اس تحریر میں مختلف موضوعات پر کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کی آرائ پیش کی جاتی ہیں۔ ان آراء اور کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کے تمام افکار و آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)
غزہ |
مین سٹریم میڈیا پر امریکہ ایران تصادم کی خبروں میں غزہ اور اہل غزہ کی فریاد کہیں گم سی ہو گئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا نے اسے اہمیت دینا ہی بند کر دی ہے، جبکہ اس وقت غزہ کجا پورے فلسطین میں ایک کونا بھی ایسا نہیں جہاں فلسطینی صہیونی شر سے محفوظ ہوں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق صہیونی حملوں میں اب تک تہتر ہزار تین سو چھیاسی(73,386) فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکی ایک لاکھ چوہتر ہزار دو سو پچاس (174,250) زخمی ہیں۔ غزہ اور اہل غزہ کی صورتحال اس قدر ابتر اور تکلیف دہ ہے کہ حماس نے بھی اپنے لوگوں کی خاطر نہ صرف حکومت چھوڑ دی بلکہ اپنے بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار ڈالنے کا بھی اعلان کیا ہے اس شرط پر کہ صہیونی فوج غزہ سے انخلاء کرے اور اہلیان غزہ کے لیے امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل جاری کی جائے اور غزہ کی تعمیر نو کا عمل شروع ہو جیسا کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ۱۵ نکاتی روڈ میپ میں ذکر کیا گیا ہے۔
لیکن یہود نے اپنی تاریخی روایت برقرار رکھتے ہوئے معاہدے پر عمل درآمد سے ہی صاف انکار کر دیا۔ جہاں ٹرمپ نے حماس کے اس اعلان کو خوش آئند اور بریک تھرو کہا وہاں نیتن یاہو کے اس بیان نے کہ اسرائیلی فوجیں غزہ سے اس وقت تک نہیں نکلیں گی جب تک وہ اس بات کی تسلی نہ کر لیں کہ حماس سے ہر طرح کے ہتھیار لے کر ضائع کر دیے گئے ہیں( جو کہ محض ایک بہانہ ہے) ۔ یہ معاملہ ٹرمپ اور نہتن یاہو میں بڑھتے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے لیکن یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ بورڈ آف پیس ہو یا امریکہ، مرضی اسرائیل کی ہی یہاں چلنے دی جائے گی۔ اسرائیل کی اس حرکت کو تجزیہ کاروں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مختلف قلم کاروں کی تحاریر سے چند اقتباس یہاں پیش کیے جا رہے ہیں :
The Board of Peace is a failed body and should be abandoned | Samer Jaber
’’گزشتہ ماہ بورڈ نے تعمیرِ نو کے اپنے منصوبے کو محدود کر کے رفح کے قریب، مصری سرحد سے متصل ایک آزمائشی منصوبے تک محدود کر دیا۔ اس علاقے کا کنٹرول ان فلسطینیوں کے پاس ہے جو اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ اس ترقیاتی منصوبے میں کن فلسطینیوں کو رہنے کی اجازت دی جائے گی، اس کا فیصلہ بھی اسرائیل ہی کرے گا۔اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بورڈ اپنے لیے فلسطینی املاک ضبط کرنے یا انہیں ’’بلا معاوضہ‘‘ استعمال کرنے کا حق حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ وہ فلسطینی زمین کی اسرائیل کی جاری لوٹ مار کے لیے ایک پردہ بننے پر آمادہ ہے۔
اسرائیلی انخلا، یعنی وہ دوسرا بڑا عمل جس کی نگرانی بھی بورڈ کو کرنی چاہیے، تقریباً پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل مسلسل بمباری کر کے فلسطینیوں کو قتل کر رہا ہے اور فلسطینی سرزمین پر اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے اپنے قبضے کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرتا جا رہا ہے۔
اکتوبر میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل گیارہ سو سے زیادہ فلسطینی شہریوں کو قتل کر چکا ہے۔ فلسطینی گھروں کی مسماری بھی بدستور جاری ہے، جبکہ اس نے اپنی ’’یلو لائن‘‘ کو بھی آگے بڑھا دیا ہے۔ یوں غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر اسرائیل کا کنٹرول ہو چکا ہے، حالانکہ جنگ بندی کے آغاز پر یہ شرح 53 فیصد تھی۔
بورڈ آف پیس نے اسرائیل کے ان نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کے خلاف نہ کوئی اقدام کیا ہے اور نہ ہی ان کی مذمت میں کوئی عوامی بیان جاری کیا ہے۔ اس دوران بورڈ نے پیش رفت نہ ہونے کا ذمہ دار فلسطینیوں کو ٹھہرایا ہے۔ اس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملاڈینوف نے حماس کو جنگ بندی پر عمل درآمد کی راہ میں ’’سب سے بڑی رکاوٹ‘‘ قرار دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد فلسطینی حملوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
یہ یک طرفہ نگرانی دراصل بورڈ کے حقیقی کردار کو بے نقاب کرتی ہے: اس کا مقصد امن قائم کرنا نہیں، بلکہ جاری اسرائیلی قبضے کو تحفظ اور جواز فراہم کرنا ہے۔ بورڈ آف پیس نے ایسے انتظامات بھی برقرار رکھے ہیں جن کے ذریعے اسرائیل غزہ میں امداد کی آمد پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے منصوبے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امداد کو غزہ میں داخل ہونے اور تقسیم ہونے سے نہ حماس روکے گی اور نہ اسرائیل، لیکن اسرائیلی فوج اب بھی یہ طے کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی میں کتنی امداد داخل ہونے دی جائے گی اور کس نوعیت کی امداد کی اجازت ہو گی۔
……غزہ میں موجودہ صورتِ حال کو برقرار رکھنے کا مطلب فلسطینیوں کی مصیبت کو جاری رکھنا اور اس سرزمین کو مزید ناقابلِ رہائش بناتے جانا ہے۔ یوں درحقیقت فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔‘‘
[Aljazeera English]
غزہ میں امن بحال ہو گا؟ | ڈاکٹر رشید احمد خان
’’گزشتہ ہفتہ ملک میں مسجدوں پر بلڈوزر چلانے کے لیے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ اس عرصے میں راجستھان اور اتر پردیش میں تین مسجدوں کو ناجائز قرار دے کر بے رحمی سے شہید کر دیا گیا ۔ اتر پردیش کے بنارس اور سنبھل کے بعد راجستھان کے شہر جے پور میں جس انداز میں مسجدوں پر بلڈوزر چلے ہیں، ان سے کئی پریشان کن سوالات ایک ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ یوں تو بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی ناجائز تعمیر کے بعد ہی سے ملک بھر میں مسجدوں، مدرسوں اور مزاروں پر حملے جاری ہیں اور متعدد جگہ پر انہیں غیر قانونی قرار دے کر منہدم کیا جا رہا ہے، لیکن حالیہ عرصے میں جس طرح ایک منظم سازش کے تحت مسجدوں کو زمین بوس کرنے کی مہم شروع ہوئی ہے اسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اس مہم کا مقصد محض ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کا انہدام نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کی زد میں وہ مندر بھی آتے جو بڑی تعداد میں سڑکوں اور سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کر کے بنائے گئے ہیں۔ محض مسجدوں کو ناجائز اور غیر قانونی قرار دے کر منہدم کرنا دراصل مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مٹانے کی سازش کا حصہ ہے، جس کو سرکاری مشنری کی سرگرم حمایت حاصل ہے۔
۱۹۹۰ء کی دہائی میں جس وقت رام جنم بھومی تحریک اپنے شباب پر تھی اور بابری مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی تیاریاں چل رہی تھیں تو کچھ نام نہاد مسلم دانش وروں نے کہا تھا کہ ’اگر ایک مسجد کی دست برداری کے عوض امن حاصل کیا جا سکتا ہے تو یہ سودا برا نہیں ہے‘۔ لیکن اس وقت بھی ہم جیسے سر پھروں نے یہی لکھا تھا کہ بابری مسجد پر رام مندر بنانے کی تحریک محض ایک مسجد کو مندر میں بدلنے کی تحریک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے مسلمانوں کی مذہبی شناخت مٹانے کی منظم سازش کارفرما ہے ۔ بابری مسجد کا انہدام محض ایک تاریخی مسجد کا انہدام نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مٹانے کی سازش کارفرما تھی اور اس سازش میں کچھ ’گھر کے بھیدی‘ بھی شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اگست ۲۰۱۹ء میں بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے ظالمانہ فیصلے سے ایک روز قبل مسلمانوں میں موجود کچھ کالی بھیڑیں قومی سلامتی کے مشیر کی رہائش گاہ پر لذیذ کھانا کھانے جمع ہوئی تھیں اور باہر نکل کر انہوں نے اپنے مذہبی تشخص سے زیادہ اس کھانے کی تعریف کی تھی جو بے غیرتی کے خمیر سے تیار ہوا تھا۔ یہاں کسی کے کردار پر انگلی اٹھانا مقصود نہیں بلکہ ہم آپ کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جو بابری مسجد سے دستبردار ہو کر امن خریدنا چاہتے تھے وہ آج کہیں نظر نہیں آ رہے، بلکہ نظر وہ عام مسلمان آ رہے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں بے بسی اور لا چاری کے ساتھ اپنی مسجدوں پر بلڈوزر چلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس سیکولر جمہوری ملک میں ان کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مذہبی علامتوں کو مٹانے کے اس ظالمانہ سلسلے کو روک سکیں۔‘‘
[روزنامہ اعتماد]
Solidarity is not enough: Why the world must force accountability on Gaza now | Dr Ramzy Baroud
’’جب اسرائیل کے عزائم پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں تو عالمی برادری کو محض ثالثی اور زبانی سفارت کاری تک محدود رہنے کے بجائے عملی نفاذ کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔
اسرائیل نسل کشی کو بھی معمول کا حصہ بنا دینا چاہتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس سے پہلے اس نے غزہ کی غیر قانونی ناکہ بندی، اس سے پہلے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ پر فوجی قبضے، اور 1948 سے جاری فلسطینیوں کی بے دخلی کو معمول بنا دیا ہے۔
ہمیں اس تصور کو دوٹوک انداز میں مسترد کرنا ہو گا کہ بے گناہوں کا قتل کبھی بھی ایک معمول کی قابلِ قبول کارروائی بن سکتا ہے۔
محض اس ظلم سے آگاہ ہونا کافی نہیں۔ صرف زبانی اظہارِ یکجہتی بھی کافی نہیں۔ آج ٹھوس اور فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے—اور اگر دنیا سیاسی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قدم اٹھائے تو مجرموں کو جواب دہ ٹھہرانا اب بھی پوری طرح ہمارے اختیار میں ہے۔‘‘
[Middle East Monitor]
ایک افسوسناک اور تکلیف دہ واقعہ پچھلے دنوں تب پیش آیا جب غزہ میں ایک بہت بڑا اجتماعی جنازہ منعقد ہوا۔ غزہ شہر میں ابو شریعہ اور الحسینہ کے پورے خاندان (۳۰۸ لوگوں) کو اسرائیل نے۲۰۲۳ء میں ان کے گھروں پر بمباری میں شہید کر دیا تھا ۔ ان میں سے ۱۱۲ افراد کی باقیات کو ملبے سے نکال کر ۴ اگست کو ان کا اجتماعی جنازہ پڑھایا گیا جو کہ غزہ کی تاریخ میں ایک بہت بڑا جنازہ تھا ۔اس میں بہت رقت آمیز مناظر دیکھے گئے جب ان کے رشتہ داروں کو اپنے پیاروں کی باقیات تین سال بعد دفنانے کا موقع ملا، جن میں چالیس بچے بھی شامل تھے۔ لیکن اس جنازے کو بھی مغربی میڈیا نے کوئی کوریج نہ دی، جس نے ان کی ’’انسانیت پسندی‘‘ کے نعرے کی قلعی کھول دی۔ مڈل ایسٹ مانیٹر پر رامونہ وادی لکھتی ہیں:
Gaza is exploited either way, through silence or stale statements | Ramona Wadi
’’جس طرح عالمی برادری اپنی توجہ کے لیے یہ طے کرتی ہے کہ کن خلاف ورزیوں یا جنگی جرائم کو اہمیت دینی ہے، اسی طرح اس نے اجتماعی قبروں اور اجتماعی جنازے کے معاملے میں بھی اپنی ترجیحات طے کر لیں۔ لہٰذا یہ نتیجہ اخذ کرنا ناگزیر ہے کہ نوآبادیاتی تشدد کے معاملے کی طرح اقوامِ متحدہ بھی یہ خود طے کرے گی کہ کن مظالم پر زبان کھولنی ہے، خواہ اس کا حاصل رسمی کارروائی کے طور پر محض ایک بیان درج کر دینا ہی کیوں نہ ہو۔ غزہ کو بہرحال استعمال کیا جائے گا، خواہ خاموشی کے ذریعے یا باسی اور بے معنی بیانات کے ذریعے۔
نسل کشی سے بچ جانے والے فلسطینیوں کا غم نہ قراردادوں سے ختم ہو گا، نہ قراردادوں کی عدم موجودگی سے۔ اجتماعی قبروں سے لے کر اجتماعی جنازوں تک، عالمی برادری کے بیانات ہوں یا اس کی خاموشی، دونوں ہی انسانیت کے جذبے سے یکسر خالی ہیں۔‘‘
[Middle East Monitor]
جون ۲۰۲۴ء میں وسطی نصیرت کیمپ ہیں موجود اقوام متحدہ کے ایک سکول کو صہیونی فوج نے نشانہ بنایا جس میں پناہ گزیوں کی کثیر تعداد رہ رہی تھی، تو دھماکوں کے بعد ملبے میں سے میزائیل کے ٹکرے برآمد ہوئے جن پر ’’میڈ ان انڈیا‘‘ لکھا ہوا تھا، تب ہی یہ بات سامنے آئی تھی کہ انڈیا اپنے ’’پھادر لینڈ‘‘ کے ساتھ کس طرح خاموشی سے فلسطینیوں کی نسل کشی میں حصہ دار بنا ہوا ہے اور ابھی پچھلے دنوں ہی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں تین سالہ جنگ کے دوران انڈیا کی جانب سے اسرائیل کو جو ہتھیار، گولہ بارود، راکٹ اور دھماکہ خیز مواد کی ترسیل کی گئی اس کی تفصیلات ہیں۔ اس رپورٹ کو افتخار گیلانی نے موضوع قلم بنایا ہے، ان کے کالم سے اقتباس ملاحظہ کریں:
غزہ جنگ : بھارت نے اسرائیل کی کیسے فوجی مدد کی | افتخار گیلانی
’’ حال ہی میں، اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس دعوے کہ ’امریکہ ہی اسرائیل کا واحد ناگزیر اتحادی ہے‘، پر یہ تبصرہ کیا کہ اسرائیل کے پاس بھارت کی شکل میں ایک طاقتور دوست موجود ہے۔ اس کا یہ تبصرہ کچھ غلط نہیں تھا۔ حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 42 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس پر مہر لگ گئی کہ کس طرح بین الاقوامی انسانی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، بھارت نے اسرائیل کی جنگی دفاعی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ ایمنسٹی نے کسٹم ریکارڈز، کارپوریٹ فائلنگز، جہاز رانی کے گوشواروں اور برآمدی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس پورے نیٹ ورک کی کڑیاں جوڑ کر ایک ایسا ڈیٹابیس تیار کر دیا ہے، جو بتاتا ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء سے 30 نومبر 2025ء کے درمیان بھارت سے اسلحہ کی دو ہزار پانچ سو چھیانوے (۲،۵۹۶) کھیپیں اسرائیل روانہ کی گئی تھیں۔ ان کھیپوں میں ہتھیار، گولہ بارود کے پرزے، بکتر بند گاڑیوں کے پرزے اور دیگر دفاعی سامان شامل تھے جو اسرائیلی مسلح افواج یا اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو فراہم کیے گئے۔ ایمنسٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ: ’غزہ میں اسرائیل کی عسکری مہم کے دوران، بھارت اسرائیلی مسلح افواج سے قریبی تعلق رکھنے والی اسرائیلی کمپنیوں کے لیے عسکری پرزہ جات، گولہ بارود کے اجزاء اور دفاعی سامان کا ایک اہم سپلائر بن کر ابھرا‘۔ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد جیسے ہی یورپی حکومتوں پر عسکری برآمدات معطل کرنے کے لیے داخلی سطح پر دباؤ بڑھا، بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ سیکٹر نے خاموشی سے اس خلا کو پر کر دیا۔ بھارت نے نہ صرف انفرادی عسکری مصنوعات برآمد کیں، بلکہ وہ اس صنعتی نظام میں ایک انتہائی اہم درجے کا سپلائر بن گیا جس نے اسرائیل کی دفاعی پیداوار کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔ ایمنسٹی نے بھارت سے بھیجے گئے تین لاکھ نوے ہزار پانچ سو سولہ (۳۹۰،۵۱۶) ملٹری گریڈ کے چھوٹے ہتھیاروں کے پرزہ جات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں خود کار ہتھیاروں، ٹرگر کے طریقہ کار، بیرل اور دیگر وہ تمام پرزے شامل ہیں جو خاص طور پر عسکری آتشیں اسلحے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ تحقیق کاروں نے پانچ لاکھ چونسٹھ ہزار نو سو ستر (564،970 )دھماکا خیز مواد اور اس کے اجزاء کی نشاندہی کی ہے، جن میں آرٹلری شیل کے خول، ڈرون کے وار ہیڈ کے پرزے اور گولہ بارود کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے دیگر حصے شامل ہیں۔
……حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس تحقیق پر بھارت، پاکستان و مغرب کے زیادہ تر روایتی میڈیا نے مکمل خاموشی اختیار کر لی۔ دنیا کے بڑے اور با اثر ترین خبر رساں اداروں نے اس پر کوئی مخصوص رپورٹ شائع نہیں کی۔ جہاں بی بی سی کی مرکزی انگریزی سروس نے اس رپورٹ کو نظر انداز کیا، ہندی سروس نے اس خبر کو بھارتی حکومت کے رد عمل کے زاویے سے پیش کیا۔ تقریباً تمام بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس کا رویہ بھی ایسا ہی رہا۔ انہوں نے رپورٹ کے مندرجات کو شائع کرنے کے بجائے وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بیان پر توجہ مرکوز کی، جس میں بتایا گیا کہ اسرائیل کو تمام اسلحے کی منتقلی قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھی۔ اسی طرح زیادہ تر مرکزی بھارتی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس اور قومی اخبارات نے بھی اس رپورٹ کو برائے نام اہمیت دی یا بالکل نظر انداز کر دیا۔ یہ تغافل اور خاموشی اس لیے بھی نمایاں ہے کیونکہ انہی مغربی اداروں نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم، انسانی المیے، یرغمالیوں کے مذاکرات، جنگ بندی کی سفارت کاری، اور خاص طور پر اسرائیل کو مغربی فوجی امدادکو کور کرنے کے لیے وسیع کوریج دی۔‘‘
[روزنامہ جسارت]
غربِ اردن میں صہیونی آبادکاروں کی شر انگیزیاں |
جیسا کہ شروع میں ذکر کیا کہ فلسطینی اپنی ہی زمین پر کہیں محفوظ نہیں، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جہاں غزہ کو صہیونیوں نے محاز جنگ بنا دیا وہیں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور غرب اردن (West Bank) کے فلسطینی علاقے، جو بظاہر انتظامی طور پر فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول آتے ہیں، صہیونی آبادکاروں کے ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ مسلح صہیونی آبادکاروں کو فوج کی سرپرستی میں فلسطینی زمینوں اور املاک پر قبضہ کرنے کی کھلی چھٹی ہے جس کی بدولت جتھوں کی شکل میں یہ فلسطینیوں کی زندگی اجیرن کرتے ہیں ،چونکہ وہاں بسنے والے زیادہ تر فلسطینیوں کا انحصار زمینوں، زیتون اور انجیر کے باغوں پر ہے جبکہ دیہاتوں میں بڑی تعداد مویشی چراتی ہے ۔
ان غیر قانونی آباد کاروں کی غنڈہ گردی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ فلسطینی آبادی کو پانی و بجلی سے محروم کرنا، ان سے ان کے مویشی چھین لینا، ان کی زمینوں اور مساجد کو جلا دینا اور گھروں پر قبضہ کرنا یا بغیر کسی وجہ کے بلڈوز کروا دینا ، فلسطینی نوجوانوں کی ماب لنچنگ کے واقعات تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔
ایک ہفتے سے زائد ہو گیا کہ ان قابض آباد کاروں نے نابلس کے جنوب میں واقع قصرہ نامی گاؤں میں چند گھروں کا گھیراؤ کر کے ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ ان کا پانی اور بجلی کاٹ دی ہے نہ تو کسی کو باہر آنے کی اجازت ہے نا ہی اندر جانے کی اجازت ۔ ان کے پاس نہ پانی ہے اور ضروریات زندگی بھی تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح ان گھروں میں امداد پہنچائی جائے لیکن مسلح آبادکار کسی کو بھی گھر کے نزدیک بھی نہیں جانے دے رہے۔ اس معاملے میں قابض صہیونی فوج نے انہیں کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ اپنی غنڈہ گردی جاری رکھیں۔ ایک گھر کے ریہائشی قصیٰ ابو ردا کہتے ہیں کہ وہ گھر سے نہیں نکلیں گے کیونکہ اگر وہ گھر سے نکل گئے تو آبادکار ان کے گھر پر قبضہ کر لیں گے جیسا کہ پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔
آبادکاروں کی دہشت گردی کا ایک اور اہم واقعہ جولائی کے آخر میں پیش آیا جب نابلس کے ہی ایک علاقے تِل میں ان غنڈوں کا ایک گروہ(۲۵ سے ۳۰) ہتھیاروں سے لیس داخل ہو گیا اور وہاں کے رہائشیوں کو ڈرانے دھمکانے لگا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ جواب میں دو فلسطینیوں نے ان سے ان کی گن چھین کر انہی پر فائرنگ شروع کر دی جس پر صہیونی فوج نے بھی فلسطینیوں کو نشانہ بنا کر چار فلسطینیوں کو شہید کر دیا جبکہ دو صہیونی جہنم واصل ہوئے۔ اس واقعے کے نتیجے میں اگلے ہی روز سے تِل گاؤں قابض صہیونیوں کے لیے ’’خصوصی توجہ‘‘ کا مرکز بن گیا کیونکہ اس کے نوجوانوں نے جرات کی تھی، مزاحمت کی تھی۔ شہید نوجوان فاروق رمضان کے گھر کو تباہ کر دیا گیا اور پورے گاؤں کی ناکہ بندی کردی۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑیں اور جواب میں ہم اف بھی نہ کریں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس سال کے پہلے چار ماہ میں تقریباً دو ہزار فلسطینی آباد کاروں کے حملوں کی وجہ سے بےگھر ہوئے ہیں۔ تِل کے واقعے پر کالم نگاروں کی آراء میں سے چند اقتباس ملاحظہ ہوں:
The meaning of Tell: Why the West Bank may be nearing a breaking point? | Dr Ramzy Baroud
’’صرف 2026ء ہی میں آباد کاروں کے حملوں، مسماریوں اور فلسطینی تعمیرات پر عائد اسرائیلی پابندیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ جولائی تک بے دخلی کی رفتار اوسطاً روزانہ 17 فلسطینیوں تک پہنچ گئی تھی، یعنی گزشتہ تین برسوں کے دوران ریکارڈ کی گئی یومیہ اوسط سے دو گنا۔ ظاہر ہے، یہ سب کچھ بے ترتیب تشدد کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اور دانستہ اختیار کیے گئے پالیسی کا حصہ ہے۔
……یوں فلسطینی ایک نہایت سفاک دوراہے پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر وہ مزاحمت نہ کریں تو فوج اور آبادکار آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ اور اگر وہ مزاحمت کریں تو اسرائیل ’’فلسطینی دہشت گردی‘‘ کا حوالہ دے کر انہی پالیسیوں کو مزید سخت کر دیتا ہے جنہوں نے ابتدا ہی میں مزاحمت کو جنم دیا تھا۔
تِل نے اس دوراہے کو بے نقاب تو کیا، لیکن اس کی حدود بھی واضح کر دیں۔ بلاشبہ اسرائیل گھر مسمار کر سکتا ہے، سڑکیں بند کر سکتا ہے اور پورے پورے خاندانوں کو گرفتار کر سکتا ہے۔ وہ پناہ گزین کیمپوں کو خالی کرا سکتا ہے، جیسا کہ اس نے جنین، طولکرم اور نور شمس میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ اس فریب کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے کہ طاقت کا بے دریغ استعمال فلسطینی عوام کو قابو میں لے آیا ہے۔
لیکن فوجی غلبہ حقیقی اقتدار نہیں ہوتا۔ نیتن یاہو اور اس کے انتہا پسند وزراء اب تک اس چیز سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں جسے نومی کلین نے ’’شاک ڈاکٹرائن‘‘ قرار دیا ہے: اجتماعی صدمے اور ذہنی انتشار سے فائدہ اٹھا کر ایسی سیاسی حقیقتیں مسلط کرنا جن پر بصورتِ دیگر کہیں زیادہ شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔
غزہ پر بے مثال ’’شاک اینڈ آ‘‘ کی یلغار کی گئی، جبکہ اسی تباہی کی آڑ میں مغربی کنارے کو تیزی سے بدل ڈالا گیا۔ لیکن صدمے کی بھی ایک محدود مدت ہوتی ہے۔ بالآخر خوف غصے کو راستہ دیتا ہے، اور غصہ اپنے اظہار کے لیے کسی اجتماعی سیاسی صورت کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔
فلسطینی تاریخ بارہا اس امر کی گواہی دے چکی ہے۔ دونوں انتفاضوں کا آغاز سیاسی جماعتوں یا انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حساب کتاب کے مطابق نہیں ہوا تھا۔ دونوں اس وقت پھوٹ پڑے جب جمع ہوتی ہوئی تذلیل، معاشی گلا گھونٹنے والی پابندیاں اور فوجی تشدد اس مقام تک پہنچ گئے جہاں عام فلسطینی موجودہ نظام کو مزید قبول کرنے پر آمادہ نہیں رہے۔
اگلی بغاوت، اگر کبھی برپا ہوئی، تو ممکن ہے اس کا آغاز بھی کسی ایسے واقعے سے ہو جو الگ سے دیکھا جائے تو معمولی دکھائی دے: کوئی گاؤں اپنا دفاع کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو، کوئی پناہ گزین کیمپ ایک اور فوجی یلغار کے سامنے جھکنے سے انکار کر دے، یا کوئی آبادی اپنی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والے آباد کاروں کے مقابل کھڑی ہو جائے۔‘‘
[Middle East Monitor]
Tell killings: Does the right of self-defence apply only to Jews? | Ahmad Tibi
’’پھر بھی ایک نہایت واضح سوال تقریباً کسی نے نہیں اٹھایا: آخر مسلح آبادکار ایک فلسطینی گاؤں میں موجود ہی کیوں تھے؟
یہ سوال اسرائیلی عوامی بیانیے میں راسخ ان مفروضوں میں سے ایک کو چیلنج کرتا ہے کہ یہودی آباد کاروں کو فلسطینی آبادیوں میں تقریباً بلا روک ٹوک آنے جانے کا حق حاصل ہے، جبکہ فلسطینیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہی گاؤں میں محفوظ زندگی گزارنے کے بنیادی ترین حق کا بھی جواز پیش کریں۔
تِل کے رہنے والے صبح اس ارادے سے بیدار نہیں ہوئے تھے کہ کسی سے تصادم کریں۔ وہ ایک ایسی حقیقت کے درمیان بیدار ہوئے جو اب مقبوضہ مغربی کنارے میں جڑ پکڑ چکی ہے اور جسے اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین بارہا دستاویزی شکل دے چکے ہیں: مسلح آبادکار گروہوں کا زرعی زمینوں، چراگاہوں اور بعض اوقات خود فلسطینی دیہات تک میں گھس آنا۔
لیکن جب بھی ایسا تشدد کسی المیے پر منتج ہوتا ہے، اس کا وسیع تر پس منظر نظروں سے اوجھل کر دیا جاتا ہے اور پوری کہانی کو ایک ہی لفظ میں سمیٹ دیا جاتا ہے: ’’دہشت گردی‘‘۔ لیکن دہشت گردی کوئی نسلی شناخت نہیں ہے۔
اگر مسلح شہری مسلسل دھمکانے اور خوف زدہ کرنے کے ذریعے کسی دوسری شہری آبادی میں دہشت پھیلائیں اور ان کا مقصد خاندانوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنا ہو، تو اسے کیا نام دیا جانا چاہیے؟ کیا اس کی تعریف صرف اس لیے بدل جائے گی کہ اس کے مرتکب یہودی ہیں؟
……یہودی آباد کاروں کو نقل و حرکت کی کہیں زیادہ آزادی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا زیادہ مضبوط تحفظ اور، اکثر اوقات، عملی طور پر مکمل استثنا حاصل ہے۔ دوسری طرف فلسطینیوں کو اکثر اس وقت بھی مشتبہ سمجھ لیا جاتا ہے جب حقائق ابھی پوری طرح سامنے بھی نہیں آئے ہوتے۔
یہودی بالا دستی کو اکثر محض ایک نعرہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ حکمرانی کا ایک ایسا نظام ہے جس میں قومی شناخت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کسی شخص کو کتنا تحفظ ملے گا، اسے کون سے حقوق حاصل ہوں گے، اور معاشرہ اس کے قصوروار یا بے قصور ہونے کے بارے میں کیا مفروضہ قائم کرے گا۔
آباد کاروں کا تشدد اب نسلی تطہیر کا ایک طریقۂ کار بن چکا ہے۔ خوف و ہراس کی یہ روزمرہ مہم اچھی طرح دستاویزی شکل میں موجود ہے: نجی زمینوں میں زبردستی داخل ہونا، چراگاہوں پر قبضہ کرنا، سڑکیں بند کرنا، زیتون کے درخت اکھاڑنا، گھروں اور کھیتوں کو نذرِ آتش کرنا، اور کسانوں اور چرواہوں پر حملے کرنا۔
مقصد یہ ہے کہ معمول کی زندگی اس حد تک ناممکن بنا دی جائے کہ فلسطینی اپنے گھر اور اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ جب لوگ اس نتیجے پر پہنچ کر اپنا گھر بار چھوڑ دیتے ہیں کہ کوئی مقتدر ادارہ ان کی حفاظت نہیں کرے گا، تو یہ جبری بے دخلی ہی ہوتی ہے۔
سرکاری زبان میں ان تمام کارروائیوں کو ایک بے ضرر سے لفظ میں چھپا دیا جاتا ہے: ’’جھڑپ‘‘۔ یہ اسرائیلی فوج کی اپنی وضع کردہ اصطلاح ہے، جو آبادکاروں کی چوکیوں کے گرد ہونے والے تشدد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مبصرین بھی ’’بڑھتی ہوئی جھڑپوں‘‘ کو ان عوامل میں شمار کرتے ہیں جو فلسطینیوں کو اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
اس کے نتائج اب ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023ء کے آغاز سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی 117 چرواہا اور بدوی برادریاں آباد کاروں کے حملوں اور ان سے متعلق پابندیوں کے باعث مکمل یا جزوی طور پر بے گھر ہو چکی ہیں، جبکہ تقریباً 6،000 افراد کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اسے وہی نام دیجیے جو حقیقتاً اس کا نام ہے: ایک شہری آبادی کو منظم طریقے سے اس کی اپنی زمین سے بے دخل کرنا۔
اب ان واقعات کو ’’چند انتہا پسندوں‘‘ کی کارروائی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب یہی طرزِ عمل پورے مغربی کنارے میں بار بار دہرایا جا رہا ہو، اور اسی دوران اعلیٰ سیاسی رہنما کھلے عام بستیوں کی توسیع، نئی آبادکار چوکیوں کے قیام اور اس سرزمین پر فلسطینی موجودگی کم کرنے کی وکالت کر رہے ہوں، تو اسے محض اتفاق قرار دینا اب قابلِ قبول وضاحت نہیں رہی۔‘‘
[Middle East Eye]
مکہ معاہدہ |
ہمارا آخری اور میڈیا میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے جو تینوں ملکوں کے سربراہان نے حرم شریف مکہ المکرمہ میں انجام دیا۔ اس منصوبہ کا پہلا اور اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ان تینوں ملکوں میں سے کسی بھی ملک پر حملہ باقی دونوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ جو کہ خصوصاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ ممالک آپس میں انٹیلی جنس، ملٹری اور دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے لیکن کسی بھی ملک امریکہ، نیٹو یا کسی دوسرے ملک سے تعلقات اس کی زد میں نہیں آئیں گے۔ جہاں اس معاہدے پر پاکستان کے “سرکاری” صحافیوں میں ایک جشن کا سا سما دیکھنے کو ملا وہیں اس معاہدے کے پس پردہ عزائم اور اس کی ٹائمنگ پر بہت سے تجزیہ نگاروں نے باریک بینی سے تنقید بھی کی۔ اس معاہدے پر تنقید اور اس کی عملی حیثیت پر کچھ کہنے سے پہلے ذرا تجزیہ کاروں کی آراء پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
مکہ معاہدہ: امید کی کرن، خطرے کی گھنٹی بھی|احمد حسن
’’ اگر یہ معاہدہ ایک وسیع مسلم اجتماعی دفاعی نظام بن جاتا ہے جس میں مختلف مسالک اور مختلف علاقائی مفادات رکھنے والے ممالک شامل ہوتے ہیں تو یہ مسلم دنیا میں اجتماعی سلامتی کی ایک نئی بنیاد بن سکتا ہے۔ معاہدے میں شامل تینوں ملکوں کے خطرات ایک جیسے نہیں ہیں، پاکستان کے لیے بنیادی سلامتی کے مسائل بھارت اور افغانستان سے وابستہ عسکری خطرات اور داخلی دہشت گردی ہیں۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خوشگوار ہیں پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ سعودی عرب اور ایران دونوں سے تعلقات برقرار رکھے جائیں۔
……بین الاقوامی سیاست میں صرف وہی اہم نہیں ہوتا جو معاہدے میں لکھا جاتا ہے، اتنا ہی اہم وہ بھی ہوتا ہے جو معاہدے میں نہیں لکھا جاتا۔ سعودی عرب اور ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کی دو اہم علاقائی طاقتوں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے مقابل رہے ہیں، اگرچہ دونوں نے سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں لیکن علاقائی اثر و رسوخ، خلیجی سلامتی، یمن، شام، عراق اور دوسرے معاملات پر دونوں کے درمیان بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوئے اس لیے بہت ضروری ہے کہ مکہ معاہدے میں ایران اور اس کے دوستوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر تہران اسے محض دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ اپنے خلاف بننے والے علاقائی عسکری محاذ کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے خطرناک سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا خدانخواستہ ریاستی تنازع فرقہ وارانہ تنازع بن جائے گا؟ یہ معمولی نہیں بہت بڑا خطرہ ہے، مشرق وسطیٰ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب سیاسی اور فوجی تنازعات کو مذہبی رنگ مل جاتا ہے تو تنازع صرف حکومتوں اور فوجوں کے درمیان نہیں رہتا وہ معاشروں، مذہبی گروہوں اور عام شہریوں تک پھیل جاتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلاف کو اگر عرب بمقابلہ فارس یا سنی بمقابلہ شیعہ بنا دیا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کو ایک اور جنگ یا سرد جنگ کی ضرورت نہیں، مسلم دنیا کو ایک ایسے دفاعی نظام کی ضرورت ہے جو بیرونی جارحیت کو روکے اسے اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف محاذ میں تبدیل نہ کرے۔
سعودی عرب کے لیے فوری علاقائی خطرہ ایران اور اس کے ساتھ وابستہ مسلح گروہ ہیں، حالیہ امریکہ ایران کشیدگی میں سعودی عرب کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، ابھی 9 اگست کو ہی یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ ترکیے کے لیے خطرات کا نقشہ بالکل مختلف ہے، شامی کرد تنظیمیں، دہشت گردی اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اس کے اہم سیکورٹی مسائل ہیں۔ ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ یہ تینوں ممالک ایران سے خطرے کے باعث اکٹھے ہوئے ہیں لیکن یہ نکتہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے اس اتحاد کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔‘‘
[روزنامہ جسارت]
The Mecca pact is not just another regional alliance | Khalid Al-Jaber
’’کوئی ریاست امریکہ سے دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیار خرید سکتی ہے، اپنی سرزمین پر امریکی اڈوں اور فوجیوں کی میزبانی کر سکتی ہے، واشنگٹن کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کر سکتی ہے، لیکن کسی بحران کے وقت اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ امریکی داخلی سیاست اور ایسے جغرافیائی و سیاسی مفادات سے طے ہوتا ہے جن کا اتحادی کی سلامتی سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔
خلیج کے دارالحکومت اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ شراکت داری، خواہ کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، تحفظ کی خودکار ضمانت نہیں۔ اس کے نتیجے میں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی بالکل واضح ہے: واشنگٹن کے ساتھ اتحاد برقرار رکھو، لیکن اس سے آگے بھی اپنے لیے راستے کھلے رکھو۔ یہ امریکی خیمے سے نکل کر چینی، روسی یا ترک خیمے میں جانے کی کوشش نہیں۔ یہ دراصل خیموں اور کیمپوں کی اس پوری منطق سے آگے نکلنے کی کوشش ہے۔ ساتھ ہی یہ اس خطے کی اس تیاری کی بھی عکاسی کرتی ہے جو مستقبل میں ممکنہ امریکی پسپائی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔
اس منظرنامے میں علاقائی سلامتی کا سب سے حساس پہلو طاقت کا توازن ہے۔ اگر امریکی کردار کمزور پڑتا ہے تو اصل خطرہ یہ ہے کہ اس کے چھوڑے ہوئے خلا کو کون پُر کرے گا۔
ایران نے کئی دہائیاں اپنی سرحدوں سے باہر علاقائی اثر و رسوخ قائم کرنے میں صرف کی ہیں اور آج بھی خلیجی اور عرب دارالحکومتوں کی جانب میزائل اور ڈرون داغتا ہے۔ اسرائیل نے اپنی ایسی فوجی اور انٹیلی جنس برتری ثابت کی ہے جس نے اسے پورے خطے میں اپنی طاقت استعمال کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ قبضے اور آبادکاری کی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور عرب ریاستوں کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی کرتا رہا ہے۔
امریکی اثر و رسوخ میں کمی خطے کو ایسے نظام کے اندر چھوڑ سکتی ہے جس کے اصول صرف دو طاقتیں طے کریں: اسرائیل اور ایران۔
مکہ معاہدے کو اسی تناظر میں ایک تیسرے مرکزِ طاقت کی تشکیل کی ابتدائی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، ایسا بلاک جسے کسی ایک طاقت کے خلاف جنگ لڑنے کی ضرورت نہ ہو، لیکن اس میں اتنی قوت ضرور ہو کہ خطے پر کسی ایک فریق کی اجارہ داری قائم نہ ہونے دے۔ مقصد فتح حاصل کرنا نہیں، بالادستی کا راستہ روکنا ہے۔
خلیج کے طاقت کے توازن میں ایران کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ترکی کے تہران کے ساتھ تعلقات میں تعاون بھی ہے اور مسابقت بھی۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے اور وہ کوئی مستقل محاذ کھولنے کا خواہاں نہیں ہو گا۔ چنانچہ اس اتحاد کا سب سے مفید کردار ڈیٹرنس (Deterrence) ہے: یعنی کسی رکن پر حملے کی صورت میں حملہ آور کے لیے اس کی قیمت بڑھا دینا۔
……مکہ معاہدہ ایک زیادہ خود مختار علاقائی سلامتی کے نظام کی تعمیر میں پہلا سنجیدہ بنیادی قدم بن سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ دفاعی بجٹ یا ارکان کی تعداد سے طے نہیں ہو گا۔ فیصلہ ایک ہی سوال کے جواب سے ہو گا: کیا اس کے دستخط کنندگان واقعی ایک دوسرے کے دفاع کی قیمت برداشت کرنے پر آمادہ ہیں؟
اگر جواب ہاں میں ہے، تو شاید خطہ بالآخر ایسا طاقت کا توازن قائم کرنا شروع کر دے جو مکمل طور پر سمندر پار سے آنے والی طاقت پر منحصر نہ ہو۔‘‘
[Aljazeera English]
Why the Makkah Pact is Not an ‘Islamic NATO’ | Rabia Akhtar
’’ابھرتی ہوئی دنیا پہلے سے مختلف ہے۔ درمیانی درجے کی طاقتیں (Middle Powers) اب تیزی سے ایسے سکیورٹی تعلقات چاہتی ہیں جن میں انہیں اپنی اسٹریٹیجک خودمختاری سے دستبردار نہ ہونا پڑے۔ وہ سرپرست نہیں، شراکت دار چاہتی ہیں، مکمل صف بندی کے بغیر باہمی عملی تعاون چاہتی ہیں، اور اپنی موجودہ شراکت داریوں کو ترک کیے بغیر سکیورٹی کے اضافی راستے کھلے رکھنا چاہتی ہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ کسی باقاعدہ بلاک کی تشکیل سے کم اور اسٹریٹیجک محاذوں کو متنوع بنانے کی کوشش زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب کو واشنگٹن سے تعلق توڑنے کی ضرورت نہیں۔ ترکی کو نیٹو چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کو چین، خلیجی ممالک، امریکہ یا دوسرے شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں کوئی بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت نہیں۔
……اور یہ تینوں ممالک خاص طور پر اس لیے اہم ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کا متبادل نہیں۔
سعودی عرب سرمایہ، توانائی کے شعبے میں غیر معمولی وزن، سیاسی اثر و رسوخ اور ایسی غیر معمولی اسٹریٹیجک جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے جو خلیج، بحیرۂ احمر اور وسیع تر عرب دنیا کو آپس میں جوڑتی ہے۔
ترکی مسلم دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ دفاعی صنعتی نظاموں میں سے ایک، نمایاں روایتی فوجی صلاحیت، نیٹو کے ساتھ باہمی عملی تعاون کی صلاحیت اور متعدد محاذوں پر عملی عسکری تجربہ رکھتا ہے۔
پاکستان ایک بڑی پیشہ ور فوج، دونوں ممالک کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون، شدید روایتی اور اسٹریٹیجک ڈیٹرنس (Strategic Deterrence) کے ماحول میں کام کرنے کا تجربہ، بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند تک رسائی اور، ناگزیر طور پر، جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہونے کی وجہ سے حاصل ہونے والا سیاسی وزن رکھتا ہے۔
……اس ڈھانچے کی سب سے دانش مندانہ صورت وہ ہو گی جو اپنے آپ کو دشمنوں کے گرد نہیں بلکہ مشترکہ مفادات اور علاقائی عوامی مفادات، مثلاً بحری جہاز رانی کی آزادی، اہم بنیادی ڈھانچے کا تحفظ، انسدادِ دہشت گردی، دفاعی صنعت کی مضبوطی اور بحرانوں کے مقابل اس کی لچک، میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاع، انٹیلی جنس تعاون اور بحرانوں سے نمٹنے، کے گرد منظم کرے۔ آخر کار یہی فرق طے کرے گا کہ مکہ معاہدہ خطے میں استحکام لاتا ہے یا محض اس میں تقسیم کی ایک اور لکیر کھینچ دیتا ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ مکہ اس عمل کے آغاز کے لیے اتنی اہم جگہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی علامت شاید یہ نہیں کہ تین مسلم ریاستیں وہاں اکٹھی ہوئیں۔ اصل اہمیت شاید اس بات میں ہے کہ تین بڑھتی ہوئی اہمیت کی حامل درمیانی طاقتوں نے مکہ کو اس اعلان کے لیے منتخب کیا کہ خطے کی ریاستیں خود اپنے گرد تشکیل پانے والے سکیورٹی نظام کی تشکیل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کے بیشتر عرصے میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سکیورٹی نظاموں پر زیادہ تر واشنگٹن، لندن، ماسکو یا، بڑھتے ہوئے طور پر، بیجنگ میں بحث ہوتی رہی ہے۔
شاید مکہ سے آنے والا گہرا پیغام محض اتنا ہے: جو ممالک اب تک سکیورٹی کے صارف رہے ہیں، وہ بتدریج اس کے فراہم کنندہ اور تشکیل کار بننا چاہتے ہیں۔
یہ ’اسلامی نیٹو‘ سے کہیں بڑی جغرافیائی سیاسی کہانی ہے۔‘‘
[The Wire]
یہ معاہدہ جس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ خطے کے باقی برادر اسلامی ممالک کے لیے کھلا ہوا ہے، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ ایران امریکہ جنگ کی قیمت پورا مشرق وسطی چکا رہا ہے اور امریکہ کے لیے اس خطے میں اسرائیل کے اور خود اس کے مفادات ہی ترجیح ہیں اور سعودی عرب جہاں مسلسل یہ کوشش کرتا نظر آ رہا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرے وہیں یمن سے حوثیوں کے ساتھ محاذ آرائی کا شکار ہے۔ ایک سال قبل بھی پاکستان سے دفاعی معاہدے کی مد میں ۸ ہزار پاکستانی فوجی سعودیہ میں تعینات ہو چکے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا سعودی عرب کے مطالبے پر پاکستان یا ترکیہ علی الاعلان حوثیوں کے خلاف کاروائی کرنے کے متحمل ہیں؟
پاکستان کی یہ صورتحال ہے کہ اندرونی طور پر پورا حکومتی سسٹم ونٹیلیٹر پر ہے ۔ عملاً ملک فوج اور ایجنسیوں کے ہاتھ میں ہے اور سیاستدانوں کی حیثیت کٹھ پتلیوں کی سی ہے ،جن کی ڈور فیلڈ مارشل کے ہاتھ ہیں ہے۔ مالی طور پر اس قدر برے حالات ہیں کہ متوسط طبقہ مفقود ہو گیا ہے اور غریب کو دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں ہے لیکن پھر بھی حکومت کے خلاف یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا، اور آئی ایس پی آر کے بقول ملک ’’ہارڈ سٹیٹ‘‘ بن گیا ہے۔ پختونخواہ اور بلوچستان کے حالات بھی قابو سے باہر ہیں ایسے میں پاکستان کے لیے اس معاہدے میں سب سے پر کشش سعودی سرمایہ اور ترکیہ کی ڈرون ٹیکنالوجی محسوس ہوتی ہے۔
ترکیہ بھی، جو کہ خود ایک نیٹو رکن ہے، خطے میں شاید کسی اہم رول کی تلاش میں اس معاہدے کا حصہ بنا۔ کیونکہ خطے کے تیزی سے تبدیل ہوتے منظر نامے میں ابھی بہت کچھ کھل کر آنا باقی ہے۔
کچھ تجزیہ نگار کہ رہے ہیں کہ یہ اتحاد اس لیے بنا کہ اب سعودی عرب اور دیگر خطے کے ممالک کا امریکہ کے اوپر سے اعتماد اٹھ گیا ہے کہ وہ ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا، جبکہ کچھ کا کہنا یہ ہے کہ یہ معاہدہ ہوا ہی امریکہ کی مرضی سے ہے۔ یہ دوسری رائے ہی زیادہ حقیقی نظر آتی ہے کیونکہ ان تینوں حکمرانوں میں یہ جرات ہی نہیں کہ امریکہ کے خلاف چوں بھی کر لیں کجا امریکہ کے خلاف متحد ہو جائیں۔
اگرچہ پورے مشرق وسطی میں طاقت کا توازن بہت تیزی سے ڈگمگا رہا ہے، نہ تو امریکہ نہ ہی ایران پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے، ادھر ٹرمپ کو مڈٹرم الیکشن کی فکر ہے کیونکہ نیتن یاہو نے اسے ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جو امریکہ کے لیے دلدل ثابت ہو رہی ہے، لیکن ان پورے حالات سے جو سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے وہ اسرائیل ہے، جو ایک ناسور کی طرح پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ غزہ پر سے قبضہ ختم کرنے سے انکار کر دیا، مغربی کنارے کی فلسطینی آبادی کو بھی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور لبنان و شام کے علاقوں میں بھی بیک وقت آگے بڑھ رہا ہے۔ اور اس کے ناپاک عزائم کو کامیاب کرنے کے لیے اسے خطے کے اہم ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس کی جڑیں نہ کاٹی گئیں تو بے قابو ہو کر ایک بہت بڑے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ لیکن افسوس صد افسوس اس مکہ معاہدہ میں نہ تو فلسطینیوں کا کوئی ذکر ہے نا غزہ کا اور نہ ہی مسجد اقصیٰ کی حفاظت کا کوئی عزم شامل ہے۔ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام پر بیٹھ کر بھی فلسطینیوں پر جاری ظلم، غزہ کی نسل کشی، لبنان اور شام میں مسلمانوں کی اراضی پر قبضہ اور سب سے بڑھ کر قبلہ اول مسجد اقصی کی پامال ہوتی حرمت پر ان کے معاہدے میں کیا ان کے منہ سے بھی اسرائیل کے خلاف دو بول نہ نکلے۔ ایسے میں یہ معاہدہ کورے کاغذوں کا ایک پلندہ ہے جو صرف ان حکمرانوں کے اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے بنایا گیا، لیکن وہ بھی زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گا۔ اس لیے امت مسلمہ کے لیے کسی بھی ایسے معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں جو اسرائیل اور اس امریکہ کی خطے میں جاری غنڈہ گردی پر کوئی مشترکہ آواز نہ اٹھائے۔
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
