نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | دسویں قسط

میں القاعدہ میں کیوں شامل ہوا؟

by ابو مصعب العولقی
in اگست 2026ء, فکر و منہج
0

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علیٰ أشرف الأنبیاء.

اللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیك یسیر، آمین!

(15) …… کیونکہ وہ فتح کی تیاری میں مؤثر طور پر شریک ہیں

فتح و ظفر اس امت کا مقدر ہے اور یہ فتح و ظفر صرف تیاری اور اس کے لیے ’تیاری کرنے والوں‘ ہی کے ذریعے آئے گی۔ فتح کی تیاری میں متعدد فریق کم و بیش حصہ لیتے ہیں۔ پھر ان میں سے بعض اگرچہ ایک جانب معمولی اور سست رفتار تیاری کے ذریعے کوشش کر رہے ہوتے ہیں، لیکن دوسری جانب وہ انجانے میں فتح کو منہدم اور اس کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہوتے ہیں۔

پس القاعدہ اس فتح کی تیاری میں صفِ اول کے لوگوں میں سے ہے، وہ فتح جو جلدی بھی آ سکتی ہے اور اس کے آنے میں دیر بھی ہو سکتی ہے۔ ان کی اس تیاری کی دلیل خراسان میں ان کے مرکز کا موجود ہونا ہے، جہاں انہوں نے قابض ظالم کفری طاقتوں کا مقابلہ کیا اور آج بھی خراسان کے اڑوس پڑوس میں وہ پوری قوت کے ساتھ دشمنانِ دین سے ٹکرا رہے ہیں۔ آج صومالیہ کا اکثر علاقہ اور ساحلِ افریقہ کا کثیر علاقہ انہی مجاہدینِ القاعدہ کے زیرِ قبضہ ہے، بلکہ القاعدہ نے ساحلِ افریقہ کے ملک مالی کی سبھی جہادی تنظیموں میں موجود مجاہدین اور ان کی قیادت کا دل اپنے منہج، فکر اور اسٹریٹیجی کی بدولت جیت لیا اور وہاں کی واحد اور سب سے بڑی دینی جماعت آج جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین ہے۔جزیرۃ العرب خصوصاً یمن، پاکستان و بنگلہ دیش، شام اور عراق میں ان کا بھرپور وجودہے۔ کیا پوری دنیا میں اس جیسی کوئی عالمی جہادی تنظیم موجود ہے جو امریکیوں اور امریکیوں کے ایجنٹوں کا مقابلہ کرتی ہو؟

بے شک اس تنظیم نے نمایاں فتوحات حاصل کی ہیں ، دشمن کے نا قابلِ تسخیر ہونے کے زعم کو توڑا ہے اور اب بھی اللہ کے اذن سے ایک بڑی فتح حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ تنظیم القاعدہ اور اس کے قائدین و کارکنان مجاہدین نے یہ سب کچھ پاکیزہ خون، عظیم کوششوں، وطنوں سے جدائی اور بابرکت مالوں ہی کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ تو کیا اس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ فتح کے حصول میں صفِ اول کے لوگوں میں سے نہیں ہیں؟ اس کا جواب موافقین اور مخالفین، دونوں میں انصاف پسند لوگوں کے پاس موجود ہے۔

(16)……کیونکہ جہادی تربیت کے لیے ان کا طریقِ کار عین شرعی ہے!

اگر ہم مسلمان کی شخصیت کی تربیت کے لیے نبوی منہج کا جائزہ لیں، یہاں تک کہ وہ مجاہد بن جائے، تو ہمیں درج ذیل چیزیں ملتی ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب زرہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا ’’یا رسول اللہ ! میں پہلے جنگ میں شریک ہوجاؤں یا پہلے اسلام لاؤں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پہلے اسلام لاؤ پھر جنگ میں شریک ہونا۔‘‘ چنانچہ وہ پہلے اسلام لائے اور اس کے بعد جنگ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’عمل کم کیا لیکن اجر بہت پایا‘‘۔ (صحیح بخاری)

پس نبوی منہج کو دیکھیے، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سخت اور غیر معمولی شرائط عائد کیں؟ اور کیا آپؐ نے اس شخص سے کہا ’’ مدینہ واپس جاؤ تاکہ کچھ عرصہ گزارو، اس دوران تمہارا ایمان مضبوط ہو گا، پھر میدانِ جنگ میں داخل ہونا، اس لیے کہ ابھی تم جنگ میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہو‘‘؟

مربیٔ اعظم، شارعِ بر حق علیہ الصلاۃ والسلام کے منہج کو یہاں بھی دیکھیے کہ جب آپؐ حنین کی طرف نکلے تو آپؐ کے ساتھ بعض ایسے صحابہ بھی نکلے جو ابھی ابھی کفر سے ایمان لائے تھے ۔ انہوں نے کیا کہا؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا جواب دیا؟

ترمذی شریف کی ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا :

’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کی طرف نکلے اور ہم ابھی کفر سے نئے نئے نکلے تھے۔ مشرکین کا ایک بیری کا درخت تھا جس کے پاس وہ جم کر بیٹھتے تھے اور اس پر اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے، اسے ’ذاتِ انواط‘ کہا جاتا تھا۔ ہم ایک درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا’یا رسول اللہ! ہمارے لیے بھی ایک ذاتِ انواط مقرر کر دیجیے جیسے ان (مشرکین)کے لیے ذاتِ انواط ہے‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’اللہ اکبر! یہ تو وہی طریقے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے وہی بات کہی جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی:ﯘ اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﯗ [ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے جیسے ان کے لیے معبود ہیں۔ انہوں (موسیٰ علیہ السلام)نے کہا: بے شک تم جاہل لوگ ہو]۔ تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے۔‘‘

محلِ استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں بعض ایسے صحابہ بھی نکلے جن کا کفر سے تعلق ابھی قریب ہی میں چھُوٹا تھا، چنانچہ وہ بہت سے احکام اور عقائد سے ناواقف تھے، یہاں تک کہ انہوں نے اس انتہائی سنگین بات کا مطالبہ کر لیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ کیا آپ نے لشکر روک دیا اور کہا کہ جن کا کفر سے ابھی قریب ہی میں تعلق ختم ہوا ہے وہ جنگ میں داخل نہیں ہوں گے؟ یا آپ نے انہیں ساتھ ساتھ ہی تعلیم دی اور انہیں ساتھ لے کر آگے بڑھے؟ میدان ہائے قتال امت کی تربیت کے لیے بہترین تربیت گاہ ہیں۔

پس ان دونوں دلائل سے ہم اس بات کے باطل ہونے کو جان سکتے ہیں جسے بعض دوسری جماعتوں کے افراد بار بار دہراتے ہیں کہ جہاد کے لیے لازماً بڑی تربیت ضروری ہے، گویا صرف وہی شخص جہاد کر سکتا ہے جو علم اور ایمان میں بہت بلند مقام تک پہنچ چکا ہو۔

پس جب ان کے سامنے جہاد کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ جہادِ نفس کے گرد گھومنے لگتے ہیں اور اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ تو ان سے کہا جاتا ہے آپ میں سے کچھ کو راہِ تربیت اختیار کیے پندرہ بیس سال ہو چکے ہیں، اور بعض کو اس سے بھی زیادہ اور بعض کو اس سے کم۔ کیا آپ کی تربیت اور اپنے نفسوں سے جہاد آپ لیے کافی نہیں؟ نجانے یہ خود ساختہ شرائط کہاں سے آئی ہیں!؟

ہاں، مجاہد کے اندر عقیدے کے پہلو پر توجہ دینا بہت اہم ہے، بلکہ یہی بنیاد ہے، لیکن اس معاملے میں نبوی منہج کی پیروی کنی چاہیے۔ نجانے تحصیلِ علم کو اس طرح کیوں بیان کیا جاتا ہے گویا وہ مجاہد کے لیے لازمی شرط ہے؟ کیا جماعتِ صحابہ میں سب کے سب لوگ علماء تھے یا اکثریت علماء کی تھی؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ میں مجاہدین کی اکثریت تھی، بلکہ صحابہ تو سب کے سب مجاہد تھے۔ اب جو شخص جہاد نہ کرے اور وہ اہلِ عذر میں سے بھی نہ ہو، تو اسے اتنی ملامت، سرزنش اور سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے اللہ ہی جانتا ہے۔ اور کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم کا واقعہ تو ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔

جہاد کے بارے میں القاعدہ کی شرط یہی نبوی شرط ہے۔ اور دیکھیے کہ شہیدِ اسلام سید قطب رحمۃ اللہ علیہ نے اس بارے میں کیا کہا:

’’ہم دیکھتے ہیں کہ یہ قرآن اپنے اسرار صرف انہی لوگوں پر کھولتا ہے جو اسے لے کر معرکے میں اترتے ہیں اور اس کے ذریعے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔ یہی لوگ اس ماحول میں زندگی گزارتے ہیں جس میں قرآن نازل ہوا تھا۔‘‘ (فی ظلال القرآن)

اسی لیے سلف کے علماء اور عصرِ حاضر کے اہلِ نظر نے اس مسئلے کی طرف توجہ کی۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ نور اللہ مرقدہ کہتے ہیں:

’’جس شخص کے گناہ زیادہ ہوں، اس کی سب سے بڑی دوا جہاد ہے……‘‘(مجموع الفتاویٰ، 28؍421)

اور یہ امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو قیام، روزے، تلاوت اور ذکر اور ان تمام چیزوں کی پابندی کرنے والے کو، جو پُرسکون تربیت والوں کی غایت ہے، اور جہاد اور حق بات بلند کرنے کو ترک کرنے والے کو مردہ دلوں میں اور ان لوگوں میں شمار کرتے ہیں جنہیں اللہ ناپسند کرتا ہے۔ (إعلام الموقعین 2؍197)

امیر المومنین حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے ایک مامور اور مرید نے کہا کہ حضرت عبادات میں جو مزہ و لذت ہندوستان کے خانقاہوں میں آتا تھا وہ یہاں نہیں آتا۔ حضرت سیّد بادشاہ نے فرمایا ’’جو ایمانی ترقی ہمیں یہاں جہاد میں حاصل ہوئی ہے کبھی نہیں ہوئی‘‘۔ (تاریخِ دعوت و عزیمت)

شیخ محمد الامین مصری کہتے ہیں: ’’رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے منتشر، جاہل اور اپنے دین کے معانی سے دور ہونے کی حالت میں جہاد کیسے ممکن ہے، تو ان کا جواب یہ ہے کہ ان سب کا علاج میدانِ قتال میں داخل ہونا ہے……‘‘ یہاں تک کہ شیخ محمد الامین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ’’بے شک تربیت کا سب سے بڑا میدان، میدانِ قتال ہے……‘‘۔ ( دیکھیے کتاب إدارة التوحش)

پس اے وہ لوگو جو ان تمام برسوں میں تربیتِ نفس کے گرد گھومتے رہے ہو! کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ تم جان لو کہ تم نے اس شرط کو نبوی منہج سے بڑھا کر بہت بڑا بنا دیا ہے؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم اس باب میں اپنی کوتاہی کو پہچانو اور دوسروں کے عیب نکالنا چھوڑ دو؟

شاعر نے کہا:

وما عبَّر الإنسان عن فضل نفسـه
بمثل اعتقاد الفضل في كل فاضل
­­­­

وليس من الإنصاف أن يدفع الفتى
يد النقص عنه بانتقاص الأفاضل
­­­­­

(انسان نے اپنی فضیلت کا اظہار اس سے بڑھ کر نہیں کیا کہ وہ ہر صاحبِ فضیلت کو فضیلت والا سمجھے۔ اور یہ انصاف نہیں کہ آدمی اپنے اندر کی کمی کو دور کرنے کے لیے اہلِ فضیلت کی تنقیص کرے۔)

اور یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہو سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ ان دونوں حدیثوں (وہ حدیث جس میں ایک شخص نے اسلام قبول کیا، پھر جنگ کی اور پھر قتل ہو گیا، اور ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کی حدیث )کے بارے میں آپ سے کہا جا سکتا ہے: ہاں، یہ احادیث ثابت ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جہاد میں ان لوگوں قیادت کے مقام پر فائز نہیں کیا تھا، بلکہ آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور بہترین صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، جبکہ دوسرے لوگ صرف تابع تھے، لہٰذا امت کے لیے عظیم تربیت ضروری ہے۔ جواب یہ ہے کہ القاعدہ نے بھی اصولاً اپنے جہاد کی بنیاد اہلِ علم اور اہلِ عقیدہ ہی پر رکھی ہے اور قیادتِ اہلِ علم، اہلِ تجربہ، اہلِ فن لوگوں ہی کے حوالے ہے اور دیگر لوگ تو صرف تابع ہیں۔

(17)……کیونکہ اخلاق کے اعتبار سے وہ بہترین لوگوں میں سے ہیں

جس چیز نے مجھے قاعدۃ الجہاد کے مجاہدین سے بہت متاثر کیا وہ ان میں پائے جانے والے بلند اخلاق تھے۔ ان عالی اخلاق نے میرے دل میں ان کی قدر و منزلت مزید بڑھا دی۔ پہلی بار جہادی دعوت ملنے سے لے کر آج تک، ان میں سے جس شخص سے بھی میری ملاقات ہوئی، میں نے اسے انتہائی متواضع پایا، اور جن جن لوگوں سے میں ملا، تقریباً ہر ایک میں یہ صفت نمایاں تھی۔ ان سے تعلق رکھنے والے عربی ہوں یا عجمی، افغان ہوں یا پنجابی و کشمیری، سبھی عالی اخلاق والے تھے۔جن لوگوں سے راقم الحروف خود ملا یا جن کے بارے میں سنا تو ان کا ذکر مناسب ہو گا۔

شیخ احسن عزیز شہید رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاق تو بڑے ہی نمایاں تھے، یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ برِّصغیر میں القاعدہ کی جہادی قیادت کی اکثریت بالواسطہ یا بلاواسطہ ان کے اخلاقِ حسنہ کے سبب تربیت شدہ ہے، شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے انسانوں کے ساتھ تو جو اخلاق تھے سو تھے، پرندوں کے ساتھ بھی وہ حسنِ خلق سے پیش آتے تھے جس پر ایک واقعہ میں نے امیرنا استاد اسامہ محمود صاحب سے سنا۔

شیخ ابو یحییٰ اللیبی رحمۃ اللہ علیہ بڑے پائے کے عالم تھے، موریتانیہ تا کراچی انہوں نے نامور بڑے بڑے مشائخ و علماء سے تحصیلِ علمِ دین کیا، عقل و فہم میں بھی وہ بڑے عالی مرتبت تھے، لیکن علومِ دنیا سیکھنے بھی جب وہ کسی کے سامنے بیٹھتے تو یوں بیٹھتے گویا ایک عام و ادنیٰ طالبِ علم ہو۔

مجاہد قائد بدر منصور رحمۃ اللہ علیہ بھی اعلیٰ خُلق لوگوں میں سے ایک تھے۔ اگر کوئی ان کو شکلاً نہ جانتا ہوتا تو مجلس میں اندازہ کرنا مشکل ہوتا تھا کہ ان میں امیر (یعنی بدر منصور) کون ہے۔ ساتھیوں کے ساتھ گھل مل کر رہنا، خدمت کرنا، خوش گپی کرنا، ساتھیوں کی ذاتی ضروریات پوری کرنا ، ساتھیوں سے نہایت تواضع سے پیش آنا، خاص کر علمائے کرام کا بے حد احترام کرنا اور ان کے ساتھ انکساری سے پیش آنا ان کی اعلیٰ صفات تھیں۔

میں نے ابھی چند نام یہاں اور بھی لکھے تھے، ان عالی اخلاق شخصیات کے جن کے ساتھ میں خود رہا، ہر ایک نام کے بعد ایک اور عالی خُلق شخصیت کا نام آ جاتا ہے، اور یہ مضمون ان سب ناموں کے ذکر کا شاید محل نہیں اور فہرست انتہائی طویل ہے، لہٰذا ابھی دیگر کے نام درج کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ البتہ حضرت الامیر مولانا عاصم عمر شہید رحمۃ اللہ علیہ کا ذکرِ خیر یہاں کرنا لازمی سمجھوں گا کہ چند بار انہوں نے بعض امور میں مجھ جیسے معمولی مجاہد سے خط و کتابت کے ذریعے مشورہ کیا تو اس میں ان کے عالی اخلاق، تواضع و انکساری اور حق کو پانے کا جذبہ بڑا نمایاں تھا ۔ اسی طرح حضرت الامیر سے بدر منصور بھائی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم اور ’پیغامِ اسلام‘ نامی دستاویزی فلم کے معاملے میں خط و کتابت اور حضرت کا اس پر جواب اور ویڈیو ریکارڈنگز وغیرہ ان کے کمالِ تواضع کی دلیل تھیں (اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے ہر قائدِ جہاد کو ایسا ہی متواضع پایا ہے، اللہ ان سب کی حفاظت فرمائے)۔ حضرت الامیر کے جہادی ذمہ داران کے لیے تربیتی دورے کے دروس بڑے قیمتی ہیں اور ان دروس میں بھی ان کے اخلاقِ کریمانہ واضح ہیں جو ان کے لہجے سے جھلک و چھلک رہے ہیں، رحمہ اللہ رحمۃً واسعۃً ۔

بے شک یہ وہ بلند اخلاق ہیں جن کی اسلام نے ہمیں ترغیب دی ہے اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنایا تھا۔

شیخ ابو مصعب العولقی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ’’جو باتیں مجھے یاد ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ میری ملاقات القاعدہ کے مرکزی نائب امیر اور القاعدہ جزیرۃ العرب کے امیر شیخ ناصر الوحیشی سے ہوئی، تو وہ میرے ساتھ انتہائی تواضع اور کشادہ دلی سے پیش آئے، گویا ہم ایک زمانے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں‘‘۔

بے شک اسلام نے اخلاق کی ترغیب دی ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت کی نوعیت بھی بیان فرمائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’میں تو صرف اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ مکارمِ اخلاق کی تکمیل کر دوں‘‘ (شرح السنۃ)۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قیامت کے دن بندۂ مومن کے میزان میں حُسنِ اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی، اور بے شک اللہ تعالیٰ فحش گو اور بدزبان شخص کو ناپسند کرتا ہے‘‘ (رواہ الترمذی)۔

عرب شاعر کہتا ہے:

ولا تمشِ فوق الأرض إلا تواضعاً
فكم تحتها قوم همُ منك أرفعُ
­­­

فإن كنت في عـزٍ وحرزٍ ومنعـةٍ
فكم طاح من قوم همُ منك أمنعُ

(اور زمین پر نہ چل مگر تواضع کے ساتھ ، کیونکہ اس کے نیچے کتنے ہی لوگ ہیں جو تجھ سے بلند تر ہیں۔ پس اگر تو عزت کے ساتھ قوت و اقتدار میں ہے ، تو کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو تجھ سے زیادہ مضبوط و محفوظ تھے، پھر بھی گر گئے۔)

پس حق کا حامل شخص اگر اچھے اخلاق سے متصف نہ ہو تو اس کے برے اخلاق کے سبب لوگ حق سے دور ہو جاتے ہیں۔جبکہ اچھے اخلاق لوگوں کو اپنے حاملین کی طرف کھینچتے ہیں، خواہ وہ نظریات میں مخالف ہی کیوں نہ ہوں، تو پھر کیا کہنا جب اخلاق اور اچھا عقیدہ دونوں جمع ہوجائیں، یہ تو نورٌ علی نور ہوگا۔

جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں
صراحی سر نگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ

شیخ ابو مصعب العولقی رحمہ اللہ کہتے ہیں ’’اور میں القاعدہ میں موجود اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اخلاقِ عالیہ سے متصف ہوں اور لوگوں کے ساتھ صبر و تحمل اختیار کرنے کی کوشش کریں‘‘۔

ہمارا یہ دعویٰ کہ القاعدہ کے مجاہدین حسنِ اخلاق سے متصف ہیں، یہ ایک غالب اکثریت کے اعتبار سے بات ہے، عین ممکن ہے کہ ان کے بعض افراد میں حسنِ اخلاق کے پہلو سے کچھ کمی پائی جاتی ہو۔

اللھم اجعلنا هادين مهتدين، غير ضالّين ولا مضلّين، سلماً لأوليائك، وحرباً علی أعدائك، نحب من أحبك، ونعادي بعداوتك من خالفك. اللهم هذا الدعاء ومنك الإجابة، اللهم هذا الجهد وعليك التكلان، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، آمين!

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | آٹھویں قسط

Next Post

مدرسہ و مبارزہ | پندرہویں قسط

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اگست 2026

21 اگست 2026
مَعرکے ہیں تیز تَر! | ستمبر تا نومبر 2024
عالمی جہاد

مَعرکے ہیں تیز تَر! | اگست 2026

21 اگست 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: بیالیس (۴۲)

21 اگست 2026
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
نقطۂ نظر

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

20 اگست 2026
سوشل میڈیا کے جاسوس
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا کے جاسوس

20 اگست 2026
سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)
اوپن سورس جہاد

سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

20 اگست 2026
Next Post
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط

مدرسہ و مبارزہ | پندرہویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اگست 2026ء
اگست 2025

اگست 2026ء

by ادارہ
20 اگست 2026

Read more

تازہ مطبوعات

سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
جہادِ شام کے اسباق
مطبوعات حطین

جہادِ شام کے اسباق

فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کا بیان ”فَلنُقَاتِلهُم بُنيَانًا مَرصُوصًا“ مقدمہ و حواشی کے ساتھ مترجم: مولانا عمار خان     ...

ستمبر, 2026
د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو
مطبوعات حطین

د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو

  لیکوال: شيخ ډاکټر سامي بن محمود العُريدي ژباړن: مولوي عماد الدین خالد     ډاونلوډ کړی       ...

ستمبر, 2026
مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مطبوعات حطین

مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں

مصنف: شیخ ڈاکٹر سامی بن محمود العریدی مترجم: مفتی عامر احمد سلطانی     ڈاؤن لوڈ کریں       ...

ستمبر, 2026
مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version