نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | سولہویں قسط

مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک

by عبد الہادی مجاہد
in ستمبر و اکتوبر 2026ء, فکر و منہج
0

زیرِ نظر تحریر افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجاہد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر افغانستان میں مدارس اور دینی تعلیم کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ، لیکن کتاب میں بیان کی گئی امت مسلمہ کی حالت اور اس حوالے سے جو مطالبہ ایک افغان عالم ِاور مدرسے سے کیا گیا ہے وہ درحقیقت باقی عالمِ اسلام کے علماء اور مدارس سے زیادہ مطلوب ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں تو آج ایک شرعی و اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے جبکہ باقی عالَمِ اسلام اس سے کہیں پیچھے ہے۔ اس کتاب کے اصل مخاطبین علماء و طلبہ ہیں جن کی تاریخ بالاکوٹ، شاملی، صادق پور اور دیوبند کے پہاڑوں، دروں، میدانوں اور مساجد و مدارس کے در و دیوار پر نوشتہ ہے! ومن اللہ التوفیق! (ادارہ)


باب ہشتم: مدارس کے نصاب میں طلباء کے اندر انقلابی فکر و سیاسی شعور پیدا کرنے والے مضامین کا فقدان (۴)

دوسرا ضروری مضمون: تاریخِ اسلام

دینی مدرسے کے طالب علم کے لیے انسانی اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ تاریخ کے مطالعے سے وہ انسانی اور اسلامی معاشروں کو پیش آنے والے واقعات اور ان کے اسباب و عوامل سے آگاہ ہوتا ہے، ان کے تجربات سے سبق حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ افراد، معاشرے اور نظام کس طرح ترقی و عروج کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں اور کن اسباب کی بنا پر کمزوری اور زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح تاریخ کا علم مدرسے کے طالب علم کو امتِ مسلمہ کے عروج و زوال اور دنیا میں اسلامی حکومتوں کے مدوجزر کے اسباب سے آگاہ کرتا ہے اور اسے سمجھاتا ہے کہ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے پیش آیا۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مدارس کے نصاب میں اس اہم معاشرتی علم کو بھی کوئی جگہ نہیں دی گئی، حالانکہ اس کا دینی علوم سے گہرا تعلق ہے۔

علمِ تاریخ کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ قرآنِ کریم، جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کردہ کتاب ہے، اس میں حجم کے اعتبار سے سب سے زیادہ جگہ گزشتہ انبیائے کرام اور ان کی امتوں کے حالات، اعمال اور انجام کے واقعات کو دی گئی ہے۔ ان میں ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے اسباب و عوامل بیان کیے گئے ہیں۔

رب العالمین نے قرآنِ کریم میں ان واقعات کو اس قدر اہمیت اس لیے دی ہے کہ یہ آخری امت ہے اور اس کے پیغمبر کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر نہیں آئے گا۔ اب انسانیت کو اللہ کی طرف بلانے، کفر اور گمراہیوں کا مقابلہ کرنے، اسلامی نظام قائم کرنے اور اس کا دفاع کرنے کی نبوی ذمہ داری یہی امت آگے بڑھائے گی۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس امت کے افراد انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی امتوں کی تاریخ، سرگزشت، انجام اور اچھے برے تجربات سے واقف ہوں۔ انہیں ان مثبت و منفی اہم واقعات اور طرزِ عمل سے بھی آگاہ ہونا چاہیے جو آدم علیہ السلام کے زمانے سے رسول اللہ ﷺ کے عہد تک انسانی تاریخ میں پیش آئے،کیونکہ انسانوں کے فہم و شعور اور ان کے رویوں میں باہمی مشابہت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ جن اعمال کی بدولت پہلے لوگوں نے نجات پائی، مسلمان انہیں اختیار کرے گا، اور جن اعمال کی وجہ سے گزشتہ انسان ہلاک ہوئے، ان سے خود کو بچائے گا۔

قرآنِ کریم میں گزشتہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی قوموں کے واقعات اس مقصد سے بھی بیان کیے گئے ہیں کہ یہ امت ان واقعات، تاریخ اور نبوی تجربات سے دعوت، صبر، جہاد، نظم و نسق، تدبیر، احساسِ ذمہ داری اور انسانوں کے مختلف طبقوں اور گروہوں کے ساتھ برتاؤ کا طریقہ سیکھے۔

رب العالمین نے ہمیں آدم علیہ السلام اور ابلیسِ لعین کا واقعہ سنایا ہے، تاکہ ہم شیطان کی دشمنی سے آگاہ ہوں۔ اسی طرح نوح، ہود، صالح، ابراہیم، اسماعیل، لوط، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب، شعیب، ادریس، ذوالکفل، یونس، موسیٰ، داؤد، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عزیر، یسع اور عیسیٰ علیہم السلام کے حالات، اپنی قوموں کے ساتھ ان کے طرزِ عمل اور اس کے نتائج کی تفصیلات بیان کی ہیں، تاکہ ہم امت کے ساتھ بہتر برتاؤ اور حق کی طرف دعوت دینے کا درست طریقہ سیکھیں۔

قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے واقعات بڑی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں، کیونکہ بنی اسرائیل گزشتہ امتوں کے مقابلے میں ہم سے متصل امت ہیں اور ان کے اور ہمارے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں۔ بلکہ وہ آج تک موجود ہیں اور ان کے حالات بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ان کے حالات اور اس امت کو پیش آنے والی صورتِ حال میں کئی مشابہتیں اور مناسبتیں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسانی تاریخ کے تناظر میں یہ تمام واقعات ہمیں اس لیے سنائے ہیں کہ ہم میں تبدیلی لانے کی صلاحیت پیدا ہو۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف انبیائے کرام علیہم السلام ہی کے واقعات نہیں سنائے، بلکہ اپنے دشمنوں کے واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ شیطان، فرعون، ہامان، قارون، قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ تُبَّع، اصحاب الرس، اصحاب السبت، بنی اسرائیل، اصحاب الجنة، اصحاب الأيكة، اصحاب الأخدود اور دوسروں کے واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں کہ وہ اپنے کفر اور گمراہیوں کے باعث کن نتائج سے دوچار ہوئے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اصحابِ کہف کا واقعہ بھی سنایا ہے کہ وہ کس طرح ایک کافرانہ ماحول سے نکل کر ایک پاکیزہ ماحول میں چلے گئے، تاکہ جاہلی معاشرے کے اثرات سے محفوظ رہیں اور صحیح طور پر اللہ کی عبادت کر سکیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے امتوں کے مصلحین کے واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ ذوالقرنین، لقمان، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، ابراہیم علیہ السلام کی بیویوں ہاجرہ اور سارہ، مریم بنت عمران اور بلقیس کے واقعات بھی سنائے ہیں، تاکہ یہ بھی واضح ہو کہ دعوت، اصلاح اور جاہلیت کے مقابلے کے میدانوں میں خواتین بھی بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہیں۔

تاریخِ جاہلیت، رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور امتِ مسلمہ کو پیش آنے والے حالات و واقعات سے واقفیت حاصل کرنا انقلابی تربیت کے نصاب کے اہم مضامین میں شمار ہوتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان موضوعات کو اتنی وسیع جگہ دی ہے۔

اسلامی تاریخ کے مطالعے کی اہمیت

دینی مدرسے کے طالب علم کے لیے اسلام اور امتِ مسلمہ کی تاریخ کا مطالعہ نہایت ضروری مضامین میں سے ہے۔ مدرسے کے طالب علم اور استاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام دنیا میں کیسے پھیلا اور مسلمانوں پر کیا حالات گزرے۔

جو طالب علم یا عالم اسلام کی سیاسی، عسکری، تمدنی اور فقہی تاریخ سے ناواقف ہو، وہ نہ دین کی صحیح تشریح کر سکتا ہے، نہ اپنے زمانے کے لوگوں کو اسلام کی عظیم شخصیات اور ان کے نمایاں کارناموں سے آگاہ کر سکتا ہے، اور نہ ہی دین کے تصورات و افکار کے بارے میں باطل فرقوں کی جانب سے پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات کا جواب دے سکتا ہے۔

اسلامی تاریخ صرف امتِ مسلمہ کی سیاسی اور عسکری تاریخ کا نام نہیں، بلکہ مدرسے کے طالب علم کو سیاسی اور عسکری تاریخ کے ساتھ اسلام کی تمدنی، دعوتی اور فقہی تاریخ، یعنی تاریخ التشریع، بھی پڑھنی چاہیے، تاکہ وہ سمجھ سکے کہ اسلامی فقہ اور فقہی مذاہب کیوں اور کیسے وجود میں آئے اور انہوں نے کس طرح ترقی و تکمیل کے مراحل طے کیے کہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر لیا۔

امتِ مسلمہ کی فکری اور اصلاحی تاریخ کے سلسلے میں سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’رجال الفكر والدعوة في الإسلام‘‘ یا اسی موضوع پر کسی دوسری معاصر کتاب کو چوتھے درجے سے ساتویں درجے تک تقسیم کر کے پڑھایا جائے تو اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔

اسلامی تاریخ کے مضمون میں درج ذیل موضوعات کی تدریس لازمی ہونی چاہیے:

  1. عہدِ جاہلیت
  2. سیرتِ نبوی کے مکی اور مدنی ادوار
  3. خلافتِ راشدہ
  4. اموی دور اور یورپ میں اسلامی اندلس کی تاریخ
  5. عباسی دور
  6. مختلف اسلامی سلطنتوں کا دور
  7. صلیبی جنگیں
  8. چنگیزی یلغار
  9.  خلافتِ عثمانیہ
  10. مغربی استعمار کا دور
  11. استعمار کے بعد وجود میں آنے والی ریاستیں اور استعماری طاقتوں کے ساتھ ان کے مختلف نوعیت کے تعلقات
  12.  عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال

آئندہ سطور میں مذکورہ ادوار کے بارے میں کچھ معلومات پیش کروں گا، تاکہ موجودہ دینی مدارس سے وابستہ افراد کو ان کی اہمیت اور افادیت کا کسی قدر اندازہ ہو سکے۔

عہدِ جاہلیت

رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے کے زمانے کو عہدِ جاہلیت کہا جاتا ہے۔ اس دور کی تاریخ کا مطالعہ طالب علم کو اُس زمانے کی خصوصیات اور انسان و انسانیت کی صورتِ حال سے آگاہ کرتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے زمانے کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے اُس عظیم تبدیلی کا اندازہ ہوتا ہے جو اسلام نے پیدا کی۔

جس نے رات کی تاریکی نہ دیکھی ہو، وہ دن کی روشنی کی قدر نہیں جان سکتا۔ اسی طرح جس نے ظلم، بداخلاقی، وحشت، جبر اور حیوانیت نہ دیکھی ہو، وہ انسانیت اور اعلیٰ اخلاق کی قدر و اہمیت نہیں سمجھ سکتا۔ لہٰذا یہ جاننے کے لیے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد اور قرآنِ کریم کے نزول سے انسانیت اور دنیا میں کیا تبدیلی آئی، ہمیں اس تبدیلی سے پہلے کے حالات سے واقف ہونا چاہیے۔

اگر ہم یہ نہ جانیں کہ اس تبدیلی سے پہلے انسان کیسے جاہلانہ عقائد رکھتے تھے، کس طرح اپنے لیے معبود بناتے اور پھر ان کے سامنے پیشانیاں ٹیکتے تھے، نیز عرب، ہندوستان، فارس، روم، یونان، چین، خراسان اور دوسرے علاقوں میں عہدِ جاہلیت کی فکری اور اخلاقی صورتِ حال کیا تھی، تو ہمیں کیسے معلوم ہو  گا کہ اسلام نے کتنی بڑی تبدیلی پیدا کی اور اس کی نوعیت کیا تھی؟

جاہلیت کی پہچان درحقیقت اسلام کے کمال کو سمجھنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ جب ہم اسلام کے کمال و عظمت، زندگی کے ہر شعبے میں اس کے بلند معیارات اور اس سعادت کو جاننا چاہیں جو اس نے انسانیت کو عطا کی، تو پہلے ہمیں عہدِ جاہلیت کے ظلم، وحشت اور تاریکیوں سے واقف ہونا ہو گا۔ پھر ہم وہ طریقۂ کار اختیار کریں گے جس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ نے اسلامی معاشرہ قائم کیا، تاریکیوں کا خاتمہ کیا اور مشرکین، یہود، نصاریٰ، منافقین اور اسلام کے دوسرے مخالف محاذوں کا مقابلہ کیا۔

چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ ہمارے اندر انقلابی جذبہ پیدا کرتی ہے اور تبدیلی لانے کے طریقے اور عملی مثالیں ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ اسلام نے انسانی زندگی میں جو تبدیلی پیدا کی، اس کا علم ہمیں فقہ، اصول، صرف و نحو اور بلاغت و معانی کی کتابوں سے نہیں ہو گا، بلکہ اسے ہم تاریخ کی کتابوں میں پڑھیں گے۔

جاہلیت کی تعریف

لغوی اعتبار سے لفظِ جاہلیت، جَہْل سے نکلا ہے، اور جہل دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی علم کی ضد، یعنی لاعلمی ہے۔ یہ ایک ذہنی کیفیت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے ذہن میں کسی بات کا علم موجود نہ ہو۔ دوسرا معنی حلم کی ضد، یعنی ضد اور عناد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو بات معلوم ہو، مگر وہ اسے تسلیم نہ کرے۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے۔ یوں معلومات کا نہ ہونا ایک ذہنی حالت ہے، جب کہ معلومات کو تسلیم نہ کرنا، یعنی ضد اور عناد، ایک نفسیاتی حالت ہے۔

ہماری مقامی زبانوں میں بھی اس کیفیت کو جہل کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص ضدی اور ہٹ دھرم ہو تو اسے جاہل کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ اسے کچھ معلوم نہیں، بلکہ یہ کہ وہ حق سے منہ موڑتا ہے۔ چنانچہ جاہلیت کا اصطلاحی مفہوم حق سے روگردانی ہے۔

استاد محمد قطب نے بھی اپنی کتاب ’’جاهلية القرن العشرين‘‘ میں اس موضوع کو اچھی طرح واضح کیا ہے کہ جاہلیت، لاعلمی اور ناخواندگی کا نام نہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس علمی معلومات نہیں ہوتیں، لیکن وہ ہدایت پر چلتے ہیں اور ان کے اعمال و تصورات درست ہوتے ہیں۔ اس لیے جاہل، عالم کی ضد نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

إنما الجاهلية، كما عناها القرآن، هي حالة نفسية ترفض الاهتداء بهدي الله، ووضع تنظيمي يرفض الحكم بما أنزل الله 1جاهلية القرن العشرين، ص: ۷

’’قرآن کے بیان کردہ مفہوم کے مطابق جاہلیت ایک ایسی نفسیاتی کیفیت ہے جو اللہ کی ہدایت قبول کرنے سے انکار کرتی ہے، اور ایک ایسی اجتماعی و انتظامی صورتِ حال ہے جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کرنے کو مسترد کرتی ہے۔‘‘

پس ہدایت کو قبول نہ کرنا جاہلیت ہے، خواہ یہ انکار گزشتہ زمانے میں ہو، آج ہو یا آئندہ ہو، اور اسے کوئی بھی نام دیا جائے۔ اس معنی میں جاہلیت کسی مخصوص زمانے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی حالت اور صورتِ حال کا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا حکم تسلیم نہ کیا جائے۔ یہ اسلام سے پہلے بھی موجود تھی، آج بھی موجود ہے اور آئندہ بھی مختلف نئی صورتوں میں بار بار ظاہر ہو سکتی ہے۔

چنانچہ کسی فرد یا معاشرے کا زندگی کے تمام پہلوؤں میں اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول نہ کرنا جاہلیت کہلاتا ہے، خواہ وہ فرد یا معاشرہ مادی ترقی اور تمدن کی بلندیوں پر پہنچ چکا ہو، اس نے فضا، زمین اور سمندروں کو مسخر کر لیا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کو رب، الٰہ، حاکم، معبود اور قانون عطا کرنے والی ہستی کی حیثیت سے تسلیم نہ کرتا ہو۔

قدیم اور جدید جاہلیت

زمانے کے اعتبار سے جاہلیت کی دو قسمیں ہیں: قدیم جاہلیت اور معاصر جاہلیت۔ قدیم جاہلیت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے۔

قدیم جاہلیت کے مطالعے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جزیرۂ عرب اور دوسرے علاقوں کے لوگوں کا دین کیا تھا؟ ان کے عقائد کیا تھے اور وہ کن معبودوں کو پوجتے تھے؟ ان کی اخلاقی اور معاشرتی زندگی کیسی تھی؟ وہ کن چیزوں کو حلال اور کن کو حرام کہتے تھے؟ کون سی باتیں انہیں باہم جوڑتی تھیں اور کون سی ایک دوسرے سے جدا کرتی تھیں؟ دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا تھا؟ سیاسی اعتبار سے وہ کس کے تسلط میں اور کس طرح زندگی گزارتے تھے؟

جزیرۂ عرب کے پہلو میں فارس کی سلطنت قائم تھی، جس کے قیام اور اقتدار کو اُس وقت تقریباً ایک ہزار سال گزر چکے تھے۔ فارس کی سلطنت کیا تھی؟ اس کا دین کیا تھا؟ وہاں کن معبودوں کی پرستش ہوتی تھی؟ اخلاقی اور معاشرتی صورتِ حال کیسی تھی؟ اسی طرح روم کا معاشرہ اور اس کا نظامِ حکومت کیسا تھا؟

معاصر جاہلیت سے مراد موجودہ زمانے میں اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول نہ کرنے والوں کی حالت ہے، خواہ وہ کمیونسٹ اور ملحد ہوں یا لبرل، جمہوریت پسند، انسان پرست، قوم پرست اور اسلام کے سوا کسی دوسرے دین، فکر یا فلسفے کے پیروکار ہوں۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو بہت مہذب، ترقی یافتہ اور عقل مند سمجھتے ہوں، لیکن جب ان کا عقیدہ اور نظام اسلام کے خلاف ہو تو وہ معاصر جاہلیت کے پیروکار کہلاتے ہیں۔

اسی بنا پر جاہلیت، علم و دانش کی نہیں، بلکہ ہدایت کی ضد ہے۔ اسلام کا مبارک دین ہر زمانے کی جاہلیت کو مٹانے کے لیے آیا ہے۔ لیکن جب جاہلیت کی پہچان ہی نہ ہو تو اسے مٹایا کیسے جا سکتا ہے؟ عربی کا ایک مقولہ ہے:

’’تُعْرَفُ الأَشْيَاءُ بِأَضْدَادِهَا۔‘‘

چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔

احادیث میں بھی جاہلیت کا لفظ آیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ جلیل القدر صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایک دوسرے صحابی کو ان کی والدہ کی سیاہ رنگت کا طعنہ دیا اور انہیں سیاہ فام عورت کا بیٹا کہا۔ ان صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے ابوذر رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

أَسَابَبْتَ فُلَانًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ۔

’’ کیا تم نے فلاں شخص کو برا بھلا کہا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اس کی ماں کو بھی طعنہ دیا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تم ایسے شخص ہو جس میں ابھی جاہلیت کی خصلت موجود ہے۔‘‘

ابوذر رضی اللہ عنہ ایک زاہد، عابد اور صاحبِ علم شخصیت تھے اور ایک روایت کے مطابق اسلام قبول کرنے والے چوتھے شخص تھے۔ لیکن بڑھاپے کے باعث ان سے اسلامی اخلاق کے خلاف ایک بات صادر ہوئی، تو رسول اللہ ﷺنے ان کے اس عمل کو جاہلیت قرار دیا۔

قرآنِ کریم میں بھی متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے دین کی مخالفت کو جاہلیت اور ہدایت سے محرومی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جب سلیمان علیہ السلام کے پرندوں میں موجود ہدہد، مملکتِ سبا میں پہنچتا ہے تو وہاں کا تمدن، نظام اور منظم سلطنت دیکھتا ہے۔ وہ مشاہدہ کرتا ہے کہ وہ لوگ مادی اعتبار سے ہر طرح کی آسائشوں سے بہرہ مند ہیں اور انہیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ لیکن سلیمان علیہ السلام کا یہ نمائندہ وہاں کے لوگوں اور ملکہ کی حالت یوں بیان کرتا ہے:

وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُوْنَ۝ (سورۃ النمل: ۲۴)

’’ میں نے اس عورت اور اس کی قوم کو پایا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کے آگے سجدے کرتے ہیں، اور شیطان نے ان کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ان کے اعمال بہت اچھے ہیں، چنانچہ اس نے انھیں صحیح راستے سے روک رکھا ہے اور اس طرح وہ ہدایت سے اتنے دور ہیں۔ ‘‘

یعنی وہ ہدایت سے محروم ہونے کے باعث جاہلیت میں مبتلا تھے۔ یہاں جاہلیت سے مراد یہ نہیں کہ ان کے پاس علم اور معلومات نہیں تھیں۔ ان کے پاس اتنا علم و ہنر تھا کہ وہ خوب صورت محلات اور حیرت انگیز تخت بناتے تھے۔ ان کے وزراء اس قدر آداب شناس تھے کہ جب ملکہ نے ان سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم قوت و طاقت والے ہیں اور جنگ کے لیے تیار ہیں، لیکن اس سب کے باوجود فیصلہ کرنے کا اختیار آپ ہی کو حاصل ہے۔

ان کی یہ باتیں سیاسی اور تمدنی آداب میں ان کی پختگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ تاہم ان تمام خوبیوں کے باوجود، چونکہ وہ اللہ کا حکم تسلیم نہیں کرتے تھے، اس لیے انہیں ہدایت سے دور اور جاہلیت میں مبتلا قرار دیا گیا۔

پس جاہلیت ایک حالت اور صورتِ حال کا نام ہے، جو بار بار پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے علمائے دین آج کے دور میں بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے انحراف کو جاہلیت کہتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی فکر اور فلسفے کی صورت میں ہو۔ سیکولرازم ہو، کمیونزم، لبرل ازم، ہیومن ازم، نیشنل ازم یا کوئی اور نظریہ۔ اس کے پیروکار مادی لحاظ سے کتنے ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوں، فضا کو مسخر کر چکے ہوں، سمندروں کی تہہ تک پہنچ گئے ہوں اور ایٹم کا تجزیہ کر چکے ہوں، لیکن جب وہ اللہ کے دین کے خلاف اور اس کے حکم سے سرکشی پر قائم ہوں تو یہ جاہلیت شمار ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ جاہلیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ  ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۝ (سورۃ المآئدۃ: ۵۰)

’’ بھلا کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ یقین رکھتے ہوں ان کے لیے اللہ سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے ؟ ‘‘

اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابل آنے والے حکم کو جاہلیت کا حکم قرار دیا گیا ہے، خواہ وہ کسی شخص کا ہو یا کسی حکومت کا، بشرطیکہ وہ اللہ جل جلالہ کے مقرر کردہ طریقے سے منحرف ہو۔

قریش کے زمانے کی جاہلیت کی ایک صورت تھی، موجودہ جاہلیت کی دوسری صورت ہے اور آنے والے زمانے کی جاہلیت کی کوئی اور صورت ہو گی۔ اُس زمانے میں بعض لوگ صرف حج کے موقع پر طواف کرتے ہوئے برہنہ ہوتے تھے، مگر موجودہ جاہلیت میں ہر وقت بے پردگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

آج جب انسان یورپی لوگوں کو دیکھتا ہے تو سخت سردی میں بھی بعض خواتین کو نیم برہنہ لباس میں پاتا ہے، ان کی ٹانگیں گھٹنوں سے نیچے اور جسم کا بالائی حصہ سینے تک کھلا ہوتا ہے، جب کہ مردوں نے اپنے آپ کو سر سے پاؤں تک ڈھانپ رکھا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس غیر فطری طرزِ عمل کو بھی فیشن کا نام دیتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں کا طواف کے وقت ایک دن برہنہ ہونا زیادہ بڑی جاہلیت تھی یا ساری عمر کی بے پردگی؟ ظاہر ہے کہ موجودہ حالت کو پہلے سے زیادہ جاہلانہ قرار دیا جانا چاہیے۔ اس سے پھر واضح ہوتا ہے کہ جاہلیت کسی مخصوص زمانے یا تاریخی دور کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی حالت اور صورتِ حال کا نام ہے جو انسانی معاشروں میں بار بار پیدا ہوتی ہے۔

جاہلیت کی پہچان ہو تو ہدایت بھی پہچانی جاتی ہے، اور اگر جاہلیت کی پہچان نہ ہو تو ہدایت کو بھی صحیح طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ آج ہمارے زمانے کے مسلمانوں کو منبر و محراب، مدرسے، اسکول، یونیورسٹی اور روحانی تربیت کے مراکز میں کمیونزم، لبرل ازم، جمہوریت، قوم پرستی اور دوسرے معاصر غیر اسلامی نظریات و افکار کے بارے میں یا تو سرے سے کچھ بتایا ہی نہیں جاتا، یا جس درجے میں بتانا چاہیے، اس درجے میں نہیں بتایا جاتا۔

اسی لیے ہمارے دور کے مسلمان، جو مسلم معاشرے ہی میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں، معاصر جاہلیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ کمیونسٹ، کچھ لبرل، کچھ جمہوریت پسند اور کچھ قوم پرست بن جاتے ہیں۔ وہ اسلام کی فکری، سیاسی اور اخلاقی اقدار کی جگہ معاصر جاہلیتوں کی اقدار اور تہذیب کو قبول کرتے ہیں، اور انہیں انسانیت کا کمال انہی میں دکھائی دیتا ہے۔ اس سب کا سبب یہ ہے کہ وہ جاہلیت کو پہچانتے ہی نہیں۔

اس کے برعکس ہمیں ایسا مسلمان دکھائی نہیں دیتا جو یہودیت، نصرانیت، کمیونزم یا کسی اور کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہوا ہو اور پھر پختہ مسلمان نہ بنا ہو، یا اس نے دوبارہ اسلام چھوڑ دیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص شعوری طور پر علم اور اطمینانِ قلب کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے، وہ جاہلیت کی طرف لوٹنے کو آگ میں واپس جانے کے برابر سمجھتا ہے۔

ایک دوسری حدیثِ مبارک میں بھی جاہلیت کا ذکر آیا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا:

’’أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ حَارِثٍ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ مِنْ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ۔‘‘

’’خبردار! جاہلیت کی ہر بات میرے قدموں تلے پامال ہے( یعنی میرے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں)۔ جاہلیت کے زمانے کے خون کے مطالبات بھی ختم کر دیے گئے ہیں، اب کوئی کسی سے ان کا بدلہ نہیں لے سکتا۔ اپنے خاندان کے خون کے مطالبات میں سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کے خون کا مطالبہ ختم کرتا ہوں(جسے جاہلیت کے زمانے میں دودھ پلوانے کے لیے بنو سعد میں بھیجا گیا تھا اور پھر عزیر قبیلے نے اسے قتل کر دیا تھا۔ اب اس کا بدلہ بھی نہیں لیا جائے گا، کیونکہ یہ واقعہ جاہلیت میں پیش آیا تھا)۔ جاہلیت کا سود بھی ختم کر دیا گیا ہے، اور اپنے خاندان کے سود میں سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود کالعدم قرار دیتا ہوں؛ وہ پورا کا پورا معاف کر دیا گیا ہے۔‘‘

اس حدیثِ مبارک کا مقصود یہ ہے کہ جاہلیت کے اخلاق، معاملات، تصورات، حقوق اور تمام متعلقہ امور کا خاتمہ ہونا چاہیے، اور زندگی کے ہر میدان میں صرف اسلام کو قبول کرنا چاہیے۔ جب مسلمان کی زندگی اس طرح ڈھل جائے تو وہ ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً، یعنی ’’اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ‘‘، کا عملی مصداق بن جاتی ہے۔

مذکورہ گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ جاہلیت، ناخواندگی کا نام نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے عہدِ جاہلیت میں قریش لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺاور بنو ہاشم کے بائیکاٹ کی جو تحریر کعبے میں آویزاں کی تھی، اسے انہی قریش نے لکھا تھا۔ وہ شعر و ادب میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔ اس کے باوجود ان کے طرزِ زندگی، افکار اور عقائد کو جاہلیت کہا گیا، اس لیے کہ وہ اللہ کی ہدایت سے منحرف ہو چکے تھے اور ہر معاملے میں اپنی خواہشات کی پیروی کرتے تھے۔

جو شخص انسان، زندگی، موت، معبود، فرشتوں، نبی، نبوت، وحی، آخرت، دوزخ اور جنت کے بارے میں قدیم عہدِ جاہلیت کے لوگوں کے عقائد، تصورات اور مفاہیم سے واقف نہ ہو، وہ یہ نہیں سمجھ سکتا کہ قرآنِ کریم اُس وقت بعض کاموں کا حکم کیوں دیتا تھا اور بعض سے کیوں روکتا تھا۔

اسی طرح وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ تیرہ برس تک قرآنِ کریم میں ان کے لیے شرعی احکام کیوں نازل نہیں کیے گئے، بلکہ ان کے عقائد، افکار اور نفسیات کی اصلاح کیوں کی جاتی رہی؟ تیرہ برس کے بعد نماز، روزہ، زکوٰۃ، پردہ، جہاد اور دوسرے اعمال کیوں فرض کیے گئے؟ یہ احکام مکہ مکرمہ ہی میں کیوں فرض نہیں کیے گئے؟

یہ احکام اس لیے فرض نہیں کیے گئے تھے کہ اُس وقت صدیوں کی جاہلیت نے ان لوگوں کے افکار و عقائد پر گہرے اثرات ڈال رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ انہیں جاہلیت کے افکار و عقائد سے پوری طرح آزاد کر دے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہو جاتی تو انہیں شریعت قبول کرنے میں کوئی تنگی محسوس نہ ہوتی، اور نہ ہی وہ اسلام اور اپنے سابقہ احکام و تصورات کو باہم پیوند لگانے کی کوشش کرتے۔

قدیم جاہلیت کے سیاسی، معاشرتی، معاشی اور اخلاقی پہلوؤں کی پہچان ہمیں اُس تبدیلی کی عظمت سے آگاہ کرتی ہے جو اسلام نے پیدا کی۔

جاہلیت کو سمجھنے کے لیے علامہ ندوی رحمہ اللہ کی کتاب ’’ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين‘‘  بہترین کتاب ہے۔ اس میں عرب، روم، فارس، چین، ہندوستان اور دوسرے خطوں کی جاہلیت پر گفتگو کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جب مسلمان فکری اعتبار سے غیروں کی طرف مائل ہوئے تو اس کے نتیجے میں کس نوعیت کی جاہلیت وجود میں آئی۔

انسان اسی وقت روشنی اور ترقی کی طرف بڑھتے ہیں جب وہ ہر اعتبار سے جاہلیت سے نکل کر اللہ کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق عمل کریں۔ اگر وہ اللہ کی راہ سے منہ موڑ لیں اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات سے دور ہو جائیں تو درحقیقت وہ اُس راستے سے ہٹ جاتے ہیں جو انسانوں کو سعادت کی منزل تک پہنچاتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانیت کی سعادت کے لیے مقرر کردہ رہنما ہیں، اور صرف آپ کی تعلیمات کی روشنی ہی میں انسانیت تاریکیوں سے نکل سکتی ہے۔

اگرچہ آج رسول اللہ ﷺ  بنفسِ نفیس ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن آپ کا طریقہ اور شریعت موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گی۔ تشریع، قانون، نظام، اخلاق اور عقیدے کے میدان میں آپ ہی دنیا کے معلم اور رہنما ہیں۔ جب دنیا رسول اللہ ﷺ کو اپنا معلم اور رہنما مان کر اختیار کرتی ہے تو آباد ہوتی ہے، اور جب آپ سے دور ہو جاتی ہے تو فساد اور گمراہی میں ڈوب جاتی ہے۔

پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں، جن میں پانچ کروڑ سے زیادہ انسان مارے گئے، اس تباہی کا سبب یہی تھا کہ دنیا اپنے رہنما سے دور ہو گئی تھی۔ اس میں صرف مسلمانوں ہی کا نقصان نہیں ہوا، بلکہ پوری انسانیت کو نقصان پہنچا۔

جب مسلمان اندلس پہنچے تو اندلس آباد ہوا۔ مسلمانوں نے وہاں صنعت و تمدن کو فروغ دیا، اور اس کے فوائد مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں کو بھی پہنچے۔

علامہ ندوی ﷫نے اپنی کتاب ’’ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين‘‘ کے پہلے حصے میں ‘الإنسانية في الاحتضار’ یعنی ’’انسانیت حالتِ نزع میں‘‘، کے عنوان سے اُس زمانے کی دنیا، نصرانیت، یہودیت، قدیم فارس، چین اور یونان کے ادیان، تہذیبوں، عقائد اور تصورات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے مثالوں کے ذریعے جاہلیت کے مختلف پہلو واضح کیے ہیں۔ اس کا مطالعہ ہر عالم اور طالب علم کے لیے ضروری ہے۔ یہاں میں اسی کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے قدیم جاہلیتوں کے بارے میں کچھ معلومات پیش کرتا ہوں۔

نصرانی جاہلیت

رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے نصرانیت آخری نازل شدہ دین کی حیثیت سے تسلیم کی جاتی تھی۔ نصرانیت، یہودیت سے بالکل الگ کوئی دین نہیں تھا۔ اس کی آمد سے تورات منسوخ نہیں ہوئی تھی، بلکہ وہ نصرانی دین کا بھی حصہ بن گئی تھی۔ نصرانیت کی کتاب میں دعائیں، وعظ اور نصیحتیں زیادہ ہیں، تاہم قانون اور شریعت کے باب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر زیادہ نئے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ نصرانیوں کو بیشتر وہی شرعی احکام قبول کرنے کا پابند بنایا گیا تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت اور یہودی مذہب میں موجود تھے۔

موجودہ انجیل بھی دو حصوں کے نام سے بیان کی جاتی ہے: عہدِ قدیم اور عہدِ جدید۔ عہدِ قدیم یہودیوں کی تورات ہے، جبکہ عہدِ جدید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب وہ اقوال ہیں جو ان کے زمانے کے بعد جمع کیے گئے۔ ان اقوال کی متصل سند تو درکنار، سرے سے کوئی سند ہی نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نصرانی علماء اور ہر معلوم و نامعلوم شخص نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ انجیل کا حصہ بن گیا۔ انجیل کی کوئی ایسی سند موجود نہیں جو قرآنِ کریم اور احادیث کی طرح علم الرجال یا علم التراجم کے معیارات پر پوری اترتی ہو۔

موجودہ تورات بھی اسی طرح ایک بے سند کتاب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم کی سلطنت، یعنی فلسطین، کو تباہ کیا تو یہودیوں کو قیدی بنا کر بابل، یعنی موجودہ موصل، لے گیا اور کئی دہائیوں تک انہیں قید میں رکھا۔ اس کے ساتھ ہی بخت نصر نے ان کے تمام علمی آثار بھی جلا دیے، جن میں تورات بھی شامل تھی۔ بعد میں جب یہودی اور ان کے علماء قید سے آزاد ہوئے تو ان کے ذہنوں میں جو کچھ باقی رہ گیا تھا، اسے جمع کر کے دوبارہ لکھ لیا اور اس مجموعے کا نام تورات رکھ دیا۔

چنانچہ اس وقت اصل انجیل اور تورات، دونوں موجود نہیں ہیں۔ آج ان ناموں سے جو کتابیں موجود ہیں، وہ ان کے علماء کے جمع کردہ بے سند اقوال ہیں۔

اس کے باوجود حضرت عیسیٰ  علیہ السلام کے بعد ان کے شاگرد کوشش کرتے رہے کہ اپنے دین میں عقیدۂ توحید کو برقرار رکھیں۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے بجائے ان کی مخالفت شروع کر دی، ان پر تہمتیں لگائیں، انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا کہا اور ان کے قتل کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے:

وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ  ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا؀ (سورۃ النساء: ۱۵۷)

’’ اور یہ کہا کہ  ہم نے اللہ کے رسول مسیح ابن مریم کو قتل کر دیا تھا، حالانکہ نہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا تھا، نہ انہیں سولی دے پائے تھے، بلکہ انہیں اشتباہ ہو گیا تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں، انہیں گمان کے پیچھے چلنے کے سوا اس بات کا کوئی علم حاصل نہیں ہے، اور یہ بالکل یقینی بات ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کر پائے۔ ‘‘

یہودی صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سے دشمنی نہیں رکھتے تھے، بلکہ ان کے بعد ان کے دین کے پیروکاروں کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہو گئے۔ نصرانیت کی مخالفت کرنے اور اسے مٹانے کی کوشش کرنے والوں میں شاول نامی ایک یہودی عالم بھی تھا، جو وسیع علم اور اثر و رسوخ رکھتا تھا۔

شاول کچھ عرصے تک نصرانیت کے خلاف سرگرم رہا، لیکن آخر کار اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے باہر سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اس نے جھوٹ موٹ نصرانیت قبول کر لی اور اپنا نام پاول رکھ لیا۔ پاول یا پولس مسیحی نام ہے، جبکہ شاول یہودی نام ہے۔ اس کا کہنا تھا:

’’میں انطاکیہ میں جارہا تھا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ نصرانیت برحق دین ہے، اسے قبول کرلو۔ چنانچہ میں کلیسا گیا اور اپنے نصرانی ہونے کا اعلان کر دیا۔‘‘

پولس نے رفتہ رفتہ نصرانیت کو اندر سے بدل دیا۔ دوسری تحریفات کے ساتھ اس نے عقیدۂ توحید کو بھی تثلیث کے شرکیہ عقیدے میں تبدیل کر دیا، پھر اسی تحریف شدہ نصرانیت کو علاقے میں پھیلایا۔

وقت گزرنے کے ساتھ نصرانی مختلف مذاہب میں تقسیم ہو گئے۔ ان کے درمیان اس بات پر بھی اختلاف پیدا ہوا کہ نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ کی ایک طبیعت ہے یا دو، اور وہ ایک ہے یا الگ الگ ہیں؟

نصرانیت کے مختصر تعارف کے لیے مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’’ما هي النصرانية‘‘ بہترین کتاب ہے، جو فارسی اور پشتو میں بھی دستیاب ہے۔ اس میں انہوں نے نصرانیت کے تمام عقائد اور حالات بیان کیے ہیں۔

وقت کے ساتھ نصرانیت مختلف مذاہب میں بٹ گئی۔ ان میں سے بعض کو کیتھولک، بعض کو آرتھوڈوکس اور بعض کو پروٹسٹنٹ کہا جاتا ہے۔ یہی نصرانیوں کے تین بڑے فرقے ہیں۔ روسی آرتھوڈوکس ہیں، جبکہ امریکہ کی غالب اکثریت پروٹسٹنٹ نصرانیوں پر مشتمل ہے۔ باقی یورپ کا بڑا حصہ، جس میں برطانیہ، فرانس، اٹلی، مشرقی یورپ اور آس پاس کے ممالک شامل ہیں، کیتھولک ہے۔

چھٹی صدی عیسوی میں نصرانیت کی حالت یہ تھی کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لائے ہوئے دین کی صورت میں باقی نہیں رہی تھی،کیونکہ پولس بہت پہلے اس کی بچی کھچی اخلاقی تعلیمات بھی مٹا چکا تھا۔

یہودی جاہلیت

یہودیت بہت پہلے تحریف کا شکار ہو چکی تھی۔ اس کے پیروکار یثرب، نجران، شام اور بعض دوسرے علاقوں میں آباد تھے اور ہر جگہ نصرانیوں سے اپنی دشمنی برقرار رکھے ہوئے تھے۔

ذونواس نامی بادشاہ، جو اصل میں قبیلۂ حِمیر سے تھا مگر یہودی ہو گیا تھا، نے یمن کے علاقے نجران میں نصرانیوں کو قتل کرنے کے لیے آگ کی وہ خندقیں کھدوائی تھیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں آیا ہے۔ وہ نصرانیوں کو ان خندقوں میں ڈلواتا تھا۔ دوسرے مذاہب کے خلاف دشمنی میں یہودی اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ کہتے تھے:

لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ ۚ  (سورۃ آل عمران: ۷۵)

’’امیوں (غیر یہودیوں) کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہماری کوئی پکڑ نہیں ہو گی۔‘‘

وہ ہر غیر یہودی کو، خواہ کوئی بھی ہو، ’’اُمّیین‘‘ یا ’’گویم‘‘ کہتے ہیں۔ یہودیوں کی زبان میں ’’گویم‘‘ کا لفظ اجنبیوں اور کمتر درجے کے انسانوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسرے انسان حیوانوں کے درجے میں ہیں اور یہودی قوم کی خدمت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔

یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ مخلوق ہیں۔ وہ اپنے لیے ’’شعب الله المختار‘‘ کا نام استعمال کرتے ہیں، یعنی ’’اللہ کی سب سے برگزیدہ قوم‘‘۔ قرآنِ کریم میں بھی ان کے اس دعوے کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:

نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ (سورۃ المآئدۃ: ۱۸)

’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔‘‘

یہودی اپنی دشمنی میں کینہ رکھتے ہیں اور یہودیوں کے سوا ہر ایک کے خلاف بغض رکھتے ہیں۔ عہد شکنی، خیانت، دوسروں کے لیے گڑھے کھودنا، اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو قتل کرنا، دین میں تحریف کرنا، اللہ تعالیٰ کی آیات بدل کر مال حاصل کرنا، خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا، دوسروں کا مال کھانا اور ہر جگہ فتنوں اور جنگوں کی آگ بھڑکانے میں مہارت رکھنا ان کی خصوصیات ہیں۔

آج بھی دنیا میں جہاں کہیں جنگوں اور تختہ الٹنے کی کارروائیوں کی آگ بھڑک رہی ہے، ان سب میں یہودی پالیسیاں، یہودی اسلحہ ساز تاجر اور کمپنیاں ملوث ہیں۔

موجودہ دنیا کی بڑی تبدیلیوں، انقلابوں اور ہر طرح کے بین الاقوامی فیصلوں میں ان کا بہت گہرا اثر ہے۔ کمیونزم کا بڑا فلسفی مارکس، جس نے مذاہب کے انکار کا فلسفہ پیش کیا، یہودی تھا۔

ڈارون، جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدم و حوا کی تخلیق کی حقیقت کا انکار کیا اور انسانوں کو بندروں کی نسل سے قرار دیا، یہودی تھا۔

فرائڈ، جس نے اللہ کو انسان کا خالق ماننے کے بجائے انسان کی تخلیق قرار دیا، وہ بھی یہودی تھا۔ عظیم عثمانی خلافت کو تباہ کرنے والا کمال اتاترک بھی یہودیوں کے ’’دونمہ‘‘ فرقے کا فرد تھا۔

شیخ عبداللہ عزام شہید اپنی کتاب ’’السرطان الأحمر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ لینن کی کابینہ کے بائیس وزیروں میں سے سترہ یہودی تھے۔  اس زمانے میں یورپ اور امریکہ میں کوئی ایسا نظام نہیں جو یہودیوں کے اثر سے آزاد ہو۔

رومی جاہلیت

رومی بت پرست اور نہایت عیش پسند لوگ تھے۔ عورتوں سے لطف اندوز ہونا، بدکاری اور شراب نوشی ان کے معمولاتِ زندگی بن چکے تھے۔ وہ اپنی محفلوں میں آوارہ عورتوں کو ساتھ رکھتے تھے۔ کبھی کسی بدکار عورت کو اس قدر طاقت اور اختیار حاصل ہو جاتا کہ وہ بادشاہ اور گورنر سے بھی زیادہ با اثر بن جاتی۔ برہنہ مجسمے بنانا ان کے ہاں کمالِ فن سمجھا جانے لگا تھا۔

رومیوں کو کھیل تماشوں سے بھی بہت لگاؤ تھا۔ وہ کھیلوں کے لیے ایسے میدان بناتے تھے جن میں اسی ہزار تماشائی بیٹھ کر کھیل دیکھ سکتے تھے۔ وہاں ایسے کھیل بھی ہوتے تھے کہ میدان کے ایک طرف بھوکا شیر چھوڑ دیا جاتا اور دوسری طرف ایک غلام کو اس کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا۔ اسی ہزار لوگ یہ منظر دیکھتے اور اس بات سے لطف اندوز ہوتے کہ بھوکا شیر انسان کو کس طرح چیر پھاڑ رہا ہے۔ غلاموں کے درمیان تلواروں کی لڑائیاں بھی کرائی جاتی تھیں۔ وہ ایک دوسرے کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے اور تماشائی تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کرتے۔

عسکری اعتبار سے رومی حملہ آور قوم تھے۔ وہ یورپ سے فوجی مہمات پر نکلے تھے اور ایشیا میں قسطنطنیہ اور پورے شام کو، جبکہ افریقہ میں مصر، لیبیا، الجزائر اور مغرب کو اپنے زیرِ اقتدار لا چکے تھے۔ مفتوحہ علاقوں کے لوگوں کے ساتھ ان کا معاملہ مال جمع کرنے اور خراج وصول کرنے تک محدود تھا۔ بادشاہ ان سے مال و دولت وصول کرتا اور رعایا کے ساتھ قابض اور نوآبادیاتی حکمران جیسا برتاؤ کرتا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ جب اسلام آیا تو شام اور مصر کے لوگوں نے اسے بڑے شوق اور محبت سے قبول کیا، کیونکہ وہ رومیوں کے ظلم اور ان کی استبدادی حکومتوں سے تنگ آ چکے تھے اور ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔

یہ حالات تقاضا کرتے تھے کہ کوئی آئے، ان کی اصلاح کرے اور لوگوں کو درست راہ پر لائے۔ چنانچہ رب العالمین نے اپنی اس مخلوق کے لیے سب سے افضل پیغمبر اور بہترین کلام بھیجا، تاکہ دنیا والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف رہنمائی عطا کرے۔

فارسی جاہلیت

ایران میں بھی جاہلی تہذیب کی حالت نہایت خراب تھی۔ وہاں مزدک نامی شخص نے ایسا مذہب بنایا تھا جس میں ہر چیز حلال تھی۔ بہن، ماں اور بیٹی، سب ہر شخص کے لیے حلال تھیں۔ یزدگرد دوم نے اپنی بیٹی سے نکاح کیا تھا، جبکہ بہرام  چوبین نے چھٹی صدی میں اپنی بہن سے نکاح کیا۔

مزدک کے فلسفے کے مطابق انسانوں کے باہمی قتل و قتال اور جنگوں کے دو بنیادی اسباب ہیں: دولت اور عورت۔ اگر ان دونوں کو سب کی مشترکہ ملکیت بنا دیا جائے تو کوئی اختلاف اور جنگ باقی نہیں رہے گی۔

ایرانیوں پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لوگ جتھوں کی صورت میں جس گھر میں چاہتے داخل ہو جاتے اور جو کچھ کرتے، اسے برا نہیں سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ہر چیز ہر شخص کے لیے حلال تھی۔

ایران میں فساد اس قدر پھیل گیا کہ خود ایرانی اس سے تنگ آ گئے۔ اس کے بعد مانی نامی ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کہ ایران میں شر پھیل چکا ہے، حلال و حرام کا فرق مٹ گیا ہے اور یہاں شیطان کا نظام قائم ہو گیا ہے۔ شر اور شیطانی قوت کے مقابلے میں خیر کی قوت بھی موجود ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یزدان اور اہرمن کا شرکیہ عقیدہ پیدا ہو گیا۔ یزدان کو خیر اور ہدایت کا خدا اور اہرمن کو شر اور گمراہی کا خدا سمجھا جانے لگا۔

فارسی ادب میں اللہ تعالیٰ کے لیے ’’یزدان‘‘ کا نام بھی استعمال ہوا ہے، لیکن علمائے اسلام، اللہ تعالیٰ کے لیے اس نام کا استعمال حرام قرار دیتے ہیں، کیونکہ اسے اہرمن، یعنی شر کے خدا، کے مقابل سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اپنے بہت سے خوب صورت نام ہیں اور اس نے اپنے بندوں سے فرمایا ہے کہ اسے انہی ناموں سے پکاریں، چنانچہ ارشاد ہے:

وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا     (سورۃ الاعراف: ۱۸۰)

’’ اور اسمائے حسنی (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہٰذا اس کو انہی ناموں سے پکارو۔ ‘‘

مانی کے زمانے میں دو خداؤں کا نظریہ سامنے آیا، جس کے مطابق یزدان کو خیر کا خدا اور اہرمن کو شر کا خدا سمجھا گیا۔

ایران میں بھی عقیدۂ توحید موجود نہیں تھا۔ بادشاہ خود کو خدا سمجھتے تھے اور لوگوں کے سامنے اعلان کرتے تھے کہ ان کی رگوں میں خدائی خون دوڑتا ہے۔

ایرانی جب اپنے بادشاہوں کے سامنے آتے تو فوراً سجدے میں گر پڑتے۔ قدیم فارسی ادب میں ’’قدم بوسی‘‘ کا لفظ کثرت سے ملتا ہے، مثلاً: ’’زمینِ خدمت ببوسید، قدم ببوسید‘‘۔ وہ شاہی خاندان کے افراد کو ہر طرح کی تنقید اور برائی سے بالاتر سمجھتے تھے اور ایسے ترانے بناتے تھے جن میں ان کی خدائی کا ذکر ہوتا تھا۔

ان کا خیال تھا کہ بادشاہوں کا ہر انسان پر حق ہے۔ تمام انسانوں کو ان کی تقدیس کرنی چاہیے، جبکہ کسی انسان کا ان پر کوئی حق نہیں۔ بادشاہ انسانوں کو جو کچھ دیتے ہیں، وہ محض ان کا فضل اور مہربانی ہے۔

تاج پہننے کا حق صرف شاہی خاندان کو حاصل تھا۔ جب شاہی خاندان میں مرد باقی نہ رہتے تو اسی خاندان کی عورتوں کے سر پر تاج رکھ دیا جاتا۔

حکمران دوسرے انسانوں کو اپنا خادم سمجھتے تھے۔ اقتدار اشرافیہ کے ہاتھ میں تھا، جبکہ عام لوگوں کو زمین خریدنے کا حق بھی حاصل نہیں تھا۔ جو شخص جس پیشے سے وابستہ ہوتا، وہی اس کی آئندہ نسلوں کا پیشہ بھی بن جاتا، اور کسی کو اسے بدلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر کوئی بڑھئی یا معمار ہوتا تو اس کی تمام نسلیں بھی بڑھئی اور معمار ہی رہتیں۔ کسی کو اپنا پیشہ بدلنے کا اختیار نہیں تھا۔ اگر کوئی شخص کمتر سمجھے جانے والے پیشے سے وابستہ ہوتا تو اسے یہ حق حاصل نہیں تھا کہ کوئی معزز پیشہ اختیار کر لے۔

اس طبقاتی نظام نے ایرانی قوم کو اس حال تک پہنچا دیا تھا کہ وہ شریعت اور وحی نام کی کسی چیز سے واقف نہیں رہی تھی۔ فارسی قومیت کو مقدس سمجھا جاتا تھا، وہ خود کو دوسری تمام قوموں سے برتر سمجھتے تھے اور یہی ان کا عقیدہ بن گیا تھا۔

وہ آگ کی عبادت کرتے تھے۔ ان کے ہاں آتش پرستی مانی کے خیر و شر کے خداؤں کے تصور سے پیدا ہوئی تھی۔ مانی کہتا تھا کہ خیر کے مقابلے میں شر اور تاریکی کے مقابلے میں روشنی ہے۔ روشنی کا مادہ آگ ہے، اس لیے روشنی کی ایک مستقل علامت قائم رکھنے کے لیے وہ ایسی آگ روشن رکھتے تھے جس سے مسلسل روشنی نکلتی رہے۔ نتیجتاً ان کے آتش کدے مقدس سمجھے جانے لگے۔

خلاصہ یہ کہ جس زمانے میں رسول اللہ ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے، اس وقت ایران میں حق کا کوئی اثر باقی نہیں تھا۔ بادشاہ اپنے لیے اپنا دین بناتے تھے، محرم عورتوں سے نکاح کرتے تھے، خدا، آخرت اور دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، اور صرف بادشاہوں ہی کو خدا کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

  • 1
    جاهلية القرن العشرين، ص: ۷ ↩︎
Previous Post

کفار کا معاشی بائیکاٹ | گیارہویں قسط

Next Post

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | نویں قسط

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | ستمبر 2026

8 اکتوبر 2026
نوائے امارت اسلامیہ (اگست ۲۰۲۶ء)
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

نوائے امارت اسلامیہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)

8 اکتوبر 2026
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن
نقطۂ نظر

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن

8 اکتوبر 2026
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

8 اکتوبر 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | سترہویں قسط

8 اکتوبر 2026
ہوئے تم دوست جس کے……
عالمی منظر نامہ

ہوئے تم دوست جس کے……

8 اکتوبر 2026
Next Post
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | نویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

ستمبر و اکتوبر 2026ء
ستمبر و اکتوبر 2026ء

ستمبر و اکتوبر 2026ء

by ادارہ
8 اکتوبر 2026

Read more

تازہ مطبوعات

تر ټولو وړاندې امریکا!
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

تر ټولو وړاندې امریکا!

مرکزی خیال: شهید شیخ احسن عزیز لیکوال: معین الدِّین شَامی ژباړن: عماد الدین خالد   ډاونلوډ کړی    

اکتوبر, 2026
یہ غزہ ہے
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

یہ غزہ ہے

تالیف: فضیلۃ الشیخ محمد صلاح الدین زیدان (سیف العدل)   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
د شام د جهاد درسونه
مطبوعات حطین

د شام د جهاد درسونه

د فضيلة الشیخ ایمن الظواهري بیان «فَلْنُقَاتِلْھُمْ بُنْیَانًا مَّرْصُوْصًا» له سریزې او حاشیو سره له سریزې او حاشیو سره   ...

ستمبر, 2026
گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملوں سے متعلق شبہات اور سازشی نظریات کا رد مصنف: نعمان حجازی   ڈاؤن لوڈ کریں ...

ستمبر, 2026
سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version