نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home اسوۂ حسنہ

یہ غبار نہ چھٹنے پائے گا!

by انور العولقی
in اگست 2026ء, اسوۂ حسنہ
0

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں، سلامتی اور برکتیں ہوں ہمارے نبی محمدﷺ، ان کے صالح اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین پر۔

اللہ رب العزت قرآن عظیم الشان میں کفار کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ؀ (سورۃ الزخرف: ۳۱)

’’ اور کہنے لگے کہ : یہ قرآن دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ ‘‘

کفار مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر اعتراض تھا پس انہوں نے اپنی جانب سے دو افراد رسالت کے لیے تجویز کیے۔ مگر اللہ رب العزت فرماتے ہیں:

اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ (سورۃ الانعام:۱۲۴)

’’اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے۔‘‘

کفار کی طرف تجویز کردہ رسالت کے امیدواروں میں ایک عروہ بن مسعود ثقفی تھے، جن کا تعلق طائف سے تھا۔ برسوں بعد ایک معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات کرنے کے لیے کفارِ مکہ نے عروہ بن مسعود ثقفی کو بطور ایلچی نبیٔ مکرم محمد ﷺ کے پاس بھیجا، یہ معاہدہ بعد ازاں صلح حدیبیہ کے نام سے معروف ہوا۔ کفار کے نمائندے کی حیثیت سے جب عروہ بن مسعود حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرنے آئے تو انہیں محسوس ہوا گویا وہ کسی اور ہی دنیا میں آ گئے ہیں۔

صحابہ کی وارفتگی کا عالم

ان کی آنکھوں نے وہاں ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ جنہیں دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ مثلاً جب رسول اللہ ﷺ وضو فرماتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آگے بڑھ آپ ﷺ کے جسم اطہر سے ٹپکنے والا وضو کا پانی ، برکت کے حصول کے لیے اپنے ہاتھوں اور چہرے پر مل لیتے تھے اور جب آپ ﷺ کا کوئی بال جسم اطہر سے گرتا تو سبھی اس کو حاصل کرنے کو لپکتے نیز رسول اللہ ﷺ جب ان کو کوئی حکم دیتے تو وہ جلد از جلد اس کی تکمیل کی کوشش کرتے۔

جب عروہ بن مسعود ثقفی رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کر رہے تھے تو وہاں ایک زرہ پوش جوان بھی کھڑا تھا جس کی صرف آنکھیں ہی دکھائی دیتی تھیں۔ جب کبھی عروہ نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کو تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتے تو یہ جوان، جو رسول اللہ ﷺ کے پیچھے کھڑا تھا، عروہ بن مسعود ثقفی کے ہاتھ پر اپنی تلوار کا دستہ مار کر کہتا کہ ’’اپنے ہاتھ دور کھینچ لو، اس سے پہلے کہ یہ تمہارے پاس واپس نہ لوٹ سکیں‘‘۔

اس کے اس رویے پر عروہ بن مسعود ثقفی نے کہا کہ ’’میرے خیال میں یہ شخص آپ لوگوں میں سے سب سے زیادہ درشت ہے، آخر یہ ہے کون؟‘‘

نبی کریم ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ’’ یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شُعبہ ہے‘‘۔

عروہ یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ مغیرہؓ عروہ بن مسعود ثقفی کے بھتیجے تھے لیکن قبول اسلام کے بعد ان کی نبی کریم ﷺ سے محبت اور ان پر جانثاری کا جذبہ اس قدر غالب تھا کہ انہوں نے اپنے چچا تک کو رسول اللہ اکرم ﷺ کی داڑھی چھونے کی بھی اجازت نہ دی۔

میں اکثر آپ سے کہتا ہوں کہ جب بھی ان قصوں سے گزریں تو خود کو اسی معاشرے کا حصہ سمجھیں، اپنے آپ کو ان کے مقام پر رکھتے ہوئے اس وقت کے حالات کو سمجھنے اور اس نقطہ نظر سے سوچنے کی کوشش کریں جیسا کہ وہ سوچتے تھے ۔

عرب کا معاشرہ ایک قبائلی معاشرہ تھا جہاں قبیلہ اور خاندان ہی سب کچھ سمجھے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عروہ بن مسعود اپنے بھتیجے کی یہ کایا پلٹ اور اپنے ساتھ ان کا سلوک دیکھ کر سخت حیران ہوئے۔

عروہ بن مسعود جب قریش کی طرف واپس لوٹے تو کہا:

’’اے قریش کے لوگو! میں نے شاہانِ دنیا کو دیکھا ہے، قیصر و کسریٰ کے دربار میں بھی حاضری دی ہے اور شاہ حبشہ، نجاشی سے بھی مل چکا ہوں مگر میں نے کبھی کسی بادشاہ کے مصاحبین کو اپنے پیشوا پر اس طرح فدا ہوتے نہیں پایا جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو محمد (ﷺ) پر نثار ہوتے پایا ہے۔ نہ ہی میں نے کبھی کسی بادشاہ کے حواریوں میں ایسی اطاعت دیکھی ہے جیسی صحابہ کے یہاں اللہ کے رسول ﷺ کے لیے دیکھی۔ جب بھی وہ ان کو کوئی حکم دیتے ہیں تو وہ دوڑ کر اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جب بھی وہ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ (صحابہؓ) یوں خاموش ہو جاتے ہیں گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور جب رسول اللہ ﷺ وضو کرتے ہیں تو آپ ﷺ کے صحابہ دوڑ کر جسم اطہر سے گرنے والا پانی حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں اور اگر آپ ﷺ کا کوئی بال گر جائے تو سبھی اس کو لینے کے لیے لپکتے ہیں۔ پس اے قریش کے لوگو! محمد ﷺ نے تم لوگوں کو جو پیشکش کی ہے، اسے قبول کر لو، کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ ان کے جان نثار کبھی ان کا ساتھ چھوڑیں گے۔‘‘ (صحیح بخاری)

یہ وہ تاثر تھا جو کفار اہل ایمان کے بارے میں رکھتے تھے کہ وہ ہرگز نبی ﷺ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ، کبھی ان کو دغا نہیں دیں گے ، نہ ہی انہیں تنہا چھوڑیں گے بلکہ آخری آدمی تک نبی ﷺ کی حفاظت کے لیے جنگ کریں گے!

مگر میرے بھائیو! اب وقت تبدیل ہو چکا ہے! وہ رسول ﷺ کا دور تھا اور عروہ بن مسعود کی گواہی تھی، جبکہ آج ……!

کچھ عرصہ قبل ایک امریکی فوجی نے قرآن پاک کے ایک نسخے کو نشانہ بازی کی مشق کے لیے بطور ہدف استعمال کیا اور یہ واقعہ کہاں رونما ہوا؟ اسلامی دنیا کے قلب میں واقع ایک ’اسلامی‘ ملک میں۔ اور پھر کیا ہوا؟ پوری اسلامی دنیا اس پر خاموش رہی!

اس سے پہلے جب ڈنمارک میں خاکوں کی اشاعت کا معاملہ وقوع پذیر ہوا تو مسلم دنیا سخت غضب ناک ہوئی لیکن پھر جب سویڈن میں اس سے بدتر واقعہ پیش آیا تو اسلامی دنیا کا ردعمل پہلے کی نسبت ہلکا تھا اور اب یہ پہلے سے بھی کم ہے۔

سو میرے بھائیو اور بہنو! ہمارے دشمنوں نے ہمیں بے حس بنا دیا ہے ۔

جب یہ واقعہ پہلی دفعہ پیش آیا تو ہر ایک کی توجہ کا مرکز یہی واقعہ تھا، ہر کوئی اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اس کی مذمت بھی کر رہا تھا مگر پھر آہستہ آہستہ ہم اس کے عادی ہی ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ اب کفار گستاخی کی آخری حد تک پہنچ گئے ہیں، اور نہایت ہولناک واقعات پیش آ رہے ہیں مگر ردِعمل کیا ہے؟ نہایت قلیل…… نہ ہونے کے برابر!

سو میرے بھائیو اور بہنو! آئیے ذرا ایک نظر اپنے درخشندہ ماضی پر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تب گستاخانِ رسول کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا کہ اسی سے ہماری روحوں کو تقویت ملے گی اسی سے ہمارے ضمیر زندہ ہو پائیں گے، نیز یہی وہ راستہ ہے جس پر ہمیں صحابہ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

گستاخ کعب بن اشرف کا انجام

کعب بن اشرف ایک یہودی سردار اور بہت ہی فصیح شاعر تھا۔ جب غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی خبر مدینہ پہنچی تو اس نے یہ سن کر کہا کہ’’ اگر یہ خبر سچی ہے ہمارے لیے زمین کی گود اس کی پشت سے بہتر ہے‘‘۔ یعنی کفار قریش کی شکست کے بعد اب زندہ رہنے کو کیا باقی رہ گیا ہے، لہٰذا بہتر ہے کہ ہم مر ہی جائیں۔

پھر اس نے اپنی شاعری میں مشرکین مکہ کے نقصان پر مرثیے کہنے اور نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ پھر وہ مکہ گیا اور مکہ والوں پر اپنی شاعری پیش کی اور ان کے غم میں ان کا ساتھ دیا۔ اس پر بھی اس نے بس نہیں کیا بلکہ اس نے تو مسلمان خواتین کو بھی نہ چھوڑا اور ان کے خلاف بھی شعر کہنے لگا۔ جب اس کی یہ حرکتیں حد سے بڑھنے لگیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ لِی بكَعْبِ ابْنِ الأَشْرَفِ؟ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

’’کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے۔‘‘

قبیلہ اوس سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا کہ ’’میں اس سے نمٹوں گا یا رسول اللہ! کیا میں اسے قتل کر دوں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا۔

محمد بن مسلمہؓ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا عہد کر چکے تھے مگر جب گھر لوٹے اور اس بارے میں غور و فکر کیا تو یہ معاملہ کچھ آسان بھی دکھائی نہ دیا، کیونکہ کعب بن اشرف اپنے حامیوں کے بیچ، یہود کے علاقے میں ، ایک قلعے کے اندر رہتا تھا، لہٰذا اس کو قتل کرنا یقیناً بہت مشکل تھا۔ اس فکر نے محمد بن مسلمہؓ کی بھوک اور پیاس سب اڑا دی اور تین دن انہوں نے فقط گزارے لائق خوراک پر گزارے ۔

اس بات کی خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور دریافت کیا کہ کیا مسئلہ ہے؟ کیا یہ درست ہے کہ آپ نے کھانا پینا سب چھوڑ رکھا ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ میں اس لیے پریشان ہوں کہ میں نے آپ سے وعدہ کیا ہے، نجانے میں اسے نبھا بھی پاؤں گا یا نہیں!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أنما علیک الجھد

یعنی آپ پر فقط اپنی قوت و استطاعت کے مطابق بھر پور کوشش کرنا لازم ہے، باقی کام اللہ پر چھوڑ دیں۔

یہاں تک پہنچ کر ذرا لمحہ بھر توقف کرتے ہیں اور صحابہ کرامؓ کی جاں فشانی و جاں نثاری پر نگاہ ڈالتے ہیں۔

محمد بن مسلمہؓ کو اس قدر فکر تھی اس معاملے کی کہ ان کا کھانا پینا چھوٹ گیا، معمولات زندگی میں تعطل آگیا! کیوں؟ کیونکہ ان کے لیے یہ بہت سنجیدہ معاملہ تھا، انہوں نے عہد کیا تھا، اپنی زبان دی تھی اور انہیں فکر تھی کہ آیا وہ اپنے قول پر پورے اتر بھی سکیں گے یا نہیں، یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دی اور کہا کہ آپ اپنا کام کریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں، اس کے بعد ہی وہ مطمئن ہو سکے اور اپنے معمولات زندگی کی جانب واپس آ سکے۔

اب ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے! آپ کو اس معاملے کی کس قدر پروا ہے؟ جب ناموس رسالت پر حرف آئے، جب اسلام کی حرمت للکاری جائے، اور جب اللہ کی کتاب کی عظمت کی بات ہو تو ہمیں اس کی کتنی پروا ہوتی ہے؟ ہم اس معاملے کو کس قدر سنجیدگی سے لیتے ہیں؟

تین دن…… تین دن تک محمد بن مسلمہ دن رات اپنے وعدے کو نبھانے کی تدبیریں سوچتے رہے!

میرے بھائیو اور بہنو! ہمیں صحابہ والی تڑپ اور ان کا سا جذبہ درکار ہے!

محمد بن مسلمہؓ نے عرض کیا کہ ’’یا رسول اللہ! پھر (اس کام کو کرنے کے لیے) مجھے کچھ (منفی بات) کہنے کی اجازت دیجیے۔ (ان کے منصوبے کا ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف گفتگو بھی تھا)۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرماتے ہوئے فرمایا کہ آپ جو چاہے کہیں۔

محمد بن مسلمہؓ اپنے قبیلے کے چند انصاری صحابہ کے ساتھ کعب بن اشرف سے ملنے گئے تاکہ اس کا اعتماد حاصل کر سکیں ۔ ان کے ساتھیوں میں ایک صاحب ابو نائلہ بھی تھے جو کہ کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے۔

جب گفتگو کا آغاز ہوا تو انہوں نے کعب سے کہا : ’’یہ شخص تو ہمارے لیے اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہیں، (ان کا اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب تھا)، ان کی موجودگی تو ہمارے لیے ایک مسئلہ ہی بن گئی ہے اور محض ان کی وجہ سے تمام عرب ہمارے دشمن ہو گئے ہیں اور ہم سے جنگ و جدال پر اتر آئے ہیں‘‘ ۔ کعب نے کہا : ’’میں نے تو پہلے ہی تم لوگوں کو متنبہ کیا تھا اور ابھی تو تم پر مزید برا وقت بھی آئے گا‘‘۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا:’’ خیر! ہم صبر سے انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے‘‘۔ یہ کہہ کر وہ اس کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ’’سو مسئلہ یہ ہے کعب کہ اس شخص کی وجہ سے ہماری معاشی حالت بگڑ گئی ہے، لہٰذا ہم تم سے کچھ اُدھار لینا چاہتے ہیں، جس پر ہم تمہیں ضمانت بھی دیں گے‘‘۔ اس نے کہا کہ’’ پھر ایسا کرو کہ اپنی اولاد بطور ضمانت میرے حوالے کر دو‘‘۔ یہ سن کر انہوں نے کہا کہ ’’اگر آج ہم اپنے بچے تمہارے پاس چھوڑ جائیں تو پھر زندگی بھر لوگ ان کو طعنہ دیتے رہیں گے کہ تمہارے والدین نے تو چند روپوں کے بدلے تمہیں گروی رکھوا دیا تھا ، اور یہ بات ساری زندگی ان کے لیے عار ہو گی ‘‘۔

اب اس نے کہا کہ ’’اچھا تو پھر اپنی خواتین میرے پاس بطور ضمانت چھوڑ جاؤ‘‘۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’ہم اپنی خواتین تمہارے پاس کیسے چھوڑ سکتے ہیں جبکہ تم اس قدر وجیہ شخص ہو؟ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھوا دیں‘‘۔

اس نے کہا ٹھیک ہے، اور یوں محمد بن مسلمہؓ اور ان کے ساتھیوں نے اس کے ساتھ ایسا معاملہ طے کیا کہ جب اگلی مرتبہ وہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر اس کے پاس آئیں تو اسے کسی قسم کا کوئی شک نہ ہو۔ لہٰذا انہوں نے اس کے ساتھ وقت مقرر کیا اور رات گئے اس کے پاس پہنچے کہ کارروائی کے لیے یہی وقت مناسب تھا، اور اسے پکارا۔

کعب کی بیوی نے اس سے کہا کہ’’ ان کی آواز سن کر مجھے خطرے کا احساس ہو رہا ہے‘‘۔ کعب نے کہا کہ’’ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، یہ میرا دوست محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی ابو نائلہ ہیں‘‘ ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے درمیان زمانہ جاہلیت میں دوستانہ تعلقات تھے جن میں تعطل آگیا تھا۔

سو وہ قلعے سے نیچے اتر گیا۔ اس سے پہلے ہی محمد بن مسلمہ ؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ طے کر چکے تھے کہ جب تم لوگ دیکھو کہ میں نے اس کا سر دبوچ لیا ہے تو اس پر جھپٹ پڑنا اور اپنی تلواروں سے اس کے ٹکڑے کر ڈالنا۔

جب کعب ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ’’کیا خیال ہے، کیوں نہ شعب العجوز چل کر وہاں گپ شپ میں رات گزاریں؟‘‘ کعب نے اس رائے کا خیر مقدم کیا اور ان کے ساتھ چل پڑا۔ یوں وہ اسے قلعے سے ہٹ کر اس دور دراز جگہ تک لانے میں کامیاب ہو گئے۔

کعب نے اپنے سر میں مشک یا کوئی اور خوشبو لگا رکھی تھی۔ پس جب وہ مطلوبہ مقام پر پہنچ گئے تو محمد بن مسلمہ ؓ نے کعب سے کہا کہ ’’واہ !تمہارے پاس سے کس قدر اچھی خوشبو آ رہی ہے؛ میں ذرا قریب سے سونگھ لوں؟‘‘ اس نے کہا،’’ کیوں نہیں، ضرور سونگھو‘‘۔ سو محمد بن مسلمہ نے اس کا سر اپنی طرف جھکا کر سونگھا اور کہا ، ’’زبردست!‘‘

تھوڑی دیر بعد محمد بن مسلمہؓ نے دوبارہ کہا کہ ’’یہ خوشبو تو بہت زبردست ہے، کیا میں دوبارہ سونگھ لوں؟‘‘

اس نے پھر اجازت دے دی تو محمد بن مسلمہ ؓ نے اس مرتبہ اس کو مضبوطی سے قابو کر لیا اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تلواروں سے اس پر حملہ کر دیا مگر وہ اس حملے سے قتل نہ ہوا اور اس نے مدد کے لیے چلانا شروع کر دیا۔ پلک جھپکتے میں ہی آس پاس کے تمام قلعوں کی روشنیاں جل اُٹھیں مگر اس سے پہلے کہ کوئی اس کی مدد کو پہنچتا، محمد بن مسلمہ ؓ کو یاد آیا کہ ان کے پاس ایک چاقو بھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’’پس میں نے اپنا چاقو نکال کر کعب کے پیٹ میں گھونپ کر اسے نیچے کی طرف کھینچا یہاں تک کہ وہ پیڑو کی ہڈی (pubic bone) سے ٹکرا گیا، اور تب ہم وہاں سے روانہ ہو گئے۔‘‘ (صحیح بخاری)

اس طرح محمد بن مسلمہ ؓ اور قبیلہ اوس سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھیوں نے ایک ایسے شخص کو اپنے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیا جس نے اللہ کے رسول ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی۔

کعب کے قتل کے نتائج

ابن تیمیہ ؒ نے یہ قصہ اپنی کتاب ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ یعنی ’’شاتم رسول پر سونتی ہوئی تلوار‘‘ ، میں ذکر کرنے کے بعد چند امور کا ذکر کیا ہے جنہیں ہم دیکھ لیتے ہیں۔

سب سے پہلے وہ علمائے سیرت میں سے علامہ واقدیؒ کی روایت بیان کرتے ہیں۔ چونکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے یہ ایک بڑا اہم واقعہ اور ایک بھرپور کارروائی تھی لہٰذا علامہ واقدی نے اس واقعے کے نتائج پر بحث کی ہے کہ جس نے مدینہ کے نزدیک بسنے والی یہودی برادری اور کفار میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔

واقدی کہتے ہیں کہ ’’صبح ہوئی تو یہودی مشرکین کہ ساتھ مل کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور شکایت کی کہ گزشتہ رات ہمارے ایک آدمی کو جو ہمارے معززین اور سرداروں میں سے تھا، قتل کر دیا گیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا ’’قتل الغيلة‘‘ یعنی ایسے طریقے سے قتل کہ جس میں منفی معنی بھی شامل ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کو کسی مقابلے میں قتل نہیں کیا گیا بلکہ اسے اس کی بے خبری میں گھیر کر قتل کیا گیا۔ نیز انہوں نے کہا کہ اسے بلا قصور قتل کیا گیا۔

کعب بن اشرف کو کیوں قتل کیا گیا؟ یہ وہ سوال تھا جسے لے کر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، کیونکہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ایک معاہدہ موجود تھا۔ سیرت کی کتابوں میں یہ معروف واقعہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو انہوں نے وہاں کے یہود کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تھا۔

معاہدے کے ہوتے ہوئے آخر کعب بن اشرف کو کیوں قتل کیا گیا؟ آخر یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا جواب دیا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اگر اپنے ہم خیال دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی پرامن ہی رہتا تو وہ بھی نہ قتل کیا جاتا۔ مگر اس نے ہمیں اذیت پہنچائی اور اپنی شاعری سے ہماری ہجو کی۔ اور اگر تم میں سے کوئی اور بھی یہ کام کرے گا تو ہم اس کے ساتھ تلوار سے ہی نمٹیں گے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کہہ رہے ہیں کہ ایسے تو بہت سے لوگ اور بھی ہیں جو اپنے دلوں میں کعب بن اشرف والے ہی عقائد رکھتے ہیں، مگر اس کے قتل کی وجہ اس کے عقائد نہیں ہیں ۔یعنی یہ تو واضح ہے کہ نہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے قتل کیا گیا اور نہ ہی نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں سے بغض رکھنے کی بنا پر اسے قتل کیا گیا۔ ایسے تو بہت سے ہیں جن کے دلوں میں بعینہ یہی مرض ہے اور ہم نے انہیں قتل نہیں کیا، فرمایا کہ پس اگر وہ بھی سکون سے رہتا جیسا کہ اس جیسے باقی لوگ رہے تو اس کو بھی قتل نہ کیا جاتا، مگر اس نے ہمارے خلاف زبان درازی کی، مجھ پر سبّ و شتم کیا اور اپنی شاعری میں میری ہجو کی ۔

پھر آپ ﷺ نے یہودیوں پر واضح کر دیا کہ اگر یہود یا مشرکین میں سے کسی نے بھی میری شان میں گستاخی کی تو پھر ہم تم سے اِسی طرح نمٹیں گے اور تمہارے اور ہمارے بیچ صرف تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔ یعنی پھر ہمارے تمہارے درمیان نہ کوئی مذاکرات ہوں گے، نہ ہی کوئی معافی تلافی ہو گی، نہ ہی تعلقات بحال کرنے یا مفاہمت کی کوئی کوشش کی جائے گی، بلکہ میرے اور تمہارے درمیان صرف اور صرف تلوار ہو گی، اور یہ بات آپ ﷺ نے اُن پر روزِ روشن کی طرح واضح کر دی۔ پھر آپ ﷺ نے کفار کو بلایا اور ایک دستاویز پر ان سے دستخط لیے، جس کے تحت اُن سب نے یہ عہد کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف نہیں بولیں گے ۔

ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں:

’’ اس واقعے میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچانا ہی وہ سبب ہے کہ جس کی بنا پر مسلمان اٹھیں اور ایسا کرنے والے ہر شخص کو قتل کریں، خواہ اس کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی عہد یا میثاق ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

ابن تیمیہ ؒ نے اپنی کتاب میں اس حکم کے خلاف اٹھنے والے بعض اعتراضات اور شبہات کا جواب بھی دیا ہے اور انہوں نے اس واقعے کو مذکورہ اعتراضات کے رد کے لیے بطور دلیل استعمال کیا ہے۔

کچھ لوگوں نے کوشش کی ہے کہ اس حدیث کے معنی کو توڑ مروڑ کر پیش کریں اور کہیں کے کعب کو اس کے گستاخانہ الفاظ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ کفار کو محمد ﷺ کے خلاف لڑنے پر اُبھار رہا تھا ۔

ابن تیمیہؒ کہتے ہیں: ’’نہیں! وہ اپنی اس گستاخانہ شاعری کی بدولت قتل کیا گیا جو اس نے سفر مکہ پر روانہ ہونے سے بھی پہلے کی تھی‘‘۔ سو اس کا تعلق ہرگز اس کے مکہ جانے اور اہل مکہ کو مسلمانوں کے خلاف لڑائی پر ابھارنے سے نہیں بلکہ اس کے قتل کا براہِ راست تعلق اس کی گستاخانہ شاعری سے ہی تھا۔

آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:

’’ابن اشرف کا کُل جرم زبان سے اذیت پہنچانا تھا، خواہ وہ مقتولینِ کفار پر مرثیہ نگاری ہو یا انہیں لڑائی پر اُبھارنا، اس کا سبّ و شتم ہو یا اس کی ہجو، اس کا دین اسلام کو نیچا دکھانا ہو یا کفار کے دین کو ترجیح دینا، یہ سب کچھ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ہی تھے۔ اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا جو مادی طور پر مسلمانوں کے خلاف لڑائی کے زمرے میں آتا ہو، البتہ اس نے اہل ایمان کو اپنی زبان سے ایذا ضرور پہنچائی۔ اور یہ ایک حجت ہے ہر اس شخص کے خلاف جو ان معاملات میں بحث و مباحثہ کرتا ہے۔ پس یہ واضح ہے کہ ہر وہ شخص ، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو، شاعری اور گستاخی کے ذریعے اذیت دیتا ہے، اس کے لیے کوئی امان نہیں۔‘‘

ابو رافع کا قتل

حضرت کعب بن مالک ؓ کے بیٹے کہتے ہیں کہ اوس اور خزرج رسول ﷺ کے سامنے آپس میں دو گھوڑوں کی طرح مقابلہ کیا کرتے تھے۔ جب کبھی ان میں سے ایک قبیلہ ایسا کوئی کام کرتا جس سے رسول اللہ ﷺ خوش ہوتے تو دوسرا اُس پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا تھا۔

ان کا مقابلہ ڈگریوں اور مال و دولت میں نہ تھا، نہ ہی اس میں کہ کس کا مکان زیادہ اچھا اور کس کی بیوی زیادہ خوب صورت ہے، نہ ہی وہ بہتر سے بہتر گاڑیوں میں مسابقت کے خواہاں تھے، بلکہ ان کے یہاں مسابقت کا میدان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کا حصول تھا۔

سو اب اہل خزرج جمع ہوئے اور انہوں نے باہم کہا کہ اوس والے تو رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں میں سے ایک کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، ہمیں بھی اب کچھ ایسا ہی کرنا ہو گا۔ پس کعب بن اشرف کے بعد کون نبی ﷺ کا بدترین دشمن ہے؟ اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کے وہ بد ترین دشمن ابو رافع ہے۔

انہوں نے اپنا منصوبہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ وہ ابو رافع کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی رضامندی دے دی۔

پس خزرج کے کچھ لوگ ابو رافع کے قتل کے لیے نکلے۔ اس واقعے کو میں مختصراً بیان کرتا ہوں کیونکہ ہمارا اصل مقصد واقعے کی جزئیات نہیں بلکہ اپنے زیر نظر موضوع کے حق میں بطور دلیل اسے بیان کرنا ہے۔

رات کے اندھیرے میں عبداللہ بن عتیقؓ دھوکے سے قلعے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور ابو رافع کے کمرے کی چابی حاصل کر لی۔ پھر وہ ابو رافع کے کمرے میں داخل ہو گئے مگر رات کافی گزر جانے اور گھپ اندھیرے کے باعث انہیں ابو رافع دکھائی نہ دیا۔ سو کیا کیا پھر انہوں نے؟ انہوں نے ابو رافع کو پکارا، ’’ابو رافع‘‘!

بہت ہی حیرت انگیز کام ہے جو انہوں نے کیا کیونکہ جس شخص پر آپ حملہ آور ہونے چلے ہیں اسے بآواز بلند پکارنے کے لیے اچھی خاصی ہمت درکار ہے، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب آپ اس کے شب خوابی کے کمرے کے اندر موجود ہوں اور اردگرد گھپ اندھیرا ہو۔

وہ سیدھا آگے بڑھے اور اسے پکارا، ’’ابو رافع! کہاں ہو تم؟‘‘ جب اس نے جواب دیا تو عبداللہ بن عتیقؓ کہتے ہیں کہ ’’میں نے آواز کی سمت وار کیا جو اس کو لگا مگر وہ اس کے لیے مہلک ثابت نہیں ہوا اور وہ مدد کے لیے پکارنے لگا‘‘۔

اب عبداللہ بن عتیقؓ نے، جن کی فوری قوتِ فیصلہ یقیناً بہت زبردست تھی، فوراً پینترا بدلا اور پلٹ کر آئے اور آواز بدل کر ایسے بولے جیسے کوئی مددگار ہو اور کہا، ’’کیا ہوا ابو رافع؟‘‘

ابو رافع نے کہا : ’’ غارت ہو جاؤ! یہاں کوئی ہے جو مجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ‘‘۔

عبداللہ بن عتیق ؓ کہتے ہیں کہ میں نے پھر آواز کی سمت کا اندازہ کر کے وار کیا لیکن اس بار بھی میں اسے قتل نہ کر سکا اور وہ پھر مدد کے لیے چلایا۔ اب کی بار عبداللہ بن عتیق ؓ پھر پلٹ کر، مختلف آواز کے ساتھ واپس آئے ، اس مرتبہ ابو رافع پہلے ہی پشت کے بل گرا ہوا تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ دو ضربیں کھا چکا تھا لہٰذا عبداللہ بن عتیق ؓ کہتے ہیں کہ ’’میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ میں گھونپ دی اور اسے اندر کی طرف دباتا ہی چلا گیا یہاں تک کہ میں نے ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کی آواز سن لی۔‘‘ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کا مطلب یہ تھا کہ انہوں نے حرام مغز چیر دیا ہے اور یوں اس کا قلع قمع ہو گیا۔

عبداللہ بن عتیق ؓ واپس پلٹے اور سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگے مگر وہ کہتے ہیں کہ ’’ پریشانی میں، میں یہ سمجھا کہ میں تمام سیڑھیاں اتر چکا ہوں جبکہ ابھی ایک زینہ باقی تھا، سو میں گر پڑا اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے مگر میں تسلی کرنا چاہتا ہوں، اس لیے میں یہاں انتظار کروں گا، آپ لوگ جائیں اور جا کر رسول اللہ ﷺ کو خوش خبری سنا دیں، میں یہاں رہ کر اس کی موت کے اعلان کا انتظار کروں گا‘‘۔

دیکھئے! صحابہ کرام ؓ کیسے اپنا کام پورا کرنا چاہتے تھے! ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور انہوں نے دشمن خدا کی ریڑھ کی ہڈی توڑ ڈالی، لیکن پھر بھی وہ پیچھے رہ کر اطمینان کرنا چاہتے تھے کہ آیا کام پوری طرح ہو چکا یا نہیں۔ اس ساری تکلیف کے باوجود وہ پیچھے رہ کر انتظار کرنا چاہتے تھے!

فجر کے وقت یہ خبر پھیل گئی کہ حجاز کا مشہور تاجر ،ابو رافع قتل ہو گیا ہے۔

عبداللہ بن عتیق ؓ نے کیا کہا؟ کیا یہ کہ ہم اس دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں؟ اس شخص کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے تھا، یہ ایک غیر اسلامی فعل ہے، وغیرہ وغیرہ؟

عبداللہ بن عتیقؓ نے کہا کہ ’’جب میں نے ابو رافع کے قتل کی خبر سنی، جب میں نے وہ اعلان سنا، تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان الفاظ سے زیادہ میرے کانوں کے لیے کوئی شیریں الفاظ نہ تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی ان الفاظ سے زیادہ شیریں الفاظ نہیں سنے‘‘۔

یہ ہے ان کا قول! اس درجہ محبت کرتے تھے وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے! پھر وہ جلدی سے مدینہ پہنچے اور جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا:

أَفْلَحَ الْوَجْہُ

’’تمہارا چہرہ کامیاب ہو۔‘‘

انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جواباً کہا: آپ کا چہرہ کامیاب ہو، اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ بھی خوش تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی مسرور تھے۔ (صحیح بخاری)

ابن خطل کا قتل

تیسری مثال فتح مکہ کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ یہ مقدس شہر بغیر کسی خون خرابے کے فتح ہو اور وہ پرامن طریقے سے وہاں داخل ہوں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں عاجزی کے ساتھ، اللہ کے حضور سجدہ کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ہوئے داخل ہوئے۔ نہ ہی کوئی جشن ہوا، نہ گانے گائے گئے، اور نہ ہی کوئی قتل و غارت گری ہوئی۔ چہار جانب امن ہی امن تھا۔ یہ اعلان عام کر دیا گیا تھا کہ:

اذھبوا فأنتم الطلقاء

’’جاؤ تم سب آزاد ہو۔‘‘

ہاں البتہ ایک فہرست ان لوگوں کے ناموں پر مشتمل تھی، جن کے بارے میں فرمایا کہ ’’چاہےانہیں کعبے کے غلاف سے لپٹا ہوا پاؤ تب بھی انہیں قتل کر دو‘‘۔

پوری دنیا میں سب سے قابل احترام جگہ مکہ کو سمجھا جاتا ہے اور وہاں بھی حدود حرم سب سے زیادہ محترم جگہ ہے، اور زمانۂ جاہلیت میں مشرکین تک کا یہ اصول تھا کہ اگر کوئی کعبہ کا پردہ چھو لے یا اس سے لپٹ جائے تو اس سے تعرض نہ کیا جائے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

فاقتلوھم وان کانوا معلقین علی أستار الکعبة

’’ان کو قتل کر دو چاہے وہ کعبہ کے غلاف سے لپٹے ہوئے ہوں۔‘‘

یہ لوگ کون تھے جن کے بارے میں اتنے سخت احکامات دیے گئے؟

اس فہرست میں چند نام تھے اور انہی میں عبداللہ بن خطل، اس کی دو گانے والی لونڈیوں اور ابو لہب کی لونڈی سارہ کا نام شامل تھا۔ یہ لوگ کون تھے؟

عبداللہ بن خطل کی دو لونڈیاں رسول اللہ ﷺ کی ہجو گاتی تھیں اور مکہ میں آپ ﷺ کے خلاف گانے کی محفلیں سجایا کرتی تھیں۔ ان کے علاوہ اس فہرست میں ابولہب کی ایک لونڈی کا نام بھی تھا۔

سب سے پہلے عبداللہ بن خطل کا ذکر کرتے ہیں، وہ حقیقتاً غلافِ کعبہ سے چمٹا ہوا تھا کہ ایک صحابیؓ نے اس پر حملہ کر کے اسے اپنے انجام تک پہنچا دیا۔ اب ان عورتوں کے دلچسپ ماجرے کو دیکھتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے میرے عزیز بھائیو اور بہنو کہ آپ سب ہی جانتے ہیں کہ عورتوں کو مارنا جائز نہیں۔ آپ ﷺ نے عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ، پھر بھی اس فہرست میں بالخصوص ان عورتوں کے نام تھے کہ انہیں قتل کیا جائے!

دوسری بات یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر عورتیں مسلمانوں کے خلاف کسی لڑائی میں شامل ہوں تو انہیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ مگر نہ تو یہ عورتیں لڑ رہی تھیں اور نہ ہی انہوں نے کسی جنگ میں باقاعدہ حصہ لیا تھا۔ بلکہ وہ تو مکمل طور پر تسلیم (سرنڈر) تھیں۔

تیسری بات یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے تمام لوگوں کو امن اور تحفظ دیا لیکن ان کو مستثنیٰ رکھا۔

مزید برآں کہ یہ تینوں آزاد عورتیں بھی نہیں تھیں، لونڈیاں تھیں اور اسلامی قوانین اور حدود میں آزادی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے، نیز چونکہ غلام خود مختار نہیں ہوتا لہٰذا غلاموں کی سزا ہلکی ہوتی ہے۔ یہ عورتیں آپ ﷺ کے خلاف اشعار کہنے کے معاملے میں آزاد نہیں تھیں، بلکہ یہ اپنے آقاؤں، عبداللہ بن خطل اور ابو لہب کے کہنے پر ایسا کرتی تھیں، اس کے باوجود بھی ان لوگوں کے لیے سب سے مختلف حکم دیا گیا کہ ان کو ہر حال میں قتل کر دیا جائے!

توہینِ رسالت سب سے بڑا جرم ہے

ابن تیمیہ ؒ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’یہ اس بات کا بالکل واضح ثبوت ہے کہ سب سے بڑا جرم رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا ہے۔ کیونکہ ان سب باتوں کے باوجود کہ آپ ﷺ نے مکہ کے لوگوں کو امن دیا تھا، اور یہ خواتین تھیں، لڑائی میں بھی شریک نہیں تھیں اور لونڈیاں تھیں، آپ ﷺ نے ان کے لیے سزائے موت کا حکم دیا۔ اسی سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ جرم کس قدر سنگین ہے۔‘‘

اس کے علاوہ ایک اور شخص الحویرث بن نُقَیّض تھا جس کا نام اس فہرست میں موجود تھا۔ وہ بھی اپنی زبان سے نبی ﷺ کو ایذا پہنچایا کرتا تھا۔ فتح مکہ کے وقت وہ اپنے گھر میں چھپا بیٹھا تھا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس کو تلاش کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچ گئے اور اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ وہ یہاں موجود نہیں ہے بلکہ بادیہ یعنی مکہ سے باہر چلا گیا ہے۔ انہوں نے حویرث کو بھی خبردار کر دیا کہ علی ؓ تمھیں ڈھونڈتے ہوئے یہاں آئے تھے۔ علی ؓ جا کر گھر کے عقب میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ جب حویرث دوسرے کسی گھر کی طرف بھاگنے کے لیے نکلا تو علی ؓ نے اس پر حملہ کر کے اس کا قلع قمع کر دیا۔

اسی طرح کی ایک اور مثال کعب بن زُہیر کی ہے۔ وہ خود بھی شاعر تھا، اس کا بھائی بھی شاعر تھا اور اس کا باپ زہیر بن ابی سلمہ بہت مشہور شاعر تھا۔ وہ ان شعراء میں سے تھا جن کی شاعری معلّقات میں شامل تھی۔ یہ عربوں کے ہاں دستور تھا کہ شاعری کے بہترین نمونوں کو، ان کی خوبی کے اظہار کے لیے وہ کعبہ کی دیوار پر لگا دیا کرتے تھے۔ زہیر بھی انہی شعرا میں سے تھا کہ جس کی شاعری کعبہ کی دیوار پر آویزاں تھی اور اس کے دونوں بیٹے کعب اور بُجَیر بھی شاعر تھے۔ بُجَیر مسلمان تھے، جب کہ کعب کافر تھا اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشعار کہا کرتا تھا۔

جب مسلمان مکہ میں داخل ہوئے تو بُجَیر نے اپنے بھائی کو خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے ان لوگوں کو قتل کر رہے ہیں جنہوں نے آ پ ﷺ کے خلاف شاعری کی ہے۔ کعب اس وقت مکہ میں موجود نہیں تھا، تاہم اس کے بھائی نے اسے قبل از وقت خبردار کر دیا کہ آپ ﷺ نے ان سب لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے ہیں اور عبداللہ بن زباریہ اور مغیرہ بن ابی وہب جیسے لوگ جو بچ گئے ہیں وہ بھی بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے تمام افراد کے قتل کا حکم دیا ہے ۔ سو یہ اس جرم کی سنگینی کی ایک اور مثال ہے۔

جب گستاخِ رسول کی التجائیں بے کار گئیں

رسول اللہ ﷺ انتہائی مہربان تھے اور اپنے دشمنوں کو معاف کر دیا کرتے تھے لیکن خاص اس معاملے میں آپ ﷺ کا رویہ مختلف تھا۔

اس کے بعد ہمارے سامنے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کا واقعہ آتا ہے۔ غزوہ بدر میں قریش کے ستّر مشرک، قیدی بنے۔ آپ ﷺ نے تمام قیدیوں کو ،جائزے کے لیے، فرداً فرداً اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ۔ انہی قیدیوں میں نضر بن حارث بھی شامل تھا۔ آپ ﷺ اس کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ نضر بن حارث نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں کچھ دیکھا اور اپنے ساتھ والے آدمی سے کہا: ’’سنو! مجھے قتل کر دیا جائے گا، میں رسول اللہ (ﷺ)کی آنکھوں میں اپنی موت دیکھ رہا ہوں‘‘۔

وہ شخص بولا:’’ ارے نہیں بھئی! تم تو یونہی مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہو، اصل بات یہ ہے کہ تم پر خوف و دہشت غالب ہے‘‘۔ نضر نے کہا: ’’نہیں! میں ٹھیک کہہ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ (ﷺ )کی آنکھوں میں اپنی موت دیکھی ہے‘‘۔

پھر نضر بن حارث نے مصعب بن عمیرؓ کو بلایا جو اس کے رشتہ دار تھے اور ان سے کہا: ’’رسول اللہ (ﷺ) کے پاس جا کر ان سے کہو کہ میرے ساتھ بھی باقی لوگوں والا معاملہ کریں، اور مجھ سے اسی طرح کا برتاؤ کریں جس طرح کہ میرے قوم کے دیگر لوگوں سے کریں گے، اگر وہ ان کو مارنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو مجھے بھی مار دیں اور اگر ان کو معاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو مجھے بھی معاف کر دیں‘‘۔

مصعب بن عمیرؓ نے جواب دیا: ’’ تم وہی ہو جس نے رسول اللہﷺ کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے اور تم تو وہ ہو جو اللہ کی کتاب کے خلاف باتیں بنایا کرتے تھے!‘‘

نضر بن حارث رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں آپ کی مجلس کے قریب ہی اپنی مجلس سجا لیا کرتا تھا۔ وہ ایران جا کر قصے کہانیاں سیکھ کر آیا اور واپس آ کر مشرکین سے کہا کہ محمد (ﷺ)تمہیں قصے ہی تو سنا رہے ہیں، میرے پاس سنانے کے لیے ان سے بہتر قصے ہیں، آؤ آ کر میرے قصے سنو!

اس نے مصعبؓ سے دوبارہ التجا کی کہ ’’براہ کرم رسول اللہ ﷺ سے بات تو کرو‘‘۔ انہوں نے جواباً کہا کہ ’’ کیا تم وہی نہیں ہو جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو اذیتیں دیا کرتے تھے؟‘‘

بعد ازاں رسول اللہ ﷺ نے نضر بن حارث کو بلوایا اور علی بن ابی طالب ؓ کو اس کا سر قلم کرنے کا حکم دیا۔ اسے عمومی سلوک سے مستثنیٰ ہی رکھا گیا۔

یہ اس وقت ہوا جب مسلمان (غزوہ بدر کے بعد) مدینہ واپس جا رہے تھے۔ ایک خاص مقام پر پہنچ کر نضر بن حارث کو قتل کیا گیا اور جب ذرا اور آگے گئے تو آپ ﷺ نے عقبہ بن ابی معیط کے قتل کا حکم دیا۔

عقبہ بولا: ’’ہائے میری بربادی !صرف مجھے ہی کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ میرے ساتھ یہاں جتنے لوگ ہیں سبھی آپ کے دشمن ہیں، ان سب نے آپ کے خلاف جنگ کی ہے، میرے ساتھ کے یہ سب قریش سے ہیں، میرے اپنے قبیلے کے لوگ ہیں تو پھر آپ صرف مجھے کیوں قتل کر رہے ہیں؟‘‘

رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا:

لِعَدَاوَتکَ لِلّهِ وَلِرَسُولِهِ۔

’’اللہ اور اس کے رسول سے تمہاری عداوت کی وجہ سے۔‘‘

اس نے کہا: ’’اے محمد(ﷺ)! میرے ساتھ وہی برتاؤ کیجیے جو میرے باقی قبیلے والوں کے ساتھ کریں گے، اگر انہیں قتل کریں گے تو مجھے بھی قتل کر دیں، اگر ان کو چھوڑ نے کا ارادہ ہو تو مجھے بھی چھوڑ دیں، اور اگر آپ ان سے فدیہ لیں تو مجھ سے بھی جو چاہے لے لیں‘‘۔ اور پھر وہ بولا: ’’ اے محمد (ﷺ)! میرے بچوں کا خیال کون رکھے گا؟‘‘

آپﷺ نے فرمایا: ’’جہنم کی آگ! عاصمؓ ! اس کو پکڑ کر اس کی گردن اڑا دو!‘‘

اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم کتنے برے آدمی تھے! واللہ !میں نے تم سے بڑھ کر اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول کا انکاری نہیں دیکھا۔ تم نے اللہ کے نبی ﷺ کو ایذا دی۔ میں اللہ کی تعریف بیان کرتا ہوں جس نے تمہیں مارا اور تمہاری موت دکھا کر میرے آنکھیں ٹھنڈی کر دیں‘‘۔

یہ بالکل واضح ہے کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں کے ساتھ بالکل مختلف رویہ رکھا۔

(جاری ہے ، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

ہمارے محبوب کا حلیۂ مبارک [صلی اللہ علیہ وسلم]

Next Post

لبیک اللّٰھم لبیک

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اگست 2026

21 اگست 2026
مَعرکے ہیں تیز تَر! | ستمبر تا نومبر 2024
عالمی جہاد

مَعرکے ہیں تیز تَر! | اگست 2026

21 اگست 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: بیالیس (۴۲)

21 اگست 2026
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
نقطۂ نظر

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

20 اگست 2026
سوشل میڈیا کے جاسوس
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا کے جاسوس

20 اگست 2026
سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)
اوپن سورس جہاد

سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

20 اگست 2026
Next Post
لبیک اللّٰھم لبیک

لبیک اللّٰھم لبیک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اگست 2026ء
اگست 2025

اگست 2026ء

by ادارہ
20 اگست 2026

Read more

تازہ مطبوعات

سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
جہادِ شام کے اسباق
مطبوعات حطین

جہادِ شام کے اسباق

فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کا بیان ”فَلنُقَاتِلهُم بُنيَانًا مَرصُوصًا“ مقدمہ و حواشی کے ساتھ مترجم: مولانا عمار خان     ...

ستمبر, 2026
د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو
مطبوعات حطین

د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو

  لیکوال: شيخ ډاکټر سامي بن محمود العُريدي ژباړن: مولوي عماد الدین خالد     ډاونلوډ کړی       ...

ستمبر, 2026
مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مطبوعات حطین

مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں

مصنف: شیخ ڈاکٹر سامی بن محمود العریدی مترجم: مفتی عامر احمد سلطانی     ڈاؤن لوڈ کریں       ...

ستمبر, 2026
مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version