فتنہ الحاد
اسلام ترک کر کے مرتد ہو جانے والا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر گستاخانہ مواد شئیر کر کے اپنی شناخت بنانے والا اویس اقبال اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھتا ہے :
’’ یکم جولائی 2023ء کی رات فیملی سمیت جب امریکہ جانے کے لیے لاہور ائیرپورٹ پہنچا تو جنگ کے کرائم رپورٹر کا میسج آیا کہ اویس بھائی آپ کا نام سٹاپ لسٹ میں ہے اندر مت جائیے گا۔میرے ہاتھ پاوں پھول گئے۔ ایک حکومتی شخصیت کو میسج کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سٹاپ لسٹ سے اتنی جلدی نام نکلوانا تو ممکن نہیں چلیں میں کچھ کرتا ہوں۔اور پھر جو انہوں نے کیا میں آج تک ان کا ممنون ہوں۔انہوں نے ایف آئی اے کے ایک افسر سے میرا رابطہ کروایا جس نے ائیرپورٹ کا انٹرنیٹ پانچ منٹ کے لیے منقطع کروا کے مجھے مینوئل طریقے سے کلئیر کروا دیا۔‘‘
ملحدین اور بدترین گستاخوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے ایسے افراد کی تعداد آج بکثرت حکومت، بیوروکریسی، عدلیہ ، صحافت سمیت تقریباً ہر شعبہ زندگی موجود ہے جو کسی اور مغربی ملک سے نہیں آئے بلکہ یہیں مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے ہیں، خود کو کلمہ گو اور مسلمان بھی کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں لیکن ان ملحدین اور گستاخوں کی سپورٹ میں سامنے آنے سے نہیں ہچکچاتے۔ پھر یہی افراد کب خود اعلانیہ ملحد اور گستاخ بن جائیں یہ بھی کسی کو معلوم نہیں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ آخر اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں جہاں اکثریت آبادی مسلمان ہے، اس معاشرے میں یہ کیسے ممکن ہوا ہے؟
ڈی ڈبلیو نے جولائی 2022ء میں ’’سینٹر فار پیس اینڈ جسٹس‘‘ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ قومی ادارے نادرہ سے شناختی کارڈ حاصل کرنے والے غیر مسلم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر اپنی کم از کم بھی سترہ مختلف شناختیں ظاہر کر رکھی ہیں۔ ان میں سے ایک ایسی اقلیت بھی ہے، جو اعلانیہ ملحد ہے۔ نادرہ کے ریکارڈ میں ایسے 14 سو سے زائد پاکستانی درج ہیں، جنہوں نے خود کو ‘ایتھیئسٹ‘ یا ملحد ظاہر کر رکھا ہے اور یہ بات ان کے قومی شناختی کارڈز پر بھی لکھی ہے۔
بی بی سی نے پاکستانی ملحدین سے انٹرویو کیے جس میں انہوں نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بہت سے انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آن لائن گروپ میں ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں اور جعلی شناخت کا استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے ایسے پاکستانی جو ملحد ہیں، چھپ کر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ لاہور کے ایسے ملحد محفوظ نجی مکانوں میں خفیہ طور پر ہر ماہ ملتے ہیں۔
ان میں سے ایک شخص نے بتایا:
’’یہ ایک خفیہ کمیونٹی ہے، جہاں ہم بات کر سکتے ہیں۔ یہاں ہر طرح کی بات ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ آزادانہ طور پر وو کہہ سکتے ہیں جہ کہنا چاہتے ہیں۔‘‘
بی بی سی کے مطابق الحاد پرستوں کی ایسی خفیہ میٹنگز میں حصہ لینے والے ایسے بیشتر افراد کا تعلق شہر سے ہوتا ہے جو انگریزی میں آسانی سے بات کر سکتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کا تعلق مراعات یافتہ طبقے سے ہے لیکن کچھ لوگوں کا تعلق دیہی علاقوں سے بھی ہے۔
سنگین گستاخیوں پر مبنی بھینسا فیس بک پیج کا معاملہ 2017ء میں سامنے آیا تھا۔ جن میں چند ایک گرفتاریاں بھی ہوئیں جبکہ کچھ افراد کو بیرون ملک فرار کروا دیا گیا۔ انسانی حقوق کے سیکولر ایکٹوسٹ ان افراد کو آج تک ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور ان کے لیے آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد بھی ایف آئی اے ایسے ملحدین کے کیسز کافی بڑی تعداد میں رجسٹر کر چکی ہے جو سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پھیلانے میں ملوث رہے۔ چند کیسز تو ایسے بھی ہیں جن کی تفصیلات بیان کرنے کی ہمت نہیں ہو پاتی۔ غلاظت میں لتھڑے قرآن مجید کے نسخوں کو عدالتی ثبوت کا حصہ بنا کر انہیں ویسے غلاظت کے ساتھ محفوظ کیا گیا تھا۔ بجائے اس کے کہ صحافتی اصولوں کی بنیاد پر معاملے کی تفتیش ہو ہر دفعہ سیکولر طبقہ چاہے وہ پارلیمنٹ میں ہو یا عدلیہ میں ہو یا نیوز چینلز پر ان کیسز میں مجرمین کو معصوم اور مظلوم ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ میڈیا پر ان ملحدین کی حمایت اور دوسری جانب یورپی ممالک اور امریکہ کی جانب سے دباؤ کے نتیجے میں پاکستان میں ہر آنے والی حکومت ایسے اقدامات لیتی آئی ہیں جن سے ان ملحدین اور گستاخوں کے ٹولے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
گستاخیوں کی روک تھام کے بجائے حکومت کے متضاد اقدامات
مولانا محمد اعجاز مصطفی لکھتے ہیں:
’’ہر آنے والے نے ہمیشہ دینِ اسلام کے نفاذ میں نہ صرف یہ کہ پہلو تہی کی، بلکہ دینِ اسلام کے بارہ میں آئین میں درج دفعات کو بھی آئین سے نکالنے اور اُنہیں غیر مؤثر کرنے میں کوئی کسر اور کمی نہیں چھوڑی ۔ لگتا یوں ہے کہ ہر حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے استعمار سے یہ وعدہ کر کے آتی ہے کہ آئین میں موجود اسلامی شقیں خصوصاً ناموسِ رسالت کے تحفظ کے قانون کو تبدیل کرے گی، اگر تبدیل نہ ہوا تو اس کو غیر مؤثر تو ضرور کرے گی، یہی وجہ ہے کہ ہر حکومت اس قانون کو چھیڑنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن جب عوامی ردِ عمل سامنے آتا ہے تو پھر ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ کے مصداق پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے! اگر کوئی مجرم جرم کرتا ہے تو ہر آدمی کو یہ اختیار ہے کہ وہ جائے اور تھانے میں اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دے، لیکن اگر کوئی موہن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی نبی یا قرآن کریم کی توہین کرتا ہے تو قانون بنایا گیا ہے کہ الزام لگانے والا پہلے ڈپٹی کمشنر یا کسی اور مجاز افسر کو درخواست دے، اگر متعلقہ افسر اس کی تصدیق کرے کہ واقعی اس جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے تو پھر الزام لگانے والا ایف آئی آر کٹوا سکتا ہے اور اس کی کارروائی آگے چل سکتی ہے، ورنہ نہیں۔ پاکستان میں کون سا ایسا جرم ہے کہ جس کی رپورٹ کے لیے ڈپٹی کمشنر یا کسی اور کی پیشگی منظوری کو شرط قرار دیا گیا ہو؟ قانونِ توہینِ رسالت کے جرم کو اس شرط کے ساتھ مشروط کرنا جہاں اس قانون کو غیر مؤثر کرنے کی غیر مرئی کوشش ہے، وہاں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ صریح غداری کے بھی مترادف ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں صدر، وزیر اعظم یا کسی بڑے عہدے دار کی توہین دست اندازیِ پولیس کے دائرے میں آتی ہے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو دست اندازیِ پولیس کے دائرے سے نکال دیا گیا ہے اور اس پر عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔‘‘1بینات شمارہ مارچ 2021
الحادی تحریکوں کے لیے امریکی سرپرستی
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ آزادئ مذہب کے نام پر امریکہ دنیا بھر میں گمراہ فرقوں سمیت الحادی تحریکوں کو بھی سپورٹ کر رہا ہے اور انہیں باقاعدہ فنڈ کرتا ہے۔ امریکی کانگریس میں بھی اس فنڈنگ پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ دنیا بھر میں الحادی تحریکوں کو فنڈ کرنے کی وجوہات کیا ہیں اور یہ کیوں ضروری ہے ؟ 2023ء میں ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میکاول (رپبلکن، ٹیکساس)، سب کمیٹی برائے گلوبل ہیلتھ، گلوبل ہیومن رائٹس اینڈ انٹرنیشنل آرگنائزیشنز کے چیئرمین کرس سمتھ (رپبلکن، نیو جرسی)، اور سب کمیٹی برائے اوور سائٹ اینڈ اکاؤنٹیبلٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ (رپبلکن، فلوریڈا) نے محکمہ خارجہ کے DRL کے ایکٹنگ اسسٹنٹ سیکریٹری ایرن بارکلے اور انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم کے ایمبیسیڈر اٹ لارج سے تحریری طور پر سوالات جمع کروائے۔ قانون سازوں نے لکھا:
’’اپنے 8 جون کے خط میں محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ DRL اور Office of International Religious Freedom (IRF) کسی بھی ایسے ادارے کو فنڈز فراہم نہیں کرتے جس کا مقصد مخصوص مذہبی نظریات یا عقائد کو فروغ دینا ہو۔ لیکن یہ بیان خود NOFO کی زبان سے براہ راست متصادم ہے، جو واضح طور پر بتاتی ہے کہ فنڈڈ پروگراموں کا مقصد متعلقہ ممالک میں دہریوں (Atheists) کی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔ ہم ایک بار پھر یہ پوچھتے ہیں کہ امریکہ کے مفاد میں بیرونِ ملک (Atheism) کو فروغ دینا کیوں ضروری ہے، اور محکمہ کیوں اس غلط فیصلے پر روشنی ڈالنے والی بعض دستاویزات فراہم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔‘‘
اس حوالے سے نیویارک پوسٹ نے مئی 2024ء میں ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق ریپبلکن کانگریس ارکان (مائیکل میکاول، کرس سمتھ اور برائن ماسٹ) نے امریکی محکمہ خارجہ پر الزام لگایا کہ اس نے ٹیکس دہندگان کے 5 لاکھ ڈالرز کو Humanists International نامی تنظیم کو بطور گرانٹ دیا، جس کا مقصد بیرونِ ملک (خاص طور پر نیپال اور جنوبی ایشیا میں) دہریت (Atheism) اور ہیومنزم کو فروغ دینا تھا۔ محکمہ خارجہ اس گرانٹ کو ’’مذہبی آزادی‘‘ کے پروگرام کے طور پر پیش کر رہا تھا اور انکار کرتا رہا کہ یہ atheism کو فروغ دے رہا ہے۔ ریپبلکن قانون سازوں کا کہنا تھا کہ یہ US Constitution کے Establishment Clause (حکومت کسی مخصوص مذہب یا عقیدے کو فروغ نہیں دے سکتی) کی خلاف ورزی ہے۔ ریپبلکن ارکان نے محکمہ کے رویے کو “obfuscation and denial” (دھوکہ دہی اور انکار) قرار دیا۔
ویزوں کے حصول کے لیے خود کو ہم جنس پرست اور قادیانی ظاہر کرنا
اب ہم ایک اور اہم مسئلے کی جانب آتے ہیں۔ وہ ہے دنیا پرستی کا فتنہ ۔ وہ دنیا جسے حاصل کرنے کی تگ و دو میں اپنے دین کو قربان کر دینا معمولی سمجھ لیا گیا ہے۔ بی بی سی کی شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ سنہ 2023ء میں (برطانیہ میں ویزوں کے حصول کے لیے) 3430 ایل جی بی ٹی دعوؤں پر ابتدائی فیصلہ ہوا تھا جبکہ 1400 نئے دعوے جنسی بنیادوں پر دائر ہوئے تھے۔ ان میں سے 42 فیصد پاکستانی شہری تھے۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ویزے کے حصول کے لیے قانونی مدد اور رہنمائی فراہم کرنے والا ایک ادارہ باقاعدہ لوگوں کو ترغیب دے رہا تھا کہ وہ اگر خود کو ہم جنس پرست ظاہر کریں تو انہیں اس بنیاد پر برطانیہ میں اسائلم مل سکتا ہے۔ یعنی بہت سے لوگ جو ہم جنس پرست نہیں ہیں وہ بھی فقط ویزے کے حصول کے لیے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ معاملہ کاغذ میں ایک جگہ ہم جنس پرست ہونے کے اندراج تک محدود نہیں ہے بلکہ برطانوی امیگریشن حکام اس کے لیے مکمل چھان بین کرتے ہیں ۔ویزے کا امیدوار ہم جنس پرست ہونے کے ثبوت کو ظاہر کرنے کے لیے ہم جنس پرستوں کی تقریبات میں شرکت کی تصاویر انہیں فراہم کرتا ہے اور اپنے پارٹنر کو بھی پیش کرنا ہوتا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک شخص جو ہم جنس پرست نہیں تھا اس نے پہلے ہم جنس پرستی کی بنیاد پر ویزہ حاصل کیا پھر اپنی بیوی کو برطانیہ بلانے کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال کیا اور اسے بھی ہم جنس پرست ظاہر کیا۔
اسی طرح ایسی بھی رپورٹس ہیں کہ بہت سے لوگ قادیانی ہونے کا دعوی کر کے اور اپنی جان خطرے میں بتا کر بھی ویزے کا حصول ممکن بناتے ہیں۔ ان رپورٹس کو میں پراپیگنڈہ ہی سمجھتا اگر میں نے بہت سے دارالافتاء میں اس مسئلے کے متعلق نہ پڑھا ہوتا۔ یعنی مسلمان بڑی تعداد میں آج بھی دارالافتاء اور مفتیان کرام کے پاس یہ مسئلہ لے کر جاتے ہیں کہ کیا ہم ویزے کے حصول کے لیے خود کو قادیانی ظاہر کرسکتے ہیں؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آنا ہے کہ ان کی فکر مندی کا محور ان کے پیٹ ہوں گے اور ان کے شرف و عزت ان کا سازو سامان ہو گا ، ان کا قبلہ ان کی عورتیں ہوں گی ، ان کا دین دینار و درہم ہوں گے ، یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے ، اللہ کے ہاں ان کا کوئی حصہ نہیں۔2کنزالعمال 193/11
امام قرطبی رحمہ اللہ کا قول ہے:
’’یقیناً فتنے واقع ہوں گے، یہاں تک کہ دین کا معاملہ ہلکا (کمزور) ہو جائے گا اور اس کے معاملے کی پرواہ کرنا کم ہو جائے گا، اور کسی شخص کو اپنی دنیا کے معاملے کے سوا کسی چیز کی پرواہ نہیں رہے گی۔‘‘3فتح الباري (٧/٨٢)
علامہ صنعانی فرماتے ہیں:
’’لوگوں کے درمیان زیادہ تر فتنے اور انتشار صرف دنیاوی مطالبات اور خواہشات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘4مسئلہ رفع التباس، صفحہ 79
مادہ پرستی اور دنیا کے پیچھے بھاگتے رہنے اور اس کے حصول کو کامیابی سمجھ لینے کی بنیاد ڈالنے میں قصور صرف ہمارے تعلیمی نظام کا بھی نہیں ہے بلکہ اس تربیت کا بھی جس میں دنیاوی تعلیم کو ترجیح اور اہمیت حاصل ہے جبکہ دینی تعلیم اور عقائد ثانوی درجہ سمجھے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہی ہے کہ جب ایسی بنیاد اور عقائد رکھنے والے انسان کو اپنی دنیا اور دین میں کسی ایک شے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے تو اس کا انتخاب ہمیشہ دنیا ہوتی ہے اور اپنا دین قربان کرتے اسے کچھ غلط محسوس نہیں ہوتا۔
مغربی تہذیب اور نظام تعلیم کا تعلق
سلمان آصف صدیقی پاکستان میں قائم ایک غیر سرکاری تعلیمی ادارے ایجو کیشنل ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹر کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں ۔ یہ سنٹر پاکستان میں والدین اور اساتذہ کی تربیت اور ان کے لیے رہنما موادتیار کرنے یا میٹیریل ڈویلپمنٹ کا ادارہ ہے۔ سلمان آصف صدیقی پاکستان کے موجودہ تعلیمی نظام کے ناقد ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ نظام تعلیم اب فہم، تربیت یا روزگار کا وعدہ پورا کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے اور تعلیم کو محض ایک کاروباری صنعت بنا دیا گیا ہے۔ یہ نظام حقیقی صلاحیتوں کے بجائے صرف یادداشت اور نمبروں کی گیم پر چلتا ہے۔ غیر مانوس زبان میں تعلیم دینے سے فہم ختم اور رٹہ پروان چڑھتا ہے۔ یہ نظام بچوں کی فطری صلاحیتوں اور تجسس کو ابھارنے کے بجائے انہیں پابند کرتا ہے۔ اس طرح بچے سیکھنے سمجھنے کے فطری عمل سے دور ہو جاتے ہیں۔
ایک جگہ جدید مغربی تہذیب اور نظام تعلیم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جدید مغربی تہذیب نے بڑی کامیابی سے لوگوں کو یہ مقصد اور آرزو عطا کی ہے کہ وہ اپنی عمر میں حصول آسائشات اور معیار زندگی کو بلند رکھنے کی جدوجہد میں کھپا دیں۔ اس آرزو کی تکمیل کی خاطر جدید تعلیم وہ افراد تیار کرتی ہے جو ان مصنوعات کو بنانے، ایسی مزید ایجادات کرنے، ان کی عظمت بیان کرنے، انہیں بیچنے، خریدنے اور استعمال کرنے میں مصروف عمل ہوں۔ یہ افراد ایسے اداروں میں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں جو اس سارے عمل میں وسائل فراہم کریں یا کسی بھی طور اس کی معاونت کریں۔ ترقی کی لگن جدید تعلیم یافتہ انسان کو مستقل خوب سے خوب تر کی تلاش میں آگے بڑھتے رہنے اور سابقہ چیزوں سے بیزار ہونے پر آمادہ کرتی ہے۔ عہد حاضر کی رفتار اور رعنائیوں کے علت و معلول کا ضابطہ فطرت فرد کے انتخاب اور اس کے نتائج کے حوالے سے انسان کی نگاہ میں دھندلا دیا ہے۔ یعنی وہ جدید دنیا میں پیدا ہونے والے مسائل کو اپنے اعمال یا انفرادی انتخاب کے نتیجے کے طور پر نہیں دیکھ پارہا۔ ترقی کی دور میں سرگرداں وہ اس بات کا جائزہ لینے سے قاصر ہے کہ اس کے اعتبار کے غلط اور غیر ذمہ دارانہ استعمال سے کیا تباہی واقع ہو رہی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم یافتہ انسان سربراہان مملکت کے انتخاب کا حق حاصل کرنے کا تو خواہشمند ہوتا ہے لیکن اپنے عمل کے شعوری انتخاب کی ذمہ داری نبھانے سے غافل رہتا ہے۔ اس کے لیے نفس پر قابو پانا اور اپنے اختیار کا بامعنی استعمال کرنا آسان کام نہیں۔ اس کا طرز زندگی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے ماتحت اداروں کے جال میں پھنسا رہتا ہے۔‘‘5طرز زندگی ؛ اپنے ایمانی تناظر میں ص 39
مغربی تعلیم کی زہر ناکی
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اس ملک و قوم کے ذہین کھاتے پیتے گھرانے کے نوجوانوں نے مغربی تعلیم حاصل کی اور عوام اپنی اسی حالت پر رہے۔ وہ اسی ورثہ کو سینے سے لگائے رہے، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نیا تعلیم یافتہ طبقہ عوام کے تصورات اور عوام کے احساسات و جذبات سے اتنا بیگانہ بن گیا کہ جیسے ایک نئی قوم پیدا ہوتی ہے ۔ یعنی دو نئی قومیں پیدا ہو گئیں اور دوسری مصیبت یہ کہ اس جدید تعلیم یافتہ طبقے نے محسوس کیا اور تجربوں کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتا ہے اور قیادت باقی رکھنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ عوام کے اس دینی جذبے کو اتنا گرا دے یا اتنا کمزور کر دے کہ وہ اس کے راستے میں مزاحم نہ ہو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے تعلیم کے ذریعہ ، ابلاغ کے ذرائع کے ذریعے ، صحافت کے ذریعے، ادب اور لٹریچر کے ذریعے یہاں تک کہ شاعری کے ذریعے عوام کی اس دینی حمیت ، اس اسلامی غیرت کو اور ان کی اس ذکاوت کو ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔‘‘6نظام تعلیم :مغربی رجحانات اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ، ص 15
تعلیمی اداروں میں فحاشی و عریانی کا فروغ
پاکستان میں الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر فحاشی کے سیلاب نے جہاں پورے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہاں مخلوط تعلیمی نظام نے نوجوان نسل کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی تعلیمی ادارے کا سکینڈل منظر عام پر آتا ہے جہاں ایک شخص درجنوں اور کہیں کیسز میں سینکڑوں طالبات کی آبرو داغدار کرنے میں ملوث ہوتا ہے۔ اور پھر جلتی پر تیل کا کام یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات اور جسم فروشی کے کلچر کو پاکستان کی ایجنسیاں اور سکیورٹی ادارے اپنے مذموم مقاصد کے لیے فروغ دیتے ہیں۔ حال ہی میں کراچی کے ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے اپنے ویلاگ میں انکشافات کیے ہیں کہ کراچی گلستان جوہر کے علاقے میں پولیس خواتین ٹیچرز کے ذریعے کم عمر لڑکوں کو ٹریپ کرتی ہے، ان کی ویڈیوز بن جاتی ہیں تو اس کے بعد پولیس کی بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی کام بیوٹی پارلرز کے ذریعے بھی کیا جا رہا ہے ۔ کچھ بلیک میل ہو کر پیسے دیتے رہتے ہیں اور جو پیسے نہیں دے سکتے ان سے کہا جاتا ہے کہ فلاں امام مسجد کو قتل کرو۔ اسی طرح کئی دوسرے کیسز کے متعلق بھی بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر لکھ چکے ہیں کہ کم عمر بچوں کو باقاعدہ ٹریپ کیا جاتا ہے اور پھر بلیک میلنگ کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اب یہاں سوچنے کی بات ہے کہ ایسے ایسے فتنے دیکھنے کو ملتے ہیں جس میں اچھے بھلے سمجھدار لوگوں کی عقلیں ماؤف ہو جاتی ہیں تو ان معصوم ذہنوں میں کیا یہ قابلیت ہو گی کہ وہ ان کا سامنا بغیر تیاری کر سکیں ؟
ایک سائیکالوجسٹ ایک کیس کے متعلق بتاتے ہیں کہ ایک طالبہ کی والدہ ان کے پاس اپنی بیٹی کے نفسیاتی علاج کے غرض سے آئیں۔ وہ سائیکالوجسٹ کافی سوال و جواب کے بعد اس طالبہ کا مسئلہ سمجھ پائے۔ بقول ان کے طالبہ کی کلاس فیلوز اس طالبہ کو فقط اس لیے مذاق کا نشانہ بناتی تھیں کہ اس کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے حتی کہ اسے ہم جنس پرست مشہور کر دیا گیا۔ اس کا طالبہ کو اتنا صدمہ ہوا کہ اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ کالجوں یونیورسٹیوں میں بے حیائی کا معاملہ اب کتنا نارملائز ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے لگائیے کہ ایک دفعہ لاہور کے ایک تعلیمی ادارے کی لڑکی سینکڑوں طلبہ و طالبات کے سامنے ایک دوسرے لڑکے کو پھول دے کر پروپوز کرتی ہے وہ اسے گلے لگاتا ہے یہ منظر وہاں موجود تمام لڑکے لڑکیاں موبائل کیمروں سے محفوظ کرتے ہیں اور پھر یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر ہوتی ہے۔ بے حیائی کے اس لیول کا اندازہ لگائیں کہ وہاں موجود سینکڑوں طلبہ و طالبات میں کوئی ایک ایسا نہیں تھا جو اس بے حیائی پر انہیں ٹوکتا۔
آج اولاد کی تربیت کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ ان میں دور حاضر کے فتنوں اور برائیوں سے دفاع کی سمجھ بوجھ پیدا کی جائے۔ اسلام کے متعلق ان کا طرز عمل معذرت خواہانہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب عقائد کی مضبوطی کے لیے بچوں کی تربیت پر شروع ہی سے خصوصی توجہ دی گئی ہو۔ سب سے پہلے ہم خود بھی فتنوں کو بروقت پہچاننے والے بنیں اور خود کو اور اپنی اولاد کو فتنوں سے بچانے کے لیے اللہ سے مانگتے رہنے کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں۔ اور یہ حقیقت اپنی اولاد کے ذہنوں میں اچھی طرح راسخ کریں کہ ہمارے ایمان, اللہ اور اس کے سچے رسول ﷺ کے حکم سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ہو سکتی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ (سورۃ ّآل عمران: ۸)
’’ (ایسے لوگ یہ دعا کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما۔ بیشک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جو بےانتہا بخشش کی خوگر ہے۔ ‘‘
سید قطب شہید رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ان کا اپنے رب کے ساتھ یہ تعلق ہے، اور یہ ایسا تعلق ہے جو ایک صحیح مومن کا ہونا چاہئے، جو اللہ کے کلام اور اللہ کے عہد پر پورا بھروسہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے صحیح شعور کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے، خصوصاً اس وقت جب ایک مومن اللہ کی قضا و قدر پر پختہ یقین بھی رکھتا ہو اور اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں موجزن ہو۔ اور ایک مومن نہ غافل ہوتا ہے، نہ مغرور ہوتا ہے، نہ اپنے روز و شب میں کبھی اپنے فرائض بھولتا ہے۔ قلب مومن کی ضلالت اور گمراہی کے بعد دولت ایمان ملنے کی بڑی قدر دانی ہوتی ہے ۔ اور کسی دھندلے تصور کے بعد اپنی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھ لینے کی اس کے دل میں بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ اور حیرانی و پریشانی کے بعد راہ راست پانے سے اسے شعور ہوتا ہے ۔ خلجان اور بے یقینی کے بعد اطمینان پانے پر وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے، وہ دنیا کی تمام غلامیوں سے آزاد ہو کر ایک اللہ کی غلامی میں داخل ہو کر پرمسرت ہوتا ہے اور اسے یہ شعور ہوتا ہے کہ دولت ایمان دے کر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت کچھ دے دیا ہے…… اس لیے وہ دوبارہ گمراہی کی راہ سے بہت ہی ڈرتا ہےج، چونکہ وہ راہ راست پر آ چکا ہوتا ہے اس لیے دوبارہ گمراہی کے نشیب و فراز اور تاریک راہوں میں پھنس جانے سے بہت خوف کھاتا ہے ، وہ یوں ڈرتا ہے جس طرح وہ شخص جو ایک خوش گوار موسم میں گھنی چھاؤں میں بیٹھا ہو تو جھلسا دینے والی گرمی اور بےآب وگیاہ صحرا کے تصور سے بھی ڈر رہا ہو، حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی قدر اور ذوق یقین وہی شخص پا سکتا ہے جس نے بدبختی کے کڑے دن اور الحاد و زندگی کی ذہنی خشکی کے دن دیکھے ہوں ۔ ایسا ہی شخص اچھی طرح اندازہ کر سکتا ہے کہ بے دینی، گمراہی اور فسق و فجور کی زندگی کے مقابلے میں ایمانی زندگی کے اندر کس قدر مٹھاس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مقامات پر ایک مومن ایسے خضوع و خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا……’اے ہمارے رب ! راہ ہدایت دکھانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کردیجیو‘۔ یہ پکارتے ہیں کہ انہیں گمراہی کے بعد ایک عظیم رحمت مل گئی ہے ۔ کہیں وہ لٹ نہ جائے، یہ ایک ایسا انعام ہے جس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہے ۔
وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ…… ہمیں اپنے خزانہ غیب سے رحمت عطا کر تو ہی فیاض حقیقی ہے‘۔ یعنی یہ لوگ اپنے شعور ایمان کے ذریعہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔ خود ان کے دل بھی ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں ۔ اس لیے وہ اپنی ہدایت اور نجات اخروی کے لیے بھی اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
’تمام دل اللہ رحمان کی دو انگلیوں کی گرفت میں ہیں، جب وہ دلوں کو سیدھا کرنا چاہے تو سیدھا کر دیتا ہے۔ اور جب وہ ٹیڑھا کرنا چاہے تو وہ ٹیڑھا کر دیتا ہے۔‘
اور جب ایک مومن کو صحیح طرح اس بات کا شعور حاصل ہوتا ہے تو وہ نہایت گرم جوشی کے ساتھ آستانہ درگاہ الٰہی کے ساتھ چمٹ جاتا ہے، اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کی معاونت اور توفیق کا طلب گار ہو جاتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کا طلبگار ہوتا ہے تاکہ وہ خزانہ محفوظ رہے، جو اس نے اس مومن کو عطا کیا ہے اور وہ کرم باقی رہے جن سے اسے نوازا گیا ہے۔ ‘‘7تفسیر فی ظلال القرآن
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
