گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے ایک اور اچھوتا اعلان کیا کہ عقوبت خانوں میں بند ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو فرار سے روکنے کے لیے بندی خانوں کے اردگرد بڑی بڑی خندقیں کھود کے ان میں دریائے نیل کے امپورٹڈ مگر مچھ چھوڑے جائیں گے۔ اس ’’ نیک‘‘ کام کی ابتدا جنوبی اسرائیل کے صحرائے نجف میں قائم سب سے بڑی جیل ’’ کیٹزیوٹ ‘‘ سے ہو گی۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت انسانوں کو اذیت یا موت دینے کے لیے جنگلی جانوروں کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اس عمل کو ’’قانونی پوشاک‘‘ پہنانے کے لیے اسرائیلی وزارتِ ماحولیات نے مگر مچھ کو ’’پالتو جنگلی جانوروں‘‘ کی فہرست میں شامل کر دیا (پالتو جنگلی جانور کی اسرائیلی اصطلاح جنگلی حیاتیات کے کسی بین الاقوامی کنونشن میں شامل نہیں ) ۔
جیلوں کی حفاظت مگر مچھوں کے ذریعے؟ یہ آئیڈیا اتمار بین گویر نے غالباً فلوریڈا میں قائم غیر قانونی تارکینِ وطن کے قیدی کیمپ ’’ایلیگیٹر الکتراز‘‘ سے لیا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اس کیمپ کا گزشتہ برس دورہ کر چکا ہے۔ یہ کیمپ مگر مچھوں ، اژدھوں اور زہریلے حشرات سے اٹے دلدلی علاقے میں قائم ہے۔ خود اسرائیلی بھی فلسطینیوں کو مکمل حیوان یا نیم انسان سمجھتے ہیں۔ لہذا ’’جانور‘‘ پر ’’جانور‘‘ چھوڑنا صہیونی ضابطہِ اخلاق میں ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ بھلا کون سا صہیونی رہنما یا عہدیدار ہے جس نے فلسطینیوں کو کھلم کھلا جانور نہیں کہا۔
سن ۶۰ء کی دہائی میں تب کے وزیرِ دفاع موشے دایان نے فلسطینیوں کو ’’ تتیا ‘‘ اور ’’ کتا ‘‘ بتایا۔ ۱۹۸۰ءکے عشرے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم منیہم بیگن نے اعلان کیا کہ فلسطینی دراصل دو ٹانگوں والے جانور ہیں۔ اس کے بعد آنے والے وزیرِ اعظم ایتزاک شمیر کا خیال تھا کہ فلسطینی دراصل ٹڈیاں ہیں۔ فوج کے ایک سابق سربراہ جنرل رافیل ایتان نے فلسطینوں کو لال بیگ بتایا۔ ایک اور وزیرِ اعظم یہود براک نے بتایا کہ فلسطینی مگر مچھ ہیں۔ سات اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے کے بعد اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ دفاع یووو گیلنٹ نے تمام فلسطینیوں کو انسان نما جانور قرار دیا۔
صہیونیت کے باوا آدم تھیوڈور ہرزل نے ایک صدی پہلے فلسطین کو فلسطینیوں سے خالی کروانے کے لیے جو تجاویز مرتب کیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ اس خطے کو زہریلے سانپوں سے پاک کروانے کا کام مقامی باشندوں ( عرب ) سے لیا جائے اور انہیں اس کام کا مناسب معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔
اسرائیل کے قیام کے بعد صہیونی انتظامیہ نے ان تمام چرند و پرند کو اس سرزمین میں پھر سے بسانے کا منصوبہ بنایا جن کا ذکر مقدس کتابوں میں موجود تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لیے نایاب ہو گئے تھے۔ مثلاً ایرانی ہرن اور جنگلی گدھے وغیرہ۔ شاہ ایران نے زوال سے چند برس پہلے کچھ جنگلی گدھے تحفے میں بھجوائے جنہیں جنوبی اسرائیل کے صحرا میں چھوڑا گیا اور ان کا شکار ، پکڑ دھکڑ یا جسمانی نقصان پہنچانا یا بھوکا مارنا قابلِ تلافی جرم قرار پایا۔ عرب بدوؤں کے پالتو اونٹوں کو ممانعت ہو گئی کہ وہ ان جنگلی گدھوں کے لیے مختص تالابوں سے پانی نہیں پی سکتے ورنہ بھاری جرمانہ ہو گا۔ اسی طرح ایرانی ہرنوں کو مغربی کنارے کے پتھریلے علاقے میں چھوڑنے سے پہلے یہاں سے مقامی جنگلی کتوں کی نسل کا صفایا کر دیا گیا۔ گولڈ فنچ نامی چڑیا فلسطینی بہت شوق سے پالتے ہیں۔ اسے پالنا بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ یہاں تک کہ فلسطین کے نایاب سانپ کی شناخت تک چرا کے دو ہزار اٹھارہ میں اسے اسرائیل کے قومی سانپ کا درجہ دے دیا۔
اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ یہ بھی نہیں چاہتی کہ اسے جانوروں پر ظلم یا غیر فطری کام لینے کا ملزم سمجھا جائے۔ چنانچہ جب غزہ کے معروف شاعر رفعت العریر نے بمباری کے سبب غزہ کے چڑیا گھر میں قید فاقہ زدہ یا مرے ہوئے جانوروں کا احوال دنیا کو بتانے کی کوشش کی تو ہفتے بھر بعد اسرائیلی طیاروں نے رفعت العریر کو گھر اور اہلِ خانہ سمیت اڑا دیا۔
غزہ میں بار برداری اور سفر کے لیے گھوڑوں اور گدھوں کا استعمال بہت پرانا ہے۔ اسرائیل نے نہ صرف غزہ کی ۸۴فیصد ہریالی روند ڈالی بلکہ انسانوں کے ساتھ ساتھ ان کے زیرِ استعمال ۹۷ فیصد مویشی بھی بھوک اور بمباری کی نذر ہو گئے۔ بڑی تعداد میں پالتو جانور چرا لیے گئے۔ گویا انسان کشی کے ساتھ ساتھ بھرپور حیوانی و حیاتیاتی نسل کشی بھی ہوئی۔
مقبوضہ مغربی کنارے پر تو اب یہ معمول ہے کہ فوج کی سرپرستی میں مسلح یہودی آبادکار گھروں اور کھلیانوں کو آگ لگاتے ہیں۔ زیتون کے باغات بلڈوز کرتے ہیں اور پالتو جانور کھول کے لے جاتے ہیں۔
فلسطینیوں کے خلاف جنگلی جانوروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ بھی مسلسل ہے۔ ۲۰۰۹ءکے بعد متعدد بار مغربی کنارے پر فلسطینی کھیتوں میں بڑی تعداد میں جنگلی سور چھوڑے گئے تاکہ وہ فصلیں روند سکیں اور انسانوں کو زخمی کر سکیں۔ مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیوں کے اردگرد مضبوط باڑھ کے سبب یہ سور ان بستیوں میں داخل نہیں ہو سکتے۔ جب کہ فلسطینی دیہاتوں میں حفاظتی باڑھ لگانے کی اجازت نہیں۔ گویا ان سوروں کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے لہذا انہیں مارا بھی نہیں جا سکتا۔
برطانوی نوآبادیاتی قبضے کے دوران ۱۹۳۶ءتا ۳۹ء لگ بھگ ہر فلسطینی غلامی کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ چنانچہ انگریزوں نے جنوبی افریقہ سے شکاری کتے درآمد کیے۔ انہیں بھوکا رکھا جاتا اور پھر باغی فلسطینی قیدیوں پر چھوڑ دیا جاتا۔
اس نوآبادیاتی سفاکی کو اسرائیلیوں نے اگلے مرحلے تک پہنچا دیا۔ فلسطینی قیدیوں کو بھنبوڑنے کے لیے تربیت یافتہ شکاری کتوں کی ایک بڑی تعداد ہالینڈ سے درآمد کی گئی۔ انہیں نہ صرف قید خانوں میں بلکہ گھروں پر چھاپوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کتوں کے ایک غول کو قیدیوں کو ریپ کرنے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ اسرائیل نے اس ’’بے بنیاد الزام‘‘ پر اخبار کو عدالت میں کھڑا کرنے کی دھمکی دی مگر پھر شاید کچھ سوچ بچار کے بعد غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔
اسرائیلی قانون کے تحت بطخوں اور راج ہنس سمیت متعدد آبی پرندوں کو جبراً خوراک نہیں دی جا سکتی۔ ان کے لیے علاقے مختص ہیں تاکہ وہ آزادانہ گھوم پھر کے من پسند خوراک تلاش کر سکیں۔ اس کے برعکس بھوک ہڑتالی قیدیوں کے منہ میں جبراً کھانا ٹھونسنا قانوناً جائز ہے۔ اب جیلوں کے اردگرد بھوکے مگرمچھ چھوڑنے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ ایک جانور دوسرے جانور ( فلسطینی ) کو قانوناً کھا سکے گا۔
[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
