نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | پندرہویں قسط

مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک

by عبد الہادی مجاہد
in اگست 2026ء, فکر و منہج
0

زیرِ نظر تحریر افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجاہد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر افغانستان میں مدارس اور دینی تعلیم کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ، لیکن کتاب میں بیان کی گئی امت مسلمہ کی حالت اور اس حوالے سے جو مطالبہ ایک افغان عالم ِاور مدرسے سے کیا گیا ہے وہ درحقیقت باقی عالمِ اسلام کے علماء اور مدارس سے زیادہ مطلوب ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں تو آج ایک شرعی و اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے جبکہ باقی عالَمِ اسلام اس سے کہیں پیچھے ہے۔ اس کتاب کے اصل مخاطبین علماء و طلبہ ہیں جن کی تاریخ بالاکوٹ، شاملی، صادق پور اور دیوبند کے پہاڑوں، دروں، میدانوں اور مساجد و مدارس کے در و دیوار پر نوشتہ ہے! ومن اللہ التوفیق! (ادارہ)


باب ہشتم: مدارس کے نصاب میں طلباء کے اندر انقلابی فکر و سیاسی شعور پیدا کرنے والے مضامین کا فقدان (۳)

علمائے سلف نے باطل کی پہچان کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی ہے!

آج اگر ہمارے تعلیمی نصاب میں غفلت، سہل انگاری اور اسلام و کفر کے درمیان جاری ہمہ گیر معرکے کو سطحی نظر سے دیکھنے کے باعث باطل کی پہچان پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سلفِ صالحین نے بھی اس پہلو کو نظر انداز کیا تھا۔ بلکہ اسلامی علمی و دعوتی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور میں اہلِ علم نے اپنے زمانے کے کفر، بدعت، فکری انحرافات اور خود ساختہ عقائد و نظریات کے خلاف شعوری اور منظم جدوجہد کی۔ انہوں نے ان باطل افکار کے رد میں کتابیں تصنیف کیں، امت کے سامنے ان کے باطل ہونے اور راہِ حق سے ان کے انحراف کو واضح کیا، اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ علمی مباحثوں اور مناظروں کے ذریعے ان کی گمراہی کو آشکار کیا۔

تعلیمی نصاب میں باطل کی پہچان کو شامل کرنے کا فائدہ یہ تھا کہ لوگ باطل کو پہچانتے، اس سے نفرت کرتے اور اس کا ساتھ دینے سے گریز کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان معاشروں میں باطل افکار کی طرف اس طرح اجتماعی اور وسیع پیمانے پر رجحان پیدا نہیں ہوتا تھا، جیسا کہ آج لاکھوں ایسے لوگ، جو خود کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں، کمیونزم، لبرل ازم، جمہوریت، ہیومنزم، جدید الحاد کی مختلف صورتوں اور مشرق و مغرب کے دیگر کفریہ نظریات اور باطل عقائد سے متاثر ہو رہے ہیں۔

موجودہ دور میں کفر اور باطل کے عقائد، نظریات، قوانین، اخلاق، تہذیب اور طرزِ زندگی نے نہایت پیچیدہ صورت اختیار کر لی ہے۔ ان افکار نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے دلوں، ذہنوں اور عملی زندگی میں جگہ بنا لی ہے اور اسلام پر ان کے یقین کو کمزور کر دیا ہے۔ اس منفی اثر کے نتیجے میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ فکری، سیاسی، عسکری، عدالتی، معاشی، اخلاقی، ثقافتی اور سماجی میدانوں میں مختلف انداز سے کفار کی پیروی اور رفاقت اختیار کر چکا ہے، بلکہ بعض لوگ اسلام دشمنی کے جذبے کے تحت کفار کی روش اپناتے ہوئے اسلامی عقیدے اور اسلامی نظام کے خلاف صف آرا ہو گئے ہیں۔

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف مسلمانوں کے دینی مدارس کے تعلیمی نصاب میں موجودہ دور کے کفر اور باطل کی مختلف صورتوں اور اقسام کو متعارف کرانے اور نئی نسلوں کی ذہنی و فکری تربیت کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، جبکہ دوسری طرف کفری طاقتوں نے اپنے عقائد، نظریات اور تہذیب کو ایسے دلکش عنوانات کے ساتھ عالمِ اسلام میں رائج کیا جو نفرت انگیز یا صریح طور پر کفری نہیں تھے، بلکہ انہیں ترقی، انسانیت، مساوات، انصاف، عقلیت، قانون کی حکمرانی، عالمگیریت، تہذیب، مذہبی رواداری، عدم تشدد اور خواتین و اقلیتوں کے حقوق جیسے خوش نما نعروں کے قالب میں پیش کیا گیا۔ چنانچہ بہت سے لوگ ان عنوانات کی ظاہری کشش میں آ کر ان کے پسِ پردہ فلسفیانہ اور اعتقادی حقیقت سے بے خبر رہے۔

موجودہ دور میں کفری طاقتوں نے نہایت مہارت کے ساتھ مسلمانوں کے اذہان کو اس طرح متاثر کیا کہ مسلمان حکمرانوں نے خود ہی اپنے نظام، افواج اور معیشت کو کفری ممالک سے وابستہ کر دیا، اور ان ممالک نے بھی ایسا اثر و رسوخ قائم کیا کہ مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں پر ان کی بالادستی قائم ہو گئی۔

انہوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پسند کے نظام، تعلیمی نصاب، سیاسی جماعتیں اور قوانین مسلمان معاشروں پر مسلط کیے، اور اسلامی ممالک کی معیشت کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ مشقت اور بوجھ مسلمانوں کے حصے میں آئے، جبکہ اس کے ثمرات اور فوائد خود کفری طاقتوں کو حاصل ہوں۔

اسی طرح انہوں نے عالمِ اسلام میں مسلسل ایسے افراد کو اقتدار پر برقرار رکھا جو نہ صرف دین کی صحیح معرفت سے محروم تھے، بلکہ انہوں نے اپنے نظام اور قوانین بھی اس انداز سے مرتب کیے کہ معاشرے میں دین کی حاکمیت کی راہ مسدود ہو جائے، اور عوام کے دلوں میں دین کی افادیت اور رہنمائی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں۔

تعلیمی نصاب میں کفر کی شناخت سے متعلق مضامین کی عدم موجودگی نے ایسی نسلوں کو جنم دیا ہے کہ جو کفر کا مقابلہ کرنے یا اسلام کے دفاع کے لیے اس کے خلاف عملی جدوجہد کرنے کے بجائے، اپنے ہی معاشروں میں کفار سے مرعوب ہو چکی ہیں۔ بعض ان کی شیطانی سازشوں سے اس قدر غافل ہیں، اور بعض داخلی فکری و تنظیمی اختلافات میں اس طرح الجھ گئے ہیں کہ انہیں کفار کے مقابلے میں اپنی ذمہ داری اور جدوجہد کا احساس ہی باقی نہیں رہا۔

ہم نے تعلیمی نصاب کے ذریعے معاصر باطل کی پہچان کے لیے کیا کیا ہے؟

گزشتہ ڈیڑھ صدی امتِ مسلمہ کی سیاسی، سماجی، دینی اور فکری تاریخ کا نہایت کٹھن اور ہنگامہ خیز دور رہی ہے۔ اسی عرصے میں عالمِ اسلام کے مختلف خطے برطانیہ، اٹلی، فرانس، روس، سپین اور چین جیسی غیر مسلم استعماری طاقتوں کے تسلط اور اثر و رسوخ میں آ گئے۔ اسی دوران استعمار نے اپنے نوآبادیاتی نظام، مسلط کردہ قوانین، نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ مرتب کیے گئے تعلیمی نصاب، مغربی اور الحادی لٹریچر، سیاسی افکار و نظریات، نیز کلیسا کی تبلیغی سرگرمیوں کے ذریعے مسلمان معاشروں کی نئی نسلوں کے اذہان میں الحاد، اسلام دشمنی، اباحیت، مغرب زدگی، عیش پرستی اور بلند مقاصد سے بے رغبتی کے بیج بوئے، جن کے نہایت تباہ کن نتائج سامنے آئے۔

اس عرصے میں ایک طرف مسلمان اپنی سیاسی خودمختاری، آزادی، شریعت کی حاکمیت اور باوقار زندگی کی نعمت سے محروم ہوئے، تو دوسری طرف عالمِ اسلام پر سیکولرزم، جمہوریت، ویسٹرنائزیشن (مغرب زدگی)، کمیونزم، ڈارونزم، ریشنلزم (عقل پرستی)، نیشنلزم، تنصیر (عیسائیت کی تبلیغ)، وضعی قوانین، ماڈرنزم، مغربی طرز کی خواتین کی آزادی اور سینکڑوں دیگر نظریات و عقائد کی یلغار ہوئی۔ ان تمام نظریات نے پوری قوت کے ساتھ مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کی بنیادیں متزلزل کرنے، انہیں اسلام سے بدظن کرنے، شریعت کی حاکمیت سے دور کرنے، اور ایسے افراد میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جو صرف نام کے مسلمان ہوں، جبکہ ان کی عملی زندگی کے تمام شعبے غیر اسلامی معیارات کے مطابق چل رہے ہوں۔

اگرچہ اس صورتِ حال کے سب سے گہرے اور تباہ کن اثرات ماوراء النہر، قوقاز، مشرقی یورپ (بلقان) کے مسلم علاقوں اور عرب دنیا میں نمایاں ہوئے، لیکن افغانستان بھی اس جدید جاہلیت کی تباہ کن لہروں سے محفوظ نہ رہ سکا۔ یہاں بھی یکے بعد دیگرے ایسی حکومتیں اور نظام قائم ہوئے جنہوں نے کمیونزم اور سیکولرزم کے فروغ کے لیے وسیع میدان فراہم کیا، جس کے نتیجے میں معاشرے پر نہایت خطرناک اور تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔

مغرب، سوویت یونین اور چین سے اٹھنے والی ان کفر پرور فکری یلغاروں کے مقابلے میں ضروری تھا کہ دینی تعلیمی نصاب میں ایسے مضامین شامل کیے جاتے جو طلبہ کو عصرِ حاضر کی زبان اور اسلوب میں معاصر کفری فلسفوں، نظریات اور عقائد کا علمی جواب دینے اور ان کا مؤثر رد کرنے کی صلاحیت عطا کرتے۔ اسی طرح ہمارے علماء بھی اپنی نوجوان نسل کو اسلام کی برتری اور غیر اسلامی نظریات کے بطلان پر مضبوط اور مدلل یقین دلانے کے قابل ہوتے۔

تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی عرصے میں دینی مدارس میں خالص شرعی اور فکری علوم کے بجائے قدیم طرز کے لغوی، ادبی اور عقلی علوم پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی۔ نتیجتاً علماء انہی علوم میں مصروف رہے، جن کی عام لوگوں کو محدود ضرورت تھی، جبکہ دوسری جانب نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے کے اذہان مغربی اور کمیونسٹ افکار کے زیرِ اثر آتے گئے، یہاں تک کہ انہی میں سے ایک بڑا طبقہ دینی طبقے کے مقابلے میں صف آرا ہو گیا۔

معاصر باطل کی پہچان کے حوالے سے یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ دینی علماء نے اس میدان میں بالکل کوئی کام نہیں کیا۔ انفرادی اور شخصی سطح پر ہمارے معاشرے کے بہت سے علماء نے کفری نظریات کی روک تھام کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں، اور عملی طور پر کفر کے مقابلے کے لیے جماعتیں، تنظیمیں اور مضبوط محاذ بھی قائم کیے ہیں۔ تاہم جس پہلو پر اب تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، وہ دینی تعلیمی نصاب میں معاصر کفری نظریات کی اقسام کا تعارف، ان کا علمی جائزہ، ان پر تنقیدی بحث، اور ان کے فکری و اخلاقی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے باقاعدہ مضامین کی شمولیت اور ایسے اساتذہ کی تربیت ہے جو طلبہ میں معاصر کفری افکار اور ان کے پس منظر سے متعلق صحیح آگاہی پیدا کر سکیں۔

ہمارے علماء اور عوام نے ماضی قریب میں کمیونزم کا عملی طور پر مقابلہ ضرور کیا، لیکن دینی مدارس کے نصاب میں کبھی بھی اسلامی نقطۂ نظر سے یہ نہیں پڑھایا گیا کہ کمیونزم کیا ہے؟ اس کے کفر کی شرعی اور عقلی بنیادیں کیا ہیں؟ اس کے بطلان کے دلائل کیا ہیں؟ اور اس کے مقابلے میں اسلام کا شرعی مؤقف کیا ہے؟ نہ اس موضوع پر کوئی باقاعدہ درسی کتاب نصاب کا حصہ بنی اور نہ ہی اسے ایک مستقل مضمون کی حیثیت دی گئی۔

کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ کمیونزم کے نظریے اور اس کے پیروکاروں نے ہمارے دین، معاشرے، معیشت، وطن اور عوام کو شدید نقصان پہنچایا، لوگوں کو دین سے دور کیا، لیکن اس کے باوجود آج تک ہمارے دینی نصاب میں کمیونزم کے بارے میں کوئی مستقل کتاب یا مضمون شامل نہیں کیا گیا، جس کے ذریعے نئی نسلوں کو بتایا جاتا کہ کمیونزم کیا ہے، اس کے کفر کے دلائل کیا ہیں، اس کے ظلم و جبر کی حقیقت کیا ہے، اور اس کے بارے میں شریعت کا حکم کیا ہے؟

دینی تعلیمی نصاب کے ذریعے عوام کو کمیونزم سے متعارف نہ کرانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے کے ایک بڑے طبقے کے دلوں میں اس بڑے نظریاتی دشمن کے خلاف مطلوبہ نفرت اور بیزاری پیدا نہ ہو سکی۔ چنانچہ جب کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا تو اسی دن اس معاشرے کے بہت سے مسلمان کمیونسٹوں کے ساتھ اس طرح گھل مل گئے، گویا ان کے درمیان کبھی کوئی اعتقادی اختلاف یا نظریاتی دشمنی موجود ہی نہ تھی۔

یہ سب کچھ اس حال میں ہوا کہ کسی ایک کمیونسٹ نے بھی علانیہ اپنے سابقہ عقیدے سے توبہ کا اعلان نہیں کیا۔ نہ میں نے آج تک ایسا کوئی اعلان دیکھا ہے اور نہ ہی کسی سے سنا ہے کہ کسی کمیونسٹ نے کھلے عام یہ کہا ہو کہ ’’میں کمیونزم قبول کرنے کی وجہ سے کافر تھا، اب میں نے اس سے توبہ کر لی ہے اور دوبارہ مسلمان ہو گیا ہوں‘‘۔

کمیونسٹ نہ پہلے مسلمان تھے اور نہ بعد میں مسلمان ہوئے، لیکن جیسے ہی ان کا نظام ختم ہوا، اسی دن ان کے رشتہ دار اور قریبی لوگ دوبارہ ان سے اسی طرح مل گئے کہ گویا عقیدے کی بنیاد پر ان سے کسی قسم کی جدائی یا دشمنی کبھی موجود ہی نہ تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سابقہ جہادی تنظیمیں نہ اسلامی نظام نافذ کر سکیں اور نہ ہی اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں، حالانکہ اسی مقصد کے لیے اس قوم نے تقریباً دو دہائیوں تک مسلسل جدوجہد اور بے شمار قربانیاں دی تھیں۔

کمیونزم کے بعد مغربی جمہوریت کے نظریے، اس کی ثقافت اور اس کے لشکروں نے ہماری سرزمین، ہمارے عقیدے اور ہمارے معاشرے پر یلغار کی اور لبرل ازم، سیکولرزم، عیسائیت کی تبلیغ (تنصیر) اور وضعی قوانین جیسے کفری نظریات کو مختلف خوش نما اصطلاحات اور دلکش نعروں کے پردے میں ہمارے معاشرے میں متعارف کرایا۔

مغربی جمہوریت کے علم برداروں نے نہایت منظم انداز اور اپنے خاص طریقے کے ذریعے ہمارے دین، مذہب، علماء، مدارس، مساجد، محراب و منبر، نیز ہماری دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار کے خلاف ایک وسیع مہم شروع کی۔ انہوں نے علماء کو قتل کیا، مدارس و مساجد پر بمباری کی، مجاہدین کو شہید اور قید کیا، جہادی فکر اور اسلامی اقدار کو نشانہ بنایا، مولوی اور طالب کو قتل کرنا اپنا فرض سمجھا اور جمہوریت کو نافذ کرنا اپنی بنیادی ذمہ داری قرار دیا۔

انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی منشور اور اس سے ملتے جلتے دیگر بین الاقوامی معاہدوں، جو ان کے اپنے نظریات اور مفادات کی تکمیل کے لیے وضع کیے گئے تھے، کو ہمارے معاشرے پر مسلط کیا۔ اسی طرح اپنے نظام، اخلاق، سماجی اقدار، قوانین اور معیارات کو ہم پر نافذ کیا، سینکڑوں قوانین اور معاہدے متعارف کرائے، دیہات اور شہروں پر جنگ مسلط کی، ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما کر انہیں اپنے ہی امام، طالبِ علم اور مجاہد کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا، قبائل اور قوموں کو مختلف بہانوں سے ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا، اور معاشرے میں بے شمار اقسام کے فساد کو فروغ دیا۔

کیا اب بھی یہ ضروری نہیں کہ ہم اپنے دینی تعلیمی نصاب میں ایسے مضامین شامل کریں جو اس مکار دشمن اور اس کے کفری افکار و نظریات کی حقیقت کو واضح کریں؟ اور انہی مضامین کے ذریعے علماء کی ایسی نسل تیار کریں جو اپنے دور کے فکری، اعتقادی اور تہذیبی چیلنجز کا علمی انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو؟

کیا ہمارے موجودہ تعلیمی نصاب میں یہی خلا اس بات کا سبب نہیں بنا کہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ فکری اور اعتقادی طور پر کفری نظریات سے متاثر اور ان کا غلام بن گیا؟ کیا آج بھی بہت سے لوگوں کے نزدیک معروف، منکر اور منکر، معروف دکھائی نہیں دیتا؟ کیا وہ اپنے دین اور ایمان کے محافظ علماء، مجاہدین، طلبہ اور دینی قیادت کے خلاف نفرت نہیں رکھتے؟ کیا انہی لوگوں نے انہیں باغی، مفسد اور تخریب کار قرار دے کر ان کے خلاف جنگ نہیں کی، ان پر بمباری نہیں کی، انہیں قتل نہیں کیا اور وحشیانہ جیلوں میں نہیں ڈالا؟

یہ تمام حقائق اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہمارے دینی مدارس کے نصاب مرتب کرنے والے اور اساتذہ معاصر کفر کے ان افکار، نظریات، فلسفوں اور عقائد پر جامع مضامین اور کتابیں نصاب کا حصہ بنائیں، جن کی بنیاد پر ایسے انسان نما درندے تیار کیے گئے جو ظلم، تشدد اور بربریت کا ذریعہ بنے۔

کفر کی پہچان کوئی نیا موضوع نہیں، بلکہ علماء سلف صالحین نے ہر دور میں باطل کی شناخت کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھا ہے۔ انہوں نے نہ صرف کھلے کفار کے بارے میں، بلکہ ان فکری گروہوں کے بارے میں بھی، جو اسلام کے حقیقی تصور کے برخلاف مختلف نظریات کے ساتھ سامنے آئے، کتابیں تصنیف کیں اور ان کے افکار کا علمی جائزہ پیش کیا۔

ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے دور کے ان کفری نظریات کو، جو مختلف شکلوں، ناموں اور نعروں کے ساتھ ہمارے معاشرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں، ہماری تہذیب، عقائد، اخلاق اور ترجیحات کو بدل رہے ہیں، اور نئی نسل کو اسلام سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اپنے دینی نصاب میں متعارف کرائیں، تاکہ علماء کی نئی نسل ان کی حقیقت سے آگاہ ہو اور عوام کو بھی ان کے شر اور گمراہ کن اثرات سے خبردار کر سکے۔

معاصر کفر کی چند اہم صورتیں، جن سے متعلق دینی نصاب میں باقاعدہ تدریس ہونی چاہیے

کفر اور شرک کی بعض صورتیں سادہ اور انفرادی نوعیت کی ہوتی ہیں، جن کا نقصان زیادہ تر افراد تک محدود رہتا ہے اور پوری امتِ مسلمہ ان سے اجتماعی طور پر متاثر نہیں ہوتی۔ لیکن معاصر کفر اور اسلام کے خلاف اس کی سازشوں اور منصوبہ بندیوں کا خطرہ اس قدر وسیع اور گہرا ہے کہ گزشتہ دو صدیوں اور موجودہ دور میں اس کے مضر اثرات پورے عالمِ اسلام اور امتِ مسلمہ تک پہنچے ہیں، اور اس کے نتیجے میں امت کی دینی، سیاسی، سماجی، معاشی، ثقافتی اور عسکری زندگی پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

معاصر کفر کی وہ نمایاں اور خطرناک صورتیں، جن پر دینی مدارس کے تعلیمی نصاب میں خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، ان میں جدید الحاد کی مختلف شکلیں، مثلاً کمیونزم، ہیومنزم، وجودیت (Existentialism)، ریشنلزم (عقل پرستی)، نیز مغربی کفر کے مختلف نظریات، جیسے جمہوریت، لبرل ازم، فری میسنری (ماسونیت)، صہیونیت اور اس سے وابستہ تنظیمیں، مثلاً روٹری (Rotary) اور لائنز (Lions)، شامل ہیں۔ اسی طرح تنصیر، استعمار، استشراق، گلوبلائزیشن، ادیان کے تقارب کا نظریہ، بین الاقوامی سیاسی، عسکری، معاشی اور ثقافتی معاہدے، انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ، اقوامِ متحدہ کا چارٹر، وضعی قوانین، قوم پرستی (نیشنلزم)، بہائیت، قادیانیت، انکارِ حدیث اور معاصر کفر کی دیگر متعدد صورتیں بھی ان موضوعات میں شامل ہیں۔

اگر ہمارے تعلیمی نصاب معاصر کفر کی ان مختلف صورتوں کے بارے میں، جن کے اس وقت افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی بہت سے حامی اور سرگرم پیروکار موجود ہیں، واضح تصور اور ان کے متعلق شرعی موقف پیش نہ کریں، تو نئی جاہلیت کے جال میں مزید لوگ پھنس جائیں گے، اور وہ دوبارہ اسلام کے خلاف صف آرا ہو جائیں گے، جیسا کہ آج ہم اس صورتِ حال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

دینی مدارس کے تعلیمی نصاب اور دینی فکر میں کن امور کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے؟

گزشتہ بیسویں اور موجودہ اکیسویں صدی میں عالمِ اسلام، بالخصوص افغانستان، عالمی کفری طاقتوں کی فکری اور ثقافتی یلغار کا نشانہ بنا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں غیر مسلم اقوام سے متاثر ہوئی اور بہت سے معاملات میں ان کی پیروی اختیار کر بیٹھی۔

اس صورتِ حال سے مسلمانوں، خصوصاً افغان عوام کو نکالنے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری تھا، اور آج بھی ضروری ہے، کہ مسلمانوں کے دلوں میں عقیدے، فکر اور اخلاق کے اعتبار سے اپنے دین کے احکام پر پختہ ایمان پیدا کیا جائے، نیز انہیں دیگر ادیان اور نظریات کے مقابلے میں اسلام کی برتری اور حقانیت پر کامل یقین دلایا جائے۔ اسی طرح ان میں روحانی اور فکری سطح پر اس دور کی جارح قوتوں اور ان کے افکار کے مقابلے کی جرأت اور عزم پیدا کیا جائے، تاکہ وہ اغیار کی اندھی تقلید اور احساسِ کمتری سے نجات حاصل کریں اور اپنی دینی، روحانی اور تہذیبی اقدار پر اعتماد بحال کر سکیں۔

اس مقصد کے حصول کے لیے بنیادی قدم یہ ہے کہ دینی مدارس کے تعلیمی نصاب، جن کے ذریعے ملک و ملت کے علماء تیار کیے جاتے ہیں، میں ایسے مضامین اور تصورات شامل کیے جائیں جو علماء میں انقلابی فکر، دعوتِ دین کا احساس، دشمن کی صحیح پہچان، اسلامی نظام کے قیام کی فکر، اور امت کی دینی و سیاسی قیادت کی صلاحیت اور استعداد پیدا کریں۔

اس کے برعکس، ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں آزادیٔ فکر، انقلابی شعور اور عصرِ حاضر کے فکری فتنوں کے مقابلے پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اس کے بجائے ایک ایسے انداز میں صرف و نحو کی تدریس پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے کہ عربی جیسی عظیم اور شیریں زبان کا حاصل محض خشک اور بے روح قواعد اور جملوں(ضرب زید عمرا) تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جن کے ذریعے زبان کا ذوق اور اس کی روح منتقل نہیں ہو پاتی۔ اسی طرح موجودہ دور کے فکری اور دینی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے بجائے یونانی منطق اور فلسفے کو اس قدر وقت اور اہمیت دی گئی ہے، حالانکہ بہت سے پہلوؤں سے وہ نہ ہمارے دینی عقائد سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں، نہ مسلمہ سائنسی حقائق سے، اور نہ ہی ہمارے اس مظلوم، زیرِ یلغار اور نئے فکری چیلنجز سے دوچار معاشرے کی علمی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

ہمارے علماء اور دینی مدارس کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد کی علمی گفتگو اور مناظروں کا محور بھی اکثر وہ اختلافی مسائل بن جاتے ہیں جو اسلامی فقہی مکاتب کے درمیان پائے جاتے ہیں۔ ان مسائل میں اختلاف کی بنیاد دلائل کی قوت و ضعف ہے، نہ کہ حق و باطل کا فیصلہ۔

ہمارے بعض علماء نہایت جوش و خروش کے ساتھ مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے باہمی اختلافات پر مناظرے کرنے، ان کے لیے طلبہ کی خصوصی تربیت کرنے، اور اہلِ سنت کی مختلف جماعتوں کے بارے میں بدعت، فسق بلکہ بعض اوقات تکفیر کے فتوے صادر کرنے کی جرأت تو رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس یہ صلاحیت نہیں کہ وہ کفری نظریات، ان کے زہریلے افکار اور خطرناک منصوبوں کے بارے میں مدارس کے طلبہ یا تعلیم یافتہ نوجوانوں کی صحیح فکری رہنمائی کر سکیں، یا ان مجاہدین کی فکری و اخلاقی تربیت کر سکیں جو اسلام کے دفاع کے لیے میدان میں نکلے ہیں اور اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔

اس طرزِ فکر کے حامل افراد کو اس بات پر افسوس نہیں ہوتا کہ معاشرے کے لاکھوں نوجوان کبھی کمیونزم کے زیرِ اثر آکر الحاد کا دفاع کرنے لگتے ہیں، اور کبھی جمہوریت اور سیکولرزم کے نام پر اسلامی شریعت کے بجائے غیر اسلامی نظام اور نظریات کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں یا نہیں، یا کسی فقہی مسئلے پر شور و غوغا، تلخی اور تعصب سے بھرپور مناظرے کریں، اور اپنی رائے کی تائید کے لیے عوامی جذبات کو بھڑکائیں۔

دوسری طرف مدارس سے وابستہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اگرچہ اختلافات کو ہوا دینے کو ترجیح نہیں دیتا، لیکن اس کا علم اور کتاب سے تعلق بھی زیادہ تر کتابوں سے مسائل اخذ کرنے، پھر انہی پر عربی زبان میں شروح اور حواشی لکھنے تک محدود رہتا ہے، اور بالآخر وہ کتابیں دوبارہ الماریوں کی زینت بن جاتی ہیں، جبکہ ان کا علمی سرمایہ معاشرے تک منتقل نہیں ہو پاتا۔

اس انقلابی دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ علم کو کتابوں کی محدود دنیا سے نکال کر معاشرے تک پہنچایا جائے، عوام کو اس سے روشناس کرایا جائے، اس کے ذریعے اغیار کے افکار اور نظریات کا علمی مقابلہ کیا جائے، اور امت کو دوبارہ رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام اور امت کے سلفِ صالحین کے روشن اور پاکیزہ راستے کی طرف واپس لایا جائے، تاکہ وہ ایک مرتبہ پھر عزت و وقار کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

اگر دینی مدارس کے نصاب میں ایسے مضامین شامل کیے جائیں جو نصاب کو عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز اور آزمائشوں کا جواب دینے کے قابل بنائیں، تو فکر، تہذیب، سیاست اور معاشرت کے میدان میں بھی قیادت علماء کے ہاتھ میں ہو گی جیسا کہ میدانِ جہاد میں ان کے ہاتھ میں آ چکی ہے۔ لیکن اگر طلبہ کا بیشتر وقت پرانے انداز میں صرف، نحو اور منطق کی تدریس میں گزر جائے، اور باقی وقت جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں صرف ہو، تو اندیشہ یہی ہے کہ ایسے علماء تیار ہوں گے جو اپنے ہی شہر اور گاؤں میں اپنے رب کا پیغام مؤثر انداز میں پیش کرنے سے قاصر ہوں گے، کیونکہ اس وقت تک معاشرہ ایسے افراد کے زیرِ اثر آ چکا ہو گا جو کفریہ افکار پر پروان چڑھے ہوں گے، علماء اور طلبہ سے دشمنی رکھتے ہوں گے، اور عوام کو غیر اسلامی قوانین اور بیرونی نظاموں کے تابع کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ بیرونی طاقتیں مشرق و مغرب سے اپنے نظریات اور عقائد کو تعلیمی نصاب، میڈیا، انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع کے ذریعے پورے معاشرے تک پہنچا چکی ہوں گی۔

لہٰذا اس صورتِ حال کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ تعلیمی نصاب کو جمود سے نکالا جائے اور مختلف، غیر مربوط نصابوں کی جگہ ایک ایسا متحد، خالص شرعی، متوازن اور مؤثر نصاب مرتب کیا جائے جو شرعی اصالت، علمی گہرائی، جامعیت، انقلابی فکر، تدریج، آسانی اور شرعی اعتدال کی خصوصیات کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ اور آئندہ آنے والے فکری و اعتقادی فتنوں اور چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، تاکہ ہماری ملت کو فکری غلامی سے نجات ملے اور وہ دوبارہ اسلامی بیداری اور خود اعتمادی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں خونریز تحریکوں کا اصل سبب مغربی افکار کی یلغار ہے

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، مغربی افکار، خواہ وہ کمیونزم اور اس سے ملتے جلتے نظریات ہوں یا مغرب کے لبرل اور سیکولر تصورات، نہایت منصوبہ بندی اور مہارت کے ساتھ عالمِ اسلام کے تمام ممالک میں منتقل کیے گئے۔ ان افکار کی بنیاد پر لوگوں کی ذہنی تربیت کی گئی، ان کی اشاعت اور نفاذ کے لیے تعلیمی نصاب مرتب کیے گئے، سیاسی نظام قائم کیے گئے، اور انہی نظریات کی بنیاد پر عالمِ اسلام میں سیاسی جماعتیں اور مختلف تنظیمیں وجود میں آئیں۔ ان سب نے پوری قوت کے ساتھ فکری، سیاسی، سماجی اور عسکری میدانوں میں ایسی سرگرمیاں انجام دیں جن کا مقصد اسلامی معاشروں کی فکر، تہذیب، سیاست اور اجتماعی زندگی کو ان معیارات کے مطابق ڈھالنا تھا، جنہیں استعماری مغرب کے سیاست دان اور عسکری حکمتِ عملی وضع کرنے والے مطلوب سمجھتے تھے۔

چونکہ مغرب سے درآمد کیے گئے یہ افکار، نظریات، عقائد، تہذیبی تصورات، طرزِ زندگی، سیاسی سرگرمیاں اور قوانین مسلمان معاشروں کے لیے اجنبی تھے اور ان کے دین، عقیدے اور اخلاقی اقدار سے متصادم تھے، اس لیے مسلمانوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

مغربی ممالک یا سوویت یونین کی سرپرستی میں قائم ہونے والے حکمران نظام اور سیاسی دھڑے، ہر صورت میں اسلامی ممالک کو مغرب کا تابع بنانا اور مسلمان عوام کو مغربی راستے پر چلانا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنے نظام، قوانین اور مغربی اقدار کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کے لیے طاقت اور تشدد کا سہارا لیا۔ اس کے نتیجے میں عالمِ اسلام میں حکومتوں اور عوام کے درمیان سیاسی اور مسلح تصادم کی فضا پیدا ہوئی۔ ان خونریز کشمکشوں میں افغانستان سمیت پورے عالمِ اسلام میں لاکھوں مسلمان قتل کیے گئے، قید و بند اور تشدد کا نشانہ بنے، یا جلاوطنی پر مجبور ہوئے، صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے کمیونسٹ یا مغرب نواز حکومتوں کے قوانین اور مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

اگر ہم مذکورہ صورتِ حال کی عملی مثال اپنے ملک افغانستان میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ صدی کے دوران افغانستان اور افغان عوام کو جان، مال، فکر اور عقیدے کے میدان میں سب سے بڑے نقصانات باطل مغربی افکار، فلسفوں اور نظریات کے اثرات اور ان کے نفوذ سے پہنچے، جن کی چند نمایاں مثالیں درج ذیل ہیں:

  • بادشاہ امان اللہ خان کی مغرب زدگی، دین اور علمائے دین کے بارے میں معاندانہ رویے، اور افغانستان کو مغربی راستے پر چلانے کی کوششوں کے نتیجے میں ملک میں دینی اقدار اور سماجی استحکام کے خلاف ایک منفی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ اس کے باعث بہت خونریزی ہوئی، عوام داخلی جنگوں کا شکار ہوئے، اور ان کے افکار و پالیسیوں کے اثر سے ایک طویل عرصے تک دینی نظام کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا رہیں۔ مزید یہ کہ ان کے پیروکاروں کی ایک ایسی فکری نسل وجود میں آئی جو آج تک دین اور دینی نظام کی مخالفت کرتی ہے۔
  • ظاہر شاہ، جس نے فرانس میں تعلیم حاصل کی تھی، اپنے دورِ حکومت میں مغربی افکار اور قوانین کے نفوذ، سیکولر (لادینی) سیاسی جماعتوں کے قیام اور جمہوریت کے عملی نفاذ کے لیے راستہ ہموار کیا۔ ان مغربی طرز کے اقدامات اور پالیسیوں کے نتیجے میں کمیونسٹ اور مغرب نواز جماعتیں مضبوط اور فعال ہوئیں، جنہوں نے دین اور مسلمان عوام کی دینی و روحانی اقدار کے خلاف سرگرمیاں شروع کیں۔ یہاں تک کہ دین، علمائے دین اور مدارس کے خلاف کھلی مخالفت کا اعلان کیا گیا، جس کے منفی اثرات آج تک افغانستان کے اندر اور بیرونِ ملک افغانوں کی فکری، اخلاقی اور اعتقادی زندگی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
  • داود خان کی مغربی طرز کی جمہوری حکومت کے قیام، اسلام پسندوں کے خلاف اس کے نظریات اور پالیسیوں، اور اس کے مقابلے میں کمیونسٹوں کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے کمیونسٹوں کے اقتدار میں آنے اور کمیونزم کے سرخ سیلاب کے پھیلاؤ کے لیے راستہ ہموار کیا، جس کے نتیجے میں افغانستان میں خونریز تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
  • افغانستان میں کمیونزم کی الحادی فکر کا پھیلاؤ، کمیونسٹوں کا اقتدار پر قبضہ، اور سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر یلغار ایک عظیم سانحہ اور ملک کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا، جو ایک کفری نظریے کو اختیار کرنے کا نتیجہ تھا۔

کمیونزم، ایک اجنبی نظریے کی حیثیت سے، غیر ملکی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی سیاسی و عسکری قوتوں اور کمیونسٹوں کے ذریعے افغانستان میں متعارف کرایا گیا۔ انہوں نے معاشرے، بالخصوص نوجوانوں کے درمیان اس نظریے کی اشاعت کی، ان کے افکار و اذہان کو اس باطل فکر کے مطابق ڈھالا، ایک پوری نسل کو اسی نہج پر پروان چڑھایا، اور اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتیں بھی قائم کیں۔

بعد ازاں انہی کمیونسٹوں نے فوجی بغاوت کے ذریعے ملک کے قائم نظام کا تختہ الٹ دیا، پھر سوویت یونین کی افواج کو افغانستان آنے کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں ملک روسی قبضے میں چلا گیا۔

کمیونسٹ افغانستان میں کمیونزم نافذ کرنا چاہتے تھے، مگر اس مسلمان قوم نے ان کے نظریے کو قبول نہ کیا۔ چنانچہ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے اور اپنے نظریات بزور نافذ کرنے کے لیے انہوں نے ظلم و تشدد کی ایسی مہم شروع کی کہ اس کے نتیجے میں بیس لاکھ سے زائد انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، لاکھوں افراد عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے، بے شمار دیہات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے، لاکھوں ہیکٹر زرعی اور زرخیز زمینیں تباہ اور بنجر ہو گئیں، جبکہ ساٹھ لاکھ سے زیادہ افغان اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

انہوں نے مسلسل چودہ برس تک افغانستان کو آگ اور خون کی بھٹی میں جھونکے رکھا اور اس مسلمان قوم کے خلاف اپنی جنگ اس وقت تک جاری رکھی، جب تک انہیں طاقت کے زور پر اقتدار سے بے دخل نہ کر دیا گیا۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد وہ مغربی ممالک کی آغوش میں جا پناہ گزین ہوئے اور وہاں پہنچ کر اپنی سابقہ سیاسی فکر کے برخلاف مغربی طاقتوں کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔

  • کمیونسٹوں کے بعد مغربی جمہوری فکر اور مغربی لشکروں نے افغانستان پر یلغار کی۔ یہ مغربی حملہ آور لبرل ازم، جمہوریت، یہودی سیاست، نصرانیت اور دیگر وضعی (خود ساختہ) قوانین کا ایک ملغوبہ تھے۔ ان کا مقصد افغانستان کو زیرِ نگیں لانا اور افغان قوم کو اپنے مقاصد و مفادات کے حصول کا ذریعہ بنانا تھا۔

گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر بیس سالہ قبضہ، مغرب نواز لبرل اور جمہوری قوتوں کا اقتدار، دینِ اسلام، جہاد اور اسلامی نظام کے قیام کے خلاف ان کی مسلسل معاندانہ پالیسی، نیز اسلامی نظام کی دوبارہ بحالی کو روکنے کے لیے ایک وسیع بین الاقوامی عسکری اور فکری اتحاد کا قیام، ایک ایسا عظیم اور خونریز سانحہ تھا جو مغربی افکار کے حامل عناصر کے ذریعے رونما ہوا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کا واحد خالص اسلامی نظام ختم کر دیا گیا، لاکھوں افغان جان سے گئے، جبکہ ہزاروں مغربی اداروں نے افغان معاشرے کی فکری و تہذیبی تشکیلِ نو کے نام پر وسیع سرگرمیاں انجام دیں۔ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک ہزاروں فکری، تحقیقی اور اشاعتی مراکز نے افغان عوام کے افکار و اقدار کو تبدیل کرنے کے لیے مسلسل کام کیا، جس کے تباہ کن نتائج پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

ان ادوارِ حکومت اور ان کے نتیجے میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیوں کے باعث افغانستان میں متعدد کفریہ، گمراہ کن اور اجنبی نظریات و فلسفے متعارف ہوئے، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:

  • کمیونزم (الحاد)
  • لبرل ازم (دین اور ہر قسم کی اخلاقی و روحانی پابندی سے آزادی)
  • سیکولرزم (دین سے بے نیاز طرزِ زندگی)
  • جمہوریت (اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے بجائے عوام کی حاکمیت)
  • ہیومنزم (اللہ کی بندگی کے بجائے انسان پرستی اور انسان کو ہر چیز سے مقدس سمجھنا)
  • نیشنلزم (اسلامی وحدت کے بجائے قوم پرستی)
  • ریشنلزم (وحی الہی اور احادیث نبویہ کے بجائے انسانی عقل کی پرستش)
  • گلوبلائزیشن (ادیان و عقائد کے اختلاف سے قطعِ نظر پوری دنیا کو ایک ہی فکری اور تہذیبی دھارے میں لانے کا تصور)
  • اظہارِ رائے کے نام پر مغربی تصورِ آزادی
  • خواتین کے مغربی طرز کے حقوق اور فکر و اظہار کی مغربی طرز کی آزادی
  • عالمی برادری (دنیا کے تمام ممالک اور نظاموں کا چند بڑی طاقتوں کی قیادت کو قبول کرنا)

اس کے علاوہ بھی بہت سے اجنبی افکار اور عقائد۔

یہ تمام نظریات اور عقائد نہ صرف افغانستان کے اندر بلکہ بیرونِ ملک مقیم افغانوں میں بھی اپنے ماننے والے اور حامی رکھتے ہیں۔ ان میں بعض لوگ ان نظریات کی حقیقت سے ناواقف ہونے یا غلط فہمی کا شکار ہونے کی وجہ سے ان کے پیروکار بنے، جبکہ بعض نے گمراہی کے باعث انہیں شعوری طور پر قبول کیا۔ یہ لوگ مختلف ذرائع سے مسلمان معاشرے میں ان افکار کی اشاعت اور ترویج کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان میں معاصر مغربی فکر کے علمبرداروں کے جرائم

مغربی فکری اور عسکری اتحاد نے اس مسلمان قوم کے آزادی پسند مجاہدین، نیز اس کے دین، مذہب، علماء، طلبہ، مدارس، مساجد، محراب و منبر کے خلاف ایک طویل اور خونریز جنگ مسلط کر دی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد مغربی فکر، جمہوریت اور دیگر نظریات کے فروغ کے لیے سازگار ماحول ہموار کرنا، اور ان تمام علمی و فکری مراکز اور رجحانات کا خاتمہ کرنا تھا جو مغربی افکار کی اشاعت و ترویج کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔

مغربی فکر کے پیروکاروں نے یہاں نہ صرف لاکھوں انسانوں کو قتل کیا، انہیں عمر بھر کے لیے معذور بنایا، ان کے گھر بار مسمار کیے اور انہیں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے بدعنوان، لٹیروں، سفاک، وحشی اور بیرونی طاقتوں کے وفادار عناصر کو اس قوم پر حکمران بنا کر مسلط کر دیا، یہ صورتحال صرف افغانستان کے ساتھ ہی خاص نہیں، بلکہ عالمِ اسلام کے بہت سے ممالک میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ایک طرف عالمِ اسلام میں مغربی افکار سے متاثر نظاموں نے لاکھوں انسانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، تو دوسری طرف کروڑوں مسلمان انہی ظالمانہ اور استبدادی حکومتوں کے زیرِ تسلط آگئے۔ انہیں غیر اسلامی قوانین اور نظاموں کو قبول کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ نئی نسلوں کی تعلیم و تربیت ایسے افکار، عقائد اور ثقافت کے مطابق کی گئی جو اسلامی تعلیمات سے متصادم تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نسلیں اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کے تقاضوں سے دور ہوتی چلی گئیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مغرب نواز حکومتوں اور نظاموں کو دوام ملا، بلکہ اسلامی ممالک میں مختلف غیر اسلامی افکار، نظریات اور تہذیبوں کے فروغ کی راہیں بھی ہموار ہوئیں، جن کے ذریعے مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلامی احکام اور دینی اقدار سے بیگانہ کر دیا گیا۔

جب تک عالمِ اسلام میں مغربی افواج داخل نہیں ہوئی تھیں، مغربی افکار یہاں منتقل نہیں ہوئے تھے، اور ان افکار کی بنیاد پر حکومتیں اور نظام قائم نہیں کیے گئے تھے، اس وقت تک مسلمان امن، استحکام اور باہمی سکون کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ لیکن جب مغربی طاقتوں نے استعمار کے عزائم کے تحت عالمِ اسلام پر حملے شروع کیے، افریقہ کے مسلمان ممالک کو فرانسیسیوں، ہسپانویوں، اطالویوں اور انگریزوں کے زیرِ نگیں کر دیا، ایشیا کے متعدد خطوں پر انگریزوں اور فرانسیسیوں نے قبضہ جما لیا، اور وسطی ایشیا روسی تسلط میں چلا گیا، تو پورے عالمِ اسلام میں مسلمانوں کے قتلِ عام، وسیع پیمانے پر قید و بند، لاکھوں انسانوں کی جبری بے دخلی، استعمار کے قوانین کو طاقت اور جبر کے ذریعے نافذ کرنے، اور استعماری قوتوں کے خلاف برپا ہونے والی ملی و اسلامی مزاحمتی تحریکوں کو کچلنے کا ایک طویل اور المناک سلسلہ شروع ہو گیا۔

اگر ایک طرف خلافتِ عثمانیہ، جو مسلمانوں کے سیاسی اتحاد کی آخری علامت تھی، مغربی تربیت یافتہ افراد کے ہاتھوں ختم کر دی گئی اور اس کی جگہ ترکی میں کمال اتاترک کی قیادت میں ایک سیکولر اور دین مخالف نظام قائم کیا گیا، تو دوسری طرف عرب علاقوں میں بھی ایسے لوگوں کو اقتدار میں لایا گیا جنہوں نے آمرانہ حکومتیں قائم کیں اور شریعت کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، سوائے افغانستان کے جہاں جہاد کے نتیجے میں امریکی قبضے سے آزادی حاصل کی گئی۔

استعماری طاقتوں نے صرف عسکری قبضے تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنے افکار بھی، خواہ وہ کمیونزم ہو یا اس سے ملتے جلتے نظریات، یا مغرب کے لبرل اور سیکولر تصورات، بڑی مہارت کے ساتھ عالمِ اسلام کے ممالک میں منتقل کیے۔ انہوں نے یہاں لوگوں کو انہی نظریات کے مطابق تعلیم و تربیت دی، ان کے فروغ اور نفاذ کے لیے تعلیمی نصاب اور سیاسی نظام تشکیل دیے، اور انہی مغربی افکار کی بنیاد پر عالمِ اسلام میں سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں بھی قائم کیں۔

ان تمام سرگرمیوں نے اپنی پوری قوت کے ساتھ فکری، سیاسی، سماجی اور عسکری میدانوں میں کام کیا، تاکہ مسلم معاشروں کی زندگی کو ان نظریات، سیاسی تصورات اور سماجی اصولوں کے مطابق ڈھالا جا سکے جنہیں استعماری مغرب اور روس کے سیاست دان اور عسکری ماہرین اپنے مفادات کے لیے موزوں سمجھتے تھے۔

چونکہ مغرب اور روس سے عالمِ اسلام میں درآمد کیے گئے افکار، نظریات، عقائد، ثقافت، طرزِ زندگی کے پیمانے، سیاسی سرگرمیاں اور قوانین مسلمانوں کے دینی عقائد اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ نہیں تھے، اس لیے مسلم عوام نے انہیں آسانی سے قبول نہیں کیا، بلکہ ان کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا۔

مغربی اور روسی حمایت سے قائم ہونے والے حکمران نظاموں اور سیاسی قوتوں نے، جو ہر حال میں اسلامی ممالک کو مغرب یا روس کا تابع بنانا چاہتے تھے اور مسلمانوں کو انہی راستوں پر چلانے کی کوشش کرتے تھے، اپنے نظاموں، قوانین اور اقدار کو منوانے کے لیے مسلمانوں پر جبر اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔

اس طرزِ عمل نے عالمِ اسلام میں حکومتوں اور عوام کے درمیان سیاسی اور مسلح تصادم کی بنیاد فراہم کی۔ اس تصادم کے نتیجے میں افغانستان سمیت پورے عالمِ اسلام میں لاکھوں ایسے مسلمان قتل کیے گئے، قید و بند اور تشدد کا نشانہ بنے، یا جلاوطنی پر مجبور ہوئے، جنہوں نے کمیونسٹ یا مغرب نواز حکومتوں کے قوانین، نظاموں اور مطالبات کو قبول کرنے سے انکار کیا۔

افغانوں کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا تھا کہ عوام اپنے ہی نظام، حکومت یا بادشاہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، طویل جنگ کریں، بڑی تعداد میں لوگ مارے جائیں، بے گھر ہوں، جیلیں ان سے بھر جائیں، عوام حکمران کے خلاف مورچے سنبھالیں اور حکمران عوام کے خلاف اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔

اس نوعیت کی صورتحال پہلی مرتبہ اس وقت پیدا ہوئی جب امان اللہ خان کے دورِ حکومت میں اس نے یورپ کے سات ماہ کے سفر سے واپسی کے بعد یہاں مغربی افکار، نظریات، قوانین اور طرزِ زندگی کو فروغ دینے اور عوام پر نافذ کرنے کی عملی کوششیں شروع کیں، اور اصلاحات کے نام پر ایک سلسلہ وار تبدیلیاں نافذ کرنا شروع کیں۔

امان اللہ خان نے جب شریعت کے بجائے مغربی افکار اور قوانین کو عملی جامہ پہنانا چاہا اور معاشرے میں دینی اقدار کو اہمیت نہ دی، تو دینی طبقے، علماء اور معاشرے کے دیندار لوگوں نے اس کے نظریات پر تشویش اور حساسیت کا اظہار کیا۔ لیکن وہ اس عوامی ردِعمل کے سامنے جھکنے کے بجائے یورپی افکار اور قوانین کے نفاذ پر مزید زور دیتا رہا۔ اس کے علاوہ اس نے دین کی طرف رجوع کرنے اور اہلِ علم و اصلاح پسندوں کی نصیحت قبول کرنے کے بجائے ان کے خلاف سختی اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔

نتیجتاً عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ایسی افراتفری پیدا ہوئی جس میں ملک شدید انتشار کا شکار ہو گیا۔ اسی بحران کے نتیجے میں امان اللہ خان اپنی بادشاہت سے محروم ہوا، ملک چھوڑ کر اٹلی چلا گیا، اور بعد میں ۱۹۶۰ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے ایک ہسپتال میں اس کا انتقال ہوا۔ یہ تمام حالات اس وجہ سے پیدا ہوئے کہ وہ افغانستان میں اسلامی اقدار کے بجائے یورپی افکار کو نافذ کرنا چاہتا تھا۔

اگر وہ مغرب زدہ سوچ اور غیر ملکی افکار کو یہاں نافذ کرنے کی کوشش نہ کرتا اور انہیں عوام پر مسلط نہ کرتا، تو لوگ اس کے خلاف کیوں اٹھتے؟ عوام نے تو اس کے والد حبیب اللہ خان اور دادا عبدالرحمن خان کے ادوارِ حکومت میں بھی سختیوں، ظلم اور جبر کو برداشت کیا تھا، مگر ان کے خلاف اس طرح بغاوت نہیں کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگرچہ اس کے والد اور دادا کے ادوار میں بھی استبداد موجود تھا، لیکن انہوں نے دین کے خلاف وہ واضح مؤقف اختیار نہیں کیا تھا جو امان اللہ خان نے اختیار کیا۔

دوسری مرتبہ اسی نوعیت کی صورتحال افغانستان میں ظاہر شاہ کے دورِ حکومت میں پیدا ہوئی، جب اس کے عہد میں افغانستان میں بائیں بازو کے افکار، نظریات اور سیاسی جماعتوں کو ابھرنے کا موقع ملا، جبکہ اس کے مقابلے میں اسلامی نظریات رکھنے والے افراد کو دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اس صورتِ حال کے خلاف بھی علماء اور اسلام پسند عناصر احتجاج اور اصلاح کی غرض سے اٹھ کھڑے ہوئے، لیکن ظاہر شاہ نے فساد کے سدِباب کے بجائے علماء اور دینی حلقوں کے مقابلے میں سختی اور جبر کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب لوگوں میں حکومتی نظام کے خلاف مزاحمت کا جذبہ پیدا ہوا، جو بعد میں کمیونسٹوں کے خلاف جہاد اور مقابلے کی بنیاد بنا۔

تیسری مرتبہ یہ تلخ تجربہ اس وقت دہرایا گیا جب افغانستان میں کمیونزم ایک بیرونی فکر اور طاقت کے طور پر آیا۔ کمیونسٹ عناصر نے بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی سے نہ صرف اس فکر کو یہاں فروغ دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم کی، جس کے ذریعے ایک نئی نسل کی فکری و سیاسی تربیت کی گئی۔ بعد ازاں انہی کمیونسٹوں نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹ دیا، اقتدار پر قبضہ کیا، اور پھر روس کو افغانستان میں مداخلت کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں روسی قبضہ وجود میں آیا اور ملک ایک طویل تباہی سے دوچار ہوا۔

کمیونسٹ افغانستان میں کمیونزم کا عملی نفاذ چاہتے تھے، لیکن مسلمان عوام نے اسے قبول نہ کیا۔ یہی وجہ تھی کہ کمیونسٹوں کے اقتدار میں آنے اور روسی فوجوں کی آمد کے بعد افغانستان میں شدید خونریزی شروع ہوئی۔ لاکھوں انسان مارے گئے، لاکھوں افراد معذور ہوئے، دیہات تباہ و برباد کر دیے گئے، لاکھوں ہیکٹر زرعی زمینیں ویران ہوئیں، اور پچاس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

چودہ سال تک افغانستان میں آگ اور خون کا یہ کھیل جاری رہا۔ کمیونسٹ حکومت اور اس کے حامی اس وقت تک مسلمان عوام کے خلاف جنگ کرتے رہے جب تک طاقت کے ذریعے ان کا نظام ختم نہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ مغربی ممالک میں چلے گئے، جہاں انہوں نے اپنی سابقہ سیاسی فکر کے برخلاف مغربی قوتوں کی خدمت شروع کر دی۔ لیکن ان کے پیدا کردہ بحران کے اثرات آج تک باقی ہیں۔ ان تمام تباہیوں کا بنیادی سبب پھر وہی بیرونی فکر تھی، جو دراصل ایک یورپی نظریہ تھا۔

اگر ابتدا ہی میں ہم کمیونزم کے افکار کے داخلے اور لوگوں کو اس سے متاثر ہونے سے روکنے میں کامیاب ہو جاتے، اور علم، دعوت اور عوامی شعور کے ذریعے لوگوں کو کمیونزم کے باطل نظریات کے نقصانات سے آگاہ کر دیتے، تو لاکھوں انسان ان کے صف میں شامل نہ ہوتے اور نہ ہی موت کی چکیاں اس قوم کے سروں پر گردش کرتیں۔

کمیونسٹوں کے بعد ۲۰۰۱ء میں امریکہ کی قیادت میں جمہوریت کا نظریہ اور اس کے ساتھ آنے والی فوجی طاقت افغانستان میں داخل ہوئی۔ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے بیس سال تک فوجی قبضہ جاری رکھا اور افغانستان پر ایسے سیاسی و فکری تصورات مسلط کرنے کی کوشش کی جن میں مغربی طرزِ فکر، سیکولر قوانین اور دیگر غیر ملکی نظریات شامل تھے۔

امریکیوں اور ان کے یورپی اتحادی جو لبرلزم، جمہوریت، یہودی سیاست، عیسائیت، خود ساختہ قوانین اور دیگر مغربی افکار سمیت کفر کا ایک ملغوبہ تھا، ان کا مقصد یہ تھا کہ افغان عوام کو فکری طور پر اپنے زیرِ اثر لایا جائے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغان عوام کو زیرِ اثر لانے کے لیے ان کے خلاف اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑی۔ اس جنگ میں، جو عسکری اور فکری دونوں میدانوں میں جاری رہی، دو کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے گئے۔ اس دوران انہوں نے اپنے وفادار نام نہاد افغان افراد کو اقتدار میں مسلط کیا جن کا مقصد افغان عوام کے افکار اور سماجی اقدار کو تبدیل کرنا تھا۔

اسی مقصد کے لیے مغربی قوتوں نے اپنے افغان حامیوں کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جن میں دینی اقدار کو کمزور کرنا، ظلم و زیادتی، اخلاقی اور مالی بدعنوانی کو فروغ دینا شامل تھا۔ مغربی ممالک نے اپنے قبضے کے دور میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے افغان ساتھیوں کے ساتھ مل کر تعلیمی نصاب، ریڈیو، ٹیلی وژن، اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس قائم کیں، جن میں ہزاروں افراد کو بھاری تنخواہوں پر کام دیا گیا تاکہ وہ فکری طور پر مغربی نظریات کے مطابق تیار کیے جائیں۔

ان کوششوں کا مقصد یہ تھا کہ افغان عوام کے ذہنوں اور دلوں سے آزادی کا جذبہ کم کیا جائے، انہیں دین اور دینی وابستگی سے دور کیا جائے، ان کے اخلاق، لباس اور ثقافت میں تبدیلی لائی جائے، معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کیا جائے، اور شریعت کے بجائے انسانی قوانین اور مغربی اداروں کو فیصلہ سازی کا معیار بنایا جائے۔ اسی طرح خواتین کو فحاشی کی ترغیب دی گئی، اور ان کے تحفظ کے لیے مغربی نگرانی میں (دار الامان نامی) ایسے مراکز قائم کیے گئے جو در اصل فحاشی و اخلاقی فساد کے اڈے تھے۔

مغربی طاقتوں نے اپنے افغان حامیوں کے ذریعے عدالت، فوجداری، حقوق، میڈیا، سکیورٹی، تجارت اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق قوانین بھی اپنی خواہشات کے مطابق مرتب کیے۔

جس جہاد کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر دین کی سربلندی کے لیے فرض قرار دیا ہے، اسے ان طاقتوں نے ’’دہشت گردی‘‘ کا نام دیا، اور اسی بنیاد پر ہزاروں نوجوانوں کو ملک کے مختلف زندانوں میں قید کیا گیا۔ ان پر یہ الزامات عائد کیے گئے کہ وہ افغانستان میں جہاد، اسلامی نظام، اسلامی اقدار اور آزادی کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں؟ اور غلامی قبول کرنے پر کیوں آمادہ نہیں ہوتے؟

قبضے کے دور میں بنائے گئے افغانستان کے آئین میں بھی ایسے تصورات شامل کیے گئے جن میں جمہوریت، عوامی ارادے کی بنیاد پر نظامِ حکومت اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی پیروی شامل تھی۔ ان میں بعض ایسے مفاہیم شامل تھے جو مغربی اقدار کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے اور بعد میں اسلامی ممالک پر بھی نافذ کیے گئے۔

امریکیوں نے افغانستان پر حملے کے بعد تعلیمی نصاب سے سوویت یونین اور کمیونزم کے خلاف افغان عوام کی تاریخی جدوجہد سے متعلق بعض موضوعات کو بھی حذف کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ دور اختلافات سے بھرا ہوا تھا اور اس زمانے کے لوگ ابھی تک زندہ ہیں، لہذا اس جہادی تاریخ کا ذکر دوبارہ اختلافات کو جنم دے سکتا ہے۔

امریکی نگرانی میں تیار کیے گئے نصاب میں کمیونزم کے خلاف افغان جہاد کے دور کو ’’بحران‘‘ یا ’’تباہی‘‘ جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا، جبکہ جرمنی کے شہر بون میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے منعقدہ اجلاس اور بعد میں کابل میں ہونے والی لویہ جرگہ کو نصاب میں شامل کیا گیا۔ افغان عوام کی تاریخ کے ان واقعات، جن میں سوویت یونین کی شکست، جہاد اور قومی جدوجہد کی عظمت بیان ہوتی تھی، کو نصاب سے نکال دیا گیا تاکہ نئی نسل یہ سبق نہ لے کہ جس قوم نے روسی حملہ آوروں کو شکست دی، وہ کسی اور بیرونی طاقت کا مقابلہ بھی کر سکتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا معاشرہ مختلف باطل افکار سے متاثر ہوا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ نسلیں غیر ملکی نظریات کی پیروی نہ کریں تو ضروری ہے کہ باطل افکار کو پہچانا جائے اور ان کے بارے میں نصاب میں مناسب معلومات شامل کی جائیں۔

باطل نظریات کو سمجھنا ہمارے اسلامی معاشرے کے لیے اس لیے بھی زیادہ ضروری ہے کہ یہ مختلف ناموں اور شکلوں میں ہمارے معاشرے کو متاثر کر چکے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم نے دیکھا کہ موجودہ دور میں مختلف ناموں اور عنوانات کے تحت ہمارے لاکھوں نوجوان کمیونزم اور لبرلزم کے نظریات کے پیروکار بن گئے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اس ملک کے لاکھوں نوجوان امریکی حملہ آوروں کی صف میں کھڑے ہو گئے، اور ہمارے تعلیمی نصاب میں ان قابض قوتوں کے نظریات کو شامل کیا گیا۔

ہمارے دینی تعلیمی نصاب میں صرف و نحو، منطق اور قدیم علوم پر بہت توجہ دی جاتی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جدید باطل نظریات کا تعارف، ان پر تنقید اور اسلامی نقطۂ نظر سے ان کا جائزہ، جو اسلام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے، بہت کم موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے سے ہی لاکھوں لوگ وقتاً فوقتاً غیر اسلامی نظریات سے متاثر ہو کر دین، علماء، مدارس، مساجد اور محراب کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے دینی اور دنیاوی دونوں تعلیمی نصابوں میں جدید دور کے باطل نظریات اور ان کے بارے میں اسلامی مؤقف کی مناسب تعلیم موجود نہیں ہے۔

جب جدید باطل افکار اور تصورات قانون، نظام، میڈیا، تعلیمی نصاب اور دیگر ذرائع کے ذریعے لوگوں میں پھیلائے جائیں، لیکن ان کے مقابلے میں اسلامی نقطۂ نظر سے کوئی واضح تعلیم نہ دی جائے، تو نئی نسل میں ان نظریات کے خلاف فکری شعور، حساسیت اور مقابلے کا جذبہ کیسے پیدا ہو گا؟

مذکورہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اگر دینی مدارس کے نصاب میں بھی کفر اور باطل کے جدید مظاہر کے بارے میں مضامین شامل نہ کیے گئے تو یہ ملک اور قوم کے مستقبل کے بارے میں ایک بڑی غفلت ہو گی، جس کے نتائج آنے والی نسلوں کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

اَلقاعِدہ کیوں؟ | دسویں قسط

Next Post

کفار کا معاشی بائیکاٹ | دسویں قسط

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اگست 2026

21 اگست 2026
مَعرکے ہیں تیز تَر! | ستمبر تا نومبر 2024
عالمی جہاد

مَعرکے ہیں تیز تَر! | اگست 2026

21 اگست 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: بیالیس (۴۲)

21 اگست 2026
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
نقطۂ نظر

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

20 اگست 2026
سوشل میڈیا کے جاسوس
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا کے جاسوس

20 اگست 2026
سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)
اوپن سورس جہاد

سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

20 اگست 2026
Next Post
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط

کفار کا معاشی بائیکاٹ | دسویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اگست 2026ء
اگست 2025

اگست 2026ء

by ادارہ
20 اگست 2026

Read more

تازہ مطبوعات

سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
جہادِ شام کے اسباق
مطبوعات حطین

جہادِ شام کے اسباق

فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کا بیان ”فَلنُقَاتِلهُم بُنيَانًا مَرصُوصًا“ مقدمہ و حواشی کے ساتھ مترجم: مولانا عمار خان     ...

ستمبر, 2026
د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو
مطبوعات حطین

د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو

  لیکوال: شيخ ډاکټر سامي بن محمود العُريدي ژباړن: مولوي عماد الدین خالد     ډاونلوډ کړی       ...

ستمبر, 2026
مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مطبوعات حطین

مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں

مصنف: شیخ ڈاکٹر سامی بن محمود العریدی مترجم: مفتی عامر احمد سلطانی     ڈاؤن لوڈ کریں       ...

ستمبر, 2026
مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version