خطوط کا انسانی زندگی، زبان و ادب اور تاریخ پر گہرا اثر ہے۔یہ سلسلہ ہائے خطوط اپنے انداز میں جدا اور نرالا ہے۔ اس کو لکھنے والے القاعدہ برِّ صغیر کی لجنۂ مالیہ کے ایک رکن، عالم و مجاہد بزرگ مولانا قاری ابو حفصہ عبد الحلیم ہیں، جنہیں میادین جہاد ’قاری عبد العزیز‘ کےنام سے جانتے ہیں۔قاری صاحب سفید داڑھی کے ساتھ کبر سنی میں مصروفِ جہاد رہے اور سنہ ۲۰۱۵ء میں ایک صلیبی امریکی چھاپے کے نتیجے میں، قندھار میں مقامِ شہادت پر فائز ہو گئے، رحمہ اللہ رحمۃ ً واسعۃ۔ قاری صاحب نے میدانِ جہاد سے وقتاً فوقتاً اپنے بہت سے محبین و متعلقین (بشمول اولاد و خاندان) کو خطوط لکھے اور آپ رحمہ اللہ نے خود ہی ان کو مرتب بھی فرمایا۔ ادارہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ ان خطوط کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ اللہ پاک ان خطوط کولکھنے والے، پڑھنے والوں اور شائع کرنے والوں کے لیے توشۂ آخرت بنائے، آمین۔ (ادارہ)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ
میرےعزیز بھائیو!
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
خیر و عافیتِ طرفین مطلوب ہے ۔ ہم نے پچھلے خط میں حضرت علی ؓ اور امام ابن تیمیہ ؒ کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’حق کو پہچانو تو حق والوں کو خود ہی پہچان لو گے‘ اور ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ فی زمانہ حق کو پہچاننا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ دجّالی نظام اور اس کے اثرات نے حق کو مشتبہ بنا کر رکھ دیا اور ناحق کو اپنی ملمع کاری کے ذریعے حق بنا کر پیش کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ جس کی وجہ سے لاکھوں میں ایک کو چھوڑ کر باقی تمام لوگ اس کے فریب اور داؤ پیچ میں آگئے ۔یہ جو لاکھوں میں ایک حق پہچان کر ہدایت کی راہ پر گامزن ہے ۔یہ وہ طبقہ ہے جن کی جد و جہد خالص دین کے راستے میں ہونے کی وجہ سے حق کو پہچاننے کی انہیں توفیق ہوئی اور وہ ہدایت کی راہ پر گامزن ہوئے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا…… (سورۃ العنکبوت)
’’ اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جد و جہدکی ہم ان کو ضرور اپنے رستے دکھائیں گے۔‘‘
اس آیتِ کریمہ کے پیشِ نظر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور عبد اللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:’’ متنازع معاملے میں محاذ والوں کو دیکھو کہ وہ کس طرف ہیں‘‘۔
یہ تو ہے پچھلے خط کے حوالے سے ضمنی بات ،اب رہی یہ بات جو آپ لوگوں نے تحریر کی کہ ’’مسلمان مسلمان سے لڑے تو اس کو فتنہ کہتے ہیں ‘‘ ، بات تو بالکل درست ہے مگر یہ بات محل نظر ہے کہ دونوں فریقوں میں کون سا فریق حقیقی معنوں میں صحیح مسلمان ہے جو دوسرے فریق سے لڑ رہا ہے۔ در اصل یہ دجّالی نظام اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والے میڈیا کے پھیلائے ہوئے پراپیگنڈے کا عکّاس ہے ۔اس وقت مسلم خطوں میں دو ہی گروہ بر سرِ پیکار ہیں۔ ایک جمہوریت پسند لوگوں کا گروہ جو اپنے اقتدار کی خاطر آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں ، یہ واقعی فتنہ ہے ۔دوسرا گروہ مجاہدین کا ہے جو اس فتنے کا سدِ باب کرنے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرنے لیے منہجِ نبوی(ﷺ) کے مطابق یعنی نبی کریم (ﷺ) کے طریقے کے مطابق کفّار و مشرکین اور مرتدین سے لڑ رہے ہیں۔ یہ کوئی ’’مسلمان مسلمان کی لڑائی‘‘ نہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم دجالی نظام اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی میڈیا وار سے اپنے آپ کو بچائیں اور حقائق جاننے اور ان پرعمل کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہم آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں سرخرو ہو سکیں۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ ہیں ۔اللہ رب العالمین نے ہمیں تھوڑی بہت دین کی سمجھ دی ہے ہمیں کم از کم دین کے حقیقی علم کی روشنی میں تمام امور کو دیکھنا چاہیے ۔
ہر زمانے میں دنیا پرستوں نے بہت سے جھوٹے معبود گھڑے ہیں ۔کسی نے معاشرے کے رسم و رواج کو معبود بنایا تو کسی نے اپنے آبا و اجداد کو معبود کا درجہ دیا اور کہا :
’’قد الفینا ما وجدنا آباءنا.‘‘
’’یقینا ہم نے اپنے آبا و اجداد کو ایساہی پایا ۔‘‘
تو کسی نے وطن ہی کو معبودبنایا تھا۔ لیکن موجودہ دور قدرے مختلف ہے اِس دور میں اِن معبودانِ باطلہ کے علاوہ اور بہت سارے معبود گھڑلیے گئے ہیں ۔ان میں ایک قوم پرستی ہےاورایک جمہوریت ۔ یہ دونوں معبودان مغرب کے ایجاد کردہ ہیں ۔ جن میں دنیاداروں کے ساتھ ہم دین دار بھی غرق ہیں۔
یہ وطن پرستی کی نسبتیں1 جن کو ہم یائے نسبتی سے ادا کرتے ہیں جیسے پاکستانی ، بنگلہ دیشی ،ترکی و عراقی اور سعودی وغیرہ وغیرہ ۔یہ ایسی نسبت ہے جس کی تعلیم مغرب نے ہمیں دی ہےجس کی عینک سے ہم ہر چیز کو دیکھتے ہیں ۔ اس وطن پرستی کابت ہمارے ذہن سے اس لیے محو نہیں ہوتا کہ ہمیں ہماری نوعمری سے’’حب الوطن من الایمان‘‘ یعنی ’’وطن سے محبت ایمان میں سے ہے ‘‘ کے جھوٹے قول کی چھری سے خوب خوب ذبح کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے وار کی وجہ سے ہمارے ہاں قرآن و سنت کے معنی و مفہوم مشکوک بنا دیے گئے ہیں اس لیے ہم سے یہ جملہ بر آمد ہوتا ہے کہ ’’ مسلمان مسلمان سے لڑے تو اس کو فتنہ کہتے ہیں‘‘۔
تو میرے بھائیو! اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو مومنوں والی فراست عطا کی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا…… (سورۃ العنکبوت)
’’ اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جد و جہدکی ہم ان کو ضرور اپنے رستے دکھائیں گے۔‘‘
اب آئیے ہم اس بات کو دین کی حقیقی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کریں تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ اہلِ ایمان کی لڑائی کس سے ہے ؟ آیا ا ہلِ ایمان کی لڑائی مسلمانوں سے ہے یا اہلِ ایمان کی لڑائی دین سے خارج مرتدین سے ہے ۔علمائے اسلام نے نواقضِ اسلام کے بارے میں بہت سے امور تحریر کیے ہیں یعنی ایسے اعمال جن کا ارتکاب مسلمانوں کو دین سے خارج کر کے کفر (ارتداد)کے دائرے میں لے جاتا ہے ۔فقہائے اسلام نے ان ہی امور کی تشریح کرتے ہوئے مختلف صورتیں بتائی ہیں تاکہ ایک عام آدمی کو ان صورتوں کے بارے میں آگاہی ہو اور ان تمام صورتوں میں سے کسی بھی صورت کے ارتکاب سے بچا جائے ۔نیز علمائے دین نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان چیزوں کے ارتکاب کے لیے اعلان بھی ضروری نہیں ،صرف اس کا عمل ہی اس کو دائرۂ اسلام سے خارج کرکے مرتد کے دائرے میں لانے کے لیے کافی ہے۔
آئیے ان چند صورتوں کا مطالعہ کریں جن کا ارتکاب مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر کے مرتد بنا تا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مقابل قانون بنانا
اس وقت پاکستان سمیت مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمرانوں نے اپنے اپنے خطوں میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مقابل ایک اورنئی شریعت اور قانون بنایا ہے اور اسی کو نافذ بھی کر رکھا ہے ۔ان ہی جیسوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اَمْ لَھُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَھُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْ م بِہِ اللّٰہُ (سورة الشوریٰ: ۲۱)
’’کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا؟‘‘
اورایک جگہ ارشاد ہے :
وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اَنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ (سورۃ الانعام : ۱۲۱)
’’اور اگر تم لوگ اُن کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہوئے ۔‘‘
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان سمیت مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران اپنے اپنے خطوں میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مقابل میں کافروں کی اطاعت کرتے ہیں اور سب سے بڑا حاکم ان کا خود ساختہ قانون ہے جو انہوں نے قرآن و سنت کے مقابل میں اپنے اپنے خطوں میں نافذ کر رکھا ہے ۔ ان حکمرانوں کا کفر، کفارِ مکہ کے کفر سے زیادہ سخت ہے کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ اپنے معبودانِ باطلہ کو صرف عبادت کی حد تک شریک کرتے تھے اور کہتے تھے :
مَا نَعْبُدُ ھُمْ اِلّا لِیُقَرِّبُونَا اِلیَ اللّٰہ(سورۃ الزمر: ۳)
’’ہم ان کو اس لیے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنا دیں۔‘‘
اُن کی غیر اللہ کی عبادت بھی اللہ کی قربت کے لیے تھی ۔جبکہ اِن حکمرانوں کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی بغاوت پر مبنی ہے۔
حلال کو حرام اور حرام کو حلال سمجھنا
پاکستان سمیت مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہراتے ہیں اور حرام کی حفاظت اور اس کی ترویج کرتے ہیں اورایسا کر نا اپنا جمہوری حق سمجھتے ہیں ۔ جیسے زنا ، بے پردگی ، فحاشی و عریانی (حدود آرڈیننس ایک مثال ہے)اور سود وغیرہ ۔امام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں :’’ بے شک جب انسان کسی واضح حلال جس پر امت کا اجماع ہو اس کو حرام اور متفق علیہ حرام کو حلال سمجھے تو وہ کا فر ہو جاتا ہے ‘‘۔ (الصارم المسلول، ص ۱۳۷)
حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’چھ آدمی ایسے ہیں جن پر اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) اور تمام انبیا ؑ کی لعنت ہے ان میں ایک وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اورحلال کردہ چیزوں کو حرام کر نے والا ہے ۔(جامع ترمذی،عن عائشۃ ؓ)
غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا
پاکستان سمیت تمام مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران ،اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے بلکہ یہ تمام حکمران اپنے خود ساختہ قوانین پر فیصلہ کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (سورۃ المائدۃ: ۴۴)
’’جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون پر فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ کافر ہیں۔‘‘
علمائے کرام نے اس آیتِ کریمہ سے استدلال کر تے ہوئے ان کے کفر کی تین وجوہات بیان کی ہیں ۔(۱) ترک الحکم بما انزل اللہ یعنی اللہ کے نازل کردہ قانون پر فیصلہ نہ کرنا۔ (۲)الحکم بغیر ما انزل اللہ یعنی اللہ کے قانون کے بغیر فیصلہ کرنا۔ (۳) اخترع الحکم بغیر ما انزل اللہ یعنی اللہ کے قانون کے مقابلے میں قانون کا اختراع کرنا یعنی قانون بنانا۔یہ تینوں وجوہات پاکستان سمیت تقریباً تمام مسلم خطوں میں بطریقِ اولیٰ موجود ہیں ۔
پاکستان سمیت تمام مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران اوران کے کارند ے اور ان کا آئین مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کر نے کی اجازت نہیں دیتے ہیں اور انہیں کفری قانون کے فیصلہ پر مجبور کرتے ہیں ۔امام مالک ؒ فرماتے ہیں : ’الامر عندنا من منع فریضۃ من فرائض اللہ عز و جل فلم یستطع المسلمون اخذھا کان علیھم جہاد ہ حتی یاخذوھا منہ‘۔ ’’یعنی حکم تو ہمارے ہاں یہ ہے کہ بلاشبہ جس کسی نے بھی اللہ کے فرائض میں سے کسی فرض سے بھی لوگوں کو منع کیا اور مسلمان اس پر عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو مسلمانوں پر اس کے خلاف جہاد کرنا لازم ہے یہاں تک کہ اس سے اس فرض کو چھڑالیں۔‘‘
طاغوت کی تعظیم و اشاعت کرنا
پاکستان سمیت تمام مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران مسلمانوں کے اندر خصوصاً اپنے اپنے تعلیمی اداروں (سکول ،کالج اور یونیورسٹیوں) میں طاغوت کی تعظیم و اشاعت کرتے ہیں جس کو یہ لوگ آئین کا احترام کہتے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کے دین کا استہزا کرتے ہیں اور دین داروں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مثلاً معاشرے میں داڑھی والے ، شرعی لباس پہننے والے کے لیے کوئی عزت نہیں ۔
اقوامِ متحدہ کے قانون کا پابندہونا
پاکستان سمیت تمام مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران اقوام متحدہ کے قانون کے پابند ہیں اس کی وجہ سے ’’ ولاء و براء ‘‘(مسلمانوں کے ساتھ دوستی کرنا اور کفا ر سے دشمنی کر نا )کا خاتمہ ہوگیا ۔حالانکہ’’ ولاء و براء‘‘ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔اس کا نہ ماننا کفر ہے ۔
حدود اللہ کا معطل کرنا
پاکستان سمیت تمام مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمرانوں اوران کے کارندوں نے اپنے اپنے خطوں میں اسلام کے حدود و فرائض کو معطل کر رکھے ہیں ۔نہ اس پر خود عمل کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو اس پر عمل کر نے کی اجازت دیتے ہیں بلکہ اس کے بر عکس شریعت کا مطالبہ کر نے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کو مجرم ٹھہراتے ہیں اور ان کو پکڑتے ہیں اور جیلوں میں بھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملک میں دو قانون نہیں چل سکتے یہاں صرف جمہوریت چلے گی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فَلَا وَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (سورۃ النساء:۶۵)
’’ تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کر دو اُس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اُس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے ۔‘‘
شریعت کا مطالبہ کرنے والے علما، مجاہدین و عوام کے قتل کو حلال سمجھنا
پاکستان سمیت تمام مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران اوران کے کارند ے شریعت کا مطالبہ کرنے والے علما، مجاہدین و عوام کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں اور ان کی خواتین کی بے عزتی کرنے کو بھی حلال سمجھتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو قتل کرنا حرام ہے اوردین کی وجہ سے قتل کرنا کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمان ہے:
وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ خَالِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّلَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا (سورۃ النساء:۹۳)
’’ اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور اللہ اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لیے اُس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے ۔‘‘
یہ حکمران اور ان کے کارندے امریکہ سے دوستی کی خاطر مسلمانوں کا قتل حلال سمجھتے ہیں اور ان پر بمباریاں کرتے ہیں۔حالانکہ مسلمانوں کا قتل حرام ہے تو جو حرام کو حلال سمجھے اوردین کی وجہ سے قتل کرے وہ بالاتفاق کافر ہو جاتا ہے ۔
طائفہ ممتنعہ:
پاکستان سمیت تمام مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران اوران کے کارند ے یہ سب ’’طائفہ ممتنعہ‘‘ہیں۔طائفہ ممتنعہ اس گروہ کو کہتے ہیں جو نہ خود شریعت پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو شریعت کے نفاذ کے لیے اجازت دیتا ہے اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد پر بھی عمل ہوجائے ۔ امام ابن العربی المالکی ؒ نے اس سلسلے میں اجماع نقل کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ لڑنے پر امت کا اتفاق ہے ۔ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں : ’’وکل طائفۃ ممتنعہ عن شریعۃ من شرائع الاسلام الظاہرہ المعلومہ یجب قتالھا ولو شہدوا…‘‘یعنی ’’ہر وہ گروہ جو اسلام کے کھلم کھلا ظاہری احکام میں سے کسی حکم سے انکار کرے تو اس سے قتال واجب ہے اگرچہ وہ کلمۂ شہادت کی گواہی ہی کیوں نہ دے اور فرائض کا پابند ہی کیوں نہ ہو مثلا وہ نماز پڑھے یا وہ روزہ رکھے ‘‘۔ (مختصر الفتاویٰ المصریہ۱؍۱۶۸)
ارتداد کے سلسلے میں قرآن وحدیث اور سلفِ صالحین کے اقوال پر مبنی تشریحات سے چند تشریحات کاذکر کیاگیا ہے جن سے معلوم ہوا کہ پاکستان سمیت تمام مسلم خطوں کے نام نہاد مسلم حکمران اوران کے کارند ے فوج اور ایجنسیاں یہ سب طائفہ ممتنعہ ہیں جو اپنی پوری طاقت و قوت کے ساتھ’’ ظاہرہ متواترہ شرائعِ اسلام‘‘ پر نہ خود عمل کرتے ہیں اور نہ کسی کو اس پر عمل کرنے کی اجازت دیتے ہیں بلکہ یہ گروہ مسلمانوں کو کفری قانون پر مجبور کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کے غیر اسلامی قانون کے سامنے چیلنج بن کر کھڑا ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ حکومت کی رِٹ کو چیلنج کرتا ہے تو پھر اسے قید و بند یا موت کی سزا دی جاتی ہے ۔
ہمارے سامنے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا اسوہ موجود ہے جو انہوں نے مانعینِ زکوٰۃ کو مرتدین میں شمار کیا اور ان کے خلاف جہاد کیا حالانکہ وہ لوگ صرف ایک زکوٰۃ کے مسئلہ پر مانع تھے اور تمام احکام کے پابند تھے اس کے باوجود صدیق اکبر ؓ نے ان کو مرتد شمار کیا ۔ موجودہ دور کا یہ حکمران طبقہ اور ان کے کارندے فوج ، پولیس اور دوسرے اہل کار سرے سے اسلام کے احکام ہی کو نہیں مانتے تو کیا ان کے خلاف لڑنے کو’’ مسلمان کی مسلمان سے لڑائی ‘‘ کہا جا سکتاہے ؟ یہ تو وہ مرتدین کاگروہ ہے جو مسلمانوں کے لیے سخت اورکافروں کے لیے نرم جبکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفت اس کے برعکس بیان فرمائی:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ…… (سورۃ الفتح: ۲۹)
’’ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں نرم ہیں۔‘‘
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(سورۃ المائدۃ :۵۴)
’’ اے ایمان والو! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن کو وہ( اللہ تعالیٰ) دوست رکھے اور اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ دوست رکھیں گے اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں گے اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور جاننے والا ہے ۔‘‘
اس دور کی مناسبت سے مسلمانوں کے لیے یہ آیت وا ضح پیغام رکھتی ہے کہ آج جب مسلمانوں میں سے ایک گروہ ارتداد کا شکار ہوچکا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا ایک محبوب گروہ ان کے خلاف معرضِ وجود میں لایا ہے جن کی وہی صفت ہے جو صحابۂ کرام ؓ کی تھی ’’ مومنوں کے حق میں نرم اور کافروں کے حق میں سخت‘‘ تو میرے عزیز بھائی! اس گروہ کے بارے میں کیسے گمان کیا جاسکتاہے کہ ان کی لڑائی ’’مسلمان مسلمان کی لڑائی ‘‘ہے۔ یہ خط بہت زیادہ طوالت کا متحمل نہیں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ دجالی ماحول میں دین کا صحیح فہم از حد مشکل ہے۔ اس لیے ہم آپ لوگوں سے استدعا کرتے ہیں کہ ایک بار چند دن کے لیے ہی صحیح آئیے ،غالب گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ برسوں کا فہم لمحوں میں عطا کردے گا، ان شاء اللہ ،صرف نکلنے کی دیر ہے! یہ تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں ۔
اب ہم خصوصی طور پرپاکستان کی افواج کے چند کرتوتوں کا ذکر کیے دیتے ہیں جن سے ان کا ارتداد روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتاہے ۔فقہائے کرام نے لکھا ہے :’’جس نے مسجد کی بے حرمتی کی وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے کیونکہ مسجد اللہ کا گھر ہے ‘‘۔حالیہ دنوں میں پاکستان کی افواج نے امریکہ کی دوستی کی خاطر قبائلی علاقوں میں سینکڑوں مساجد کی بے حرمتی کی اور انہیں شہید کیا۔ اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے لے کرپورے قبائل ان کی سیاہ کاریوں سے بھر ے پڑے ہیں ۔انہوں نے مہمند ایجنسی کی ’قندھارو‘ کی مسجد ،اسی علاقے کے دو مدرسے اور ان میں موجود قرآن پاک کے نسخے شہید کیے ۔تحصیل صافی کے آزاد خیل گاؤں کی مسجد کو اس فوج نے مائن اور بارود لگاکر بلاسٹ کیا ۔’قندھارو ‘کے علاقہ ہی میں اکرم بیگ کی جامع مسجد کو فوج نے ٹینک سے ہِٹ کرکے گرایا۔مہمند ایجنسی ہی کی کئی مساجد و مدارس پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی اور انہیں تباہ کیا۔اسی طرح تحصیل یکہ غنڈمیں کئی مدارس اور مسجدوں کو ٹینکوں کے ذریعے ملیامیٹ کیا ۔اسی طرح باجوڑ ، شمالی وزیرستان ،اورکزئی،کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں مساجد و مدارس شہید کیے گئے ۔ سوات میں فوج نے امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان سے بڑھ کر جبر وا ستبداد کی تاریخ رقم کی اور تحصیل چہار باغ میں متعدد مساجد و مدارس کو اڑادیا۔ ان فوجیوں نے خوازہ خیلہ کے ایک مدرسہ کو فوجی چھاؤنی بنادیااور چہار باغ کے ایک مدرسہ کو جلادیا ۔اسی طرح انہوں نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر کیا، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو سرعام قتل کیا اور پاک دامن عورتوں کی عصمت دری کی۔ اسی طرح ہنگو کی مرکزی جامع مسجد ، اورکزئی، خیبر، باجوڑ کی مساجد و مدارس کو نشانہ بنانے سمیت ان کی چالیس سے زائد مساجد شہید کیں۔اسی طرح جنوبی وزیرستان میں سام، لالاژئے، سپنکئی رغزئی، اور دیگر علاقوں میں مساجد و مدارس پر بمباری کی او ر محسود قبائلیوں پرجہازوں اور توپوں سے گولے برساکر انہیں نکلنے پر مجبور کیا۔اس کے علاوہ شریعت چاہنے والے اور اس پر عمل کرنے والے سینکڑوں مجاہدین و علما کو گرفتار کر کے اپنی جیلوں میں بھرا۔
پاکستان کے حکمران اوران کے کارندے فوج اور ایجنسیوں کا ارتداد تو واضح ہے کیونکہ یہ یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے اتحادی ہیں ارشادِ ربّانی ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ (سورۃ المائدۃ:۵۱ )
’’ اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا ساتھی اور دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں تم میں جو کوئی ان کو اپنا دوست بنائے گا، اپنا ساتھی بنائے گا، وہ انہی میں سے ہے۔‘‘
امام قرطبی ؒ اس فرمانِ باری تعالیٰ کے ضمن میں ’وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ‘’’اور جو شخص تم میں سے انہیں دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہو گا‘‘ لکھتے ہیں کہ ’’جو شخص بھی مسلمانوں کے خلاف کافروں کی قوت و طاقت بڑھانے کے لیے کسی قسم کی مدد کر تا ہے تو[ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ]’’وہ بھی انہیں میں شمار ہو گا‘‘ گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح طور پر فرما دی کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو یہود و عیسائیوں کے ساتھ کیا جائے گا (یعنی قتال فی سبیل اللہ وغیرہ) وہ شخص کسی مسلمان کے مال میں و راثت کا حق دار نہ ہوگا اور اس کے مرنے کے بعد اس کا مال مسلمانوں میں تقسیم ہوگا اس لیے کہ وہ مرتد ہو چکا ہے ‘‘۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے’’ھو مشرک مثلھم‘‘یعنی ’’وہ انہیں کی طرح کامشرک ہے‘‘۔ امام جصاصؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ’’کافر مثلھم‘‘یعنی ’’(و ہ) اُنہی کی طرح کافر ہے‘‘۔ امام مظہریؒ لکھتے ہیں کہ’’أي: کافر منافق‘‘یعنی ’’وہ کافر اور منافق ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ(سورۃ آلِ عمران:۲۸)
’’مومن مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہیں بناتا یا مومن مومنوں کے مقابلے میں کافروں کو اپنا دوست نہیں بناتااور جو کوئی بھی ایسا کرے تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
امام ابنِ جریر طبری ؒ اپنی تفسیر طبری میں اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں’’فقد بريء من اللّٰہ‘‘ کہ جس شخص نے مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کا ساتھ دیا وہ اللہ سے بری ہو گیا‘‘۔ ’’وبرء اللّٰہ منہ‘‘یعنی ’’ا ور اللہ اس سے بری ہوگیا ‘‘۔’’بارتدادہ عن دینہ‘‘،اس فعل کی وجہ سے دین سے مرتد ہو گیا‘‘۔’’ودخولہ في الکفر‘‘یعنی ’’اور کفر میں داخل ہو گیا‘‘۔امام صاحب مزید لکھتے ہیں:’’اس آیت کا معنیٰ و مفہوم یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اہلِ ایمان کو منع کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ کافروں کو اپنا حمایتی اور مددگار نہ بناؤ ۔وہ اس طرح کہ تم ان سے دین کی بنیاد پر دوستیاں کرنے لگ جاؤ ، ایمان والوں کو چھوڑ کر (ایمان والوں ہی کے خلاف) کافروں کی مدد کرنے کے درپے ہو جاؤ اور کافروں کومسلمانوں کے خفیہ معلومات فراہم کرنے لگو ۔جو شخص ایسا کرے گا وہ دائرہ ٔ اسلام سے خار ج ہو کر مرتد ہوجائے گا‘‘۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُواالْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْن(سورۃ آل عمران :۱۰۰)
’’مومنو! اگر تم اہل ِکتاب کے کسی فریق کا کہا مان لوگے تو وہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں کے ۔ ‘‘
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْآ اٰبَآءَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّواالْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْن(سورۃ التوبۃ:۲۳)
’’ اے اہلِ ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو اُن سے دوستی نہ رکھو اور جو اُن سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔ ‘‘
امام قرطبی ؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اس آیت کا ظاہری معنیٰ یہ معلوم ہو تا ہے کہ اس آیت میں تمام ایمان والوں کو مخاطب کیا گیا ،اس آیت کا حکم قیامت تک کے لیے ہے اور حکم یہ ہے کہ اہلِ ایمان اور اہلِ کفر کے درمیان دوستی قطعًا جائز نہیں ہے‘‘۔
اور ایک جگہ ارشادِ ربانی ہے۔:
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُواالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰیٓ اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ (سورۃ آل عمران:۱۴۹)
’’مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں الٹے پاؤں پھیر (کر مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے ۔‘‘
سورۃ النساء کی آیت ۷۶ میں اللہ کا ارشاد ہے:
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِیَآئَ الشَّیْطٰنِج اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا
’’جو مومن ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں سوتم شیطان کے مددگاروں سے لڑو (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے۔ ‘‘
ایک اور جگہ ارشادِ ربانی ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْھُدَی الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْ وَاَمْلٰی لَھُمْ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِھُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَھُمْ (سورۃ محمد:۲۵،۶۲)
’’بے شک راہِ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد جو اپنے دین سے پھر گئے‘‘ یا’’ لوٹ کرکفر کی طرف چلے گئے ہیں‘‘( ارتداد کے مرتکب ہوئے ہیں)۔ شیطان نے (یہ کام) ان کو مزیّن کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ انھوں نے کہا:’’ان لوگوں سے جن کو اللہ کی نازل کردہ شریعت پسند نہیں تھی‘‘’’ہم عنقریب بعض باتوں میں تمہاری اطاعت کریں گے‘‘، اللہ ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے۔‘‘
یہ ایک آیتِ مبارکہ ہے جس میں ابھی عملاً اطاعت نہیں کی صر ف یہ کہا:سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَ مْرِ۔ ’’ ہم عنقریب بعض باتوں میں تمہاری اطاعت کریں گے‘‘ ان کے اس قول کی بناپر اللہ تعالیٰ نے انہیں مرتد قرار دیا یعنی وہ دین سے خارج ہو کر مرتد ہوگئے۔امام طبریؒ نے ان کے کفر کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:’’وہ اپنے اس قول کی سبب سے کا فر ہوئےسَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْر’’ ہم بعض امور میں تمہاری اطاعت کریں گے۔‘‘ ہمارے چھوٹے بھائی کو میری طرف سے بیٹے کی بہت بہت مبارک باد دینا اور اس سے کہنا کہ رزق تقویٰ کے ساتھ منسلک ہے اس لیے تمام قسم کی خرافات ، ٹی وی ، وی سی آر سے پرہیز کرے اور اللہ تعالیٰ سے رجوع کرے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت عطا کرے گا۔ آخر میں عرض یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے اوپر لکھا ہے اس کا بغور مطالعہ کیجیے کیونکہ ہدایت کا اصلی سرا پانا ہی سب سے بڑی نعمت ہے اور اسی کا انسان محتاج بھی ہے ۔حدیث میں سورۂ کہف ہر جمعے کوپڑھنے کی تاکید آئی ہے اور ہو نہ ہو کم از کم اسی کا خصوصی اہتمام کیجیے ۔اللہ تعالیٰ ان شاء اللہ حق کو حق اور باطل کو باطل کر کے دکھائے گا ۔
والسلام علیکم
آپ کا بھائی
1 قاری صاحب نے ایک خاص پیرائے میں یہ بات کی ہے، ایک عمومی نسبت تو وطن سے ہر کسی کی ہی ہوتی ہے، مراد قوم پرستی یا نیشنل ازم کا رد ہے۔ (ادارہ)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



