10. دہشت گردی کی اسٹریٹجی (ڈیٹرن؍Deterrence)
حملے سے باز رکھنے والے کے ہتھیاروں (ڈیٹرنس) کا مالک ہونا، ان کے استعمال سے بے نیاز کر دیتا ہے
ڈیٹرنس یہ ہے:
’’دشمن کو قابو میں رکھنے اور دو ریاستوں کے درمیان براہِ راست جنگ شروع ہونے سے روکنے والی صلاحیتوں کی حقیقی یا نفسیاتی ملکیت، تاہم یہ دیگر زمینی شعبوں میں تنازع کے جاری رہنے کو نہیں روکتا۔‘‘
نفسیاتی ڈیٹرنس صرف ہماری دشمن کو دھوکا دینے کی صلاحیت پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسی ساکھ (Reputation) اور تاریخ (History) پر مبنی ہوتی ہے جو مضبوط اور سچے مؤقف، اور دھمکیوں پر عمل درآمد کی سابقہ مثالوں سے بھری ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ ۭوَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (سورۃ الانفال: ۶۰)
’’ اور جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کر سکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی ،انہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔‘‘
یہ واضح کرنا اہم ہے کہ محض ڈیٹرنس کی صلاحیتوں کا مالک ہونا دشمن کی جارحیت کو نہیں روکتا، دشمن کو حملے سے جو چیز روکتی ہے وہ اس کا یہ یقین ہے کہ آپ واقعی اپنی موجودہ ڈیٹرنس کی صلاحیتوں کو استعمال کریں گے، اور اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ آپ پہلے بھی انہیں استعمال کر چکے ہیں اور دوبارہ استعمال کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، اسی مقام پر درج ذیل قاعدہ حقیقت بنتا ہے کہ ’’ڈیٹرنس کے ہتھیار کا مالک ہونا اس کے استعمال سے بے نیاز کر دیتا ہے‘‘۔
ڈیٹرنس میں دشمن کے حساس اہداف کو تباہ کن نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی شامل ہے، خواہ حملے کی نوعیت کچھ بھی ہو (مثال کے طور پر فدائی کارروائیاں)۔ یہاں سے میں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ استشہادی کارروائیوں کو ایک اسٹریٹیجک ہتھیار سے محاذوں پر ایک ٹیکٹیکل (Tactical) ہتھیار میں تبدیل کرنا ایک سنگین غلطی ہے، کیونکہ جو کام کسی گولے یا دھماکا خیز آلے (IED) سے کیا جا سکتا ہے اُس کے لیے جانیں ضائع نہیں کی جانی چاہئیں۔
٭٭٭٭
اوپر بیان کی گئی تعریف سے ہم دیکھتے ہیں کہ ڈیٹرنس دراصل طاقت کے ذرائع رکھنے اور ارادوں کی کشمکش کے تناظر میں ان ذرائع کے استعمال کا عندیہ دینے یا اس کی دھمکی دینے کا نام ہے، چنانچہ ڈیٹرنس ایک ایسا نفسیاتی عمل ہے جس کا ہدف دشمن کی قیادت کے ارادے کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ اور ہم نے سابقہ ٹیکٹیکل (Tactical) اسباق میں واضح کیا ہے کہ معرکے میں فتح دشمن کے جنگی ارادے کو توڑنے سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ صرف اس کی اراضی اور علاقے پر قبضہ کرنے سے۔
مختصراً، ڈیٹرنس کو دو صورتوں میں محدود کیا جا سکتا ہے:
- سخت طاقت (Hard Power) کے استعمال کی دھمکی: سزا کے ذریعے، محاصرے کے ذریعے، یا محرومی کے ذریعے۔
- نرم طاقت (Soft Power) کی ترغیبات کا اشارہ: امداد (Aid)، تحفظ، اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ذریعے۔
اور ڈیٹرنس کو اپنا کام انجام دینے کے لیے لازم ہے کہ تعریف میں بیان کردہ متعدد اصولوں کو پورا کیا جائے اور اُن کی پابندی کی جائے، جیسا کہ:
- صلاحیتوں کا حامل ہونا (Capabilities): یہ صلاحیتیں ’’عقائدی و نظریاتی، عسکری، معاشی، سیاسی یا جغرافیائی‘‘ ہو سکتی ہیں، اور مذکورہ میں سے ہر شکل مطلوبہ ہدف کے حصول کے لیے ڈیٹرنس قائم کرنے کے قابل ہے، بشرطیکہ دشمن کے عدمِ جواب کی صورت میں دھمکی پر عمل درآمد کیا جائے، اور یہ ہمیں اگلے اصول کی طرف لے جاتا ہے۔
- ساکھ (Credibility): ہم نے تمہید میں اس کا اظہار کیا تھا کہ آپ اپنی دھمکی پر عمل کرنے میں واقعی سچے ہیں، اور یہ اس لیے بالکل واضح ہے کہ آپ اس سے پہلے بھی اس کا استعمال کر چکے ہیں اور کوئی چیز آپ کو اسے دوبارہ استعمال کرنے سے روک نہیں سکتی۔ لیکن آپ محض اپنے قول و فعل میں تضاد کی وجہ سے ساکھ یعنی اعتبار کھو سکتے ہیں، کیونکہ یہ سب ایسے پیغامات ہیں جن کا دشمن گہرائی سے مطالعہ کرتا ہے اور اپنی سمجھ بوجھ میں آپ کی نفسیات کو بھی مدِنظر رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔
- معقولیت (Rationality): یہ تنازع کے دونوں فریقوں میں موجود ہونا ضروری ہے، خاص طور پر جب دونوں کے پاس طاقت کے عناصر اور انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت یکساں ہو۔ بات چیت یا مذاکرات کے ذریعے، جو ڈیٹرنس یا باہمی ڈیٹرنس کے معاملے میں نہایت اہم پہلو ہے، دونوں فریق اپنے لیے موزوں معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر تنازع کے فریقوں میں سے ایک کمزور ہو تو عقلی مذاکرات نرم طاقت (Soft Power) کا وہ رخ پیش کرتے ہیں جو مطلوبہ ڈیٹرنس کے حصول کا باعث بنتا ہے۔
- معلومات (Information): مخالف قیادت کے بارے میں نفسیاتی سطح پر درست معلومات کا ہونا ناگزیر ہے اور یہ کہ کون سا انداز اس کی نفسیات کے لیے موزوں ہے (دھمکی یا لالچ)۔ فطری طور پر یہاں قیادت سے مراد عقاب (جنگ پسند) اور کبوتر (امن پسند) جیسے وہ گروہ ہیں جو فیصلہ سازی میں حصہ لیتے ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے ہم اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ ہر رکن کا دوسروں پر کتنا اثر ہے اور اس کے ذریعے ہم کیا حاصل کر سکتے ہیں۔
- میڈیا (Media): خفیہ اور اعلانیہ، کیونکہ جو کچھ ’’سرگوشی کے ذریعے‘‘ حاصل کیا جائے اس میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں۔ میڈیا ہماری صلاحیتوں اور ہم کیا کر سکتے ہیں کو ظاہر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا ہمیں پوری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور ہماری شناخت، دعوت اور صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے، لیکن میڈیا کا یہ کام نہیں کہ اس چیز کو بے نقاب کر دے جسے پردہ میں رہنا چاہیے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس چیز کو نمایاں کرے جو ہماری ساکھ کی تصدیق کرے اور تقویت دے اور ان پوشیدہ انکشافات (Surprises) کو چھپائے جو ہم نے سنبھال کر رکھے ہیں۔
سیرتِ نبویہ (ﷺ) میں ڈیٹرنس کی اسٹریٹجی کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، آپؐ نے مذکورہ بالا اصولوں پر عمل کیا اور اپنے مخالفین پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب ہوئے۔
٭٭٭٭
بعض ذہین عسکری کارروائیاں، جن کے پیچھے ماہر جنگی دماغ کارفرما ہوں، دشمن کو روکنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کے لیے ہمیں بلند درجے کے خطرے کے ساتھ محتاط انداز میں منصوبہ بند عسکری تدبیریں کرنا پڑ سکتی ہیں۔ یہ تدبیریں بطور ایک عسکری اقدام ایسا اثر پیدا کر سکتی ہیں جو ایک قسم کی ڈیٹرنس کی نمائندگی کرے، جس کے نتیجے میں دشمن اپنے منصوبہ بند اقدامات سے باز آ جائے۔ مثال کے طور پر دشمن مختلف علاقوں سے اپنی فوجی قوت کو اکٹھا کر کے ایک آپریشنل علاقے میں جمع کرے تاکہ ہمارے لشکر کے مرکزِ ثقل پر ایک عمومی حملہ کیا جا سکے۔ اگر دشمن یہ اجتماع مکمل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اسے زبردست برتری حاصل ہو جائے گی جو ہمارے لشکر کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ہماری عسکری قیادت، اپنی چھوٹی مگر نہایت متحرک اور اعلیٰ تربیت یافتہ یونٹس کو آگے بڑھاتی ہے تاکہ وہ تیز رفتار چال سے ان افواج کے روانگی کے مراکز (لانچنگ پوائنٹس) تک پہنچیں اور ان پر شدت سے اور بھرپور قوت کے ساتھ، ایک سے زائد مرتبہ حملہ کریں یا پھر فوجوں کے اجتماع کے علاقے کی طرف بڑھتی ہوئی یونٹس کے اطراف یا عقب پر حملہ کریں۔ یہ چال بازی دشمن کے حساب کتاب کو درہم برہم کر دیتی ہے، اس میں شدید شکوک پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی بنیادوں کو محفوظ بنانے کی خواہش کرنے لگتا ہے، کیونکہ اگر اس کا حریف کمزور ہوتا تو وہ گہرائی میں ایسی طاقتور چال نہ چلتا اور نہ ہی اس شدت کے ساتھ اس کے مراکز کو خطرے میں ڈالتا۔ یہ چال دشمن کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ اجتماع کے لیے روانہ کی گئی یونٹس کو اپنے مراکز کے دفاع کے لیے واپس بلائے اور عمومی حملے کے منصوبے پر دوبارہ غور کرے۔
اس طرح ان جنگی مشقوں اور چالوں نے دشمن کو اپنے منصوبوں پر عمل درآمد سے باز رکھا، اگرچہ یہ ایک روایتی قوت تھی، مگر عملی طور پر یہ ایک ’’حملے سے باز رکھنے والے ہتھیار‘‘ (Weapon of Deterrence) میں تبدیل ہو گئی جس نے دشمن کے حملے کو ناکام بنا دیا، (اس کی مثال 1862ء میں امریکی خانہ جنگی کے دوران جنرل جیکسن کی چال ہے)۔
اوپر بیان کی گئی جنگی چال یا تدبیر درج ذیل امور پر مبنی تھی:
- حریف کی نفسیات کو سمجھنا اور اس پر اثر انداز ہونا: یہ جاننا نہایت اہم ہے کہ دشمن آپ کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ جب دشمن کی قیادت حد درجہ حساس اور محتاط ہو، یہاں تک کہ وسوسے کا شکار ہو، اور غلطیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ملامت اور باز پرس سے خوفزدہ ہو، تو دشمن کی کمزور جگہوں یا اس کی متحرک ؍ موبائل یونٹوں پر شدید حملوں اور تباہ کن گولہ باری کے ساتھ تیز رفتار شعوری زمینی حرکات، لوگوں کی نفسیات پر اثر ڈالتی ہیں اور آپ کی ایک ہولناک تصویر بنا دیتی ہیں جو خود بخود بڑھتی چلی جاتی ہے اور دشمن کی قیادت کے ذہن میں ایک خوفناک وہم تشکیل دیتی ہے جو اسے بوکھلا دیتا ہے اور اس کے منصوبوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ بے شک رسول اللہ ﷺ کو ایک ماہ کی مسافت کے برابر رعب کے ذریعے نصرت عطا کی گئی۔
- نپی تلی زمینی پیش قدمی: جیسے (دشمن کی) موبائل فورسز کے اڈوں پر حملے کے لیے پیش قدمی کرنا یا خود انہی فورسز کے اطراف یا عقب میں کارروائی کرنا، یا دشمن کے مرکزی ہیڈکوارٹر یا اس کے دارالحکومت کی سمت پیش قدمی کرنا، یہ سب دشمن کو اپنے اندازے از سرِ نو تیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے، خواہ اس قوت کے بارے میں جو اس پر حملہ آور ہے یا اس مرکزِ ثقل کے بارے میں جسے وہ ختم کرنا چاہتا تھا۔ سادہ الفاظ میں، اس وقت دلیری کے ساتھ نمودار ہونا جب دشمن آپ کو کمزور سمجھ رہا ہو، اس کے لیے آپ کے اقدامات کو سمجھنا مشکل بنا دیتا ہے۔ یہ کیفیت آپ کے مخالف فریق میں اضطراب اور شدید خوف پیدا کرتی ہے، آ پ کو وہ شہرت دیتی ہے جو انہیں دہلا دیتی ہے اور آپ کے حلیفوں (کے عزم) میں اضافہ کرتی ہے، اور ساتھ ہی آپ کو اتنا وقت بھی دیتی ہے کہ آپ اس جنگ کی تیاری کر سکیں جو آپ ان پر آئندہ مسلط کریں گے۔
سیرتِ نبوی (ﷺ) ایسی نقل و حرکت (گشت) سے بھری پڑی ہے، جو قوت کے اظہار کے لیے اور گھات لگائے بیٹھے دشمن کو حملے سے باز رکھنے کے لیے کی جاتی تھیں۔
- میدانِ جنگ کو اسٹریٹیجک طور پر سمجھنا اور موبائل فورسز کی دستیابی جو سریع الحرکت ہوں اور اچھی طرح تربیت یافتہ ہوں: یہ آپ کو ہمیشہ صحیح جگہ اور صحیح وقت پر گہرائی میں کارروائیاں انجام دینے کے قابل بناتا ہے۔ جب دشمن آپ کے حامی و وفادار دیہی علاقوں پر حملہ کرے تو مناسب قدم یہ ہے کہ آپ بھی اس کے حامی و وفادار دیہی علاقوں پر اسی قوت سے ضرب لگائیں، آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول کے مطابق۔ دشمن کے شہروں کو بھی اسی طرح تکلیف اٹھانی چاہیے جیسے ہمارے شہر اٹھاتے ہیں، اور جو کچھ وہ ہمارے دیہات میں کرتا ہے اسے دردناک اور تکلیف دہ قیمت کے بغیر نہیں گزرنا چاہیے۔ لہٰذا اسے ہر اُس حملے کے بدلے جس کا ہم سامنا کرتے ہیں، ایسے ہی حملے کی توقع رکھنی چاہیے جو اسے دوہرا نقصان پہنچائے۔ یہ سب اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہماری بہترین تربیت یافتہ فورسز فوری طور پر متحرک ہونے کے لیے تیار ہوں۔ اور تنازع کو ٹکڑوں میں دیکھنے کے بجائے پورے نقشے کو دیکھ کر اسٹریٹجی وضع کی جائے۔ (یہ بروس اسکاٹ لینڈ کی کتاب گوریلا حربے کا نچوڑ ہے)۔
- مضبوط سیاسی پیغامات اور کمزور کی شکایت میں فرق: جب آپ حملے کی زد میں ہوں اور فوراً دشمن سے رک جانے کی درخواست کرنے لگیں، یا اسے دھمکی دیں کہ اگر وہ نہ رُکا تو آپ یہ یا وہ کر دیں گے، تو یہ ایک محدود تصور ؍ وژن ہے جو کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور آپ کے ارادوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ اسے شائستہ سفارتی الفاظ بھیج کر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہیں، تو یہ ایسی شکایت ہے جو کچھ فائدہ نہیں دیتی۔ یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اپنے الفاظ کو عمل میں بدلنے میں سنجیدہ ہوں، آپ کا جواب ایسا اشارہ لیے ہو جو اسے باقی بات خود تصور کرنے پر مجبور کر دے۔ (جیسا کہ خلیفہ ہارون الرشیدؒ نے روم کے بادشاہ کو لکھا تھا: رومیوں کے کتے کے نام: جواب وہ ہے جو تم دیکھو گے، نہ کہ جو تم سنو گے)، پیغامات اس طرح ہونے چاہئیں۔
اور ایک بات باقی رہ گئی جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’اگر ڈیٹرنس اپنی ساکھ (Credibility) کھو دیتی ہے تو اس کے عناصر خود بخود ایسے محرک نکات (یعنی اشتعال) میں بدل جاتے ہیں جو حریف کے حوصلے بلند کر دیتے ہیں‘‘۔
٭٭٭٭
خود احتسابی، اصلاح اور ڈیٹرنس میں تبدیلی
جب سیاسی و عسکری چالیں نمایاں تسلسل کے ساتھ ایک بند گلی کی طرف بڑھ رہی ہوں، منظر دھندلا جائے، الجھنیں کاموں کی عمومی صفت بن جائیں، ناکامی قیادت کے ساتھ لگی رہے اور اس کا ساتھ نہ چھوڑے، شکست، ٹوٹ پھوٹ اور انحراف ایک کے بعد ایک رونما ہو رہے ہوں، فیصلے مایوس کن ہوں اور ان کے نتائج ہلاکت خیز اور تباہ کن ثابت ہوں، مایوسی کے سائے نفوس پر چھا جائیں، سرنگ کے آخر میں روشنی کی کوئی کرن نظر نہ آئے اور افق کی بندش واضح ہو جائے، تو یہاں لازماً نظرثانی اور اصلاح کے لیے ٹھہرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
اصلاح کا پہلا قدم سنتِ استبدال (تبدیلی کی سنت) ہے، یعنی فاسد و بدعنوان اور ناکام عناصر کو الگ کرنا۔ یہ امر صرف حکومتوں اور طاغوتوں تک محدود نہیں، بلکہ بہت سی جماعتیں، تنظیمیں اور اسلامی تحریکوں کے دھڑے مظالم اور بدعنوانی کا شکار ہیں اور اپنے لوگوں کے ہاتھوں یعنی جماعتوں کے اندر سے حقیقی اصلاح کے محتاج ہیں، تاکہ ان آفات کا علاج کیا جا سکے جن میں وہ بیرونی اثرات کے باعث مبتلا ہوئے، لیکن، جب اصلاح کو ناکام عناصر کی ہٹ دھرمی اور مزاحمت کا سامنا ہو اور ان کا بنیادی پروگرام ہی اصلاح کی کوششوں کی مخالفت اور انہیں ناکام بنانا بن جائے، تو لازماً تبدیلی کے لیے ایک ٹھوس موقف کے ذریعے انہیں روکنا اور باز رکھنا پڑتا ہے۔
اور یہاں تبدیلی کا اندر سے ہونا بھی لازم ہے، یہ اندرونی اصلاحی انقلاب کا ایک چھوٹا نمونہ ہے جو ناگزیر ہے۔ تبدیلی کی قیادت کرنے والوں کی اہم ترین صفات یہ ہیں کہ وہ تقویٰ اور دین کے حامل ہوں، حقیقت سے باخبر ہوں، خرابی کے مقامات کو زیادہ جانتے اور علاج، دوا کی مقدار اور اس کے اوقات کو بہتر سمجھتے ہوں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ تبدیلی کے خواہاں مخلص اتحادیوں کا ایک اندرونی نیٹ ورک تشکیل دیں جو بعض اہم شعبوں کو کنٹرول کرتے ہوں، اور یہ کہ وہ اہلِ فضل اور طاقتور لوگوں کی سرپرستی اور تائید حاصل کریں اور خود کو ان کے مشورے اور تجربے سے محروم نہ رکھیں، اور یہ کہ وہ سپاہیوں کے قریب رہیں، انہیں خرابی کے مقامات اور علاج کے طریقے واضح کریں، اور انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ظالموں کی روک تھام کے لیے تلوار اور ڈھال کے درمیان کب، کیسے اور کہاں منتقل ہونا ضروری ہے۔
چنانچہ قیادت کبھی وار کرنے والی تلوار ہوتی ہے اور کبھی حفاظت کرنے والی ڈھال، اور اسی طرح سپاہی کبھی تلوار ہوتے ہیں اور کبھی ڈھال۔
اور اگر ہماری اسلامی تنظیمیں بالعموم اور ان میں جہادی تنظیمیں بالخصوص خود احتسابی کرتیں، اصلاح کا آغاز کرتیں اور اپنی صفوں کو (بیرونی) حامیوں (External Supporters) اور (اندرونی) سازشیوں کی آلودگیوں اور آفات سے پاک کر لیتیں تو اس میں ہر اُس قیادت والے گروہ کے لیے ڈیٹرنس ہوتی جو دن کے خوابوں اور وہموں میں ڈوب گیا ہو یا جسے بیرونی شر پسندوں کے ہاتھوں نے دھوکے میں مبتلا کر دیا ہو۔
٭٭٭٭
11۔ شمولیت سے انکار یا علیحدہ کی اسٹریٹجی
خود کو کچھ فاصلے پر رکھیں تاکہ آپ امور کو ان کی حقیقت میں دیکھ سکیں
تنازع کے دوران ہماری فورسز کو مصروفیت کے ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جنگ جیتنے کے تناظر میں ہمیں بعض ایسی لڑائیوں سے بچنا چاہیے کہ اگر ہم انہیں لڑیں تو ہماری قوت کو مادی اور معنوی نقصان پہنچے، جس کی تلافی میں طویل وقت لگتا ہے (اس کی مثالیں جاور، کوبانی، حلب اور حماہ کے معرکے ہیں)، یہاں جگہ (زمین) کے بدلے وقت کا حصول ناگزیر ہو جاتا ہے، دفاع اور حملہ ہی جنگ کے صرف دو پہلو نہیں ہیں، انخلاء بھی ایک پہلو ہے۔
’’واپسی ، انخلا (Withdrawal)، پسپائی (Retreat)‘‘ ایسے نام ہیں جو ایک منظم عسکری عمل کی نشاندہی کرتے ہیں، جن کا ’’فرار (Fleeing)‘‘ سے کوئی تعلق نہیں، فرار (Fleeing) بے ترتیبی کی ایک حالت ہے جو جانوں اور ساز و سامان میں تباہی کا باعث بنتی ہے (جس کی مثال 1967ء میں مصری فوج کا فرار تھا)، انخلا ایک نہایت دقیق نظم اور اعلیٰ منصوبہ بندی پر مبنی عسکری چال ہے جس کی مثال حضرت خالد بن ولیدؓ کا مؤتہ سے انخلا تھا)۔
انخلا کا فیصلہ اس وقت کیا جاتا ہے جب قوتوں کا توازن نمایاں طور پر بگڑ جائے، اور پسپائی اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک قیادت یہ نہ دیکھ لے کہ انخلا نے دوبارہ قوتوں کا توازن قائم کر دیا ہے، خواہ یہ کمک کی افواج کے پہنچنے سے ہو، یا انتہائی دشوار گزار زمین تک رسائی سے، یا تعاقب کے دوران دشمن کی افواج کا بکھر جانا اور تھکن کا شکار ہونا، یا دشمن کی سپلائی لائنوں کا طویل ہونا اور ان کی کمزور حفاظت، جب دشمن کی غلطیاں بڑھنے لگیں تو یہی انخلا کے خاتمے اور لچک دار و تیز رفتار ضربیں لگانے کے لیے واپسی کا وقت ہوتا ہے۔
٭٭٭٭
انخلا کا آغاز فریب کاری کے اقدامات سے ہوتا ہے جو دشمن کے ساتھ رابطہ ٹوٹنے کو چھپانے میں مدد دیتے ہیں اور پھر باقاعدگی کے ساتھ پیچھے ہٹا جاتا ہے تاکہ (گوریلا جنگ کی صورت میں) عارضی طور پر غائب ہو کر دشمن کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ آرائی سے بچا جا سکے، یا لڑائی جاری رکھنے کے لیے بہتر مقام (پوزیشن) پر قبضہ کیا جا سکے (مثلاً 2001 میں قندهار اور 2016 میں المُکلَّا سے مجاہدین کا انخلا)، یا روانگی کے مرکز (Main Base) پر واپس آیا جا سکے (مثلاً زرمت سے انخلا یا مؤتہ میں علیحدگی (Disengagement) کی چال)، یا وقت حاصل کرنے، صورتِ حال میں تبدیلی، نفری کو مضبوط کرنے یا ریزرو طلب کرنے کے لیے (ٹیکٹیکل (Tactical) انخلا)، یا جنگی مشن انجام دینے کے بعد واپسی کے لیے (گھات لگانا، چھاپہ مارنا، سراغ رسانی ، اغوا یا تخریب کاری کے لیے در اندازی وغیرہ)۔
انخلا ایسے وقت میں کیا جاتا ہے جو پیچھے ہٹنے والی قوتوں کو کمزور حدِ نگاہ کا پردہ فراہم کرے (مثلاً رات یا دھند کے وقت) تاکہ دشمن کو کسی بھی برتری سے محروم رکھا جا سکے اور انخلا کے راستے نہایت باریکی سے متعین کیے جاتے ہیں جبکہ ان راستوں کو تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے، یہ تحفظ پسپائی کی چال کا حصہ ہے اور جنگ میں تاخیر کے اسالیب میں سے ایک ہے۔
٭٭٭٭
واپسی؍ انخلا کے اصول
- لچک: منصوبہ ایسا ہونا چاہیے کہ انخلا کے عمل کے دوران کسی بھی نئی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے قابلِ توسیع ہو۔
- سادگی: منصوبے حقیقت پسندانہ، منطقی اور سادہ ہونے چاہئیں تاکہ انہیں سمجھنا اور نافذ کرنا ممکن ہو۔
- رازداری: جس میں وقت، حرکت کا راستہ اور انخلا کے منصوبے کی رازداری شامل ہے۔
- تعرضی کارروائی: فرد کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ انخلا کا ہدف دشمن کو توڑ دینا ہونا چاہیے، مثلاً وہ مقامات جنہیں سنبھالنا اور جن میں لڑائی کرنی ہو، گھاتیں اور فریب کے پھندے، بارودی سرنگوں کے میدان، جوابی حملے کے علاقے وغیرہ۔ کسی بھی اچھی طرح منصوبہ بند اور نافذ کیے گئے انخلاء کی (تعرضی) نوعیت کے بارے میں سپاہیوں کو مسلسل یاد دہانی کراتے رہنا چاہیے۔
- حوصلہ ؍مورال: ایسی صورتِ حال میں حوصلے بڑھانے کا بہترین محرک یہ ہے کہ اپنے آدمیوں کو اس بات سے مکمل طور پر باخبر رکھیں کہ آپ کی منصوبہ بندی کیا حاصل کرنا چاہتی ہے اور ناخوشگوار حقائق نہ چھپائیں، کیونکہ اعلیٰ نظم و ضبط رکھنے والے سپاہی صورتِ حال کی بحالی میں مدد پیش کر سکتے ہیں، لیکن آپ کو افواہوں کے کچلنے اور منفی گفتگو میں مبالغہ آرائی کے سدباب میں سخت ہونا چاہیے۔
- کنٹرول: ایک سادہ منصوبے سے آغاز کریں، اسے درستگی اور براہِ راست انداز میں وضع کریں، پھر اس کے اہم حصوں کے نفاذ پر براہِ راست نگرانی کریں، جیسے ابتدائی اور ترجیحی راستہ شناسی، گزرگاہیں اور چوکیاں (چیک پوائنٹس)وغیرہ، مختلف مراحل میں ساز و سامان کی تلافی اور جب بھی ممکن ہو گرم کھانوں کا بندوبست۔ وقت کی دقیق پابندی اور معاون اکائیوں اور اطراف ؍پہلوؤں میں موجود یونٹوں کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھیں۔
- سکیورٹی: سکیورٹی پر مسلسل زور دیا جانا چاہیے اور سکیورٹی میں کسی بھی قسم کی کمزوری کو تیزی اور مضبوطی سے دور کیا جانا چاہیے تاکہ منصوبے کی سالمیت اور اس میں شریک افراد کی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
٭٭٭٭
مصنف ’’رابرٹ گرین‘‘ کا خیال ہے1کچھ تصرف کے ساتھ۔ کہ ہجرتِ نبوی (ﷺ) نے دعوتی سطح پر ایک قسم کی علیحدگی اور عسکری تصادم سے انکار کی صورت اختیار کی۔ قریش کے ساتھ فکری داخلی کشمکش اور ہر تبدیلی کے خلاف اندھی دشمنی کے منظر میں مکہ اب دعوت کی کامیابی کے لیے مناسب حد تک زرخیز نہ رہا تھا اور دشمنی اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گئی جب کفارِ قریش نے نبی ﷺ کے قتل کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ مدینہ کی طرف ہجرت کا اسٹریٹیجک فیصلہ کیا گیا، جہاں ایک زرخیز سرزمین میسر آئی جس نے پوری دنیا کی طرف اسلام کے پھیلاؤ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اسی طرح اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لے جانا بھی ایک غالب قوت سے علیحدگی کی ایک صورت تھی اور وہ اس سرزمین کی طرف منتقل ہوئے جہاں انہوں نے بنی اسرائیل کی نفسیات کو سالوں کی آوارگی کے دوران دوبارہ تعمیر کیا۔
پھر ’’گرین‘‘ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تصادم سے علیحدگی یا اس میں عدم مشغولیت کی اسٹریٹجی درست سوچنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے، کیونکہ آپ حملہ آور کے تشدد سے دور رہتے ہیں اور انتقامی ردِعمل سے آزاد ہوتے ہیں جو مکمل منظر نامے کو دیکھنے میں رکاوٹ بنتا ہے اور تحریک کو عمل اور ردِعمل کے محدود دائرے میں قید کر دیتا ہے، اور یہ سب عوامل آپ کو اصل ہدف کے حصول سے دور کر دیتے ہیں۔ چنانچہ ہجرت مسلمانوں کو ایسے تصادم میں الجھنے سے بچانے کے لیے آئی جو انہیں تھکا دیتا اور فنا کر دیتا۔ اس کے بجائے ہجرت نے انہیں اتنا وقت فراہم کیا کہ وہ اپنے نفوس کو ایک مرحلے کے بوجھ سے پاک کریں اور تعمیر و نمو کے مرحلے میں داخل ہوں، پھر واپسی ہو انتقام کے لیے نہیں بلکہ عمومی ہدف کے حصول کے لیے، اور وہ ہدف اخلاص، تجرد، غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ اسلام کی اشاعت ہے۔
یقیناً تصادم سے علیحدگی یا اس میں عدم مشغولیت کی اسٹریٹجی ہمیں وہ حقیقی فاصلہ عطا کرتی ہے جس سے ہم امور کو ان کی حقیقت میں دیکھ سکیں، بجائے اس کے کہ ایسے انہماک میں ڈوب جائیں جو ہماری بصیرت کو محدود کر دیتا ہے اور ہم اچھی سوچ اور تدبیر کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ درخت اس شخص کو نظر نہیں آتا جو اس کے نیچے کھڑا ہو، لیکن جب وہ اس سے ہٹ جاتا ہے تو اسے مکمل طور پر دیکھ سکتا ہے۔
گزشتہ صدی کے وسط سے لے کر آج تک ’جیل‘ ایک طرح سے اسلامی تحریکوں اور مسلم ممالک کی تمام طاغوتی حکومتوں کے درمیان تصادم سے جبری علیحدگی (Disengagement) کی مانند رہی ہے۔ اس کی ابتدا اخوان المسلمون سے ہوئی اور پھر دیگر جماعتوں تک پھیلی۔ جیل نے انہیں اپنے تجربے کا جائزہ لینے اور تنازع کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو ازسرِ نو مرتب کرنے کے لیے بہت سا وقت فراہم کیا۔ فطری طور پر، جیل کا وہ ماحول جو آزادی سے محروم، جبر، ذلت، تشدد اور بند نظریات سے بھرا ہوا ہوتا ہے، ان پر مخصوص رجحانات مسلط کرتا رہا، چاہے وہ ہتھیار ڈال دینا ہو یا مفاہمت اختیار کرنا، یا منفی اور گوشہ نشینی جیسی نظرِ ثانیوں سے گزرتے ہوئے عمومی تکفیر تک پہنچ جانا ہو2طاغوتی حکومتوں کی جیلوں میں خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے بہت سے مخلص لوگوں کے ارادے توڑ دیے اور انہیں ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا، جس کا اثر ان کے ہاں جدوجہد کے فیصلے پر بھی پڑا، اسی لیے انہوں نے ہر اس چیز سے بچنے کی کوشش کی جو انہیں دوبارہ جیل کے تجربے کی طرف لے جا سکتی تھی۔ اس بیان کی روشنی میں کچھ لوگ ان پر سختی سے حکم لگاتے ہیں اور کچھ دیگر انہیں معذور سمجھتے ہیں۔۔ جیل کا ماحول زہریلی فضا سے لبریز ہوتا ہے جو تصادم سے علیحدگی (Disengagement) کو حقیقی نہیں بناتا بلکہ اسے ایک اسیر اور مقہور تصادم (Engagement) میں بدل دیتا ہے۔
یہ ماحول تبدیلی کے لیے درست تصور ؍ وژن پیش کرنے میں مددگار نہیں، بلکہ ایک ایسا فلسفہ ہے جو انہیں کام کے مسخ شدہ اور فاسد پروگراموں کے مطابق ایک قسم کی زندگی عطا کرتا ہے۔ چونکہ یہ جبر اور قید کی تاریکی میں پیدا ہوا ہے اس لیے یہ ایک ایسا تصور؍ وژن ہو گا جو ایسے قوانین اور فلسفوں کا اسیر ہو گا جو اسے تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے، چاہے وہ اقتدار کی منتقلی کے لیے حاکم نظام کے نظریے کی نوعیت سے کتنی ہی ہم آہنگ کیوں نہ ہو جائے۔ یہ منظر گزشتہ صدی کی آخری دہائی اور موجودہ صدی کے آغاز سے واضح ہے۔
حتیٰ کہ جب حالیہ انقلابات نے ان میں سے بعض کو اقتدار تک پہنچایا اور بعض کو اس پر مسابقت کے ماحول میں داخل کیا تو ان کا سفر اسی مغلوب اور شکست خوردہ نفسیات کے مطابق رہا۔
اور یہاں ہم واضح فرق محسوس کرتے ہیں کہ آزاد اور متحرک ماحول میں ذاتی تصادم سے علیحدگی اختیار کرنا یا اس سے گریز کرنا اور دشمن سے محفوظ علاقوں کی طرف رجوع کرنا ہمیں اتنا وقت فراہم کرتا ہے کہ ہم دوبارہ پہل (Initiative) حاصل کر سکیں اور عمومی ہدف کے حصول کے لیے ایک بار پھر لوٹ آئیں۔ آزاد فضا آپ کو اپنے اور دوسروں کے درمیان فرق کا ادراک کراتی ہے، آپ خود کو، اپنے حامیوں کو اور اپنے دشمن کو سمجھتے ہیں، آپ پورا منظر اور اس کی اصل حقیقت کو دیکھتے ہیں۔ یہ سب تصادم کے دوران یا جیل کی تاریکی میں آسان نہیں ہوتا۔ اسی لیے آزاد ماحول میں پروگرام سابقہ منہج کے تسلسل اور اسی راستے کی تکمیل کے طور پر آتے ہیں، لیکن، زیادہ شعور اور پختگی کے ساتھ، تاکہ آپ اپنی کی ہوئی غلطیوں کی اصلاح کریں اور خلا کو پُر کریں، نیز آپ ان اسبابِ تمکین کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جن سے پہلے غفلت برتی گئی تھی اور اپنے رب پر بہتر توکل اختیار کریں اور اسی سے توفیق اور حفاظت کی امید رکھیں، کیونکہ فتح اسی پاک اور بلند ہستی کی طرف سے ہے:
وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَلِتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ ۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ (سورۃ آل عمران: ۱۲۶)
’’اللہ نے یہ سب انتظام صرف اس لیے کیا تھا تاکہ تمہیں خوشخبری ملے، اور اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہو، ورنہ فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے، تمام تر حکمت کا بھی مالک۔‘‘
برسوں کی آوارگی کے بعد اسلامی تحریکوں کے اندر آئندہ نسلوں میں سے ایسے گروہ بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو ان سے زیادہ مضبوط اور ثابت قدم ہوں، لیکن اس کے برعکس دوسری نسلیں بھی ہیں جو افغانستان، صومالیہ، یمن اور مراکش وغیرہ میں آزادی کی فضا میں پروان چڑھیں، ان کے سینے آزادی کی خوشبو اور تبدیلی کی ہواؤں سے بھر گئے اور ان شاء اللہ ان کے پوتوں کی نسل اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک وہ اپنے آباؤ اجداد کی بوئی ہوئی فصل کا پھل نہ چُن لیں۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1کچھ تصرف کے ساتھ۔ ↩︎
- 2طاغوتی حکومتوں کی جیلوں میں خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے بہت سے مخلص لوگوں کے ارادے توڑ دیے اور انہیں ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا، جس کا اثر ان کے ہاں جدوجہد کے فیصلے پر بھی پڑا، اسی لیے انہوں نے ہر اس چیز سے بچنے کی کوشش کی جو انہیں دوبارہ جیل کے تجربے کی طرف لے جا سکتی تھی۔ اس بیان کی روشنی میں کچھ لوگ ان پر سختی سے حکم لگاتے ہیں اور کچھ دیگر انہیں معذور سمجھتے ہیں۔ ↩︎













