نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | گیارہویں قسط

اسلامی بائیکاٹ جدید جنگ کے تناظر میں: اسلام کے خلاف جاری عالمی صہیونی جنگ کے تناظر میں اسلامی مقاطعہ کو سمجھنا، نافذ کرنا اور اس کی طرف دعوت دینا

by محمد ابراہیم لڈوک
in ستمبر و اکتوبر 2026ء, فکر و منہج
0

محمد ابراہیم لَڈوِک (زید مجدہ) ایک نو مسلم عالمِ دین ہیں جنہوں نے عالَمِ عرب کی کئی جامعات میں علم دین حاصل کیا۔ موصوف نے کفر کے نظام اور اس کی چالوں کو خود اسی کفری معاشرے اور نظام میں رہتے ہوئے دیکھا اور اسے باطل جانا، ثم ایمان سے مشرف ہوئے اور علمِ دین حاصل کیا اور حق کو علی وجہ البصیرۃ جانا، سمجھا اور قبول کیا، پھر اسی حق کے داعی بن گئے اور عالَمِ کفر سے نبرد آزما مجاہدین کے حامی اور بھرپور دفاع کرنے والے بھی بن گئے (نحسبہ کذلك واللہ حسیبہ ولا نزکي علی اللہ أحدا)۔ انہی کے الفاظ میں: ’میرا نام محمد ابراہیم لَڈوِک ہے ( پیدائشی طور پر الیگزانڈر نیکولئی لڈوک)۔ میں امریکہ میں پیدا ہوا اور میں نے علومِ تاریخ، تنقیدی ادب، علمِ تہذیب، تقابلِ ادیان، فلسفۂ سیاست، فلسفۂ بعد از نو آبادیاتی نظام، اقتصادیات، اور سیاسی اقتصادیات امریکہ اور جرمنی میں پڑھے۔ یہ علوم پڑھنے کے دوران میں نے ان اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر تحقیق کی جو دنیا کو متاثر کیے ہوئے ہیں اور اسی دوران اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ایک سیاسی اور اقتصادی نظام ہے جو حقیقتاً اور بہترین انداز سے ان مسائل کا حل لیے ہوئے ہے اور یوں میں رمضان ۱۴۳۳ ھ میں مسلمان ہو گیا‘، اللہ پاک ہمیں اور ہمارے بھائی محمد ابراہیم لڈوک کو استقامت علی الحق عطا فرمائے، آمین۔جدید سرمایہ دارانہ نظام، سیکولر ازم، جمہوریت، اقامتِ دین و خلافت کی اہمیت و فرضیت اور دیگر موضوعات پر آپ کی تحریرات لائقِ استفادہ ہیں۔ مجلہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ شیخ محمد ابراہیم لَڈوِک (حفظہ اللہ) کی انگریزی تالیف ’Islamic Boycotts in the Context of Modern War ‘ کا اردو ترجمہ پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)


شبہات (۲)

1. بائیکاٹ مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا

بہت سے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ مغربی کاروباروں کا بائیکاٹ مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا۔ ان مباحث میں عموماً ان مسلمانوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو مغربی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں یا مغربی فرنچائز شاخوں کے مالک ہیں۔ بعض لوگ یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر مسلم ممالک کو مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اس مؤقف کی تائید میں ایک مضمون عربی زبان کے ذرائع ابلاغ میں لبنانی اخبار النهار نے شائع کیا۔ اس میں دلیل دی گئی کہ مغربی کمپنیاں مسلم ممالک کی معیشتوں میں بہت بڑا حصہ ڈالتی ہیں اور ان کمپنیوں کا بائیکاٹ ان ممالک کو مغرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان پہنچائے گا۔ تحقیق کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ یہ مضمون اصل میں ایک یہودی اور صہیونی قابض فوج کے سابق فوجی افسر نے لکھا تھا، جبکہ اسے عربی میں ایک عرب عیسائی نے ترجمہ کیا تھا۔

ایک بار پھر اس اصول پر غور کریں:

درء المفسدة مقدم على جلب المصلحة

’’نقصان کو دور کرنا، فائدہ حاصل کرنے پر مقدم ہے۔‘‘

مسلمانوں اور کفار کے درمیان معاشی تعلقات  ایسے انداز میں تشکیل پاتے رہے ہیں جو بنیادی طور پر نقصان دہ ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، مسلمانوں اور کفار کے درمیان تجارت اب شرعی اصولوں کے مطابق نہیں رہی، جن میں ایسی اشیاء اور مواد فراہم کرنے کی ممانعت بھی شامل ہے جو کفار کی جنگی کوششوں میں معاون ہوں، نیز ایسی ذلت آمیز انحصاری کیفیت میں داخل ہونا بھی شامل ہے۔ اس صورتِ حال کے نقصان کو دور کرنا اس فائدے کے حصول پر مقدم ہے جو ہمیں اس سے حاصل ہو سکتا ہے۔

جو مسلمان جو منحصر ہیں اور اپنی روزی ایسے معاشی نیٹ ورکس سے حاصل کرتے ہیں جو یہودیوں اور عیسائیوں کے کنٹرول میں ہیں، ان کے لیے بدلنا مشکل ہو گا۔ اسی طرح، جیل سے نکلنے میں بھی اکثر نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، خواہ وہ مہنگی قانونی فیس ادا کرنے کی صورت میں ہو، تاوان دینے کی صورت میں، یا فرار کے دوران جسمانی نقصان کا خطرہ مول لینے کی صورت میں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک مسلمان اس نقصان سے بچنے کے لیے جیل ہی میں رہ جائے۔ یہ نقصانات دراصل قید کے اس سے کہیں بڑے نقصان کو دور کرنے کے عمل کا حصہ ہیں۔

روزی کمانا فائدہ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، لیکن ایک قابض قوت کا مسلمانوں کی جان، عزت اور دین پر حملہ کرنا نہایت سنگین نقصان ہے۔ تصور کریں کہ کسی شخص کے گھر پر ڈاکو حملہ کر دیں، اس کے خاندان پر حملہ آور ہوں، اور وہ اس دوران یہ کہتے ہوئے کام پر چلا جائے کہ اسے اپنے خاندان کا خرچ چلانا ہے۔ ظاہر ہے کہ حملے کے نقصان کو دور کرنا اپنے خاندان کے لیے روزی فراہم کرنے کے فائدے کے حصول پر مقدم ہو گا۔

جہاد ترک کرنا ایک بہت بڑی آفت ہے، اور نبی ﷺ نے ہمیں اس سے خبردار کیا ہے۔

عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ وَتَرَکْتُمْ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّی تَرْجِعُوا إِلَی دِينِکُمْ 1سنن ابو داؤد

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

’’جب تم عِینہ2سود کی ایک صورت جس میں کسی چیز کو ادھار پر اس شرط پر بیچا جاتا ہے کہ اسے بعد میں کم قیمت پر دوبارہ خرید لیا جائے کی بیع کرنے لگو، بیلوں کی دمیں پکڑ لو، کھیتی باڑی پر خوش ہو جاؤ، اور جہاد چھوڑ دو تو اللہ تم پر ذلت مسلط کر دے گا اور اسے اس وقت تک دور نہیں کرے گا جب تک تم اپنے اصل دین کی طرف واپس نہ آ جاؤ۔‘‘

جہاد میں  لازماً خطرے اور نقصان ہوتے ہیں، اور معاشی جنگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ایسے حالات ہو سکتے ہیں جہاں بائیکاٹ کے نقصانات اس کے فوائد سے بڑھ جائیں۔ ہر جنگ کی طرح، بعض معرکے جیتے جاتے ہیں اور بعض ہارے جاتے ہیں۔ معاشی جنگ کے لیے بھی، جنگ کے کسی بھی دوسرے پہلو کی طرح، انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر مسلسل تجزیے اور حکمتِ عملی میں رد و بدل کی ضرورت ہوتی ہے۔ معرکوں میں حملے اور جوابی حملے ہوتے ہیں۔ ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ دشمن کو نقصان پہنچائیں گے اور خود اس کی جوابی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

نبوت کے مکی دور میں قریش کے قبائل نے بنو ہاشم کے خلاف بائیکاٹ کیا تاکہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی حفاظت سے دست بردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ بائیکاٹ کے دوران مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں شدید بھوک اور غربت بھی شامل تھی۔ رسول اللہ ﷺ صرف علانیہ توحید کی دعوت دینا بند کرنے پر رضامند ہو کر اس مشکل سے با آسانی نکل سکتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ محض اس وجہ سے کسی واجب کام کو ترک کرنا لازماً درست نہیں کہ اس کے نتیجے میں کچھ مشقت پیش آتی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ؁ (سورۃ البقرۃ: ۱۵۵)

’’ اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو ۔ ‘‘

جو لوگ نقصانات سے خوف زدہ ہوتے ہیں، وہ اکثر یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ دوسرے راستوں سے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے۔

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي الدَّهْمَاءِ قَالَا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقُلْنَا هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا بَدَّلَكَ اللَّهُ بِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْهُ3مسند احمد

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم اللہ تعالیٰ کی خاطر جو بھی چیز چھوڑو گے، اللہ اسے تمہارے لیے اس سے بہتر چیز سے ضرور بدل دے گا۔‘‘

مثال کے طور پر، اگر مسلم ممالک میں کاروباری مالکان مغربی فرنچائزز کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیں تو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کارکن اپنی ملازمتیں بھی کھو دیں، کیونکہ کاروبار محض اپنا برانڈ تبدیل کر سکتے ہیں۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ نے روس پر پابندیاں عائد کر دیں۔ مکڈانلڈ کی روسی فرنچائز کے مالک نے اپنے ریسٹورنٹس  کا برانڈ  تبدیل کر کے انہیں “Vkusno i Tochka” کے نام سے چلانا شروع کر دیا، جس کا ترجمہ ’’مزے دار، بس‘‘ بنتا ہے۔ کارکن اپنی ملازمتوں پر برقرار رہے اور مالک اب بھی منافع کما رہا ہے۔

اگر کسی مسلم ملک میں ریسٹورنٹس کی کوئی چین مغربی  چین کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دے تو اسے فلسطینی کاز سے ہمدردی رکھنے والے مسلمانوں کی جانب سے یقیناً بڑی مقدار میں حمایت حاصل ہو گی۔ عمان میں فلسطینی کاز سے ہمدردی رکھنے والے بعض عمانی کاروباری افراد نے پیشکش کی کہ بائیکاٹ کے تحت مغربی کمپنی میں ملازمت چھوڑنے والے ہر شخص کو وہ ملازمت دیں گے۔ چنانچہ مغربی کمپنیوں میں کام کرنے والے یا ان میں سرمایہ کاری کرنے والے مسلمانوں کو اگر کچھ مالی نقصان بھی اٹھانا پڑے تو مسلمانوں کی ملکیت والی دوسری کمپنیاں زیادہ کمانا شروع کر دیں گی۔ اس کے نتیجے میں مزید ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی اور کارکنوں کو کفار کے بجائے مسلمانوں کے لیے کام کرنے کی طرف منتقل ہونے کا موقع ملے گا، جو فقہائے اسلام کے نقطۂ نظر سے ایک مطلوبہ نتیجہ ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا۔

2. مغربی کمپنیوں سے کفار کی جنگی کوششوں کو جانے والی رقم بہت معمولی ہے

بائیکاٹ کے خلاف ایک اور عام دلیل، خصوصاً مسلم اکثریتی ممالک میں، یہ ہے کہ بائیکاٹ کیے جانے والے بہت سے کاروبار دراصل مسلمانوں کی ملکیت والی فرنچائزز ہیں اور ان میں کام کرنے والے ملازمین بھی مسلمان ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ چونکہ یہ فرنچائزز مقامی ملکیت میں ہیں، اس لیے ان کے زیادہ تر منافع مسلم ممالک ہی میں رہتے ہیں اور کفار کی جنگی کوششوں کی معاونت نہیں کرتے، یا اگر کرتے بھی ہیں تو بہت معمولی پیمانے پر کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں مکڈانلڈز کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں۔

سعودی فاسٹ فوڈ سیکٹر کی سالانہ آمدنی کا تخمینہ ۸ارب ۶۶ کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس میں میکڈانلڈ کا مارکیٹ شیئر  28.8 فیصد ہے۔ اس طرح  میکڈالنڈ کی آمدنی کا تخمینہ ۲ ارب ۴۹ کروڑ ڈالر بنتا ہے۔

میکڈانلڈ کو ادا کی جانے والی  فرنچائز فیس کا محتاط تخمینہ کل کمائی کا تقریباً 5 فیصد ہے۔ امریکہ میں میکڈانلڈ کی فرنچائز میں یہی شرح ہوتی ہے جبکہ سعودی عرب میں  غالباً اس سے زیادہ ہے، لیکن 5 فیصد پھر بھی ایک مناسب شرح کا تخمینہ ہے۔ ۲ ارب انچاس کروڑ کا پانچ فیصد ۱۲ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر بنتا ہے۔

اس رقم کا دو تہائی حصہ میکڈانلڈ کے ملازمین کی تنخواہوں، کاروبار میں ترقی، مارکیٹنگ وغیرہ جیسے  اخراجات میں جائے گا۔ غالباً اس کا بیشتر حصہ  ملازمین پر آنے والے  اخراجات پر خرچ ہو گا، جن پر امریکہ میں اوسطاً 24.8 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد ہو گا۔

باقی ایک تہائی کمپنی کا منافع ہے، جس پر تقریباً 20 فیصد ٹیکس عائد ہو گا، اور یہ دولت مند سرمایہ داروں کو جائے گا، جو غالباً تقریباً 20 فیصد سرمائے کا ٹیکس بھی ادا کریں گے۔

لہٰذا  میکڈانلڈ کے منافع پر امریکی حکومت کو ادا کیے جانے والے ٹیکس کا کم ترین تخمینہ تقریباً 20 فیصد ہو گا۔ تو بارہ کروڑ چالیس لاکھ کا بیس فیصد  دو کروڑ اڑتالیس لاکھ بنتا ہے۔

امریکی ٹیکس محصولات  کا تقریباً 16 فیصد براہِ راست فوج کو جاتا ہے، لیکن اس میں دیگر فوجی اخراجات شامل نہیں ہیں، مثلاً ویٹرنز کے فنڈز اور ماضی کے فوجی اخراجات سے پیدا ہونے والے قرض پر سود، جس میں صہیونی قابضین کے ’’آئرن ڈوم‘‘ نظام کی خرید اور دیکھ بھال جیسی چیزیں بھی شامل ہیں۔ اگر ان اخراجات کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ شرح تقریباً 47 فیصد بنتی ہے۔ اس طرح دو کروڑ اڑتالیس لاکھ ڈالر  کا ۴۷ فیصد ایک کروڑ ۱۶ لاکھ پچاس ہزار ڈالر بنتا ہے۔

طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد جنگ کے پہلے مہینے میں دس ہزار فلسطینی ہلاک اور چوبیس ہزار خمی ہوئے۔ اس حساب سے تقریباً 350 افراد روزانہ ہلاک اور 850 زخمی ہوئے۔ ان میں تقریباً 40 فیصد بچے تھے، یعنی 140 بچے ہلاک اور 340 زخمی ہوئے۔

اس عرصے کے دوران اسرائیل کے لیے جنگ کی روزانہ لاگت تقریباً 246 ملین ڈالر تھی، لہٰذا امریکی فوجی اخراجات کے لیے جانے والے ایک کروڑ ۱۶ لاکھ پچاس ہزار ڈالر، جن میں غزہ میں استعمال ہونے والے بموں کی خریداری بھی شامل ہے، صہیونی جنگی کوششوں کے تقریباً 67 منٹ کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔

67 منٹ ایک دن کا تقریباً 4.6 فیصد بنتے ہیں، جو 16 فلسطینیوں (جن میں 6 بچے شامل ہیں) کے ہلاک ہونے اور 39 کے زخمی ہونے (جن میں 16 بچے شامل ہیں) کے برابر ہے۔  صرف سعودی عرب میں موجود میکڈانلڈ کی فرنچائز کی ایک سال کے دوران فلسطین میں جنگ کے لیے تقریباً اتنی ہی مالی معاونت ہے۔

ان ممالک میں کام کرنے والی فرنچائزز اپنی ساکھ کے مسئلے سے واقف ہیں، اس لیے ان میں سے بعض نے بائیکاٹ کی زد میں آنے سے بچنے کی کوشش میں غزہ کے لیے عطیات بھی دیے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں میکڈانلڈ نے تقریباً پانچ لاکھ ڈالر عطیہ کیے۔ یہ اس تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بہت کم ہے جو وہ ہر سال امریکی حکومت کی جیب میں ڈالتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ امداد عالمی اداروں کے ذریعے پہنچائی جائے گی، جس کا مطلب ہے کہ اس کی پوری رقم بہرحال فلسطینیوں تک نہیں پہنچے گی۔ مزید برآں، امداد پہنچانے والے امدادی کارکنوں کی تنخواہوں پر بھی غالباً دشمن حکومتیں ٹیکس عائد کریں گی۔

یہ صرف ایک مسلم اکثریتی ملک میں صرف ایک  کمپنی کی کمائی کا اس جنگ میں حصہ ہے۔ درجنوں ممالک میں ایسی سینکڑوں  کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور کروڑوں مسلمان ان سے خریداری کر رہے ہیں۔ بیشتر صورتوں میں، ان کمپنیوں سے مسلمان جو مصنوعات خرید رہے ہیں، دیگر ذرائع سے ان مصنوعات کا متبادل با آسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔

3. اگر ہم اتنی چیزوں کا بائیکاٹ کریں گے تو قرونِ وسطیٰ میں واپس چلے جائیں گے

بائیکاٹ کے خلاف ایک اور عام دلیل یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں معیارِ زندگی میں کمی آئے گی، خصوصاً اس لیے کہ مغربی ٹیکنالوجی تک رسائی ختم ہو جائے گی۔ اس کا تعلق اس تصور سے ہے کہ مغربی  ٹیکنالوجی زندگی بہتر بناتی ہے۔  یہ ایک غلط فہمی ہے جو مغرب کی جانب سے مسلم سرزمینوں کے معاشی استعمار میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

سب سے پہلے یہ سوال کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ مقصد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ؀ (سورۃ الذاریات: ۵۶)

’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘

کیا اللہ عزوجل کی درست عبادت کے لیے مغرب کے ساتھ اعلیٰ درجے کا معاشی تعاون ضروری ہے؟ کیا اللہ عزوجل کی عبادت کے لیے مغربی ٹیکنالوجی ضروری ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ کیا یہ ٹیکنالوجی ہماری عبادت میں کسی طرح ہماری مدد کرتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج لوگ عموماً ماضی کے لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کام کرتے ہیں، اور اس کام کا بڑا حصہ غیر ضروری آسائشوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ جدید طرزِ زندگی میں ہمارے لیے عبادت کا وقت کم بچتا ہے۔ تاریخی محققین کا کہنا ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے یورپی کسانوں کے پاس جدید کارکنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فارغ وقت ہوتا تھا، اور جدید دور سے پہلے کے یورپ میں رہنے کے حالات مسلم سرزمینوں کے مقابلے میں زیادہ خراب تھے۔ اس زمانے میں مسلمان معاشی طور پر غالب تھے، جبکہ یورپ نسبتاً غریب تھا۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ آج یہ ٹیکنالوجی ضروری ہو چکی ہے۔ بہت سے معاملات میں جو چیز بظاہر ضروری نظر آتی ہے، وہ دراصل صرف اس لیے ضروری ہوئی ہے کہ ابتدا ہی میں کفار کی نقالی کی گئی۔ مثال کے طور پر بہت سے لوگوں کے لیے کام پر جانے کے لیے  گاڑی رکھنا ضروری ہے، لیکن گاڑی کے ضروری بن جانے کی وجہ دراصل شہر کی منصوبہ بندی کے وہ طریقے ہیں جو لوگوں کو گاڑی خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ شہر کی منصوبہ بندی کے یہ طریقے ابتدا میں امریکہ میں تیل کی کمپنیوں کے دباؤ کے تحت تیار کیے گئے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گاڑیاں خریدنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ جمہوریت میں یہ کام آسان ہے، کیونکہ جس کے پاس پیسہ ہو وہ قانون کو اپنے مفاد میں توڑ مروڑ سکتا ہے۔ وہ مسلمان جنہوں نے امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی، اپنے ممالک واپس آئے اور اب انہی اصولوں کے مطابق شہر تعمیر کرتے ہیں۔

اس معاشی تعاون اور ٹیکنالوجی کے کچھ بظاہر فوائد ضرور ہیں، مثلاً جہاد کے لیے عسکری ٹیکنالوجی کا استعمال اور بیمار یا زخمی مسلمانوں کے علاج کے لیے طبی ٹیکنالوجی کا استعمال، لیکن لوگ شاذ ہی اس ٹیکنالوجی کے نقصانات پر غور کرتے ہیں۔ عسکری ٹیکنالوجی خود مغرب کی جانب سے مسلم ممالک میں مستقل انحصار کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے کمتر ورژن  ہی فروخت کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے ہتھیار خریدنے والے مسلم ممالک کبھی روایتی جنگی تنازع میں مغرب کو چیلنج نہ کر سکیں۔

طب کے معاملے میں بھی یہی صورت ہے۔ مغربی طبی طریقے مہنگی ٹیکنالوجی اور ایسی تعلیم پر منحصر ہیں جن پر مغرب کا کنٹرول ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی اور ادویات بعض مسلمانوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن اس تجارت سے کفار جو منافع حاصل کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے قتلِ عام اور کفر کے نظریات پھیلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بہت سے معاملات میں اس ٹیکنالوجی کے مؤثر ہونے کو مغربی مادہ پرست سائنس کے محدود نقطۂ نظر کی وجہ سے بھی بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

یہاں تک کہ اگر ہم اس حقیقت کو بھی ایک طرف رکھ دیں کہ جدید مغربی طرزِ زندگی زندگی کے حقیقی مقصد کے لیے نقصان دہ ہے، تب بھی اس نے ہماری مادی زندگی کے معیار کو حقیقتاً بہتر نہیں کیا۔ مغربی  ٹیکنالوجی زندگی کی مقدار بڑھاتی ہے، معیار نہیں، خوراک زیادہ ہے، لیکن اس کا ذائقہ اتنا اچھا نہیں، اور لوگ زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں، لیکن اتنی بھرپور زندگی نہیں گزارتے۔ زیادہ خوراک یا زیادہ عمر لوگوں کے لیے فائدہ مند نہیں، کیونکہ ان کی زندگی کا بہت زیادہ حصہ اس پیداواری ماڈل کو برقرار رکھنے کے لیے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ اور زہریلے اثرات سے بھرا ہوا ہے۔

مغرب کی دولت مند اشرافیہ اب اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ اس ’’ترقی‘‘ سے فرار حاصل کر کے دوبارہ ماضی کی طرف لوٹنے کی کوشش میں خرچ کر رہی ہے۔ وہ روایتی طریقوں سے اگائی گئی، مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے بغیر پیدا کی گئی خوراک کے لیے بھاری قیمتیں ادا کرتے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں کا سفر کرنے کے لیے بڑی رقوم خرچ کرتے ہیں، جہاں وہ جدید شہروں کے شور، ماحولیاتی آلودگی، ذہنی دباؤ اور تابکاری کے اثرات سے بچ سکیں۔ وہ اپنی زندگی سے تمام مادی مشکلات ختم کر دینے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساسِ  خلاء کو پُر کرنے کے لیے  سکائی ڈائیونگ اور موٹر سائیکل ریس جیسے سخت کھیل اختیار کرتے ہیں۔

مغربی تعلیم کا ایک بڑا مقصد مسلمانوں میں دنیا سے متعلق ایسی فکر پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے وہ یہ سمجھنے لگیں کہ جدید طرزِ زندگی نے انسانی حالت کو بہتر بنا دیا ہے۔ یہ عقیدہ مغرب کی جانب سے مسلم سرزمینوں پر جدید استعماری غلبے کی بنیادی اینٹ ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں سے لڑنے کی خواہش چھین لیتا ہے۔ جب آپ یہ سمجھتے ہوں کہ آپ کے دشمن کا آپ پر غلبہ آپ کے لیے فائدہ مند ہے تو آپ اس سے کیسے لڑ سکتے ہیں؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں تمام ٹیکنالوجی ترک کر دینی چاہیے۔ تاہم کم از کم ہمیں اس کے نقصانات سے زیادہ باخبر ہونا چاہیے اور اس پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر وہ چیز جو بظاہر نقصان نظر آتی ہے، حقیقتاً نقصان نہیں ہوتی۔ ماضی کی ٹیکنالوجی میں انتہائی ترقی یافتہ تہذیبیں اپنے ہی فساد کے بوجھ تلے تباہ ہو چکی ہیں، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی کتاب میں ہمیں ان طاقتور تہذیبوں کے انجام کی یاد دہانی کراتا ہے:

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْهَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَجَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۭ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۝ (سورۃ الروم: ۹)

’’ کیا یہ لوگ میں چلے پھرے نہیں ہیں، تاکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور انھوں نے زمین کو بھی جوتا تھا، اور جتنا ان لوگوں نے اسے آباد کیا ہے، اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا، اور ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، چنانچہ اللہ تو ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ ‘‘

دنیا بھر میں ایسی شاندار عمارتیں اور یادگاریں موجود ہیں جو ان تہذیبوں نے کھنڈرات کی صورت میں پیچھے چھوڑی ہیں جو اب باقی نہیں رہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی دائمی نہیں ہوتی بلکہ تاریخ کے ادوار کے ساتھ عروج و زوال سے گزرتی ہے۔ مغربی تہذیب پہلے ہی زوال کی بہت سی علامات ظاہر کر رہی ہے، اور بہت سے علماء کا خیال ہے کہ احادیث میں بیان کردہ آخری زمانے کی کیفیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کا غلبہ برقرار نہیں رہے گا۔

نبوی احادیث اور تاریخ کے منطقی تجزیے، دونوں کی بنیاد پر موجودہ ٹیکنالوجی کے غلبے  کا زوال تقریباً یقینی طور پر ناگزیر ہے۔ ایسی صورت میں بعض جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہونے کے خوف کی وجہ سے اپنے فرائض ادا کرنے سے انکار کرنا محض تقدیر کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔

جدید مغربی ٹیکنالوجی، خصوصاً جب ہم اس کی تاریخی جڑوں اور طویل مدتی نتائج کو دیکھتے ہیں، مجموعی طور پر قطعی طور پر ایک نقصان ہے۔ اس کے بعض شواہد میں درج ذیل عوامل شامل ہیں:

 ماحولیاتی آلودگی

بہت سی بیماریاں، خصوصاً کینسر، autoimmune diseases اور hormonal disorders، جدید ٹیکنالوجی کی تیاری میں استعمال ہونے والے پراسیس کے نتیجے  میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ  پراسیس اس  قدرتی نظام کو بھی تباہ کر دیتے ہیں جو ہمیں صاف ہوا، پانی اور خوراک فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ آلودگی جانوروں کے لیے بھی شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے، اور نبوی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک جنت میں داخلے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ جانوروں پر ظلم جہنم میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔

سماجی مسائل

جدید ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی عدم مساوات درکار ہے، انتہائی کم آمدنی والی مزدور آبادیاں  زیادہ تخصص اور زیادہ آمدنی والی پیداوار کو خام مال اور لیبر فراہم کرتی ہیں۔ ان معاشی تفاوتوں کو زیادہ آمدنی والے خطوں کے سرحدی کنٹرول کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سرحدوں پر بڑھتی ہوئی اموات کے ذریعے برقرار رکھا جاتا ہے۔

 صحت کے مسائل

جدید کم جسمانی سرگرمی والی طرزِ زندگی نام نہاد ’’دولت مندوں کی بیماریوں‘‘ کی ایک بڑی تعداد کا باعث بنتے ہیں۔ ان بیماریوں میں ذیابیطس، امراضِ قلب ، موٹاپا، امراضِ تنفس،  ہائپر ٹینشن، نشہ، ڈپریشن، الرجیز، خون کی نالیوں کا مرض،  گاؤٹ،  اور کینسر شامل ہیں۔ یہ تمام بیماریوں  کی شرح زیادہ ٹیکنالوجی والے ممالک میں کہیں زیادہ ہے۔

اخلاقی مسائل

مغربی ٹیکنالوجی کی پیش رفت کا انحصار بڑی حد تک سود پر تھا۔ یہ کہنا انتہائی پریشان کن ہے کہ یہ ٹیکنالوجی فائدہ مند ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ دعویٰ کرنا ہے کہ کسی ایسی چیز سے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حرام قرار دی ہے، کوئی اچھی اور فائدہ مند چیز پیدا ہوئی، اور یہ ناممکن ہے۔ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سود کے بغیر پیدا کی جا سکتی ہے، اسے اس کے ثبوت پیش کرنے چاہییں، کیونکہ اب تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔

انحصار کے مسائل

اگرچہ بہت سی جدید ٹیکنالوجیز پیداوار میں اضافے کو ممکن بناتی ہیں، لیکن وہ انتہائی انحصار کا باعث بھی بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر اینٹی بائیوٹکس اور بطی ٹیکنالوجی ایسے لوگوں کی تعداد بڑھاتی ہیں جو جدید ادویات کے بغیر زندہ رہنے کے قابل نہیں رہتے۔ جینیاتی طور پرتبدیل کی گئی فیصلیں صنعتوں پر منحصر ذراعت  پر انحصار بڑھاتی ہے، جنہیں مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے ساتھ اگایا جاتا ہے۔ جاسوسی و نگرانی کا جدید نظام اور عسکری ٹیکنالوجی پر انحصار انتہائی ناانصافی کی مستقل کیفیت کو برقرار رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم اگر ان ٹیکنالوجیز کی دستیابی میں اچانک کمی واقع ہو جائے (اور ایسا ناگزیر معلوم ہوتا ہے) تو اس کا نتیجہ قحط، وباؤں اور تنازعات میں زبردست اضافے کی صورت میں نکلے گا۔

اس ’’ترقی‘‘ کے حصول نے وسیع پیمانے پر ماحولیاتی تباہی اور مسلسل زیادہ شدید جنگوں کو جنم دیا ہے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کی اجارہ داری پیدا کرنے کے لیے درکار معاشی نظام کو انتہائی عدم مساوات درکار ہے۔ چنانچہ حقیقت میں وہ اللہ کی تخلیق کو بہتر بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے زمین میں فساد برپا کر رہے ہیں۔

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَ رْضِ  ۙ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْن۝ (سورۃ البقرۃ: ۱۱)

’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں!‘‘

مغربی ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا موجودہ راستہ بالکل بھی پائیدار نہیں ہے۔ کوئی ایسا قابلِ یقین ماڈل موجود نہیں جو یہ یقینی طور پر دکھا سکے کہ ان کا نظام طویل مدت تک کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ جیسے جیسے وسائل کے حصول کے لیے مقابلہ شدت اختیار کرے گا، بڑھتی ہوئی لاگت سپلائی چین پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈالے گی، جس کے نتیجے میں بالآخر یہ نظام ناکام ہو جائے گا۔ گزشتہ سو سال کی پیش رفت دنیا کی منڈیوں تک پھیلتی ہوئی رسائی پر قائم رہی ہے، لیکن اب توسیع کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے، جبکہ لبرل معاشیات اور ٹیکنالوجی ماڈل کے حریف مغربی طاقتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور زیادہ بااعتماد ہوتے جا رہے ہیں۔ اس نوعیت کی مسلسل توسیع ناممکن ہے۔

اس نظام کو برقرار رکھنے کی ان کی واحد امید خلا تک توسیع کرنا ہے، لیکن خلا کے سفر میں بہت بڑی مقدار میں وسائل صرف ہو رہے ہیں اور سرمائے کے مقابلے میں بہت کم نتیجہ حاصل ہو رہا ہے۔ ایلون مسک اور جیف بیزوس جیسے خلائی سفر میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد اس تحقیق کی مالی اعانت کے لیے بہت بڑی دولت جمع کر کے عدم مساوات کو بڑھا رہے ہیں۔ اس بے ثمر مہم میں پیسہ جھونکنے سے عدم مساوات میں شدت آتی ہے، جو جنگ اور سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے نظام کے ذریعے وسائل کے استعمال کو تیز کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عدم مساوات مزید بڑھتی ہے اور مزید عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، یوں ایک گھن چکر قائم ہو جاتا ہے۔ مغربی معاشی نظام، کفار کے تمام دیگر مظاہر کی طرح، ایک بند گلی ہے جس کا آخری نتیجہ جہنم ہے۔

اگر ہم کفار کے طرزِ زندگی کے نقصانات کو پوری طرح سمجھ لیں تو ہم اس سے محروم ہونے کے امکان سے خوف زدہ نہیں ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جدید  ٹیکنالوجیز کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے فائدے کی اہمیت سے انکار کیا جائے، اگرچہ مجموعی طور پر ان کا نقصان ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔ تاہم بہت سی ٹیکنالوجیز کفار سے چھین کر غنیمت کے طور پر حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس طرح ہم حرام دشمنانہ معاشی نیٹ ورکس میں شرکت کے نقصان کے بغیر ٹیکنالوجی کے بہت سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ کفار کو مضبوط کرنے کے بجائےآلات اور تکنیکی ماہرین پر قبضہ کرنا دراصل انہیں کمزور کرتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ آلات کو زیادہ مؤثر انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر کے موجودہ مقدار سے کہیں کم چیزیں خریدی جائیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص ایک فون، لیپ ٹاپ یا گاڑی کا مالک ہو جو زیادہ تر وقت بے کار پڑے رہیں۔

تجربے نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ وہ معاشرے جن میں مغربی ٹیکنالوجی کم شامل ہوئی ہے، دراصل مغربی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے اور جنگی قوتیں میدان میں اتارنے کے زیادہ امکان رکھتے ہیں اور اس کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مؤثر اسلامی مزاحمتیں افغانستان، صومالیہ، نائجیریا، مالی اور یمن میں مرکوز رہی ہیں، اور یہ تمام ممالک اقوامِ متحدہ کے ’’ڈویلپمنٹ انڈیکس‘‘ میں سب سے نچلے درجے پر آنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقوامِ متحدہ کا ’’ڈیویلپمنٹ‘‘ کا تصور ایسی چیز نہیں جس کے حصول کے لیے کوشش کی جائے۔

ٹیکنالوجی، دولت کی ہر دوسری شکل کی طرح، ایک آزمائش ہے۔ کیا ہم اس پر صبر کریں گے جو اللہ نے ہمارے لیے مقدر کیا ہے، یا معاشی ترقی کے حصول کی کوشش میں حرام کا ارتکاب کریں گے؟ کیا ہم صہیونی غلبے والے معاشی نظام میں انضمام کے ساتھ آنے والی آسائشوں اور لذتوں سے چمٹے رہیں گے، یا محصور اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی میں ایمان اور حوصلے کے ساتھ محاصرے اور پابندیوں کا سامنا کریں گے؟

ٹیکنالوجی میں پیش رفت، دنیا کی ہر دوسری چیز کی طرح، ایسی چیز نہیں جس سے چمٹا جائے، خصوصاً جب اس کے لیے اللہ کے احکامات کو ترک کرنا پڑے۔

4. آپ فلاں چیز استعمال کرتے ہیں، پھر بائیکاٹ کا کیا فائدہ؟

کچھ مسلمانوں نے ایک کاروباری شخص کو پیپسی بیچنا بند کرنے کا مشورہ دیا۔ وہ کاروباری شخص پھر ایک شیخ کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ کچھ نوجوان، جو بظاہر نیک اور سنت پر عمل کرنے والے تھے، اس سے پیپسی بیچنا بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عالم نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ نوجوان گاڑی میں آئے تھے؟ کاروباری شخص نے جواب دیا کہ ہاں، وہ فورڈ گاڑی میں آئے تھے۔ اس پر عالم نے کہا کہ پیپسی بیچنا بند کرنے کا کہنے سے پہلے انہیں اپنی  گاڑی جلا دینی چاہیے۔

بائیکاٹ کے مخالفین اکثر ایسی ہی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ ان کی منطق یہ ہے کہ فون اور لیپ ٹاپس ایسے ممالک میں تیار ہوتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، لہٰذا مغربی برانڈز سے خریداری بند کرنے کی دعوت دینا، جبکہ ان چیزوں کا استعمال جاری رکھنا، دوہرا معیار ہے۔

یہاں پہلا مسئلہ ضروری اور غیر ضروری اشیاء میں فرق نہ کرنا ہے۔ ہم سب غیر ضروری اشیا کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں، کیونکہ انہیں با آسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ  پیپسی نہیں پیتے تو آپ مر نہیں جائیں گے۔ حقیقت میں پانی پینا زیادہ صحت مند بھی ہے اور اس سے پیسے بھی بچتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ کاروباری شخص جو امریکی کمپنیوں کے بجائے مسلم ملکیت والی کمپنیوں کی تیار کردہ کولا فروخت کرنا شروع کر دے، اسے بھی امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے والے مسلمانوں کی طرف سے بہت سے نئے گاہک مل سکتے ہیں۔

کیا چیز ضروری ہے، یہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں مختلف ہو سکتا ہے۔ بعض جگہوں پر مخصوص ملازمتیں کرنے کے لیے گاڑی رکھنا ضروری ہے۔ دوسری جگہوں پر گاڑی کے بغیر آسانی سے زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ کچھ اشیا ترک کرنے سے خاصی مشقت پیش آئے گی، جبکہ کچھ دوسری اشیا ترک کرنے سے ایسی کوئی مشقت نہیں ہوگی۔

بائیکاٹ ’’سب یا کچھ نہیں‘‘ یا صرف سیاہ و سفید معاملہ نہیں ہے۔ امت کی معاشی خود مختاری کی حمایت کے لیے جو کچھ ہم کر سکتے ہیں، وہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے،  یہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم اپنے آپ کو اس سے زیادہ بوجھ تلے ڈال دیں جتنا ہم برداشت کر سکتے ہیں۔ کفار کی تیار کردہ گاڑیوں پر کم انحصار ایک قابلِ قدر طویل مدتی ہدف ہے، لیکن اسے مرحلہ وار حاصل کیا جا سکتا ہے، اسے ایک ہی وقت میں مکمل کرنا ضروری نہیں۔

یہ حکمتِ عملی فقہ کے ایک اصول میں مجسم ہے:

ما لا يدرك كله لا يترك كله

’’جو چیز مکمل طور پر حاصل نہ کی جا سکے، اسے مکمل طور پر ترک بھی نہیں کیا جاتا۔‘‘

ہر اس چیز کا مکمل بائیکاٹ کرنا ناممکن ہے جس کا بائیکاٹ ہونا چاہیے، لیکن اس سمت میں کوشش کا حقیقی اثر ہو سکتا ہے۔ یہ کہنا بے معنی ہے کہ کسی فائدے کو صرف اس وجہ سے چھوڑ دیا جائے کہ ہم ایک ہی رات میں اپنے دشمنوں سے انحصار ختم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

فورڈ گاڑی چلانے والے اور پیپسی بیچنے والے، دونوں کو جارح ممالک اور کمپنیوں کے لیے اپنا تعاون ختم کرنے کی نیت کرنی چاہیے۔ پیپسی بیچنے والے کو ایسی متبادل مصنوعات کی تجارت کے راستے تلاش کرنے چاہییں جن سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچے، اور امریکی گاڑی چلانے والوں کو ایسے راستے تلاش کرنے چاہییں جن سے یا تو گاڑی پر عمومی انحصار کم ہو یا دوسری کمپنیوں کی تلاش کی جائے۔ جیسا کہ گزشتہ نکات میں بیان کیا گیا، امریکہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک سے گاڑی خریدنے سے کچھ معمولی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ مشکل حل بھی موجود ہیں جو بڑے فوائد حاصل کر سکتے ہیں، مثلاً گاڑی کو بطورِ غنیمت قبضے میں لینا یا گاڑیوں پر مجموعی انحصار کم کرنا۔

اگر آپ کسی کو بائیکاٹ کا مشورہ دیں اور وہ جواب دے: ’’لیکن آپ فون لیپ ٹاپ اور گاڑی وغیرہ استعمال کرتے ہیں، آپ اس کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے؟‘‘ تو جواب یہ ہے: ’’آپ درست کہتے ہیں، مجھے اس چیز کو بنانے والی کمپنی کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور میں ان شاء اللہ اس سمت میں کوشش کروں گا۔ فی الحال آئیے، اپنے آپ پر غیر معمولی مشقت ڈالے بغیر جتنا ممکن ہو، اتنا بائیکاٹ کرتے ہیں‘‘۔

5. بائیکاٹ انتہا پسندی ہے

بائیکاٹ کی دعوت دینے والے متعدد مسلمانوں پر انتہا پسندی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چونکہ کفار پر مکمل معاشی انحصار معمول بن چکا ہے، اس انحصار سے دور ہونے کی کوشش ایک عجیب چیز دکھائی دیتی ہے۔ یہ نبی ﷺ کی اس حدیث کی یاد دلاتا ہے:

بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا فَطُوبَی لِلْغُرَبَائِ4سنن ابن ماجہ

’’اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا تھا اور پھر اجنبی ہو جائے گا، پس اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے معیارات کے مطابق نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو انتہا پسند قرار دیا جاتا۔ حسن بصری ﷫نے ایک مرتبہ فرمایا:

والله لقد أدركت سبعين بدرياً، لو رأيتموهم قلتم مجانين ولو رؤوا خياركم لقالوا ما لهؤلاء من خلاق5حیات الاولیاء

’’اللہ کی قسم، میں نے بدر میں شریک ہونے والے ستر بزرگوں سے ملاقات کی۔ اگر تم انہیں دیکھتے تو کہتے کہ یہ پاگل ہیں! اور اگر وہ تم میں سے بہترین لوگوں کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔‘‘

افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج تقریباً جہاد کی ہر شکل کو انتہا پسندی کا نام دیا جاتا ہے، لہٰذا اللہ کی راہ کو ٹیڑھا دکھانے کی کوشش کرتے وقت یہ شیطان اور اس کے اولیاء کی ایک عام چال ہے۔ بائیکاٹ میں بھی انتہا اختیار کرنا ممکن ہے، لیکن ہم بائیکاٹ کی مناسب سطح اور اس سطح میں فرق کیسے کریں جو انتہا پسندانہ یا حد سے تجاوز پر مبنی ہو؟

انتہاپسندی کے بارے میں اصل حدیث پر غور کریں:

 أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَائَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَی بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أُخْبِرُوا کَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا فَقَالُوا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَائَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَنْتُمْ الَّذِينَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاکُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاکُمْ لَهُ لَکِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَائَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي6صحیح بخاری

’’انس بن مالک ﷜ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں تین آدمی آپ کی عبادت کا حال پوچھنے آئے، جب ان سے بیان کیا گیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی عبادت کو بہت کم خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ  کی برابری کس طرح کر سکتے ہیں، آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ سب معاف ہو گئے ہیں، ایک نے کہا میں رات بھر نماز پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا اور عورت سے ہمیشہ الگ رہوں گا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم لوگوں نے یوں یوں کہا ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ ڈرنے والا اور خوف کھانے والا ہوں، پھر روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور ساتھ ساتھ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، یاد رکھو جو میری سنت سے روگردانی کرے گا، وہ میرے طریقے پر نہیں۔‘‘

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی ﷺ کا راستہ ایک متوازن اور معتدل طریقہ ہے، اور آپ ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامنا انتہا پسندی سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے۔ انتہا پسندی کی ان تمام مثالوں میں ایک عام خصوصیت یہ ہے کہ ان میں انسان خود اپنے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ مناسب مقدار میں نہ سونا یا نہ کھانا کمزوری اور صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ شادی نہ کرنا فتنے، نفسیاتی مسائل اور نسل کے ختم ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔

یہی منطق ہم بائیکاٹ پر بھی لاگو کر سکتے ہیں، ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ بائیکاٹ کے فیصلوں کا فائدہ ان کے نقصان سے زیادہ ہو، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا۔ جذباتی یا عجلت پر مبنی طرزِ عمل برے نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

مسلم سرزمینوں پر حکمرانی کرنے والی حکومتوں سے ہم آہنگ علماء نے بائیکاٹ کے خلاف یہ دلیل دی ہے کہ عام لوگ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وسیع تر معاشرے کے مفاد میں کیا ہے اور کیا نہیں۔ اس میں کچھ حقیقت ہے۔ ضرورت سے زیادہ پر جوش اور کم معلومات رکھنے والے مسلمانوں کے نقصان دہ بائیکاٹ کے فیصلے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ ایسے فیصلے اہلِ علم افراد کو کرنے چاہییں۔ تاہم مغربی، انسان ساختہ قانون کے قانونی فریم ورک کے تحت کام کرنے والی حکومتوں، نہ کہ شریعت کے تحت، اور ان کی حمایت کرنے والے علماء پر ایسے فیصلے کرنے کے لیے اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ذمہ داری ان مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے جو متعلقہ شعبوں، بشمول شریعت، کاروبار، سیاست اور معاشیات کا علم رکھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے رابطہ کریں اور بائیکاٹ کے بہترین طریقۂ کار پر باہمی گفتگو کریں۔ یہ بحث اس وقت مزید اہم ہو جائے گی جب زیادہ شدید اور پائیدار بائیکاٹ بڑے کاروباری فیصلوں اور صنعتی پالیسیوں کو متاثر کرنے لگیں۔

تاہم موجودہ صورتِ حال میں بہت کم لوگ حقیقتاً بائیکاٹ کو اس حد تک لے جاتے ہیں جسے واقعی حد سے تجاوز یا انتہا پسندی قرار دیا جا سکے۔ اس کے برعکس، اس وقت زیادہ تر مسلمان بائیکاٹ کو چند برانڈز تک محدود رکھتے ہیں، جبکہ وہ اپنے لیے کوئی نقصان پیدا کیے بغیر اس سے کہیں زیادہ کر سکتے ہیں۔

6. بائیکاٹ نہ کیے جانے والی اشیا بہت مہنگی ہیں

بہت سے معاملات میں مسلمانوں کی جانب سے چھوٹے پیمانے پر تیار کی جانے والی مصنوعات بڑی کمپنیوں کی بڑے پیمانے پر تیار کردہ مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہو سکتی ہیں۔ جب کوئی کمپنی یا ملک منڈی پر مکمل غلبہ حاصل کر لیتا ہے تو وہ چھوٹی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم قیمت پر پیداوار کر سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیداوار کا پیمانہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ بہت زیادہ بچت کر لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی سرمائے کی پشت پناہی سے چلنے والی کمپنیاں مارکیٹ میں اجارہ داری حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔

اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو متبادل مصنوعات فراہم کرنا ہوں گی اور مسلم صارف کو ممکن ہے کہ مسلمانوں کی کمپنیوں سے زیادہ مہنگی مصنوعات خریدنی پڑیں۔ ایسی مصنوعات خرید کر آپ نہ صرف کفار کی جنگی مشینری سے پیسہ  باہر نکال رہے ہیں بلکہ مسلم امت کی معاشی استعداد بھی تعمیر کر رہے ہیں۔ مسلمانوں سے اجناس خریدنے کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کو اسلامی معیشت میں ترقی اور اس میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اگر بائیکاٹ طرزِ زندگی میں ایک مستقل تبدیلی بن جاتا ہے تو مسلمانوں کی کمپنیوں کی مصنوعات کو فروخت کرنے کا حجم بڑھے گی اور ان کی مجموعی استعداد بھی بڑھے گی۔ اس کے نتیجے میں طویل مدت میں قیمتیں کم ہوں گی، جس سے دوسروں کے لیے بھی مسلمانوں اور مسلمانوں کی کمپنیوں سے خریداری کی طرف منتقل ہونا آسان ہو جائے گا۔ معیشت کی اصلاح اور از سرِ نو تعمیر کے لیے صبر کی ضرورت ہے، اور بالآخر ان کوششوں کے ساتھ عسکری جدوجہد بھی شامل ہونی چاہیے۔ تاہم معاشی سرگرمی کے رجحان کی از سرِ نو تعمیر اور عسکری جدوجہد ایک دوسرے کے لیے سود مند ہو سکتے ہیں، لہٰذا ہمیں اس عمل کو شروع کرنے کے لیے اس وقت تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم ایک حقیقی اسلامی حکومت کے تحت زندگی گزار رہے ہوں۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

  • 1
    سنن ابو داؤد ↩︎
  • 2
    سود کی ایک صورت جس میں کسی چیز کو ادھار پر اس شرط پر بیچا جاتا ہے کہ اسے بعد میں کم قیمت پر دوبارہ خرید لیا جائے ↩︎
  • 3
    مسند احمد ↩︎
  • 4
    سنن ابن ماجہ ↩︎
  • 5
    حیات الاولیاء ↩︎
  • 6
    صحیح بخاری ↩︎
Previous Post

لامحدود ذہنیت بمقابلہ محدود ذہنیت | چوتھی قسط

Next Post

مدرسہ و مبارزہ | سولہویں قسط

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | ستمبر 2026

8 اکتوبر 2026
نوائے امارت اسلامیہ (اگست ۲۰۲۶ء)
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

نوائے امارت اسلامیہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)

8 اکتوبر 2026
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن
نقطۂ نظر

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن

8 اکتوبر 2026
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

8 اکتوبر 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | سترہویں قسط

8 اکتوبر 2026
ہوئے تم دوست جس کے……
عالمی منظر نامہ

ہوئے تم دوست جس کے……

8 اکتوبر 2026
Next Post
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط

مدرسہ و مبارزہ | سولہویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

ستمبر و اکتوبر 2026ء
ستمبر و اکتوبر 2026ء

ستمبر و اکتوبر 2026ء

by ادارہ
8 اکتوبر 2026

Read more

تازہ مطبوعات

تر ټولو وړاندې امریکا!
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

تر ټولو وړاندې امریکا!

مرکزی خیال: شهید شیخ احسن عزیز لیکوال: معین الدِّین شَامی ژباړن: عماد الدین خالد   ډاونلوډ کړی    

اکتوبر, 2026
یہ غزہ ہے
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

یہ غزہ ہے

تالیف: فضیلۃ الشیخ محمد صلاح الدین زیدان (سیف العدل)   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
د شام د جهاد درسونه
مطبوعات حطین

د شام د جهاد درسونه

د فضيلة الشیخ ایمن الظواهري بیان «فَلْنُقَاتِلْھُمْ بُنْیَانًا مَّرْصُوْصًا» له سریزې او حاشیو سره له سریزې او حاشیو سره   ...

ستمبر, 2026
گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملوں سے متعلق شبہات اور سازشی نظریات کا رد مصنف: نعمان حجازی   ڈاؤن لوڈ کریں ...

ستمبر, 2026
سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version