امارت کا مرکزی دفتر اور امیر المومنین کی روزمرہ سرگرمیاں
ملا محمد عمر مجاہد نے افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار سے اسلامی حکومت کے قیام کا اعلان کیا، اور امریکی جارحیت کے آغاز تک وہ قندھار ہی میں مقیم رہے۔ وہیں سے وہ ریاست کے تمام عسکری اور شہری امور کی نگرانی اور رہنمائی کرتے تھے۔
اگرچہ افغانستان کا موجودہ دارالحکومت کابل ہے اور وہاں وزارتیں، سرکاری ادارے، سپریم کورٹ اور مجموعی انتظامی ڈھانچہ قائم تھا، تاہم امارت سے متعلق اہم اور اساسی فیصلے اور بنیادی حکومتی امور براہِ راست ملا محمد عمر مجاہد کی نگرانی میں رہتے تھے، اور وہ ریاستی نظام کے مرکزی معاملات میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے تھے۔
چونکہ طالبان کی اسلامی تحریک کا آغاز قندھار سے ہوا تھا، اس لیے تحریک کے بیشتر عسکری قائدین کا تعلق بھی قندھار اور اس سے ملحقہ صوبوں سے تھا۔ اسی طرح بیشتر عسکری گروپوں کے اپنے اپنے مراکز بھی قندھار میں قائم تھے، جہاں سے مجاہدین کی تشکیلات، تنظیم اور عسکری امور کی نگرانی کی جاتی تھی۔ مزید یہ کہ امارتِ اسلامیہ کے اسلحہ اور عسکری ساز و سامان کے سب سے بڑے ذخائر بھی قندھار ہی میں موجود تھے۔ انہی وجوہ کی بنا پر ملا صاحب نے مجاہدین کی بہتر تنظیم، قیادت اور عسکری معاملات کی مؤثر نگرانی کے لیے کابل کے بجائے قندھار میں قیام کو ترجیح دی۔
ملا صاحب نے امارتِ اسلامیہ کے پورے دورِ حکومت میں صرف ایک مرتبہ، وہ بھی چند روز کے لیے، کابل کا سفر کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امارت کےمرکزی دفتر میں سرکاری اور انتظامی مصروفیات سے انہیں فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔ آخری برسوں میں بھی وہ کبھی کبھار قندھار سے ملحقہ صوبوں کا دورہ کرتے تھے، ورنہ ان کا بیشتر وقت اپنی رہائش گاہ اور امارت کے مرکزی دفتر ہی میں گزرتا تھا۔
امیر المومنین کا دفتر اور درخواست گزار
ملا محمد عمر مجاہد کے پاس تحریک کے آغاز سے قندھار کی فتح تک کوئی مستقل یا باقاعدہ دفتر نہیں تھا۔ اس عرصے میں ان کی رہائش قندھار کے ضلع میوند کے علاقے سنگ حصار میں واقع اپنے آبائی گھر میں تھی۔ ان کی روزمرہ مصروفیات کا بیشتر حصہ عسکری امور کی نگرانی، محاذوں کی دیکھ بھال اور تحریک کے لیے نئے افراد کی بھرتی پر مشتمل ہوتا تھا۔
قندھار کی فتح کے بعد ملا صاحب نے گورنر ہاؤس کو اپنی قیام گاہ اور انتظامی مرکز بنایا۔ یہیں سے انہوں نے تحریک کے قائد کی حیثیت سے اپنے انتظامی اور عسکری فرائض انجام دینا شروع کیے۔ تحریک کی عالی شوریٰ کے اجلاس بھی اسی مقام پر منعقد ہوتے تھے۔ شدید مصروفیات کے باعث یہ اجلاس اکثر دن کے بجائے رات کے اوقات میں منعقد کیے جاتے تھے۔
ملا صاحب، عسکری امور کے ذمہ دار ہونے کے ناطے، وقتاً فوقتاً جنگی محاذوں کا دورہ بھی کرتے تھے۔ ان کی زیادہ تر مصروفیات عسکری منصوبہ بندی، محاذوں کی نگرانی اور مجاہدین کی قیادت سے متعلق رہتی تھیں۔
اس زمانے میں ملا صاحب سے ملاقات یا درخواستیں پیش کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا۔ گورنر ہاؤس میں جس کمرے میں وہ قیام کرتے تھے، وہی ان کا دفتر بھی تھا۔ جب وہ موجود ہوتے تو صبح سے شام تک وہیں ملاقاتیں کرتے اور عوام کی درخواستیں سنتے۔ شہری و عسکری معاملات سے متعلق خطوط اور درخواستیں براہِ راست ان کے دفتر پہنچتی تھیں، جہاں وہ خود ان کا جائزہ لیتے، مناسب فیصلے کرتے اور ان کے حل کے لیے احکامات جاری کرتے۔ اس مرحلے میں ملاقات کے خواہش مند افراد بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے ملا صاحب سے براہِ راست ملاقات کر لیتے تھے۔
انہی ایام میں، ۲۳ جون ۱۹۹۵ء کو، ضرورت کے پیشِ نظر مولوی وکیل احمد متوکل کو، جو اس وقت قندھار میں محکمۂ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ تھے، گورنر ہاؤس میں عالی شوریٰ کے مشاور اور ملا صاحب کے دفتر کے سیکرٹری کے طور پر مقرر کیا گیا۔ متوکل صاحب نے ملا صاحب کے دفتر کو باقاعدہ منظم کیا اور دفتری امور کو ایک مربوط نظام کے تحت چلانا شروع کیا۔ اس دور میں جب ملا صاحب عسکری معاملات اور ملاقاتوں سے فارغ ہوتے تو انہیں درخواستیں پیش کی جاتیں، جن پر وہ ضروری ہدایات جاری فرماتے اور ان کے مطابق کارروائی عمل میں آتی۔
کچھ عرصے بعد، جب ملا صاحب کے دفتر کے دفتری امور میں مزید وسعت آئی، تو ملا عبدالسلام کاتب کو بھی دفتر میں مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وہ ملا صاحب کے آخری ایام تک ان کے خصوصی محرر (کاتب) کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ دفتر کا دیگر عملہ روزانہ کی بنیاد پر سرکاری اور غیر سرکاری درخواستیں وصول کرتا، انہیں ترتیب دیتا اور پھر ملا صاحب کی ہدایات کے مطابق ان پر جوابات مرتب کر کے متعلقہ حکام یا درخواست گزاروں تک پہنچاتا تھا۔
یہ مرحلہ اور اس کے بعد کا دور، جب امارت کا دفتر قندھار کے ارگ (صدارتی محل) منتقل ہوا، ملا صاحب کی زندگی کے مصروف ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ اس زمانے میں مختلف محاذوں پر جنگیں جاری تھیں اور مجاہدین کو ہر وقت اسلحہ، رسد، تازہ دم دستوں کی روانگی اور دیگر عسکری ضروریات کے لیے رہنمائی اور منظوری درکار ہوتی تھی۔ اسی طرح عسکری پیش قدمی اور جنگی حکمتِ عملی سے متعلق اہم ہدایات بھی ملا صاحب ہی سے حاصل کی جاتی تھیں۔
دوسری جانب، اس وقت امارت کے انتظامی ادارے اور عدالتی نظام ابھی مکمل طور پر قائم نہیں ہوئے تھے، اس لیے شہری نظم و نسق کی بحالی اور سرکاری امور کو ازسرِنو منظم کرنے کے لیے بھی مرکزی دفتر کو غیر معمولی توجہ دینا پڑتی تھی۔
اس دوران بڑی تعداد میں لوگ اپنے قانونی، عائلی اور دیگر سماجی مسائل لے کر مرکزی دفتر سے رجوع کرتے تھے۔ ملا صاحب خود ان کی درخواستیں وصول کرتے، ان کی بات سنتے اور حتی المقدور ان کے مسائل کے حل کی کوشش کرتے۔ بہت سے معاملات موقع ہی پر نمٹا دیے جاتے، جبکہ پیچیدہ اور اہم نوعیت کے مقدمات کو حتمی فیصلے تک مؤخر کر دیا جاتا، یہاں تک کہ امارت کی تینوں عدالتیں، ابتدائیہ، مرافعہ اور تمییز قائم ہو کر باقاعدہ طور پر فعال ہو گئیں۔ بعض معاملات ایسے بھی ہوتے جنہیں فیصلہ کرنے کے لیے مخصوص علمائے کرام کے سپرد کر دیا جاتا تھا تاکہ وہ شرعی اصولوں کی روشنی میں ان کا فیصلہ کریں۔
جب دفتر گورنر ہاؤس سے قندھار کے صدارتی محل منتقل ہوا تو اس وقت محل کے داخلی دروازے کے سامنے سکیورٹی کے لیے مجاہدین کا ایک خصوصی دستہ تعینات کیا گیا، جو دروازے کی نگرانی اور حفاظت کے فرائض انجام دیتا تھا۔ اس مقام کو بعد ازاں ’’نظام قراول‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔
اب درخواست گزار براہِ راست ملا صاحب تک اپنی درخواستیں پیش نہیں کر سکتے تھے، بلکہ یہ درخواستیں نظام قراول کے ذمہ داران کے حوالے کی جاتیں۔ وہاں سے یہ درخواستیں ترتیب دے کر متعلقہ فرد کے ذریعے ملا صاحب تک پہنچائی جاتیں۔ عوام کی درخواستیں ایک جگہ جمع کی جاتیں اور ہر صبح سب سے پہلے انہیں ملا صاحب کے سامنے پیش کیا جاتا۔ ہدایات جاری ہونے کے بعد ان درخواستوں پر عمل درآمد کیا جاتا اور پھر انہیں دوبارہ نظام قراول کے ذمہ دار کے سپرد کر دیا جاتا، جو انہیں متعلقہ افراد تک پہنچاتا تھا۔
اس کے علاوہ شہری اور عسکری امور سے متعلق درخواستیں اور خطوط دن میں دوپہر سے شام تک پیش کیے جاتے تھے، اور جب ملا صاحب دفتر میں موجود ہوتے تو رات گئے تک بھی درخواستوں کی پیشی کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد کو درخواست دینے کے لیے کسی خاص شرط یا قید کا پابند نہیں کیا گیا تھا۔ ہر شخص اپنے تمام تر مسائل اور معاملات براہِ راست امیرالمومنین تک پہنچا سکتا تھا۔ اس کے جواب میں ملا صاحب یا تو متعلقہ کام کے بارے میں ہدایات جاری فرماتے یا زبانی رہنمائی دیتے، اور اگر کسی درخواست کو مسترد کرنا ہوتا تو اس پر معذرت درج کر دی جاتی تھی۔
دارالحکومت کابل کی فتح کے بعد ملا صاحب کے دفتر کی ذمہ داریاں اور دائرۂ کار نمایاں طور پر وسیع ہو گیا، جس کے نتیجے میں دفتر کے عملے اور مختلف شعبہ جات میں بھی اضافہ کیا گیا۔ بیرونی تعلقات کے شعبے کے ساتھ ساتھ مالی امور کی نگرانی، تنظیم اور حساب کتاب کے لیے ایک مستقل شعبہ قائم کیا گیا، جو مرکزی دفتر کی جانب سے فراہم کی جانے والی رقوم کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ محفوظ کرتا تھا۔
اسی طرح عوام کی سہولت کے پیشِ نظر نظام قراول کو بھی منظم انداز میں ترتیب دیا گیا۔ حکومتی ذمہ داران اور عام شہریوں کے لیے الگ الگ راستے اور انتظار گاہیں مختص کی گئیں، تاکہ ملاقاتوں اور درخواستوں کے عمل میں نظم و ضبط برقرار رہے۔ خواتین کے لیے بھی شرعی پردے اور حجاب کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک باقاعدہ اور منظم طریقۂ کار وضع کیا گیا، تاکہ وہ آسانی اور وقار کے ساتھ اپنی درخواستیں جمع کرا سکیں۔
اس دور میں ملا صاحب نے عوامی درخواستوں کی سماعت کے لیے باقاعدہ طور پر صبح سے دوپہر تک کا وقت مختص کر رکھا تھا۔ اس کے بعد صرف نہایت اہم اور ہنگامی نوعیت کی درخواستوں پر غور کیا جاتا۔ باقی وقت وہ عوامی و عسکری قائدین، علمائے کرام، قبائلی و قومی عمائدین، معاشرے کے مختلف طبقات کے نمائندوں اور بسا اوقات بیرونِ ملک سے آنے والے وفود سے ملاقاتوں میں صرف کرتے تھے۔
اس تمام مصروفیت کے باوجود وہ جہادی محاذوں سے مسلسل رابطے میں رہتے۔ بڑے وائرلیس سیٹ (واکی ٹاکی) کے ذریعے مختلف محاذوں پر موجود مجاہدین اور عسکری ذمہ داران سے براہِ راست گفتگو کرتے، ان کی صورتحال دریافت کرتے، ضروری ہدایات دیتے اور جنگی و انتظامی امور کی نگرانی جاری رکھتے۔
ملا صاحب کے گھر پر ہونے والے دھماکے کے بعد سکیورٹی وجوہات کے پیشِ نظر ان کی رہائش کے قریب واقع ایک کرائے کا مکان عارضی دفتر کے طور پر اختیار کیا گیا۔ تاہم عوامی درخواستوں کی وصولی کا سابقہ طریقۂ کار برقرار رکھا گیا۔ تمام درخواستیں بدستور صدارتی محل کے نظام قراول میں جمع کی جاتیں، جہاں سے انہیں کارروائی کے لیے دفتر بھیجا جاتا، اور فیصلہ یا کارروائی مکمل ہونے کے بعد دوبارہ نظام قراول واپس بھیج دیا جاتا، جہاں سے متعلقہ درخواست گزاروں کے حوالے کیا جاتا تھا۔
ملا صاحب تقریباً ایک سال تک اسی عارضی دفتر میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے، یہاں تک کہ نیا دفتر اور مرکزی دفتر کی عمارت مکمل طور پر تیار ہو گئی۔ نئے دفتر میں منتقل ہونے کے بعد بھی تقریباً ڈیڑھ سال تک درخواستوں کی وصولی اور ان پر کارروائی کا یہی منظم طریقہ برقرار رہا۔
اس مرحلے پر عسکری مصروفیات پہلے کے مقابلے میں خاصی کم ہو چکی تھیں، جبکہ امارتِ اسلامیہ کے انتظامی اور دفتری امور بھی ایک باقاعدہ اور منظم نظام کے تحت استوار ہو چکے تھے۔ انہی اسباب کی بنا پر ملا صاحب کی روزمرہ مصروفیات اور جسمانی مشقت بھی پہلے کی نسبت کم ہو گئی تھی۔ چنانچہ امارتِ اسلامیہ کے آخری تقریباً ڈیڑھ سال ان کے لیے نسبتاً سکون، فراغت اور انتظامی استحکام کے ایام ثابت ہوئے۔
ہفتے کے چھ دن مسلسل مصروفیات
تحریکِ اسلامی کے آغاز سے تقریباً ایک سال تک ملا صاحب کی رہائش ضلع میوند کے علاقے سنگِ حصار میں واقع ان کے آبائی گھر میں رہی۔ ہرات کی فتح کے بعد انہوں نے اپنی رہائش قندھار کے نساجی کے علاقے میں منتقل کر دی۔ بعد ازاں بلدیہ (میونسپلٹی) اور ٹیکنیکل کالج کے درمیان واقع ایک سرکاری مقام کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیا، جہاں بعد میں ایک شدید دھماکہ بھی ہوا تھا۔
اس واقعے سے قبل ملا صاحب کی رہائش اور دفتر ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر واقع تھے۔ اس زمانے میں ان کی مصروفیات اس قدر زیادہ تھیں کہ وہ پورے ہفتے میں صرف ایک دن اپنے گھر تشریف لے جاتے، جبکہ باقی چھ دن مسلسل دفتر ہی میں قیام کرتے۔
ملا صاحب کے قریبی رفقاء بیان کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت دفتری اور انتظامی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے آمادہ رہتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر آدھی رات کے وقت بھی خصوصی وائرلیس نمبر کے ذریعے ان سے رابطہ کیا جاتا تو وہ فوراً جواب دیتے۔
ملا صاحب کے سکیورٹی ذمہ داران میں سے ایک اس حوالے سے بیان کرتے ہیں:
’’ملا صاحب نے امارتِ اسلامیہ کے مختلف ذمہ داران سے رابطے کے لیے وائرلیس کے متعدد مخصوص نمبر مقرر کر رکھے تھے۔ ان میں سب سے اہم ’اول نمبر‘ تھا، جو قندھار شہر کی سطح پر صرف چند منتخب اور اعلیٰ ذمہ داران کے پاس موجود ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ قندھار کے گورنر، محمد حسن رحمانی، اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ضلع پنجوائی کے دورے پر گئے۔ واپسی پر جب وہ شہر کے داخلی حفاظتی مقام پر پہنچے تو وہاں تعینات اہلکاروں نے انہیں اس بنا پر روک لیا کہ انہیں اس رات کا مقررہ نامِ شب (خفیہ شناختی رمز) معلوم نہیں تھا۔‘‘
اس سلسلے میں ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں:
’’ایک مرتبہ رات کے تقریباً دو بجے ایک والی (گورنر) نے وائرلیس کے ’اول نمبر‘ پر ضلعی پولیس سربراہ، حافظ عبدالمجید، کو پکارا۔ پہلی آواز پر کوئی جواب نہ ملا، لیکن دوسری مرتبہ پکارنے پر پولیس سربراہ کے بجائے خود ملا محمد عمر مجاہد نے جواب دیا اور فرمایا: ’اگر کوئی مسئلہ ہے تو بیان کیجیے‘۔‘‘
والی نے اپنا مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا۔ ملا صاحب نے فوراً متعلقہ پولیس حکام سے رابطہ کیا اور مختصر وقت میں اس مسئلے کو حل کر دیا۔
اس نوعیت کے متعدد واقعات ان کے قریبی ساتھی بیان کرتے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملا صاحب شب و روز ریاستی امور پر نظر رکھتے تھے اور رات کے آخری پہر میں بھی رعایا کے مسائل سے غافل نہیں ہوتے تھے۔
صبح سے شام تک
امیرالمومنین کے دفتر میں صبح سے شام تک مختلف نوعیت کی بے شمار درخواستیں موصول ہوتی تھیں۔ ہر طبقے اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی ضروریات اور مسائل کے مطابق اپنی درخواستیں مرکزی دفتر کے ذریعے امیرالمومنین کے دفتر کو ارسال کرتے تھے۔
ان درخواستوں میں عوامی و انتظامی امور، شکایات، دیوانی و قانونی دعوے، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمات کی اپیلیں، عسکری ذمہ داران کی شکایات اور درخواستیں، زخمی و معذور عام افراد اور مجاہدین کی امداد کی گزارشات، عام شہریوں کی مالی تعاون کی اپیلیں، نیز دیگر متفرق معاملات شامل ہوتے تھے۔
عوامی نوعیت کی درخواستیں عموماً ملا عبدالسلام کاتب کی وساطت سے امیرالمومنین کی خدمت میں پیش کی جاتیں، جہاں ان پر مناسب احکامات اور جوابات تحریر کیے جاتے۔ عسکری امور سے متعلق درخواستوں کی ذمہ داری ملا عبدالاحد جہانگیر وال صاحب کے سپرد تھی، جبکہ مالی امداد اور نقدی تعاون سے متعلق درخواستوں کی دیکھ بھال حافظ عبدالغنی انجام دیتے تھے۔
قبل ازیں بیان کیے گئے شعبے کے ساتھ ہی بڑے مخابرے (وائرلیس سیٹ) کا شعبہ قائم تھا، جس کی ذمہ داری ملا حیات اللہ اخند (نصرت حاجی لالا) کے سپرد تھی۔ یہ شعبہ امیرالمومنین کے دفتر اور ملک بھر میں موجود عسکری محاذوں، فوجی مراکز، صوبائی گورنروں اور دیگر اہم ذمہ داران کے درمیان رابطے کا بنیادی ذریعہ تھا۔
اس مخابرے کے ذریعے امیرالمومنین پورے ملک کے مختلف علاقوں میں تعینات عسکری کمانڈروں، جنگی محاذوں کے ذمہ داران اور صوبائی گورنروں سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ وہ مختلف محاذوں کی صورتِ حال سے باخبر رہتے، ضروری ہدایات جاری کرتے اور روزمرہ انتظامی و عسکری امور سے متعلق رپورٹیں وصول کرتے تھے۔
امیرالمومنین کی روزانہ کی مصروفیات میں ملک بھر کے عسکری کمانڈروں اور ذمہ داران سے باقاعدہ رابطہ ایک اہم معمول تھا۔ اسی بنا پر روزانہ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی زیادہ تر عسکری قیادت اور محاذوں کے ذمہ داران ہی شریک ہوتے تھے۔
امیرالمومنین کی روزمرہ مصروفیات سے وابستہ ایک اہم شعبہ سید طیب آغا کی نگرانی میں کام کرتا تھا۔ اس شعبے کی بنیادی ذمہ داریاں خارجی تعلقات، ذرائع ابلاغ سے روابط اور انتظامی و اداری امور کو منظم کرنا تھیں۔ اگرچہ یہ شعبہ انتظامی اعتبار سے امیرالمومنین کے دفتر سے الگ تھا، تاہم اس کی بیشتر سرگرمیاں روزانہ کی بنیاد پر براہِ راست امیرالمومنین سے متعلق رہتی تھیں۔
اسی شعبے کے ذریعے داخلی و خارجی علمائے کرام، سیاسی شخصیات، امارتِ اسلامیہ کے سِول ذمہ داران، وزراء اور دیگر اہم وفود کی امیرالمومنین سے ملاقاتوں کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ملاقاتوں کے اوقات، طریقۂ کار اور دیگر انتظامی امور بھی اسی شعبے کی ذمہ داری میں شامل تھے۔
مزید برآں، امیرالمومنین کے رسمی بیانات، پیغامات اور اعلامیے بھی اسی شعبے میں مرتب کیے جاتے۔ یہ مسودات امیرالمومنین کی منظوری اور توثیق کے بعد ذرائع ابلاغ کو اشاعت و نشر کے لیے ارسال کیے جاتے تھے۔ اسی طرح اگر کوئی ملکی یا غیر ملکی صحافی، نشریاتی ادارہ یا میڈیا وفد امیرالمومنین سے ملاقات یا انٹرویو کا خواہاں ہوتا، تو اس کی تمام کارروائی اور رابطہ اسی شعبے کے ذریعے انجام پاتا تھا۔
اسی طرح امیرالمومنین کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، ممتاز شخصیات اور دیگر اہم رہنماؤں کو ارسال کیے جانے والے تمام خصوصی خطوط بھی اسی شعبے میں مرتب کیے جاتے تھے۔
دارالحکومت کابل میں مرکزی حکومت، بالخصوص شورائے وزراء کی جانب سے تیار کی جانے والی تجاویز، منظوریاں، درخواستیں اور دیگر سرکاری دستاویزات، جو ادارۂ امور کے ذریعے امیرالمومنین کے دفتر کو ارسال کی جاتیں، قندھار میں سب سے پہلے اسی شعبے کے ذریعے وصول کی جاتیں۔ بعد ازاں ان تمام دستاویزات کو حتمی منظوری اور توثیق کے لیے امیرالمومنین کی خدمت میں پیش کیا جاتا۔ امیرالمومنین کی منظوری کے بعد متعلقہ فیصلے اور احکامات، حسبِ ضرورت، دوبارہ کابل روانہ کر دیے جاتے تاکہ ان پر عمل درآمد کیا جا سکے۔
اس شعبے کے دفتر میں ایک مستقل سیکشن بھی قائم تھا، جو ’’مرکز الاعلام‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اس سیکشن کی بنیادی ذمہ داری امارتِ اسلامی کی مطبوعات، اطلاعات اور دیگر اشاعتی سرگرمیوں کا انتظام و انصرام تھی۔ اسی مرکز الاعلام کی نگرانی میں ’’الامارۃ الاسلامیہ‘‘ کے نام سے عربی اور انگریزی زبانوں میں ایک ماہانہ مجلہ بھی شائع کیا جاتا تھا۔
مستقل عسکری کمانڈر
یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اقتدار اور قوت، حصولِ اقتدار اور اس کے دفاع کی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن عامل فوجی و عسکری قوت ہے، جس کی حیثیت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔
دینِ اسلام نے روایتی ہتھیاروں یا جنگی وسائل(تلوار، تیر) کو قوت سے تعبیر کیا ہے۔ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ، جہادی زندگی اور وصال کے بعد بطورِ میراث باقی رہ جانے والے ہتھیار، مثلاً تلواریں، نیزے، کمانیں اور مختلف اقسام کی ڈھالیں، اس حقیقت کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ عسکری تیاری اور دفاعی صلاحیت پر مسلسل توجہ کسی بھی ریاست، نظام یا تحریک کی بقا، استحکام اور کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
اسی بنا پر ملا محمد عمر مجاہد نے اپنی قیادت کے پورے دور میں عسکری امور کو اولین ترجیح دی۔ ان کی روزمرہ مصروفیات کا بیشتر حصہ دفاعی اور عسکری معاملات کی نگرانی، منصوبہ بندی اور رہنمائی پر مشتمل ہوتا تھا۔
اگرچہ بعد میں امارتِ اسلامیہ کی وزارتِ دفاع کے تحت ایک منظم فوج کی تشکیل کے لیے فوجی تربیتی اداروں اور ایک عسکری جامعہ کا قیام عمل میں لایا گیا، تاہم ابتدائی دور میں امارتِ اسلامیہ کی عسکری تنظیم مختلف جنگی گروہوں پر مشتمل تھی۔ ہر گروہ کا ایک امیر یا ذمہ دار مقرر ہوتا، جبکہ دیگر تمام افراد اس کے ماتحت ہوتے تھے۔ یہ ذمہ دار براہِ راست امیرالمومنین کو جواب دہ ہوتا تھا۔
عسکری گروہوں کی تشکیل یا تحلیل، انہیں دوسرے گروہوں میں ضم کرنا، ان کے ذمہ داران کی تقرری یا معزولی، مختلف محاذوں پر ان کی تعیناتی، الغرض تمام عسکری معاملات کا حتمی اختیار امیرالمومنین کے پاس تھا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ ملا محمد عمر مجاہد امارتِ اسلامیہ کے تمام عسکری گروہوں کے ذمہ داران، جن کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز تھی، ہر ایک کو نہ صرف نام سے بلکہ چہرے سے بھی پہچانتے تھے۔
ملا محمد عمر مجاہد اہم عسکری کمانڈروں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہتے تھے۔ بسا اوقات یہ رابطہ گھنٹوں بلکہ پورے دن تک جاری رہتا۔ عینی شاہدین کے مطابق ان کی کامیابی کے اہم اسباب میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ایک تجربہ کار عسکری کمانڈر کی حیثیت سے غیر معمولی عسکری صلاحیتوں کے حامل افراد کو فوراً پہچان لیتے تھے اور ان کی استعداد کے مطابق انہیں مؤثر انداز میں ذمہ داریاں سونپتے تھے۔
انہوں نے جن افراد کو عسکری امور کی قیادت اور مختلف ذمہ داریوں پر مقرر کیا، ان میں سے تقریباً سبھی اپنی ذمہ داریاں کامیابی سے انجام دینے میں کامیاب رہے۔ انہی کمانڈروں نے میدانِ جنگ میں جنرل عبدالرشید دوستم جیسے کمیونسٹ جنرل اور افغانستان کی خانہ جنگی کے تجربہ کار عسکری قائدین کا مقابلہ کیا اور انہیں پسپا ہو کر میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
اگرچہ طالبان کی عسکری کامیابیوں اور فتوحات کی بنیاد ان کی حقانیت اور نصرتِ الٰہی پر تھی، تاہم ظاہری اسباب کے اعتبار سے ان کامیابیوں میں امیرالمومنین کی عسکری تنظیم و ترتیب پر مسلسل نگرانی، مؤثر قیادت، مضبوط کمانڈ، مکمل سرپرستی اور مجاہدین کی مستقل حوصلہ افزائی نے بھی نہایت اہم کردار ادا کیا۔ یہی عوامل مجاہدین کے حوصلے بلند رکھنے، ان میں استقامت پیدا کرنے اور انہیں راہِ جہاد میں ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کے لیے آمادہ رکھنے کا سبب بنتے تھے۔
عام حالات میں ملا محمد عمر مجاہد اس وقت تک آرام نہیں کرتے تھے جب تک تمام جنگی محاذوں کی تازہ صورتحال سے آگاہ نہ ہو جاتے، متعلقہ ضروری ہدایات جاری نہ کر دیتے اور مجاہدین کی ضروریات کے بارے میں مناسب فیصلے نہ کر لیتے۔ تاہم اگر کسی محاذ پر جنگ جاری ہوتی، طالبان پیش قدمی یا پسپائی کی حالت میں ہوتے، یا کسی مقام پر دشمن کے محاصرے اور غیر معمولی دشواریوں کا سامنا ہوتا، تو ایسے مواقع پر ملا صاحب بڑے وائرلیس سیٹ کے ذریعے متعلقہ عسکری کمانڈر سے مسلسل رابطے میں رہتے۔ وہ لمحہ بہ لمحہ محاذ کی صورتحال معلوم کرتے، ضروری ہدایات جاری کرتے، مجاہدین کی ضروریات پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے، اور اپنی براہِ راست رفاقت اور مسلسل رابطے کے ذریعے ان کے حوصلے بلند رکھتے، ان میں عزم، استقامت اور ثابت قدمی پیدا کرتے تھے۔
مجاہدین کے ساتھ امیرالمومنین کا مسلسل رابطہ اور مؤثر ہم آہنگی ایک طرف انہیں عظیم فتوحات سے ہم کنار کرتی اور انہیں بدنظمی، انتشار اور جنگی جرائم سے محفوظ رکھتی، تو دوسری طرف سخت ترین حالات میں بھی اپنی خصوصی رہنمائی کے ذریعے انہیں خطرات اور ممکنہ نقصانات سے بچانے کا ذریعہ بنتی تھی۔
۱۹۹۷ء میں، جب طالبان سالنگ ٹنل عبور کر کے پلِ خمری تک پہنچے اور بعد ازاں مرکزی بغلان میں محاصرے میں آ گئے، تو اس نازک مرحلے پر محصور طالبان کمانڈروں کے ساتھ ملا محمد عمر مجاہد کا مسلسل رابطہ اور مؤثر رہنمائی ہی وہ عامل تھی جس نے شدید دباؤ کے باوجود ان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھا، ان کا مورال بلند رکھا، اور ایک منظم منصوبے کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں قندوز فتح کرنے اور ہوائی اڈے پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد محاصرے سے نکلنے میں کامیاب بنایا۔
جنگی حالات میں مجاہدین کے ساتھ امیرالمومنین کا مسلسل رابطہ اس قدر معروف تھا کہ امارتِ اسلامیہ کے مخالفین بھی اس سے بخوبی آگاہ تھے۔ احمد شاہ مسعود نے اپنے ایک بیان میں اپنے ان اہلکاروں کو، جنہوں نے اس کے احکام کی نافرمانی کی تھی، طعنہ دیتے ہوئے کہا:
’’ملا محمد عمر قندھار سے تخار میں موجود طالبان کو حکم دیتے ہیں تو وہ بلا چون و چرا اس کی تعمیل کرتے ہیں، لیکن تم لوگ میرے سامنے ہوتے ہوئے بھی میرے احکام نہیں مانتے اور اپنی مرضی کرتے ہو۔‘‘
افغانستان کی جنگی تاریخ میں عمومی طور پر یہ روایت رہی ہے کہ سیاسی رہنماؤں نے اپنے جنگجوؤں کو محض ایک ذریعہ سمجھ کر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، مگر ان کی قربانیوں کو نہ وہ اہمیت دی گئی اور نہ ہی ان کی مناسب قدر و منزلت کی گئی۔ اس کے برعکس، ملا محمد عمر مجاہد، جن کی عظیم جدوجہد کی بنیاد ایک راسخ روحانی و معنوی عقیدے پر استوار تھی، اپنے جہادی رفقاء سے گہری عقیدت اور قلبی وابستگی رکھتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین اور غازیوں کو دیگر تمام لوگوں سے افضل قرار دیتے ہوئے فرمایا:
وَفَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا (سورۃ النساء: ۹۵)
’’اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت دے کر بڑا ثواب بخشا ہے۔ ‘‘
ملا صاحب بھی مجاہدین کو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ معزز سمجھتے تھے۔ ان کی ضروریات کی تکمیل اور خدمت کو اولین ترجیح دیتے، ان کے شہداء کے اجساد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں تک پہنچواتے، ان کے قیدیوں کی رہائی اور زخمیوں کے علاج کے لیے حتیٰ المقدور کوشش کرتے۔ یہاں تک کہ بعض زخمیوں کا علاج افغانستان اور ہمسایہ ممالک میں ممکن نہ ہونے کی صورت میں انہیں علاج کی غرض سے یورپی ممالک بھی بھیجا گیا، تاکہ انہیں بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔
زخمیوں کے علاج کے شعبے کے ذمہ داران کو ہدایت تھی کہ اگر ڈاکٹر کی رائے کے مطابق کسی زخمی کا علاج ممکن ہو تو اخراجات کی پروا کیے بغیر، جہاں بھی مناسب علاج کی سہولت دستیاب ہو، اسے وہاں بھیجا جائے اور علاج پر آنے والے تمام اخراجات برداشت کیے جائیں۔
اسی طرح وہ تمام افراد جو سوویت یونین کے خلاف جہاد یا امارتِ اسلامیہ کے دور میں معذور ہو گئے تھے، انہیں امیرالمومنین کی جانب سے گاڑیاں فراہم کی جاتی تھیں۔
ملا صاحب کی اپنی خوراک نہایت سادہ تھی، اور سرکاری اداروں میں بھی عملاً سادہ طرزِ طعام کی روایت کو برقرار رکھا گیا تھا۔ جب کبھی جہادی محاذوں سے مجاہدین کے متنوع کھانوں کے بارے میں کوئی شکایت ان تک پہنچتی تو فرماتے:
’’وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں وقف کر رکھی ہیں، میں محاذِ جنگ پر ان کی ضروریات پر ہونے والے اخراجات محدود نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر آپ کسی کو بیت المال کی رقم ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے دیکھیں تو ایسی شکایت بالکل بجا ہے۔‘‘
ملا محمد عمر مجاہد کو ایک مستقل فوجی کمانڈر اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تحریک کے ابتدائی ایام میں عملاً طالبان کے عسکری قائد تھے اور کارروائیوں کی براہِ راست قیادت کرتے تھے۔ درمیانی مرحلے میں وہ وائرلیس کے ذریعے جہادی لشکروں سے مسلسل رابطے میں رہتے اور ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ بعد ازاں، امریکی یلغار کے نتیجے میں جب طالبان کی حکومت کا دائرۂ اختیار جنوبی علاقوں تک محدود ہو گیا، تو ان نہایت کٹھن حالات میں انہوں نے ایک بار پھر مسلح جدوجہد کی کمان خود سنبھال لی۔ اس مرحلے کی تفصیلات متعلقہ مقام پر بیان کی جائیں گی۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭













