قبلۂ اوّل سے خیانت کی اس داستان میں ہم اب ایسے کرداروں کے بارے میں بات کریں گے جو بظاہر فلسطینی کاز کی حمایت کا راگ الاپتے ہیں، اسرائیل کی مذمت میں وقتاً فوقتاً بیان داغتے رہتے ہیں، فلسطینی مزاحمتی تحریک کی بھی حمایت کرتے نظر آتے ہیں، اور فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو اپنی نظریاتی اساس سے متصادم قرار دیتے ہیں لیکن دوسری جانب وہ امریکہ کے اتحادی ہیں، اور اس کے ساتھ سفارتی، عسکری، انٹیلی جنس اور دیگر سٹریٹیجک معاملات میں تعاون کرتے ہیں۔ وہ امریکہ جو اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست اور پشت پناہ ہے، وہ امریکہ جو اسرائیل کے وجود کا ضامن ہے، وہ امریکہ جو پوری دنیا کے وسائل لوٹ کر ہی نہیں بلکہ وقت آنے پر اپنی عوام کا بھی پیٹ کاٹ کر اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتا ہے، وہ امریکہ جس نے عالم ِ اسلام میں اپنے فوجی اڈے اسی مقصد کے لیے بنا رکھے ہیں کہ عالم اسلام سے کوئی بھی ملک اسرائیل کی جانب ٹیڑھی آنکھ سے بھی نہ دیکھ سکے، وہ امریکہ جو اسرائیل کے خلاف یا فلسطین کے حق میں اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی ہر قرارداد کو، جس کی حیثیت صرف علامتی ہی ہوا کرتی ہے اور جس کا عملاً اسرائیل کو کوئی نقصان یا فلسطین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اس کو بھی آگے بڑھ کر ویٹو کر دیتا ہے۔ اور وہ یہ سب کچھ علی الاعلان اور ڈنکے کی چوٹ پر کر رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف یہ ممالک اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں، فلسطینی تحریک کی حمایت کرتے ہیں، تو کیا انہیں نہیں معلوم کہ وہ امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک، عسکری اور انٹیلی جنس تعاون کرتے ہوئے اسرائیل کو ہی مضبوط کر رہے ہیں؟ جب کوئی مسلم ملک امریکہ کے ساتھ عسکری، سٹریٹیجک، لاجسٹکل، انٹیلی جنس یا دیگر ایسے تعلقات برقرار رکھتا ہے جو امریکی طاقت اور اس کے عالمی نظام کو تقویت دیتے ہیں، اور جب یہی امریکی طاقت اسرائیل کی بقا، عسکری برتری اور سفارتی تحفظ کی بنیادی پشت پناہ ہے تو کیا یہ تعاون بالواسطہ طور پر اسرائیل کے ساتھ تعاون اور مسئلہ فلسطین اور قبلۂ اوّل کے ساتھ خیانت نہیں؟
اس پہلو سے دیکھا جائے تو گنتی کے چند ممالک کو چھوڑ کر عالمِ اسلام کے تقریباً تمام ہی ممالک قبلۂ اوّل سے خیانت کے مرتکب ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کا ہم گزشتہ اقساط میں ذکر کر آئے ہیں ، لیکن اس تحریر میں ہمارا موضوع خاص طور پر وہ ممالک ہیں جو اسرائیل کی مخالفت کا راگ الاپتے ہیں، جو فلسطین کی آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں، جو فلسطینی تحریک کی حمایت کے دعوے کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر عسکری تعاون کرتے ہیں اور انہیں اپنے اڈے فراہم کرتے ہیں تاکہ وہاں سے وہ اسرائیلی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ ان ممالک میں سرفہرست نام ترکی اور قطر کے ہیں۔
ترکی
قبلۂ اوّل سے خیانت کرنے والے امریکی اتحادی مسلم ممالک میں ترکی کا نام سر فہرست آتا ہے کیونکہ خاص طور پر اردگان کے حکومت سنبھالنے کے بعد سے ترکی عالمِ اسلام کی قیادت کے خواب دیکھ رہا ہے، اہلِ دین طبقے کی ایک بڑی تعداد بھی ترکی کو ایک رول ماڈل ریاست کے طور پر دیکھتی ہے اور اسے قابض قوتوں کے خلاف اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کا حامی اور معاون بھی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن دوسری جانب نا صرف یہ امریکہ کا اتحادی ہے، اسے اڈے فراہم کر رکھے ہیں اور نیٹو میں شامل ہے بلکہ جس اسرائیل کے خلاف بلند بانگ دعوے اور بیانات آئے دن ترکی کی جانب سے داغے جاتے ہیں اسی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی کبھی پوری طرح ختم نہیں کیے۔ اس لیے سب سے پہلے ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔
ترکی اسرائیل تعلقات
مئی ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کی ناجائز ریاست کے قیام کے صرف دس ماہ بعد ترکی نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کیا اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے اور اس طرح وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والا پہلا مسلم ملک بن گیا اور آج تک ترکی نے کبھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں کیے۔
لیکن ان سفارتی تعلقات میں مستقل اتار چڑھاؤ ضرور آتے رہے۔ جب کبھی اسرائیل کے کسی اقدام پر ترکی کو احتجاج کرنا ہوتا وہ سفارتی درجہ کم کر دیتا اور پھر کچھ عرصے بعد واپس بحال کر دیتا۔ یہ ڈرامہ تا حال جاری ہے۔ جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
- جنوری ۱۹۵۰ء میں ترکی نے تل ابیب میں اپنے سفارتی مشن کا دفتر کھولا۔
- نومبر ۱۹۵۶ء میں نہر سوئز کے تنازع پر ترکی نے اپنے سفارتی نمائندگی کا درجہ کم کر کے ناظم الامور (Charge d’Affaires) کر دیا۔
- ۱۹۵۸ء میں اسرائیلی وزیر اعظم بن گوریان اور ترک وزیر اعظم عدنان مندریز کی ملاقات ہوئی جس میں دونوں سربراہان نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور عسکری تعاون پر بات چیت کی۔
- جولائی ۱۹۶۳ء میں ترکی نے دوبارہ تل ابیب میں اپنے دفتر کو سفارتی مشن کے درجے پر بحال کر دیا۔
- ۱۹۶۷ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران ترکی نے اسرائیل کی مذمت کی لیکن اسرائیل کو ’’جارح ریاست‘‘ قرار دیے جانے کی قرارداد میں ووٹ دینے سے انکار کر دیا۔ مراکش کے شہر رباط میں ہونے والے اسلامی کانفرنس کے اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی مخالفت کی۔
- جنوری ۱۹۸۰ء میں ترکی نے تل ابیب میں اپنے سفارتی مشن کو مکمل سفارت خانے کا درجہ دے دیا۔
- ۳۰ نومبر ۱۹۸۰ء کو اسرائیل کی جانب سے مشرقی بیت المقدس پر قبضے اور بیت المقدس کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیے جانے پر ترکی نے اپنے سفیر کا درجہ ثانوی سیکریٹری کر دیا۔
- مارچ ۱۹۹۲ء کو ترکی نے تل ابیب میں پھر اپنے سفارتی دفتر کو مکمل سفارت خانے کے طور پر بحال کر دیا۔
- فروری ۱۹۹۶ء میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان عسکری تعاون اور تربیت کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے فوجی اہلکاروں اور تجربات کا تبادلہ، مشترکہ عسکری تربیت اور فوجی مشقیں، ایک دوسرے کی فضائی حدود میں تربیتی پروازیں اور بحری جہازوں کے لیے بندرگاہوں تک رسائی شامل تھی۔ اپریل ۱۹۹۶ء میں آٹھ اسرائیلی F-16 طیاروں نے ترکی میں ایک ہفتے کی تربیتی مشق میں حصہ لیا۔ بعد میں ترک اور اسرائیلی فضائیہ کے درمیان باقاعدہ مشقیں ہونے لگیں۔ اس کے علاوہ اس دوران اسرائیل نے ترکی کے F-4 اور F-5 جنگی طیاروں کو جدید بنانے کا بھی معاہدہ کیا اور دیگر جدید دفاعی نظاموں کی فراہمی اور مشترکہ پیداوار پر بھی کام ہوا۔
- ۲۰۰۲ء کے انتخابات میں اسلام پسند حکومت میں آئے اور رجب طیب اردگان وزیر اعظم بنا، لیکن اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ ۱۹۹۶ء میں طے پانے والا عسکری معاہدہ ویسے ہی قائم رہا، اسرائیلی پائلٹوں کی ترک فضائی حدود میں تربیت بھی جاری رہی۔ شام ، عراق اور ایران کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بھی جاری رہا اور اسی طرح دونوں ملکوں کے درمیان اسلحے کی خرید و فروخت بھی جاری رہی۔
- ۲۰۰۵ء میں رجب طیب اردگان نے اسرائیل کا دورہ کیا جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور عسکری تعلقات قائم کرنا تھا۔ اس دورے میں اردگان نے ایرل شیرون سے ملاقات کی اور کہا کہ اس کی پارٹی یہود مخالفت (Anti-Semitism) کو ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ سمجھتی ہے ۔ اس نے مزید کہا کہ ایران کے ایٹمی عزائم صرف اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ اپنے اس دورے کے دوران اردگان نے ہالوکاسٹ میمورئیل کا بھی دورہ کیا اور وہاں پھول چڑھائے۔
- ۲۰۰۶ء کے آغاز میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہترین (perfect) قرار دیا۔ اسی سال ترکی کی زیر سرپرستی اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مشترکہ صنعتی پارک کا افتتاح کیا گیا۔
- نومبر ۲۰۰۷ء میں ترکی نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو ترکی مدعو کیا جنہوں نے ۱۳ نومبر ۲۰۰۷ء کو ترک پارلیمان میں باری باری خطاب کیا۔ اس طرح شمعون پیریز کسی بھی مسلم ملک کی پارلیمان سے خطاب کرنے والا پہلا اسرائیلی سربراہِ مملکت بن گیا۔ شمعون پیریز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترکی مشرقِ وسطیٰ میں نہ صرف امریکہ، شام اور فلسطین کے لیے بلکہ ہمارے لیے بھی ایک اہم کردار ہے۔ شمعون پیریز کی تقریر میں شام کے ذکر پر شام کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ ترکی شام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اس دورے کے دوران شمعون پیریز نے ترک صدر عبد اللہ گل سے بھی ملاقات کی جس نے ملاقات کے دوران حماس کی قید میں موجود تین اسرائیلی فوجیوں کی رہائی میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔
- ۲۰۰۸، ۲۰۰۹ء میں اسرائیل کے غزہ پر حملے کے بعد ترکی کے تعلقات اسرائیل کے ساتھ خراب ہونا شروع ہوئے۔ اکتوبر ۲۰۰۹ء میں ترکی میں طے شدہ ترک، امریکی، اٹلی اور اسرائیلی فضائیہ کی مشترکہ مشقوں میں ترکی نے اسرائیل کی شرکت روک دی جس کے نتیجے میں امریکہ نے یہ فضائی مشق منسوخ کر دی۔
- ۲۰۱۰ء میں ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔ ۲۰۱۰ء کے آغاز میں حماس کے سربراہ خالد مشعل نے ترکی کا سرکاری دورہ کیا۔ جبکہ مئی ۲۰۱۰ء میں ’’غزہ فریڈم فلوٹیلا‘‘ نامی غزہ کے لیے امداد لے کر جانے والے بیڑے میں ایک جہاز ’’ماوی مارمرک‘‘ پر اسرائیلی فوجیوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ۹ کارکن جاں بحق ہو گئے جو سب کے سب ترک تھے۔ اس کے جواب میں اردگان نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور ترکی میں موجود اسرائیلی سفیر کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
- ستمبر ۲۰۱۱ء میں ترکی نے پھر سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی درجہ کم کر دیا اور ۱۹۹۶ء میں ہونے والے معاہدے کے بعد پہلی بار عسکری تعاون معطل کر دیا۔ ستمبر میں ہی ترکی نے اسرائیلی سفیر کو ترکی سے ملک بدر کر دیا۔ اسی ماہ امریکی صدر بارک اوبامہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اردگان سے ملاقات کی اور اسرائیل کے ساتھ اپنے مسائل حل کرنے کا کہا لیکن اردگان کا اصرار تھا کہ اسرائیل ترک بحری جہاز پر حملہ کرنے پر معافی مانگے اور جو لوگ اس حملے میں مارے گئے ہیں اس کے خاندان کو رقم ادا کرے۔
- مارچ ۲۰۱۳ء میں بارک اوبامہ نے اسرائیل کا دورہ کیا اور نیتن یاہو کو معافی مانگنے پر مجبور کیا جس کے جواب میں نیتن یاہو نے اسی ماہ باضابطہ طور پر ترکی سے حملے کی معافی مانگی۔ اردگان نے اپنے ایک بیان میں یہ معذرت قبول کر لی۔
- ۲۰۱۵ء میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان مکمل تعلقات کی دوبارہ بحالی کے لیے مذاکرات شروع ہوئے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کی جانب سے جون ۲۰۱۶ء میں ایک مصالحتی معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کی شرائط درج ذیل تھیں:
- ترک پارلیمنٹ ایک بل پاس کرے گی جس میں ۹ ترک شہریوں کی ہلاکت میں ملوث اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مقدمات کی تمام اپیلیں ختم کر دی جائیں گی اور آئندہ بھی ایسے اقدام کو روکا جائے گا۔
- ترکی اپنی سرزمین پر اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ یا عسکری سرگرمی، بشمول اسرائیل کے مخالفین کی ترکی سے مالی معانت اور تعاون، کو روکے گا۔ حماس کو ترک سرزمین پر صرف ایک سیاسی تحریک کے طور پر کام کرنے کی اجازت ہو گی۔
- ترکی غزہ کو بھیجی جانے والی تمام امداد اسرائیل کے ذریعے بھیجے گا۔
- اسرائیل اپنے سکیورٹی تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے ترکی کو غزہ میں انسانی ہمدردی کے منصوبے جیسے ہسپتال کی تعمیر، بجلی گھر اور کھارا پانی صاف کرنے کے منصوبے چلانے کی اجازت دے گا۔
- اسرائیل ماوی مارمرک بحری جہاز پر حملے کے دوران زخمی ہونے والوں کو اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو کل دو کروڑ ڈالر کا معاوضہ ادا کرے گا، لیکن یہ معاوضہ تب ہی ادا ہو گا جب ترک پارلیمنٹ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مقدموں کی اپیلیں خارج کرنے کا بل پاس کرے گی۔
- دونوں ممالک آپس میں تعلقات دوبارہ بحال کریں گے بشمول دونوں طرف کے سفیروں کی تعیناتی اور تجارت سمیت تمام امور پر پابندیوں کا خاتمہ۔
- اس معاہدے کے بعد اسی سال نومبر میں ترکی تل ابیب میں اپنی سفارتی نمائندگی کا درجہ ناظم الامور سے واپس مکمل سفیر کے عہدے پر لے آیا اور دونوں ملکوں نے اپنے اپنے سفیر دوبارہ تعینات کر دیے۔ اس کے بعد آنے والے عرصے میں ترکی کی اسرائیل کے ساتھ تجارت ۶ ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
- ۲۰۱۸ء میں امریکہ کی جانب سے سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے پر ترکی نے ایک بار پھر سفارتی نمائندگی کا درجہ مکمل سفیر سے ناظم الامور کے درجے پر کر دیا، اسرائیل کا سفیر واپس بھیج دیا اور اپنا سفیر بھی واپس بلا لیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ سفارت خانہ منتقل کرنے کا اقدام امریکہ کا تھا لیکن امریکہ کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا گیا بلکہ اس موقع پر بھی معمول کے مطابق سفارت خانے کا صرف درجہ کم کرنے پر اکتفا کیا گیا۔
- ۲۰۲۱ء کے فلسطین اسرائیل تنازع کے دوران صدر اردگان نے روسی صدر پوٹن، ویٹیکن کے پاپ فرانسس، اردن کے شاہ عبد اللہ، کویت کے امیر نواف الاحمد، فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ سے فون پر بات کی جبکہ ترکی میں ہزاروں لوگوں نے اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کیا لیکن اس زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا، نہ تجارت بند ہوئی اور نہ ہی سفارتی تعلقات ختم ہوئے۔
- چند ہی ماہ بعد مارچ ۲۰۲۲ء میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ترکی کا سرکاری دورہ کیا اور اردگان سے ملاقات کی جس کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات دوبارہ مکمل طور پر بحال کر دیے گئے۔
- اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سات ماہ تک اردگان نے اسرائیل کے خلاف بہت سے بیانات جاری کیے لیکن عملی اقدام ایک بھی نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس ان سات ماہ کے دوران ترکی اسرائیل کی درآمدات کا پانچواں بڑا ملک رہا۔ اس سارے عرصے میں ترکی کی اسرائیل کو برآمدات کا حجم پانچ عشاریہ تین ارب ڈالر تھا۔ جب پوری دنیا سے ترکی کے اسرائیل کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر تجارتی تعلقات رکھنے پر تنقید کی گئی تو ترکی نے مئی ۲۰۲۴ء میں اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ لیکن یہ اعلان صرف ظاہری حد تک تھا۔ اس اعلان کے بعد ترکی کے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ Reuters کی نومبر ۲۰۲۴ء کی رپورٹ کے مطابق ترک پابندی کے بعد ترکی کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں سٹیل، کیمیکل، سمنٹ اور مشینری کی برآمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا، یہ وہی سامان تھا جو پہلے براہ راست اسرائیل کو فروخت کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بعد کی تحقیقات سے مزید یہ بات سامنے آئی کہ براہ راست تجارت بند کر دینے کے بعد ترکی اسرائیل کو یورپی ممالک کے راستے تجارتی سامان بھیج رہا ہے۔ تجارتی سامان ترکی سے یونان، بلغاریہ اور رومانیہ وہاں کی برآمدات کے طور پر جاتا ہے پھر وہاں سے اسرائیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل ترکی کے راستے آزربائیجان سے خام تیل خریدتا ہے۔ خام تیل کی پائپ لائن آزربائیجان سے ترکی تک آتی ہے جہاں ترکی کی بندرگاہ سے اسرائیلی تیل کے ٹینکر تیل اسرائیل پہنچاتے ہیں۔ اس تجارت پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی یہ تا حال جاری ہے۔ پراگریسو انٹرنیشنل (Progressive International) کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق مئی ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۵ء کے اواخر تک ساٹھ لاکھ چھیالیس ہزار ٹن خام تیل ترکی کی بندر گاہ سے ۵۷ بحری جہازوں میں اسرائیل منتقل ہوا۔
- نومبر ۲۰۲۴ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے چودہ ماہ بعد ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔
- ستمبر ۲۰۲۶ء کے آغاز سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کا عمل پھر سے شروع ہو چکا ہے۔ اسرائیل نے اپنا ناظم الامور ترکی بھیج دیا ہے جسے ترکی نے عہدہ سنبھالنے کی اجازت دے دی ہے۔ مزید تعلقات کی بحالی کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
ترکی امریکہ تعلقات
۱۹۴۷ء سے سرد جنگ کے تناظر میں ترکی اور امریکہ کے تعلقات قائم ہیں جبکہ ۱۹۵۲ میں نیٹو میں شامل ہو کر ترکی باضابطہ طور پر امریکہ کا اتحادی بن گیا۔
امریکہ نے ۱۹۵۱ء میں ترکی میں ’’انجرلک ائیر بیس‘‘ کی تعمیر شروع ہوئی جو ۱۹۵۵ء میں فعال ہوئی۔ امریکہ نے اعلانیہ طور پر ترکی میں اس ائیر بیس کو سوویت یونین کی جاسوسی اور اسرائیل کے تحفظ کے لیے تعمیر کیا تھا۔ فعال ہونے کے فوراً بعد سے ہی یہ ائیر بیس سوویت یونین کے خلاف جاسوسی کے لیے اڑنے والے طیاروں کا بنیادی مرکز بن گئی تھی۔ پورے خطے میں امریکہ کے ابتدائی جاسوسی طیارے U-2 اسی ائیر بیس سے اڑ کر بحیرۂ اسود (Black Sea)، بحیرہ قزوین (Caspian Sea)، یہاں تک کہ افغانستان تک جاسوسی کے لیے جاتے تھے۔
امریکہ کے ترکی پر اعتماد اور انجرلک ائیر بیس کی سٹریٹیجک اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی امریکہ کے B61 ایٹم بم پچاس یا نوے کی تعداد میں انجرلک ائیر بیس پر موجود ہیں۔
۱۹۵۸ء میں جب اسرائیل لبنان جنگ ہوئی تو امریکی جنگی طیارے اسی ائیر بیس سے اڑ کر لبنان جاتے تھے۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں پہلی اور دوسری خلیج جنگ میں بھی اس ائیر بیس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ۲۰۰۱ء میں افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ میں بھی اس ائیر بیس کا اہم کردار تھا۔ امریکی MC-130 طیارے سپیل آپریشنز کے لیے، KC-135 طیارے فضا میں افغانستان پر بمباری کرنے والے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے اسی ائیر بیس سے اڑتے تھے۔ جبکہ گوانتانامو بے لے جائے جانے والے قیدیوں کو پہلے اسی بیس پر اتارا جاتا تھا۔ عراق جنگ میں امریکی فوجی امریکہ سے عراق اور وہاں اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد واپس امریکہ جانے کے لیے اسی ائیر بیس پر رکتے تھے۔ ۲۰۰۶ء کی اسرائیل لبنان جنگ کے دوران لبنان سے امریکی شہریوں کو نکالنے اور اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل کے لیے بھی اسی ائیر بیس کا استعمال کیا گیا۔
اکتوبر ۲۰۱۴ء سے اس ائیر بیس کا شام میں امریکی ڈرون اور جنگی طیاروں کے آپریشنز کے لیے استعمال شروع ہوا۔ میڈیا میں ظاہر یہ کیا گیا تھا کہ اس ائیر بیس کو شام میں داعش کے خلاف آپریشنز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن در حقیقت اسے شام میں تمام مجاہدین کے خلاف بالخصوص القاعدہ کے مجاہدین کو ٹارگٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
انجرلک ائیر بیس کے علاوہ ترکی میں امریکہ اور نیٹو کے دیگر اثاثے بھی موجود ہیں۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ کو ترکی کی دو درجن سے زائد تنصیبات کو استعمال کرنے کی اجازت تھی۔ اب بھی امریکہ کا بیلسٹک میزائل ڈیفنس نظام ترکی میں نصب ہے جو اسرائیل کی جانب جانے والے بیلسٹک میزائلز کی پہلے سے اطلاع دینے اور انہیں مار گرانے کے لیے نصب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو کی زمینی افواج کی کمان (LANDCOM) کا مرکزی ہیڈ کوارٹر بھی ترکی کے شہر ازمیر میں ہے۔
بحیرۂ روم کو بحیرہ اسود سے ملانے والا واحد راستہ جو آبنائے باسفورس، درہ دانیال اور بحیرہ مرمرہ پر مشتمل ہے، ترکی کے کنٹرول میں ہے ۔ سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے دوران امریکہ کے لیے اس بحری راستے کی کلیدی اہمیت تھی اور آج بھی بحیرہ اسود تک سمندری رسائی کے لیے امریکہ کے لیے یہ بحری راستہ اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔
دیگر مسلم ممالک میں جہادی تحریکات کے خلاف ترکی کا کردار
ترکی صرف اپنی سرزمین پر ہی امریکی و مغربی مفادات کا تحفظ نہیں کر رہا بلکہ وہ دیگر مسلم ممالک میں بھی جہادی تحریکات کو دبانے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے تاکہ کوئی ایسی جہادی تحریک قوت نہ پکڑ سکے جس سے امریکہ یا اسرائیل کو حقیقی خطرہ لاحق ہو جائے۔ ذیل میں اس کی تین مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔
1. لیبیا
۲۰۱۱ء میں قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب لیبیا میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو ترکی نے ایک طرف نفاذِ شریعت کا ہدف رکھنے والی خالص اسلامی جہادی جماعتوں کے خلاف جبکہ دوسری طرف خلیفہ حفتر کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات، مصر اور سعودی عرب کی سرپرستی میں خالص سیکولر دھڑوں کے خلاف نام نہاد اسلامی جمہوری نظریات کے حامل دھڑوں کی حمایت شروع کی اور انہیں عسکری اور مالی تعاون فراہم کیا۔ اور ان دھڑوں کے اتحاد ’’قومی عبوری کونسل‘‘ کو لیبیا کے عوام کا حقیقی نمائندہ قرار دیا۔ ۲۰۱۴ء تک لیبیا میں عملاً دو حکومتیں قائم ہو چکی تھیں۔ مغربی لیبیا میں ترک و قطری حمایت یافتہ ’’حکومۃ الإنقاذ الوطني‘‘ (National Salvation Government) کی حکومت قائم ہو گئی جس کا دار الحکومت طرابلس تھا جبکہ مشرقی لیبیا میں متحدہ عرب امارات، مصر اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی نے ’’مجلس النواب‘‘ (House of Representatives) کی حکومت تشکیل دی جس کا دار الحکومت طبرق تھا۔ ۲۰۱۹ء میں جب حفتر کی افواج نے طرابلس پر حملہ کیا تو وہاں کی حکومت نے ترکی کو مدد کے لیے بلایا جس کے جواب میں جنوری ۲۰۲۰ء میں ترکی نے اپنے باقاعدہ فوجی دستوں، فضائی دفاع کے نظام اور ڈرونز کے ذریعے سے طرابلس حکومت کی مدد شروع کی۔ Reuters کی ۲۰۲۰ء کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے نا صرف اپنے فوجی دستے لیبیا بھیجے بلکہ اس کے ساتھ شام سے اپنے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے دستے بھی طرابلس حکومت کی مدد کے لیے روانہ کیے۔ ترکی کی اس مداخلت کے نتیجے میں حفتر کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور اکتوبر ۲۰۲۰ء میں دونوں دھڑوں کے درمیان جنگ بندی ہو گئی۔ اس مداخلت نے ترکی کو لیبیا میں اپنے مستقل فوجی اڈے قائم کرنے میں مدد دی۔ اس وقت ترکی کی فوجی تنصیبات لیبیا میں پانچ مقامات پر موجود ہیں۔
- الوطیہ ائیر بیس: اس ائیر بیس پر ترکی کا فضائی دفاع کا نظام اور ڈرونز موجود ہیں اور یہ لیبیا میں ترکی کی سب سے اہم فضائی تنصیب ہے۔
- مصراتہ پورٹ: اس پورٹ پر ترکی کی فضائی بیس، بحری بیس اور لیبیا کی ائیر فورس کے لیے ترکی کا تربیتی مرکز موجود ہے۔
- معیتیقہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ: یہ ائیر پورٹ طرابلس کے اندر واقع ہے اور ترکی اسے اپنے فوجیوں کی آمد و رفت اور عسکری ساز و سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرتا ہے۔
- تاجوراء فوجی تربیتی مرکز: یہاں ترک فوجی لیبیائی اہلکاروں کو فوجی تربیت دیتے ہیں۔
- الخمس: یہ لیبیا کا ایک ساحلی شہر ہے جہاں ترک سپیشل فورسز کی بیس اور ترک بحریہ کی بیس موجود ہے۔
2. صومالیہ
۲۰۰۹، ۲۰۱۰ء میں جب صومالیہ میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم شباب المجاہدین نے بڑے شہروں سمیت صومالیہ کے کثیر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا تو امریکی حمایت یافتہ صومالی حکومت نے ترکی کے ساتھ شباب المجاہدین کے خلاف اپنی فوج کی تربیت کرنے کے لیے معاہدہ کیا۔ آنے والے برسوں میں جب افریقی یونین کے حملوں کے نتیجے میں الشباب کے مجاہدین بڑے شہروں اور اہم جگہوں سے پسپائی اختیار کر گئے تو اس سارے عرصے میں ترکی کی توجہ الشباب کے خلاف صومالی فوج کی تربیت پر مرکوز رہی۔ ۲۰۱۴ء میں اسی حوالے سے ترکی اور صومالیہ کے درمیان مزید معاہدے بھی کیے گئے۔ لیکن جب شباب المجاہدین کی فتوحات میں پھر سے تیزی آنا شروع ہوئی تو ترکی نے ۲۰۱۷ء میں موغادیشو میں اپنا باقاعدہ فوجی اڈہ ’’کیمپ ترکسوم‘‘ قائم کر دیا۔ پانچ کروڑ ڈالر کی مالیت سے تیار ہونے والا یہ فوجی اڈہ ترکی کا بیرون ملک سب سے بڑا فوجی مرکز ہے۔ اس اڈے میں صومالی فوج اور پولیس کو الشباب کے خلاف جنگ کی تربیت دی جاتی ہے، اس کے علاوہ ۲۰۱۷ء میں اسی بیس میں ترکی نے ’’گورگور بٹالین‘‘ کے نام سے صومالی سپیشل فورسز کا ایک دستہ تشکیل دیا جس کی پہلے ترکی میں تربیت ہوئی اور پھر ان کی تربیت ترکسوم کیمپ میں کی گئی۔ اس سپیشل فورس دستے کو الشباب کے مجاہدین کے خلاف سپیشل آپریشنز کرنے اور ان کے مراکز پر چھاپے مارنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ۔ فوج کے علاوہ ترکی نے صومالی پولیس کے ایلیٹ دستے ’’Haramcad Elite Police Unit‘‘ کی بھی الشباب کے خلاف کاروائیوں کے لیے تربیت کی۔
اس کیمپ کے قیام کے بعد ترکی کا صومالیہ میں کردار صرف صومالی فوج کی تربیت تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ صومالی فوج کو فوجی ساز و سامان ، انٹیلی جنس معلومات حتیٰ کہ الشباب کے مجاہدین کے خلاف جنگ کے دوران براہ راست آپریشنل سپورٹ بھی فراہم کرنے لگا۔
فروری ۲۰۲۴ء میں ترکی اور صومالیہ کے درمیان ایک اور دفاعی معاہدہ طے پایا جس کے تحت ترکی صومالیہ کی بحریہ کو تشکیل دے گا، اس کی تربیت کرے گا اور اسے اسلحہ اور ساز و سامان فراہم کرے گا۔
۲۰۲۵ء میں ترکی نے صومالیہ میں اپنے مزید فوجی دستے بھیجے جن کا مقصد الشباب کے خلاف جنگوں میں صومالی فورسز کو براہ راست مدد فراہم کرنا ہے۔ فروری ۲۰۲۶ء میں صومالی حکومت نے دعویٰ کیا کہ ترک فوجیوں کی مدد سے صومالی افواج الشباب کے زیر قبضہ علاقوں میں پیش قدمی کرنے اور الشباب کے اہم کمانڈروں کو شہید کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ۲۰۲۶ء کے آغاز میں ہی ترکی نے الشباب کے خلاف جنگ میں باقاعدہ شمولیت کے لیے اپنے F-16 طیارے، T129 جنگی ہیلی کاپٹر اور AS-532 کوگر ہیلی کاپٹر بھیجے۔ اپریل ۲۰۲۶ء میں صومالی حکومت کی جانب سے ان طیاروں کی جنگ میں شمولیت کی باضابطہ تصدیق بھی کر دی گئی۔ یورپی یونین کی جون ۲۰۲۶ء کی ایک رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ترک زمینی افواج ۲۰۲۵ء سے الشباب کے مجاہدین کے خلاف براہ راست جنگ میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ جون ۲۰۲۶ء کے آخر میں صومالی وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ صومالی فوج نے ترک فوج کے تعاون سے الشباب المجاہدین کے زیر قبضہ شبیل کے علاقے میں الشباب کے مراکز کے خلاف کاروائیاں کی ہیں جن میں ترکی کے F-16 طیاروں نے ان مراکز پر بمباری کی۔
3. شام
ترکی کا شام میں احمد الشرع (جولانی) کے ساتھ تعلق دسمبر ۲۰۲۴ء میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی بنیاد کئی برس قبل شمال مغربی شام، بالخصوص ادلب میں ترکی کی مداخلت اور وہاں جولانی کے ساتھ عملی تعامل سے پڑ چکی تھی۔ ۲۰۱۶ء میں جب جولانی نے القاعدہ سے تعلق توڑا اور جبہۃ النصرۃ ختم کر کے ہیئۃ تحریر الشام کو تشکیل دیا تو اس میں بھی ترکی کا بہت اہم کردار تھا۔
امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس نے اپنی دسمبر ۲۰۲۴ء کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ترکی نے ادلب اور وہاں پر حکومت کرنے والی تحریر الشام کو شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے تحفظ فراہم کیا جس کی وجہ سے تحریر الشام کو اپنی عسکری اور سیاسی صلاحیتیں بہتر کرنے میں مدد ملی۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ترکی نے تحریر الشام کو ڈرونز اور دیگر عسکری ساز و سامان بھی فراہم کیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق ترکی نے ہی جولانی کو امریکہ کے ساتھ روابط قائم کرنے اور اس کے ساتھ مفاہمت کرنے کی جانب مائل کیا۔ دسمبر ۲۰۲۴ء میں جب تحریر الشام نے دمشق پر قبضہ کیا تو امریکی حکومت نے پہلی بار کھل کر اعتراف کیا کہ امریکی حکام کئی سالوں سے جولانی کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے۔ دسمبر ۲۰۲۴ء کی ہی Reuters کی رپورٹ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جولانی کے ساتھ امریکہ کے ابتدائی روابط قائم کرنے میں ترکی اور قطر نے اہم کردار ادا کیا۔
تحریر الشام کے دمشق پر قبضے کے بعد ترکی نے نئی شامی قیادت کو سیاسی اور سفارتی رسمیت دلانے اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔ مئی ۲۰۲۵ء میں امریکی اور ترک حکام نے ’’امریکہ، ترکی ، سوریا ورکنگ گروپ‘‘ قائم کیا جس کا مقصد شام پر پابندیوں میں نرمی، وہاں سیاسی استحکام اور ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف تینوں ملکوں کے درمیان تعاون ہے۔ اسی ماہ ۱۴ مئی کو سعودی عرب میں جب ٹرمپ کے ساتھ احمد الشرع کی ملاقات ہوئی تو اس ملاقات میں اردگان فون کے ذریعے شریک رہا اور اس نے زور دیا کہ ٹرمپ شام پر لگی پابندیاں اٹھا دے۔ اس کے فوراً بعد ۲۴ مئی ۲۰۲۵ء کو شام کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی اور ترکی میں امریکی سفیر ٹام بارک نے احمد الشرع سے استنبول میں ملاقات کی۔ Reuters کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں شام میں دیگر ممالک کے جنگجوؤں کی موجودگی، پابندیوں میں نرمی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور شام میں تعمیر نو کے معاملات پر گفتگو ہوئی۔ ترکی کے وزیر خارجہ خاکان فیدان نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ترکی نے احمد الشرع کی مدد سے شام میں داعش کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں۔
اختتامیہ
یہ تھا ترکی اور اس کے ’’اسلام پسند‘‘ حکمران کا اصل چہرہ جسے عالمِ اسلام کا قائد اور دیگر مسلم ممالک کے لیے رول ماڈل تصور کیا جاتا ہے۔
ایک طرف اگر اسرائیل کے معاملے میں ترکی کے کردار کو دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ دعوے تو بہت کیے گئے، نعرے بھی بہت لگائے گئے، بیانات بھی بہت داغے گئے لیکن عملی اقدام کے طور پر سفارتی تعلقات کے درجے میں کچھ وقت کے لیے کمی اور جب عوامی غصہ کچھ ٹھنڈا ہو جائے تو پھر سے تعلقات کی بحالی اور بس۔ اور یہ تماشہ آج تک جاری ہے۔ اگر کچھ کیا بھی تو اپنے اقتدار میں آنے کے ڈھائی عشروں اور اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی نصف درجن جنگوں کے بعد جب پوری دنیا نے اس کی دوغلی پالیسی، کہ ایک طرف فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل پر تنقید جبکہ دوسری طرف اسرائیل کا دنیا کا پانچواں بڑا ایکسپورٹر، پر تنقید کی اور جب عالمِ اسلام میں اسے اپنی ساکھ خطرے میں نظر آئی تو تجارتی تعلق ختم کر دیے۔ لیکن یہ اقدام بھی محض دکھاوے کے سوا کچھ نہ تھا اور پس پردہ بالواسطہ ذرائع سے تجارت جاری رہی۔ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ رویے میں مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ترکی میں حکومتی سرپرستی میں اسرائیل کے خلاف عوامی مظاہرے کروائے جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں عوامی مظاہرے اپنی حکومتوں سے کچھ مطالبات تسلیم کروانے کے لیے کیے جاتے ہیں، تو ترکی میں حکومتی سرپرستی میں عوامی مظاہروں کا کیا حاصل؟ واضح بات ہے کہ اس کا مقصد عوامی جذبات کو قابو میں رکھنا ، اپنی مقبولیت کو شعبدہ بازیوں کے ذریعے سے بڑھانا اور عوامی غصے کو مظاہروں میں گلے پھاڑ کر نعرے لگانے کے ذریعے ٹھنڈا کر دینا ہے، کیونکہ اگر ان مظاہروں کے ذریعے یہ جذبات ٹھنڈے نہ کیے گئے تو عوام کسی حقیقی عملی اقدام کی جانب سوچنے لگیں گے۔
دوسری جانب امریکہ کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہے۔ ایک طرف وہی سیاسی بیان بازیاں اور بلنگ و بانگ دعوے جبکہ دوسری جانب اسی امریکہ کا اتحادی اور نیٹو کا رکن، اسی امریکہ کو ترک سرزمین پر انجرلک ائیر بیس استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ جہاں سے وہ اسرائیل کا تحفظ اور اسرائیل کے دشمنوں پر حملہ کر سکے، اسی ترک سرزمین پر میزائل ڈیفنس سسٹم بھی نصب کرنے دیا تاکہ کوئی میزائل اسرائیل کا رخ نہ کر سکے۔ پھر بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود میں انتہائی سٹریٹیجک مقام رکھنے کے باوجود کبھی اپنی اس پوزیشن کو امریکہ کو فلسطین کے حوالے سے مجبور کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا۔
پھر تیسری جانب عالمِ اسلام میں جہاں کسی ایسی جہادی تحریک کے کھڑا ہونے کا امکان نظر آیا جو امریکہ یا اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکے اس کو دبانے اور کچلنے میں آگے بڑھ کر کردار ادا کیا اور آج تک کر رہا ہے۔ شام جس کی طرف اہلِ غزہ و فلسطین کی نگاہیں بار بار اٹھتی تھیں، جہاں کے مجاہدین سے انہیں امید تھی کہ غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد شامی مجاہدین گولان (جولان) کی پہاڑیوں کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کریں گے تاکہ اسرائیل کی توجہ بٹ جائے اور اہل غزہ کو کچھ سکھ کا سانس ملے، اسی شام میں ترکی نے ایک غدار اور امریکی پٹھو کو اقتدار پر بٹھا دیا تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے اس جانب سے کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔
دیکھا جائے تو قبلۂ اوّل سے خیانت کی داستان میں ماضی میں ذکر کیے گئے خائنین کرداروں کی نسبت ترکی کا کردار زیادہ گھناؤنا ہے۔ ان میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنے ساتھ ’’اسلام پسندی‘‘ کا لیبل چسپاں کرتا ہو، ان میں کوئی ایسا نہیں جو خود کو خلافتِ عثمانیہ کا حقیقی وارث گردانتا ہو، ان میں کوئی ایسا نہیں کہ جو عالمِ اسلام میں اسلامی تحریکات کا حامی ہونے کا دعویدار ہو، لیکن ترک حکومت کے یہ دعوے کبھی سیاسی بیان بازیوں اور نعروں سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ ترکی کے عالمِ اسلام اور دنیا میں سٹریٹیجک مقام کے مطابق ترکی فلسطین کے لیے بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن اس نے کبھی کوئی ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے اہل فلسطین کو کوئی حقیقی فائدہ پہنچتا ہو یا اسرائیل کا کوئی حقیقی نقصان ہوتا ہے، جو کیا وہ محض اپنی شہرت اور دکھاوے کے لیے کہ عالمِ اسلام میں مجھے قائد مانا جائے مجھے فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کا محافظ تصور کیا جائے لیکن عملاً مجھے کچھ نہ کرنا پڑے اور اپنا رتی برابر بھی نقصان نہ برداشت کرنا پڑے۔
زیادہ نہیں تو اسی سے ملتا جلتا کردار قطر کا بھی ہے جس کے بارے میں ان شاء اللہ اگلی قسط میں تفصیل سے بات ہو گی۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭













