نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

ہارڈ سٹیٹ بننے کا سفر

by اریب اطہر
in ستمبر و اکتوبر 2026ء, پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
0

گزشتہ سال بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر ہوئے ایک حملے کے بعد قومی سلامتی کا ایک اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا جس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اہم وفاقی وزرا اور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ بلوچستان اور کے پی کے کی قوم پرست جماعتوں سمیت تحریک انصاف کی جانب سے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا تھا ۔ اجلاس کے متعلق ایک اعلامیہ تو حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا تھا البتہ بعد ازاں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری آرمی چیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں بہتر گورننس کے ساتھ پاکستان کو ایک ہارڈ سٹیٹ بنانے کی ضرورت ہے، ہم کب تک سافٹ سٹیٹ کی طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے‘‘۔ اس وقت اس اصطلاح کا استعمال فوج کی روایتی بھڑک بازی اور نفسیاتی حربہ دکھائی دیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ فوج کی جانب سے ریاست کو عوام کے خلاف ہارڈ سٹیٹ بنانے کی جو نیت تھی اور جو روڈ میپ طے کیا گیا اس کا تعلق پاک امریکہ تعلقات اور فوج کو حاصل ہونے والے مالی فوائد سے ہے۔ ان میں جتنا اضافہ ہو گا ریاست عوام کے خلاف اتنا ہی ہارڈ سٹیٹ بنتی جائے گی۔

گزشتہ سال پاک بھارت چند روزہ جنگ کے دوران پاکستانی فضائیہ کی کارکردگی کو عالمی ذرائع ابلاغ میں کوریج ملی ( جس فضائیہ کو ڈھائی دہائیوں سے اپنے ہی علاقوں پر بمباری کی مسلسل تربیت ملتی رہی ہو اس فضائیہ کا مقابلہ بھلا بھارت کی فضائیہ کیسے کرے گی جسے صرف تربیتی کلاسز کا ہی تجربہ ہے؟ ) اسی کوریج کو بنیاد بنا کر پاکستانی میڈیا میں ایسے مضحکہ خیز دعوے بھی کیے گئے کہ اب پاکستان اپنے قرضے جنگی جہاز بیچ کر اتار دے گا۔ یہ خواب ادھورے ہی رہے۔ بالفرض اگر پاکستان غیر معمولی تعداد میں جہاز فروخت کرتا بھی تو اس کا کوئی مثبت اثر پاکستانی معیشت پر پڑنا نہیں تھا کیونکہ جنگی جہازوں کی فروخت کا منافع فوجی کمپنیوں کے پاس ہی رہنا تھا ۔ اس واردات کے متعلق ماہر معاشیات قیصر بنگالی تفصیل سے اپنے انٹرویوز میں بتا چکے ہیں کہ کس طرح ملکی وسائل کو یہ کمپنیاں استعمال کرتی ہیں، مراعات لیتی ہیں لیکن ان کمپنیوں کو حاصل ہونے والے منافع انہی کے پاس رہتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں دفاعی سودوں کا ڈھنڈورا تو پیٹا گیا لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے البتہ ملک کی داخلی سیاست میں اہم ایشوز سے توجہ ہٹانے اور ناقدین کو فوج کے حق میں کھڑا کرنے کے بھرپور مواقع میسر آئے ۔ اس جنگ سے قبل پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں اور علماء کی جانب سے دباؤ بھی فوج محسوس کر رہی تھی کہ فلسطین کے لیے کیوں کچھ نہیں کیا جاتا ؟ اس معاملے سے نہ صرف کامیابی سے توجہ ہٹائی گئی بلکہ اس کے بعد فلسطین کے حق میں ہونے والی پرامن ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں پر ریاستی طاقت کے استعمال کی بھی نوبت آئی۔ لیکن پاک بھارت جنگ سے پہلے اور بعد کے ہارڈ سٹیٹ لیول میں فرق کے سبب طاقت کے استعمال میں بھی فرق واضح نظر آتا ہے۔

ہارڈ سٹیٹ بلوچستان میں

جبری گمشدگیاں (Enforced Disappearances)

جولائی 2026ء میں ہیومین رائٹس کونسل آف بلوچستان کے مطابق 105 جبری گمشدگیوں کے کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں 97 مرد اور 8 خواتین شامل تھیں، خواتین میں ایک تین ماہ کی بچی، چار سالہ لڑکی اور 13 سالہ لڑکی بھی شامل تھیں جبکہ مردوں میں گیارہ نابالغ لڑکے بھی شامل تھے۔ ان میں سے صرف 47 افراد بازیاب ہوئے، جبکہ بیشتر اب بھی لا پتہ ہیں۔ فرنٹیئر کور (FC) سب سے زیادہ ماورائے عدالت گرفتاریوں کی ذمہ دار رہی، اس کے بعد CTD اور انٹیلی جنس ایجنسیاں۔ گھر پر چھاپے سب سے عام طریقہ تھے۔ زیادہ تر کیسز گوادر اور کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے۔ لاپتہ کیے جانے والے افراد کی اکثریت میں طلبہ کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ یہ سلسلہ اگست کے مہینے میں بھی جاری رہا۔ جبری گمشدگیوں کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جنوری تا جون 2026ء کے لیے Paank (بلوچ نیشنل موومنٹ کا انسانی حقوق کا شعبہ)کے مطابق مجموعی طور پر 556 جبری گمشدگیاں رپورٹ ہوئیں۔ جنوری تا جولائی میں خواتین کی گمشدگیوں کی تعداد HRCB کے مطابق کم از کم 23 بتائی گئی۔

ماورائے عدالت قتل (Extrajudicial Killings)

HRCB کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026ء میں 59 ماورائے عدالت قتل ریکارڈ کیے گیے جن میں 57 مرد اور 2 خواتین قتل ہوئیں۔ ان میں ۱۷ ٹارگٹ کلنگز ، ۱۵ کسٹوڈیل کلنگز ، ۶ جعلی مقابلوں میں قتل ، ۵ شیلنگ اور ڈرون اسٹرائکس کے ذریعے قتل شامل تھے۔ 12 افراد پہلے جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے تھے۔ ان واقعات میں ایف سی سر فہرست رہی۔ فوجی آپریشنز کے دوران گھروں کو جلانے اور مسماری کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔ جون میں کیچ کے ٹمپ علاقے میں FC نے متعدد گھروں کو جلایا اور مسمار کیا۔ جولائی میں گوادر کے جیوانی علاقے میں متعدد گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کیا گیا (بشمول لاپتہ افراد کے خاندانوں کے گھر)۔ رات کے چھاپوں میں لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچانے کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔

فوج کی جانب سے بلوچستان میں اپنے بیانیے اور پراپیگنڈے کو ہوا دینے کے لیے سوشل میڈیا پر عجیب و غریب گھٹیا مہم شروع کی گئی ۔ فاحشہ ماڈلز اور ٹک ٹاکرز کی بلوچی لباس میں کوئٹہ اور گوادر میں ویڈیوز بنا کر پھیلائی گئی کہ یہ بلوچ خواتین ہیں جو محبت وطن ہیں اور ریاستی بیانیے کو سپورٹ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تو بھر مار ہے جو بلوچ شناخت ظاہر کر کے مسلسل فوجی پراپیگنڈہ اور جھوٹ پھیلاتے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نہ صرف باغات کے مالکان کو باغات ختم کرنے کی دھمکیاں دی گئیں بلکہ بہت سی ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئیں کہ انہیں باغات میں کام سے روکا گیا۔ بہت سے علاقوں سے درختوں کی کٹائی بھی کی گئی۔ بلوچستان جہاں روزگار ویسے ہی ناپید ہے ایسے میں باغات ختم کرنے کی بات کرنا معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔ بلوچستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایرانی پٹرول اور ڈیزل دشوار گزار زمینی راستوں کے علاوہ سمندری راستے سے لانچوں سے لاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے کہ سکیورٹی فورسز کی کشتیاں ان کشتیوں پر بے دریغ فائرنگ کرتی ہیں۔ بلوچستان میں فوج اور اس کے خفیہ اداروں نے اپنے منظور نظر افراد اور گروہوں کو ہر قسم کے غیر قانونی کاموں اور جرائم کی تو چھوٹ دے رکھی ہے جبکہ عام افراد کے لیے کسی قسم کا روزگار یا کاروبار کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

ہارڈ سٹیٹ بمقابلہ غزہ کے حامی اور تحریک لبیک پاکستان

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے فوراً بعد 28 اور 29 اکتوبر 2023ء کو جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے باہر ’’غزہ مارچ‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد انتظامیہ نے سفارتی محاصرے کی اجازت نہیں دی اور مارچ سے ایک دن قبل (28 اکتوبر کو) کریک ڈاؤن کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ 9 اور 10 مئی 2024ء کو اسلام آباد کے ڈی چوک اور ایکسپریس وے پر ’’سیو غزہ‘‘ (Save Gaza) مہم کے تحت طلبہ اور سول سوسائٹی کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے شدید لاٹھی چارج کیا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا۔ 25 اکتوبر 2024ء کو سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور مسلم طلبہ محاذ کی قیادت میں مظاہرین نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی طرف جانے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو ریڈ زون کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کریک ڈاؤن کیا اور متعدد گرفتاریاں کیں۔ مئی 2025ء میں پاک بھارت جنگ کے بعد فوج کو مذہبی سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے خوب پذیرائی دی گئی اور عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی دیا گیا۔ اب فوج کے پاس ہارڈ سٹیٹ لیول کو اگلی سٹیج پر لے جانے کی سپیس دستیاب ہو گئی تھی۔ اکتوبر 2025ء میں تحریک لبیک پاکستان (TLP) نے غزہ کے فلسطینیوں سے یکجہتی اور امریکی سفارت خانے کے گھیراؤ کے لیے لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کا آغاز کیا۔ حکومت نے اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر مکمل سیل کر دیا تھا۔ جب یہ مارچ اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا تھا، تو پنجاب کے مختلف مقامات (خصوصاً مریدکے) پر پولیس نے ٹی ایل پی کی ریلی پر دھاوا بول دیا۔

یہ کوئی پولیس اور مظاہرین کی جھڑپ نہیں تھی۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سعد رضوی فورسز سے اپیل کر رہے ہیں کہ گولی نہ چلائیں۔ بعض لوگوں نے اس موقع پر اذان دینی شروع کی کہ شاید یہ قتل عام سے باز آ جائیں مگر فورسز تو مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ قتل عام کی نیت سے ہی آئی تھیں۔ بے دریغ قتل عام کیا گیا، کنٹینر زکو آگ لگائی گئی اور بعض رپورٹس کے مطابق لاشیں جلائی بھی گئی اور غائب بھی کی گئیں تاکہ اموات چھپائی جا سکیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں تحریک لبیک کے وکیل احسان اللہ عارف نے دعویٰ کیا کہ مریدکے آپریشن میں شہید ہونے والے تحریک لبیک کے حشمت اللہ کی میت اس کے گھر والے تدفین کے لیے لے جا رہے تھے، مقتول کے بہن بھائیوں کو گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا، لاش چھپا دی گئی۔ پولیس تشدد سے مقتول کی ایک بہن کا حمل ضائع ہو گیا، انہیں ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد دوسرے مقدمہ میں اٹھا لیا گیا۔

اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس لیے کیا گیا تاکہ وہ بیان دیں کہ حشمت اللہ کو سعد رضوی اور انس رضوی نے گولی ماری ۔ بات صرف غزہ کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی تک نہیں رہی بلکہ تحریک لبیک سے منسلک کارکنان و رہنماؤں کے خلاف گرفتاریوں کے لیے بدترین کریک ڈاؤن کیا گیا۔ ان کی مساجد و مدارس کا کنٹرول لیا گیا اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ 6 اگست کو روئٹرز (Reuters) نے ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا: ’’As Pakistan’s army chief turns on hardline Islamist groups, blasphemy cases plummet‘‘۔ اس میں تحریک لبیک پاکستان (TLP) سمیت سخت گیر اسلام پسند گروپس کے خلاف کریک ڈاؤن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی براہِ راست شمولیت کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں چار حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نگرانی میں ہوا۔ عاصم منیر کے اندرونی حلقے سے قریب ایک ذریعہ نے کہا کہ آرمی چیف اس معاملے پر کلیئر تھے کہ ’’یہ اسلام پسند گروپس اور ترقی پذیر پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘‘۔ عاصم منیر ذاتی طور پر ان بنیاد پسند گروپس کے خلاف zero tolerance کو یقینی بنانے میں شامل تھے تاکہ جوہری ہتھیاروں والے پاکستان کو مثبت امیج میں پیش کیا جا سکے۔ کریک ڈاؤن کی وجوہات میں پاکستان کا مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور معیشت کو مغرب سے زیادہ مربوط کرنے کا ارادہ شامل ہے، جبکہ عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات بنانے پر بھی فوکس کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں افغان حکومت سے تعلقات خراب ہونے کا بھی ذکر ہے۔

ہارڈ سٹیٹ آزاد جموں و کشمیر میں

آزاد جموں و کشمیر میں شروع ہونے والی تحریک بنیادی طور پر 2023ء میں میں بجلی کے بلند نرخوں، گندم؍ آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئی۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان احتجاجات کی قیادت کی۔ یہ تاجروں، وکلاء، طلبہ، سول سوسائٹی اور مقامی کارکنوں کا اتحاد ہے۔ 2024ء میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں، کئی جگہوں پر جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی شہری جاں بحق ہوئے۔ ستمبر، اکتوبر 2025ء میں 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ جاری کیا گیا اور علاقہ گیر شٹر ڈاؤن؍ پہیہ جام ہڑتال ہوئی۔ لیکن اب جون 2026ء سے موجودہ شدید مرحلہ شروع ہوا جو اب بھی جاری ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سابقہ مذاکرات اس نیت سے کیے گئے تھے کہ آپریشن کے لیے انٹیلی جینس کا ہوم ورک مکمل کیا اور دوسرے شہروں سے فورسز کی تعیناتی کے انتظامات کیے جائیں۔ JAAC کو کالعدم قرار دیا گیا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج، لانگ مارچ اور جھڑپیں ہوئیں۔ اس آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے جو طریقہ اختیار کیے رکھا ہے وہ ایسے لگتا ہے جیسے یہ آزاد کشمیر نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر یا غزہ ہے اور مقابلے میں بھارتی اور اسرائیلی فورسز۔ سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوز وائرل ہیں جس میں فورسز کو چھتوں پر سے مظاہرین کو سنائپر سے نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حتی کہ زخمی افراد کو ریسکیو کرنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ہسپتال فوج کے کنٹرول میں تھے ۔ لاشیں غائب کی جاتی رہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد ملنے یا دینے سے روکا گیا ۔ مختلف علاقوں کے ایسے محاصرے کیے گئے کہ وہاں کسی قسم کی کوئی کھانے پینے کی شے یا دوائیاں لے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کے علاوہ بھی ظلم و بربریت کی درجنوں کہانیاں مختلف ذرائع سے موصول ہو رہی ہیں۔ یہ سب ہارڈ سٹیٹ ایک ایسی جگہ پر کر رہی ہے جسے وہ اپنی شہہ رگ مانتی ہے۔

ہارڈ سٹیٹ اور ملک میں بڑھتی جرائم کی شرح

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہارڈ سٹیٹ کا تعلق ملک کی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال سے ہے تو پھر ایسا کیوں ہے کہ ملک بھر میں جرائم کی شرح میں اتنا اضافہ شاید پاکستان کی پوری تاریخ میں نہ ہوا ہو گا۔ بچوں سے اور خواتین سے زیادتی کے واقعات ہوں، یا چوری ڈکیتی ، بھتہ خوری اغوا اور منشیات کا پھیلاؤ اور دیگر کئی جرائم ۔ اور یہ جرائم بھلا کنٹرول بھی کیسے ہوں گے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران ، اہلکار خود بہت سی جگہوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ پاکستان اپنی آمدن کا ایک کثیر حصہ سکیورٹی اداروں پر خرچ کر رہا ہے اور یہی ادارے ہر قسم کے جرائم کے پھیلاؤ میں بھی ملوث ہیں۔ ذرا اس کا موازنہ امارت اسلامیہ افغانستان سے کیجیے کہ وہاں محدود وسائل کے ساتھ جرائم پر کیسے قابو پا لیا گیا ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کے حکمران اس نظام پر غور و فکر کرتے ، اس سے سیکھنے کی کوشش کرتے کہ جس کام کو وہ 80 سالوں میں نہ کر سکے وہ جنگ سے تباہ حال ملک نے محدود وسائل میں کر دکھایا ہے۔ مگر ان کی عقلوں پر تو جیسے پردہ پڑ گیا ہو اور دل سیاہ ہو گئے ہوں کہ الٹا سازشوں پر اتر آئے ہیں اور اپنی جان فقط اس لا حاصل جدوجہد میں کھپا رہے ہیں کہ پاکستان کی اسلام پسند عوام کو افغانستان میں نافذ شرعی فلاحی نظام سے متنفر کیا جا سکے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَھُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ ڏ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ۝ (سورۃ البقرۃ: ۱۰)

’’ان کے دلوں میں بیماری ہے چنانچہ اللہ نے ان کے روگ میں اور اضافہ کردیا ہے اور ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے، کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے ۔‘‘

مفتی شفیع ﷫ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’مرض اور بیماری اس کیفیت کو کہتے ہیں جس سے انسان اپنے اعتدال مناسب سے نکل جائے اور اس کے افعال میں خلل پیدا ہوجائے جس کا آخری نتیجہ ہلاکت اور موت ہوتا ہے۔ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ان نفسانی کیفیات کو بھی مرض کہا جاتا ہے جو نفس انسانی کے کمال میں خلل انداز ہوں اور جن کی وجہ سے انسان اپنے انسانی اعمال سے محروم ہوتا چلا جائے جس کا آخری نتیجہ روحانی موت و ہلاکت ہے۔ حضرت جنید بغدادی نے فرمایا کہ دلوں کے امراض خواہشات نفسانی کے اتباع سے پیدا ہوتے ہیں جیسے بدنِ انسان کے امراض اخلاط انسان کی بے اعتدالی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے دلوں میں مخفی کفر کو مرض فرمایا گیا ہے جو روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے بڑا مرض ہے روحانی مرض ہونا تو ظاہر ہے کہ اوّل تو اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کی ناشکری اور اس کے احکام سے سرکشی جس کا نام کفر ہے یہ خود روح انسانی کے لئے سب سے بڑا مرض اور شرافت انسانی کے لئے بدترین داغ ہے، دوسرے دنیا کی اغراض کی خاطر اس کو چھپاتے رہنا اور اپنی دل کی بات کو ظاہر کرنے کی بھی جرأت نہ ہونا یہ دوسری دنایت ہے جو روح کا بہت بڑا مرض ہے۔ اور نفاق کا جسمانی مرض ہونا اس بنا پر ہے کہ منافق کے دل میں ہمیشہ یہ دغدغہ رہتا ہے کہ کہیں میرا اصلی حال نہ کھل جائے۔ شب و روز اس کی فکر میں رہنا خود ایک جسمانی مرض ہے اس کے علاوہ اس مرض کا لازمی نتیجہ حسد ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کو دیکھ کر منافق کو جلن ہو گی مگر وہ مسکین اپنے دل کی سوزش کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔ یہ اسباب ان کے جسمانی مرض بھی بن جاتے ہیں، اور یہ جو فرمایا کہ الله تعالیٰ نے ان کا مرض اور بھی بڑھا دیا اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی سے جلتے ہیں اور الله تعالیٰ کو یہ ترقی دینا ہے اور ہر وقت اس کے مشاہدات ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان کا یہ مرض بڑھتا ہی رہتا ہے۔

آیات مذکورہ میں منافقین کے عذاب الیم کی وجہ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ یعنی ان کے جھوٹ بولنے کو قرار دیا ہے حالانکہ ان کے کفر و نفاق کا جرم سب سے بڑا تھا اور دوسرے جرائم مسلمانوں سے حسد اور ان کے خلاف سازشیں بھی بڑے جرائم تھے مگر عذاب الیم کا سبب ان کا جھوٹ بولنے کو قرار دیا اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ جھوٹ بولنے کی عادت ان کا اصلی جرم تھا اسی بری عادت نے ان کو کفر و نفاق تک پہنچا دیا تھا اس لئے جرم کی حیثیت اگرچہ کفر و نفاق کی بڑھی ہوئی ہے مگر ان سب خرابیوں کی جڑ اور بنیاد جھوٹ بولنا ہے اسی لئے قرآن کریم نے جھوٹ بولنے کو بت پرستی کے ساتھ جوڑ کر اس طرح ارشاد فرمایا ہے :

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ؀ (سورۃ الحج: ۳۰)

’’بچو بت پرستی کی نجاست سے اور بچو جھوٹ بولنے سے۔‘‘1معارف القران

مکہ ڈیفینس الائنس کے مالی ثمرات اور ہارڈ سٹیٹ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کو باضابطہ طور پر ’’مکہ ڈیفنس الائنس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ترکیہ کے شہر استنبول میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (معاہدۂ مکہ) کے تحت قائم ’’اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی‘‘ کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں تینوں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان شریک ہوئے۔ ترک وزیرخارجہ ہاکان فیدان نے استنبول میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے بعد اس نئے اتحاد کے نام اور دیگر تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ’’ مکہ ڈیفنس الائنس‘‘ کا سیکریٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا گیا ہے جب کہ اس اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل پاکستان سے ہو گا۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے استنبول میں افتتاحی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے تحت تینوں ممالک (پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ) مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی صنعت میں تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کی تنظیم کا پہلا سربراہ پاکستان ہو گا، معاہدے کا سیکرٹریٹ سیکرٹری جنرل کی سربراہی میں سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، ابتدائی طور پر سیکرٹریٹ کی سربراہی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری جنرل کریں گے، ان کا عہدہ 3 سال کے لیے ہو گا۔ مکہ معاہدے کے تحت تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ ایران جنگ اور طے پانے والے ’’مکہ ڈیفنس الائنس‘‘ کی روشنی میں اپنے ہتھیار برآمد کرنے اور مقامی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے واہ کینٹ (POF) میں اسلحہ سازی کے دو نئے پیداواری پلانٹ (یونٹس) قائم کر رہی ہے۔ یہ پلانٹس رواں سال (2026ء) کے آخر تک اپنی پروڈکشن شروع کر دیں گے۔ صحافی معید پیر زادہ نے اپنے ایک پروگرام میں انکشاف کیا کہ پاکستان کے آرمی چیف نے مکہ معاہدے کے تحت آفر کی ہے کہ پاکستان کی طرف سے ایک لیفٹیننٹ جنرل 2 سے 3 میجر جنرل اور 7 بریگیڈیر لیول کے افسران دیے جا سکتے ہیں اور 200 سینئر افسران پاکستان اس الائنس کو دے سکتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کا خیال ہے پاکستان 50 ہزار جنگی فوج بھی اس الائنس کو دے سکتا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ الائنس دراصل وہی کام کرے گا جس پر پہلے سینٹ کام ایران کے حوالے سے عمل درآمد کر رہا تھا ۔ اب سینٹ کام بہت سے مسائل اور لاگت کی پریشانی کے سبب یہ کام اس الائنس سے لے گا۔

پاکستان کے ہارڈ سٹیٹ بننے کا سفر اب تک جو طے ہوا اس میں بھارت سے چند روزہ جنگ کے نتیجے میں ملنے والی سیاسی بالادستی اور ممکنہ مالی فوائد کی امیدیں شامل تھیں ۔ لیکن اب جب مکہ ڈیفنس الائنس ان مالی فوائد کا حصول فوجی اشرافیہ کے لیے ممکن بنا چکا ہے، تو سوال بہرحال موجود ہے کہ یہ معاشی فوائد انہیں مزید ہارڈ سٹیٹ بننے پر اُکسائیں گے ؟ کیا عوام میں اب مزید سکت بھی ہے کہ وہ موجودہ حالات سے بھی زیادہ ریاستی سختیاں برداشت کر سکیں ؟

ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ اس ڈیفنس الائنس کو امریکی حمایت حاصل ہے ۔ کیا اس معاہدے کے تحت مزید فیصلے یہ تین ممالک ہی اپنے ملکی مفادات کو دیکھتے ہوئے کریں گے یا اصل اہمیت امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو حاصل ہو گی؟ اب تک جرنیلوں کی ساری کیلکولیشن اور دلچسپیاں اس معاہدے کے تحت مالی فوائد سمیٹنے تک محدود ہے۔ کیا اس بات کی گارنٹی موجود ہے کہ یہ تنازع اور جنگ منافع کی بجائے کسی بڑے نقصان سے دوچار نہیں کرے گی؟ اور اگر ایسا ہوا تو کیا وہ نقصان حکومت پاکستان عوام ہی سے بذریعہ ٹیکس پورا کرے گی ؟

٭٭٭٭٭

  • 1
    معارف القران ↩︎
Previous Post

خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے!

Next Post

عدالت نہیں، اکھنڈ بھارت کا دربار ہے!

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | ستمبر 2026

8 اکتوبر 2026
نوائے امارت اسلامیہ (اگست ۲۰۲۶ء)
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

نوائے امارت اسلامیہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)

8 اکتوبر 2026
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن
نقطۂ نظر

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن

8 اکتوبر 2026
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

8 اکتوبر 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | سترہویں قسط

8 اکتوبر 2026
ہوئے تم دوست جس کے……
عالمی منظر نامہ

ہوئے تم دوست جس کے……

8 اکتوبر 2026
Next Post
عدالت نہیں، اکھنڈ بھارت کا دربار ہے!

عدالت نہیں، اکھنڈ بھارت کا دربار ہے!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

ستمبر و اکتوبر 2026ء
ستمبر و اکتوبر 2026ء

ستمبر و اکتوبر 2026ء

by ادارہ
8 اکتوبر 2026

Read more

تازہ مطبوعات

تر ټولو وړاندې امریکا!
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

تر ټولو وړاندې امریکا!

مرکزی خیال: شهید شیخ احسن عزیز لیکوال: معین الدِّین شَامی ژباړن: عماد الدین خالد   ډاونلوډ کړی    

اکتوبر, 2026
یہ غزہ ہے
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

یہ غزہ ہے

تالیف: فضیلۃ الشیخ محمد صلاح الدین زیدان (سیف العدل)   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
د شام د جهاد درسونه
مطبوعات حطین

د شام د جهاد درسونه

د فضيلة الشیخ ایمن الظواهري بیان «فَلْنُقَاتِلْھُمْ بُنْیَانًا مَّرْصُوْصًا» له سریزې او حاشیو سره له سریزې او حاشیو سره   ...

ستمبر, 2026
گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملوں سے متعلق شبہات اور سازشی نظریات کا رد مصنف: نعمان حجازی   ڈاؤن لوڈ کریں ...

ستمبر, 2026
سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version