پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر اس قدر درود و سلام ہو، اللہ کی اس قدر رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں کہ جن سے اللہ راضی ہو جائے اور جن سے آپ کا حقِ درود ادا ہو پائے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوتے اور ہم سے گفتگو فرما رہے ہوتے کہ اذان کی آواز بلند ہوتی تو اس طرح اٹھ کر روانہ ہو جاتے گویا ہم سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
اذان کی یہ پکار دراصل اللہ رب العزت کے دربار میں حاضری کی پکار ہے، جہاں اللہ نے پکارا وہاں ہر دوسرا تعلق، ہر ترجیح، ہر ذمہ داری اور ہر اہم کام پیچھے رہ گیا ، اللہ کی پکار سب پر غالب آ گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف لپکے۔ لبیک اللھم لبیک کی یہی عملی تفسیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت مبارکہ کا احاطہ کیے دکھائی دیتی ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کے آخری ایام ہیں، آخری خطبہ ہے، مسجد نبوی ہے، جاں نثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سامنے ہے اور پیارے نبی (ہماری جان اور ہمارا سب کچھ آپ پر قربان ہو) فرما رہے ہیں کہ :
’’اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ چاہے دنیا کی نعمتیں اختیار کرے یا اپنے رب کے پاس جو کچھ ہے، مگر اس بندے نے اپنے رب کے پاس کی نعمتوں کو اختیار کر لیا۔‘‘
نزع کا عالم ہے، سر مبارک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آغوش میں ہے، پانی میں ہاتھ ڈال کر بار بار چہرہ انور پر پھیرتے ہیں اور فرما تے ہیں، لا الہ الا اللہ، إنَّ لِلموتِ سَکَرات، اور پھر زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں: فی الرفیق الاعلی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں بارہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن چکی تھی کہ کسی بھی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی جب تک کہ اسے دنیا اور آخرت میں سے ایک کے اختیار کا موقع نہ دیا جائے، اور پھر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے،’’اللّٰھم في الرفيق الأعلى‘‘، تو جان گئی کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی رفاقت کو اختیار فرما لیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر ایک نگاہ ڈالیں تو کیا دکھائی دیتا ہے؟ کیا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا والوں سے کوئی تعلق یا لگاؤنہ تھا؟ ہر گز نہیں!
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں کتنے ہی رشتوں سے وابستہ تھے، ایک بیٹے، ایک بھتیجے، ایک شوہر ، ایک باپ ، ایک دوست، ایک نانا اور پھر پوری امت کے نبی و رسول۔ جس تعلق میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جڑے رہے اس سے اپنی محبت، اپنی الفت، اپنے لگاؤ کا بار بار اظہار فرماتے، اپنی تمام ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا فرمایا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھیوں کی دل جوئی بھی کی اور ان کی غم خواری میں بھی کبھی پیچھے نہ رہے۔
لوگوں نے دریافت کیا: ’’یا رسول اللہ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے بلا تردد فرمایا: ’’عائشہ۔‘‘ پھر پوچھا گیا: ’’مردوں میں؟‘‘ فرمایا: ’’عائشہ کا باپ‘‘۔ اپنی محبوب بیٹی فاطمہؓ کو دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے، انہیں چومتے اور اپنی جگہ بٹھاتے، فرماتے کہ فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔
حسنؓ اور حسینؓ سے ایسی محبت تھی کہ انہیں اپنے کندھوں پر بٹھاتے اور دوران نماز وہ سجدے کی حالت میں پشت مبارک پر سوار ہو جاتے تو ان کی خوشی کی خاطر سجدہ طویل فرما دیتے ۔ دعا فرماتے: ’’یا اللہ! میں ان سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی انہیں محبوب رکھ‘‘۔
اپنے محبوب ساتھی ابوبکرؓ سے متعلق فرمایا کہ جان، مال، صحبت و رفاقت کے معاملے میں ان سے بڑھ کر میرا کوئی محسن نہیں۔ اگر میں اپنے پروردگار کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا۔ بارہا فرمایا: ’’میں، ابوبکر اور عمر فلاں امر کی تصدیق کرتے ہیں‘‘ خواہ ابو بکرؓ و عمرؓ وہاں موجود نہ بھی ہوتے، یہ محبت بھی تھی، اعتماد بھی تھا اور دل کا تعلق بھی۔
اور پھر امت، وہ امت جس کے بہت سے افراد کو آپ ﷺ نے دیکھا بھی نہ تھا، اس کے حق میں فرمایا کہ ہر نبی کو ایک دعا ایسی عطا کی گئی ہے جو ضرور قبول ہو گی، اور ہر نبی نے اپنے حصے کی وہ دعا کر لی ہے، جبکہ میں نے اپنے حصے کی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی ہے۔
پس ایسے نبی کہ جنہوں نے اپنے ہر تعلق کا حق ادا کیا، ہر رشتے کو اپنی محبت اور اپنے دلی تعلق کا بھرپور یقین دلایا، لیکن جب ان کے رب نے انہیں اختیار دیا تو انہوں نے اپنے رب کی رفاقت کو اختیار فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ تعلقات سے کنارہ کش ہو جائیں، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ تعلقات کو ان کی صحیح جگہ پر رکھا جائے۔
رشتے نبھایے، مگر دل کی ڈور اس ذات سے بندھی ہو کہ جس کی طرف ایک دن سب نے لوٹ کر جانا ہے۔
دنیا میں رہتے ہوئے اپنے ہر کردار کا حق ادا کیجیے، والدین ہوں یا اولاد، شریکِ حیات ہو یا دوست، سب کے حقوق ادا کیجیے، لیکن یہ سب کرتے ہوئے دل ہر وقت اپنے رب سے وابستہ رہے۔ پھر گر زندگی کا فیصلہ کن لمحہ بھی آ جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا ہو، تو دل میں کوئی کشمکش نہ ہو، کوئی حسرت نہ ہو، کوئی ایسی وابستگی نہ ہو جو قدم روک لے، بلکہ بندہ اپنے رب کے حکم کی طرف اسی شوق سے بڑھے جس شوق سے رسول اللہ ﷺ اپنے رب کی پکار اس کے حکم کی طرف بڑھے، جب جب ان کے رب نے پکارا انہوں نے اس کی پکار پر یوں لبیک کہی گویا بس اسی ایک پکار کے منتظر ہوں۔
یہ وہی پیغام ہے کہ جو اللہ رب العزت کے اس فرمان مبارک میں مذکور ہے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ (سورۃ التوبہ: ۲۴)
’’آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔‘‘
اللہ کے ہر بلاوے پر یوں لبیک کہنا تبھی ممکن ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات سے بڑھ کر کوئی ہمیں محبوب نہ ہو گا، جب ہر محبت سے بڑھ کر اللہ کی محبت اور ہر چاہت سے بڑھ کر اللہ کی رضا محبوب ہو گی، پس اسی میدان میں ہمیں سبقت کرنی ہے، اسی کی طرف لپکنا ہے اور زبان حال سے بھی یہی کہنا ہے۔
لبیک اللّٰھم لبیک!
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
