ہیں جن کا اس سے پہلے انہیں گمان بھی نہیں ہوتا۔
مصائب فہم کو جِلا بخشتے ہیں اور قوّتِ فیصلہ کو تیز کرتے ہیں۔ یہ قساوتِ قلبی کو دور کرتے ہیں اور آنکھوں پر چھائی دھند مٹا ڈالتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب نصرت و حمایت کے باقی تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں، دنیاوی مدد حاصل کرنے کے سب دروازے بند ہو جاتے ہیں اور مومن کے پاس اللہ کے سوا کوئی دوسرا مددگار نہیں بچتا، یہ وہ لمحہ ہے کہ جب تمام دھوکے اور سراب غائب ہو جاتے ہیں، انسانی بصیرت تیز ہو جاتی ہے اور افق پھیل جاتے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں، کہیں کوئی طاقت نہیں، کوئی قوّت نہیں مگر اللہ کے، کوئی پناہ گاہ نہیں سوائے اللہ کی پناہ کے ، اور جو وہ چاہتا ہے وہ ہو کر رہے گا۔
بیشک اللہ نے مصائب و آزمائشیں مقدّر کی ہیں تاکہ (اللہ کی راہ میں جہد و کوشش کرنے والے) مجاہدین کو ظاہر و نمایاں کر دیں ، ان کی صفوں سے ہر قسم کے اشتباہ و پراگندگی کو دور کر دیں، اور بزدلوں اور منافقوں کو چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہ ملے ۔‘‘
دعاۃ کی آزمائش کرنے میں پوشیدہ اللہ کی حکمت کا یہ ایک پہلو ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ اگر وہ آزاد رہتے ، تو ممکن ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ زیادہ تعامل کرتے، زیادہ بیانات دیتے اور دعوت کا مزید کام کرتے، اور زیادہ کتابیں لکھتے۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کی نیّتوں کو پاکیزہ کرنا چاہتے تھے، اور ان کے الفاظ کو زندگی عطا فرمانا چاہتے تھے! جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اعمال الفاظ سے بڑھ کر گواہی دیتے ہیں!۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ جس بھی آزمائش میں مبتلا ہوں گے تو ہمیشہ اس میں پنہاں اللہ کی حکمت کو سمجھ لیں گے، یا یہ کہ آپ جب تک اللہ کی حکمت سمجھ نہ لیں تب تک آپ کو اس سے اچھا گمان نہیں رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا (سورۃ الاسراء: ۸۵)
’’……اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بس تھوڑا ہی سا علم ہے۔‘‘
ممکن ہے کہ جب ربِّ کریم و ذوالجلال، اپنی رحمت کے سبب، آپ کے دل کو ڈھارس دینے کے لیے اپنی حکمت آپ پر ظاہر فرمائے تو آپ اس کی حکمت میں سے صرف ایک چھوٹے سے حصّے ہی کا ادراک کر پائیں۔
خلاصۂ کلام:
جب اللہ آپ کو آزمائش میں مبتلا کرے تو اس کی حکمت پر یقین رکھیں، اور وہ آپ پر اپنے عظیم خزانوں کے قفل کھول دے گا۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
