جنگ بندی کی خلاف ورزی ثابت ہونے سے پہلے آپ کو کتنے لوگوں کو قتل کرنا ہو گا؟
یقیناً ایک۔ لیکن دو کا کیا؟ 10 کا؟ 100 کا؟
یا پھر ۱۲۰۰سے بھی زیادہ کا؟ اکتوبر میں حماس کے ساتھ بظاہر جنگ بندی پر رضامندی کے بعد سے اسرائیل نے غزہ میں اتنے ہی فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان پر بھی مسلسل حملے جاری رکھے ہیں، حالانکہ وہاں بھی ایک ’جنگ بندی‘ موجود ہے۔ لیکن مغربی میڈیا کو بظاہر کوئی خلاف ورزی نظر ہی نہیں آتی۔ اس کے بجائے اسے ایسی جنگ بندیاں دکھائی دیتی ہیں جو ’’نازک‘‘، ’’آزمائش سے دوچار‘‘، ’’دباؤ کا شکار‘‘ یا ’’غیر مستحکم‘‘ ہیں۔
جبکہ خبروں کی رپورٹنگ میں صحت اور درستگی بنیادی اصول ہونے چاہئیں، آپ تصور کریں گے کہ بی بی سی، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور سی این این جیسے اداروں نے مصر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی شرائط ضرور پڑھی ہوں گی۔ ان شرائط میں کوئی ابہام نہیں، اور واقعی ان کی تشریح کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔
پہلے 72 گھنٹوں کے اندر کچھ شرائط پوری کیا جانا ضروری تھا، اس کے بعد ہی جنگ بندی نافذ ہو سکتی تھی۔ ان میں اسرائیلی افواج کا غزہ کے اندر متفقہ حدود تک واپس جانا، اور حماس کی جانب سے تمام باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں، زندہ یا مردہ، کی واپسی شامل تھی۔
جب یہ پیشگی شرائط پوری ہو گئیں، اور وہ پوری ہو گئی تھیں، تو معاہدے کے متن میں کہا گیا کہ ’’تمام فوجی کارروائیاں، بشمول فضائی اور توپ خانے کی بمباری اور اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، معطل کر دی جائیں گی‘‘۔
ان الفاظ پر ذرا ٹھہرنا چاہیے: ’’تمام فوجی کارروائیاں، بشمول فضائی اور توپ خانے کی بمباری اور اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، معطل کر دی جائیں گی‘‘۔
اب ان الفاظ کو ایک ہزار سے زیادہ مقتول فلسطینیوں کے ساتھ ملا کر دیکھیے۔ اس حقیقت کے ساتھ ملا کر دیکھیے کہ ان میں بہت سی خواتین اور بچے تھے۔ اسے جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے کے ساتھ ملا کر دیکھیے، جس میں اسکول کی پرنسپل ایسپرانزا غندور، ان کی والدہ، ایک گھریلو ملازمہ اور ایک شامی مزدور اس وقت مارے گئے جب وہ سب ایک ہی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
اسے گزشتہ ماہ ایک فلسطینی جنازے میں مارے جانے والے آٹھ افراد کے ساتھ ملا کر دیکھیے۔ اور ذرا یہ بھی کوشش کیجیے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے کو ان الفاظ کے ساتھ ملا کر دیکھ سکیں، جس میں فراس المصری، ان کی اہلیہ سلسبیل، اور ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا مارے گئے۔
ایک قابض فوج نے انہیں اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ اپنے خاندانی گھر میں سو رہے تھے، وہ جگہ جو محبت، تحفظ اور سلامتی کی علامت ہونی چاہیے۔
مجھے مغربی میڈیا میں ایک بھی ایسی رپورٹ نہیں ملی جس میں المصری خاندان کے قتل عام کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہو۔ ایسی ہی بے شمار دوسری ہولناک کارروائیوں میں بھی یہی طرزِ عمل نظر آتا ہے۔
اسرائیل نے کہا کہ اس نے حماس کے ایک رکن کو نشانہ بنایا تھا، لیکن ہمیشہ کی طرح کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ لیکن مثال کے طور پر فرض کر لیتے ہیں کہ فراس المصری حماس میں شامل تھے۔ آخرکار اکتوبر کے اس جعلی معاہدے کے بعد جب بھی اسرائیل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے حماس کے کسی رکن کو قتل کیا ہے، مغربی میڈیا کو اس پر کوئی اعتراض نظر نہیں آتا۔
لیکن اسرائیل نے جنگ بندی کا معاہدہ کس کے ساتھ کیا تھا؟ جی ہاں، حماس کے ساتھ۔
ان میں سے کوئی بھی مضبوطی سے قائم حقیقت بین الاقوامی صحافیوں کو اپنا یہ فرض ترک کرنے سے نہیں روکتی کہ وہ واقعات کو وہی نام دیں جو درحقیقت ان کے ہیں۔
المصری خاندان کو دانستہ نشانہ بنا کر قتل کیے جانے سے متعلق رائٹرز کی ایک رپورٹ نے اس ہولناک واقعے کی کچھ تصویر ضرور پیش کی، اور المصری کے والد کا بیان بھی نقل کیا، جو اپنے بیٹے، بہو، پوتے اور تین پوتیوں کی موت پر سوگوار تھے۔
لیکن اس کے باوجود خبر رساں ادارہ 500 الفاظ پر مشتمل رپورٹ میں، جس میں گزشتہ چند دنوں کے دوران غزہ پر اسرائیل کے پانچ دیگر حملوں کا بھی ذکر تھا، کہیں بھی یہ کہنے کے قریب تک نہیں پہنچا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس کے بجائے رائٹرز نے جنگ بندی کو ایک ایسی موجودہ حقیقت کے طور پر پیش کیا، نہ کہ ایسی فرضی چیز کے طور پر جسے روزانہ نظر انداز کیا جا رہا ہے ، اور اس نے یہ حیران کن جملہ لکھا:
’’تازہ ترین ہلاکتوں سے ان 1,160 سے زیادہ فلسطینیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں اور جو اسرائیل اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔‘‘
’’جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے۔‘‘
اس سے اس فرق کے بارے میں بہت کچھ پتا چلتا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا اسرائیل کی رپورٹنگ کس طرح کرتا ہے اور تقریباً ہر دوسرے ملک کی رپورٹنگ کس طرح کرتا ہے۔ ایک ایسا نامور خبر رساں ادارہ، جو ہر لفظ کے انتخاب میں اپنی محتاط غور و فکر کے لیے مشہور ہے، آخرکار کیسے ایسا جملہ لکھ سکتا ہے؟
دریں اثنا، غندور اور تین دیگر افراد کو ہلاک کرنے والے لبنان پر حملے سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ اپنے عریاں دوہرے معیار کے باعث حیران کن تھی۔
رائٹرز کی طرح بی بی سی نے بھی سرخی میں ’’کے بعد سے‘‘ کے الفاظ کا انتخاب کیا:
’’حالیہ جنگ بندی کے بعد لبنان پر اسرائیل کے مہلک ترین حملے میں اسکول کی سربراہ سمیت چار افراد ہلاک۔‘‘
البتہ وہ گمشدہ لفظ ’’خلاف ورزی‘‘ خود خبر کے متن میں ضرور نمودار ہوا: ایک پیراگراف میں لکھا تھا:
’’اسرائیل وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا الزام ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘‘
بی بی سی نے چار بے گناہ افراد کے اسرائیلی قتل پر ایک خبر شائع کی، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے مضحکہ خیز طور پر کہا کہ اس نے گاڑی پر اس لیے بمباری کی کیونکہ وہ اس کے فوجیوں کے لیے ’’خطرہ‘‘ تھی، لیکن اس نے جن واحد خلاف ورزیوں کا ذکر کیا وہ دوسروں کے خلاف اسرائیل کے غیر ثابت شدہ الزامات تھے۔
اس طرح کی صحافت ان تمام اصولوں کے بالکل برعکس ہے جو ایک مغربی ادارے میں نوجوان خبر نگار کی حیثیت سے میرے ذہن میں بٹھائے گئے تھے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے: ان اداروں کے لیے کام کرنے والے صحافی آپ کو بتائیں گے کہ وہ منصفانہ اور متوازن رپورٹنگ کرتے ہیں۔
وہ غالباً یہ بھی کہیں گے کہ جو خبر رساں ادارے غزہ میں ہونے والے واقعات کو نسل کشی قرار دیتے ہیں، جیسے مڈل ایسٹ آئی، الجزیرہ اور زیٹو، وہ جانبدار ہیں، یا یہ کہ وہ میڈیا کے پیشہ ور افراد نہیں بلکہ کارکن ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جب بات اسرائیل کی آتی ہے تو ان خبر نویسی کے اداروں نے اس جگہ کو سنبھال لیا ہے جسے مرکزی دھارے کے میڈیا نے خالی چھوڑ دیا ہے، یعنی وہ جگہ جہاں واقعات کو درست اور پوری سختی و دیانت داری کے ساتھ رپورٹ کیا جاتا ہے۔
اگرچہ قتل جنگ بندی کے معاہدوں کی سب سے واضح خلاف ورزیاں ہیں، لیکن اور بھی خلاف ورزیاں موجود ہیں۔ غزہ کے معاہدے میں صاف الفاظ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج ’’ان علاقوں میں واپس نہیں جائے گی جہاں سے وہ انخلا کر چکی ہے‘‘۔ اس میں یہ بھی درج تھا کہ اسرائیل نے ’’انسانی امداد اور ریلیف کی مکمل رسائی فوری طور پر شروع کرنے‘‘ پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
لیکن اسرائیلی فوج نہ صرف ان علاقوں میں واپس گئی جہاں سے وہ انخلا کر چکی تھی، بلکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے علانیہ غزہ پر قبضے کو علاقے کے 70 فیصد تک پھیلانے کا حکم بھی دے دیا، جس کے نتیجے میں زیادہ تر فلسطینی ساحل کے ساتھ ایک چھوٹی سی پٹی میں محصور ہو گئے۔
اور اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں طے شدہ مقدار میں امداد داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، جہاں اقوام متحدہ نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ قحط کا خطرہ ایک بار پھر بڑھ رہا ہے۔
کیا مغربی میڈیا نے ان تصدیق شدہ حقائق کو خلاف ورزیوں کے طور پر رپورٹ کیا ہے؟ ہرگز نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ حماس اور اسرائیل نے ان کے غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس میں حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا شامل ہے۔
لیکن منصوبے سے متعلق پیچیدہ سوالات بدستور موجود ہیں، اور اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نے ہفتے کے روز مزید دو فلسطینیوں کو قتل کیا اور دیر البلح میں الاقصیٰ شہداء ہسپتال میں ادویات ذخیرہ کرنے کی تنصیبات تباہ کر دیں۔
اگر، اور یہ ایک بڑا ’’اگر‘‘ ہے، دوسرا مرحلہ آگے بڑھتا ہے تو ایسا اسرائیل، جو فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے پر کسی انجام کا سامنا نہیں کرتا، غالباً ایک بار پھر اس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا۔
اور مغربی میڈیا اسے دیکھنے سے انکار کر دے گا۔
[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
