۵ ستمبر ۱۹۶۴ء کو امریکی سیاہ فام نو مسلم ملک شہباز المعروف ’’مالکم ایکس‘‘ (Malcom X) دو روزہ دورے پر مصر سے غزہ پہنچے جہاں انہوں نے خان یونس کے مہاجر کیمپ، ایک مقامی ہسپتال اور غزہ کی پارلیمانی عمارت کا دورہ کیا اور وہاں پریس کانفرنس بھی کی۔ اس زمانے میں غزہ مصر کے کنٹرول میں تھا۔ مالکم ایکس نے اہل غزہ کو جہاد کرنے کی ترغیب دی اور انہیں واضح کیا کہ مسئلے کی اصل جڑ امریکہ ہے اس لیے انہیں امریکہ کے خلاف لڑنا ہو گا۔ غزہ کی مقامی اخبار ’’اخبار فلسطین‘‘ نے اس دورے کی خبر نشر کی جس کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
مالکم ایکس پناہ گزین کیمپوں میں کہتے ہیں:
تمہیں امریکہ کے خلاف لڑنا ہو گا
غزہ کے علاقے میں حاجی ملک شہباز پہنچے، جو امریکی مسلمانوں کے رہنما اور افریقی نژاد امریکی تنظیم کے صدر ہیں۔ وہ دو روزہ دورے پر آئے تھے، جس کے دوران انہوں نے پناہ گزین کیمپوں، عامر کے زرعی فارمز اور علاقے کے ہسپتالوں کا دورہ کیا…… ان کے ہمراہ متحدہ عرب جمہوریہ کی وزارتِ خارجہ کے نگرانِ عام جناب احمد البرعی اور قاہرہ میں مجلسِ اعلیٰ برائے اسلامی امور کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مدیر جناب محمد فتحی محمود بھی تھے۔
ملک شہباز نے جبالیہ کے کیمپ میں ایک پناہ گزین خاتون سے کہا کہ اپنی غصب شدہ سرزمین کے بارے میں زیادہ باتیں نہ کریں، بلکہ آپ کو ہتھیار اٹھانے چاہییں اور معرکے کی طرف بڑھنا چاہیے…… پھر اپنے ساتھ موجود لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ باعثِ عار ہے کہ پناہ گزین بے کار بیٹھے امیدیں باندھے رہیں…… انہیں فوراً جنگِ آزادی میں شامل ہونا چاہیے اور ہتھیار لے کر اپنے وطن واپس لوٹنا چاہیے۔
فلسطین کے مسئلے کے بارے میں اپنی رائے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ملک شہباز نے کہا کہ یہ امریکی سامراج اور صہیونیت کا مسئلہ ہے…… اور امریکہ میں نسلی امتیاز کا مسئلہ بھی یہی ہے…… اور دنیا میں کہیں بھی آزادی کی جدوجہد کا مسئلہ بھی یہی ہے…… امریکہ کے بارے میں عربوں کو اپنے مؤقف کے ساتھ اس کا سامنا کرنا چاہیے…… ہم ہمیشہ ایسے لوگوں سے سنتے ہیں جو کہتے ہیں کہ سامراج اور صہیونیت ہی نے اسرائیل کو پیدا کیا…… حالانکہ یہ کہنا چاہیے کہ امریکہ…… اور امریکہ میں حکمران اقتدار ہی وہ قوت ہے جس نے اسرائیل قائم کیا اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی حمایت کرتا ہے۔
اور اسی بنیاد پر عربوں کو اور امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی تردد یا کمزوری کے امریکہ کا سامنا کرے…… اور میرا ماننا ہے کہ یہی بات سربراہی کانفرنس میں شریک ہونے والے لوگوں کے سامنے پوری طرح واضح ہونی چاہیے۔
ملک شہباز، جو طویل عرصے تک مالکم ایکس کے نام سے مشہور رہے، نے کہا کہ عرب اتحاد وہ باعزت ترین راستہ ہے جسے عرب قوم اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اختیار کر سکتی ہے…… اور جس دن عرب قوم کا اتحاد قائم ہو جائے گا، اس دن تم ’’اسرائیل‘‘ کو عرب سرزمین پر نہیں دیکھو گے……یہ ایک بہت بڑا مذاق ہے…… اور یہ ایک سنگین عار ہے کہ دس لاکھ بے گھر یہودی آٹھ کروڑ عربوں کے مقابل کھڑے ہوں…… اور ہم انتظار کرتے رہیں۔
اس کے بعد ملک شہباز نے جامع مسجد عمری میں عشاء کی نماز ادا کی اور غزہ کی پارلیمنٹ میں ایک پریس کانفرنس بھی کی…… اس سے قبل انہوں نے گورنر جنرل کی صیافت میں ظہرانہ کھایا۔ اس ضایافت میں گورنر جنرل کے دفتر کے ڈائریکٹر، کرنل محمد مصطفیٰ خفاجی، گورنر جرنل کی انتظامیہ کے ارکان، محکمہ عدلیہ اور علاقے کے علماء کی نمائندگی کرتے ہوئے شریک ہوئے تھے۔
٭٭٭٭٭













