زندگی مسلسل جد و جہد کا نام ہے۔ ہرایک کا طرز زندگی اس کے طے کردہ مقصدِ زندگی کا آئینہ دار ہے۔ کسی کے نزدیک دنیاوی زندگی ہی سب کچھ ہے تو کوئی جانتے بوجھتے ہوئے بھی آخرت کو بھلائے بیٹھا ہے؛ دنیا کی چمک دمک اور رنگینیاں ہر ایک کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں اور ابن آدم اس فانی دنیا کے پیچھے سرپٹ بھاگنے میں مصروف ہے ۔ ایسے میں بہت ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو زندگی گزارنے کا صحیح ڈھنگ پہچان پائے ہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ محض اسلام کے بتلائے طریقے پر بسر کی ہوئی زندگی ہی کامیاب ہے۔ وہ رب العالمین کے اس فرمان عالی شان کی حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ اور دنیا وی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے1۔
شریعت کی پاسداری سے آزاد انسان کو دنیا کی محبت اندھا کردیتی ہے اور وہ حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر اندھا دھند اس حقیر دنیا کے سازو سامان کے پیچھے بھاگنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ دو اور دو چار کر نے میں ہی عمر بیت جاتی ہے اور نتیجہ میں موت کے بعد کی وحشت ناک تنہائیاں اور اللہ کا عذاب منتظر ہوتا ہے۔ لیکن ذرا سی عقل وسمجھ رکھنے والا دانش مند انسان خوب سمجھتا ہے کہ اس دنیا کی قدرو قیمت اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برا بر بھی نہیں۔ اگر اس کی وقعت اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ نصیب ہوتا۔
اللہ رب العزت نے انسان کو عدم سے وجود بخشا تو ساتھ ہی مقصد زندگی سے آشنا بھی کروایا۔ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ پس دنیامیں انسان کی آمد کا مقصد دنیا کمانا یا نام و نمود حاصل کرنا نہیں بلکہ ا یک بہت ہی عظیم الشان مقصد پیش نظر ہے اور وہ ہے رب تعالیٰ کی عبادت کرنا اور دنیاوی زندگی کے تمام شعبوں میں اسی کے احکامات بجالانا۔ پھر ان اوامر کواپنی ذات پر تو لاگو کرنا ہی ہے ساتھ ہی اپنے ماتحت اور خاص طورپر اپنی اولاد اور جن تک آپ کی رسائی ہے ان تک بھی پہنچانا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو بھی بحسن خوبی انجام دینا ہے۔
تمام عبادات میں، چاہےبدنی ہوں یا مالی، رضائے الہٰی پیش نظر ہونی چاہیے اور مقصود اصلی، آخرت کی زندگی کا کامیاب ہونا ہمہ وقت دل میں موجود ہو تو زندگی کو صحیح اسلامی طرز پر گزارنا آسان ہوجاتا ہے۔ زندگی جہد مسلسل کا نام ہے تو کیوں نہ اپنی کوششوں اور جد و جہد کو ایسے کاموں میں صرف کیا جائے جس سے دنیاوی زندگی بھی سنور جائے اورابدی زندگی کا سکون بھی نصیب ہوجائے۔
وقت کا کام تو ہے گزرجانا اور وقت کی سب سے بڑی خوبی بھی یہی ہے کہ اچھا ہو یابرا ہرحال میں گزرہی جاتا ہے تو یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیسے اپنے وقت کو قیمتی بناتے ہیں اور اپنی دنیا کو آخرت کے بنانے میں صرف کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ زندگی کو حصولِ دنیا کی دوڑ میں لگ کر گنوا دیتے ہیں لیکن ہمیں اس سے آگے بڑھنا ہے اور اپنی زندگی کو دنیا کے لہو لعب، کھیل تماشوں کی نذر نہیں کرنا اور نہ ہی خود کو حالات کے دھارے پر بہنے کے لیے چھوڑدینا ہے بلکہ ایک مضبوط عزم اور توانا ولولے کے ساتھ زندگی بِتانی ہے اور اس زندگی کو ایک دوسری زندگی کے بنانے میں صرف کرنا ہے۔ اور یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ جب زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی رضا مقصود ہو، دل و دماغ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کےتابع ہو اور خواہشات نفس کو شریعت کی ڈالی لگام نے تھام رکھا ہو۔
انسان کی سعادت اور فلاح و کامیابی اسی سے وابستہ ہے کہ تمام دنیاوی فکروں پر فکر آخرت غالب ہو اور ’’اللّٰھم لا عیش الّا عیش الآخرۃ‘‘ دل اور روح کی صدا ہو۔ دنیا کی بے وقعتی اور ناپائیداری کو قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں مختلف پیرائے میں اور مختلف انداز سے پیش کیا گیا ہے اوراس کے مقابلہ میں اپنی کوششوں اور کاوشوں کو حیات اخرویہ کے لیےصرف کرنےحکم دیا گیا ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے:
﴿وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ ۭ وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴾ (سورۃ الانعام: ۳۲)
’’اور دنیوی زندگی تو ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں اور یقین جانو کہ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے آخرت والا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے۔ تو کیا اتنی سی بات تمہاری عقل میں نہیں آتی؟‘‘
اسی طرح حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے:
’’کُنْ فِي الدُّنْيَا کَأَنَّکَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ.‘‘
’’دنیا میں اس طرح رہو گویا تم مسافر ہو یا راستہ طے کرنے والے ہو ‘‘۔
اس بات کی حقیقت تو میں اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ جب ہمیں کوئی سفر در پیش ہو اور سفر بھی لمبا ہو، منزل بھی دور ہو تو ہم میں سے ہر ایک اپنا انتہائی ضرورت کا سامان ساتھ رکھتاہے اور ہر وہ سامان جس کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر بھی ہم گزارہ کرسکتے ہیں اس کو چھوڑ دیتےہیں، وجہ یہی ہوتی کہ سامان کم ہو تو سفر آسان ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگر انتہائی ضرورت کا سامان بھی پاس نہ ہو تو سفر کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ پھر راستہ کے اعتبار سے بھی سیدھا اور آسان راستہ اختیار کرتے ہیں کہ جس میں منزل تک پہنچنا آسان ہو ۔بالکل اسی طرح دنیا کے مسافر کابھی حال ہے کہ آخرت کا لمبا سفر درپیش ہے دنیا میں رہنا ہے تو ایک مسافر کی طرح رہنا ہے کہ سفر میں درپیش مشکلات کاحل بھی کرنا ہے لیکن منزل کو سامنے رکھتے ہوئے کہ اصلی منزل تک پہنچنے میں کیا چیزیں مددگار ہوسکتی ہے اور راستہ کا تعین بھی ضروری ہے کہ اخروی منزل تک پہنچنے میں کون سا راستہ معین و مددگار ہوسکتا ہے ۔
رب کریم نے اپنے اس مسافر کی مشکل کو حل کرتے ہوئے راستہ کا تعین خود ہی کردیا۔ اے میرے بندو! ایک صراط مستقیم ہی ہےجس پر چلتے ہوئے تم اس سفر کو آسانی سے طےکر سکتے ہو، جس کے بعد کی منزل منزلِ حقیقی ہے اور یہی صراط مستقیم ہے جو کامیابی کا راستہ ہے۔ صراط مستقیم ہے کیا؟ تو اس کو بھی وضا حت سے بیان فرمایا کہ میرا یہ راستہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر میں نے انعام کیا اور یہ میرے انبیا، صدیقین اور شہدا کا راستہ ہے اور یہی واحد، سیدھا اور صاف راستہ ہے جو سیدھا منزل تک جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اگرچہ اللہ کے نیک بندوں کے احوال مختلف ہیں لیکن ان میں بھی قابل رشک وہ ہیں جو دنیا کے سازو سامان کے اعتبار سے بہت ہلکے ہیں البتہ عبادات و اطاعات میں ان کا ایک خاص حصہ ہے؛ لیکن وہ اللہ کے ایسے گمنام بندے ہیں کہ کوئی ان کی طرف انگلی اٹھا کر نہیں کہتا کہ یہ فلاں بزرگ ہیں اور ان کی روزی بقدر کفاف ہے لیکن وہ اس پر دل سے صابر اور قانع ہیں۔ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اس حال میں کہ پیچھے زیادہ سامان نہیں کہ جس میں جھگڑے ہوں؛ بالکل ایک دم سے رخصت ہوجاتے ہیں اور نہ ان پر زیادہ رونے والیاں ہوتی ہیں۔…… بلاشبہ اللہ کے ایسے نیک بندوں سے دنیا خالی نہیں ہے یہ الحمدللہ آج بھی پائے جاتے ہیں۔
دنیاوی زندگی ہو اور مشکلات بھی نہ ہوں ایسا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ دارالامتحان ہے۔ امتحان گاہ تک پہنچنے سے پہلے انسان بہت محنت سے امتحان کی تیاری کرتا ہے اور رات دن ایک کرکے امتحان کی تیاری کرتا ہے کہ کہیں کسی پرچہ میں رہ نہ جاؤں ۔ذہن میں متعددسوالات گردش کرتے رہتے ہیں اور امتحان گاہ تک پہنچنے سے پہلے نجانے کتنی راتوں کی نیندیں اسی جدو جہد میں صرف ہوجاتی ہیں کہ تھوڑا اور پڑھ لوں، یہاں سے پڑھ لوں، یہاں سے دیکھ لوں، ہوسکتا ہے یہاں سے سوال آ جائے…… اسی کشمکش میں وقت امتحان آپہنچتا ہے؛ جب تک پرچہ ہاتھ میں نہیں آجاتا دل عجیب سی بے چینی کا شکا رہتا ہے۔ اب اگر پرچہ صحیح حل ہو بھی گیا تونتیجہ کا انتظار دل کو بے چین کیے رکھتا ہے…… غرض یہ کہ ہر دوصورت میں انسان کسی نہ کسی پریشانی کاشکاررہتاہےاورمستقل جدوجہد کا سامنا ہوتاہے۔
لیکن دنیا ایک ایسا دارالامتحان ہے جس کے ممتحن اللہ تبارک وتعالیٰ ہیں، سوالات صاف اور واضح ہیں، صرف سوالات ہی نہیں جوابات بھی موجود ہیں گویا حل شدہ پرچہ سامنے ہے اور وہ بھی بغیر کسی مشکل کے کہ جس کے لیے کسی کی سفارش کی ضرورت پڑی ہو نہ کسی کی مدد کی اور اس سب سے بڑھ کر نتیجہ بھی موجود ہے کہ اگر ان سوالات کو درست حل کرتے ہو زندگی کو اس کے مطابق گزارتے ہو تو کامیابی مقدر ہے وگرنہ بصورت دیگر زندگی کا یہ سفر کٹ تو جائے گا لیکن اخروی کامیابی ناکامی میں بدل جائے گی پھر جس میں رد وبدل کا کوئی امکان نہیں اور وہ ہمیشگی کی زندگی ہوگی۔
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عقل مند تو وہی شخص ہے جس نے اپنے نفس کو تابع کرلیا اور بعد کے لیے عمل کیا اور نادان بے وقوف وہ شخص ہےجو اپنے نفس کے تابع ہوا اور اللہ پر جھوٹی آرزویں باندھتا رہا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ حاسبو قبل ان تحاسبوا کہ اپنا محاسبہ کروقبل اس کے تمہارا حساب لیا جائے۔
زندگی کے ہر معاملہ میں انتہائی احتیاط کا پہلو پیش نظر ہونا چاہیے، چاہے عبادات سے متعلق ہو یا معاملات سے متعلق، مقصودِ حقیقی رب العالمین کی رضا ہو، آخرت کی کامیابی ہو۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون ایسا ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ وارثوں کا مال محبوب ہو؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہم میں سے ہر ایک کا یہ حال ہے کہ اس کو اپنا مال وارثوں کے مال سے زیادہ محبوب ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ آدمی کا مال بس وہی ہے جو اس نے آگے چلتا کردیا اور جو پیچھے رہ گیا وہ اس کا نہیں اس کے وارثوں کا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ مال کو جمع کر کے رکھنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ اپنے مال کو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خیر کے کاموں میں خرچ کیا جائے تاکہ جب ہم اپنی منزل حقیقی پرپہنچیں تو ہمارے استقبال کے لیے ہمارا مال ہمارا منتظر ہو۔ اگر خرچ نہیں کیا اور جمع کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے تواب اس مال میں ہمارا کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ ہمارے کسی کام آئےگا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص دنیا کو اپنا مطلوب و محبوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا۔ جب دنیا اور آخرت میں سے ایک کو اختیار کرنے میں دوسرے کا نقصان لازم ہے تو دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ آخرت کو محبوب رکھا جائے کیونکہ دنیا فنا ہوجانے والی ہے اور آخرت ابقی ہے، باقی رہنے والی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى2 لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے۔
ہم آخرت کے مسافر ہیں، دنیا ہماری ضرورت ہے ،اس دنیاوی زندگی کو ضرورت سمجھ کر گزاریں نہ کہ ضروری سمجھ کر۔معلوم ہونا چاہیے کہ مقصد زندگی اللہ رب العزت کی بندگی ہے اور اور مقصد حیات اللہ رب العزت کی یاد ہے۔
انسان کا دنیا میں آمد کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہی ہےکہ رب العالمین کی بندگی ہو عبادت ہو اطاعت رسول ہو اوردنیا میں رہتے ہوئے زندگی گزارتے ہوئے اپنی جد وجہد کو اللہ کی رضا کے لیے خاص کردے، ہر معاملہ میں، چاہے داخلی زندگی سے متعلق ہو یا خارجی زندگی سے، اللہ کے حکموں کی حفاظت ہو تو یہ کامیابی کی ضمانت ہے اور مقصد زندگی بھی یہی ہے کہ ہمارا اللہ ہم سے راضی ہوجائے اور ابدی زندگی کا لازوال سکون ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میسر آسکے ۔
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
٭٭٭٭٭
1 سورۃ آل عمران: ۱۸۵
2 سورۃ الاعلیٰ: ۱۶، ۱۷






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



