نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | ساتویں قسط

by ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان
in ستمبر و اکتوبر 2026ء, غزوۂ ہند
0

ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان شہید مجاہدینِ پاکستان و برِّ صغیر کے درمیان کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کے یہاں ڈاکٹر ابو خالد کے نام سے معروف ہیں۔ پیش تر ان کی کتاب ’عصرِ حاضر کے جہاد کی فکری بنیادیں‘ زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو کر عام و خاص قارئین تک آج سے گیارہ سال قبل پہنچ چکی ہے ۔ ڈاکٹر ابو خالد رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری کتاب ’غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں‘ ، مؤلف شہید نے مارچ ۲۰۱۲ء میں مکمل کی، لیکن مختلف النوع وجوہات کی بنا پر اب تک شائع نہ ہو سکی۔


باب پنجم: غزوۂ ہند اور جدید مغرب کی تاریخ (1)

تعارف

اس باب میں مغرب کی اس متعلقہ تاریخ کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس نے ہندوستان پر بلا واسطہ یا بالواسطہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ انگریزی غلامی کے دوران ہندوستانی باشندوں کا انگریزوں کے نظام، ان کی ثقافت اور افکار سے متاثر ہونا ایک فطری عمل تھا لیکن آزادی کے بعد بھی دراصل ہندوستانی اقوام مغرب کی بالواسطہ غلامی میں زندہ ہیں۔ اس وجہ سے آج بھی ہندوستانی عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے افکار کو مغرب سے مستعار لیتی ہے۔ اس باب میں مغرب کی تاریخ کے ان پہلوؤں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مغرب اپنی تاریخ میں گمراہی کے کن کن ادوار سے گزرا ہے اور آج اس کی حالت کیا ہے۔ لیکن خود اپنی معاشرت اور شناخت کی تباہی کے بعد ان ہی اصول و نظریات کو وہ باقی دنیا پر مسلط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مغرب کی تعریف

مغرب ایک جدید اصطلاح کا نام ہے جس میں آج کی دنیا میں شامل یورپ، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا کے ممالک شامل ہیں۔ مغرب کی اصطلاح کا اطلاق فکری طور پر ان قوموں پر بھی ہوتا ہے جو اپنی فکری تاریخ قدیم یونان اور رومی قوموں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ مغرب کی اصطلاح کا اطلاق اس عیسائی دین کی تاریخ پر بھی ہوتا ہے جو فلسطین شام، اناطولیہ اور قسطنطنیہ میں پھیلا اور بعد میں رومی سلطنت کا سرکاری دین بن گیا اور بعد میں پورے یورپ میں پھیل گیا۔ یوں کہا جاتا ہے کہ مغرب کی اصطلاح کا اطلاق ان قوموں پر کیا جا سکتا ہے جو اپنا تاریخی اور فکری تسلسل قدیم یونان اور رومی سلطنت اور دین عیسائیت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان تین نظریات کا مجموعہ یا ملغوبہ آج کی دنیا میں ایک اندازِ فکر اور ایک طریقۂ زندگی بن چکے ہیں۔ یہ انداز فکر ایک نیا دین ہے جو مغرب کے دنیا پر عروج کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل گیا اور اس کے اثرات سے امت مسلمہ بھی بچ نہ سکی۔ ۔ اس دین کی اصل شرک ہی ہے لیکن اس دینِ جدید کا شرک دجل و فریب کے اتنے لبادوں میں پوشیدہ ہے کہ اس کا سراغ لگانا اتنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین توحید کے علمبردار بھی اس دین جدید سے متاثر ہو کر اس کے نظریات کو سمجھے بوجھے بغیر اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں لیکن دوسری طرف اس دین جدید کے مخالفین میں بھی اس کے خلاف ردعمل اس طرح نہیں پایا جاتا جیسا کہ کھلے شرک کے خلاف ہوتا ہے۔ اس دین جدید کا راستہ روکنے اور اس کے پیروکاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں اس کی تاریخ، انداز فکر اور اس کے ماخذ کا علم ہو تاکہ آج امت مسلمہ میں پھیلی ہو ئی جدید جاہلیت کا تجزیہ کر کے قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کا علاج کیا جا سکے۔

اس دین جدید کو سمجھنے اور اس کے خلاف مناسب پیش بندی کرنے کے لیے پہلے اس دین کے ارتقائی عوامل اور بنیادوں کو سمجھنا ہو گا اور پھر دور حاضر میں یعنی اس دین کی اصولی تشکیل کے بعد اس دین کی حامل قوتوں کی تاریخ اور رویوں کو بھی سمجھنا ہو گا یوں اس دین کی تفہیم جدید کے دو مراحل ہیں۔

  • دین مغرب کا ارتقا
  • دین مغرب کی جدید تاریخ

دینِ مغرب کا ارتقا

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ مغرب کی اصطلاح کا اطلاق ان قوموں پر کیا جا سکتا ہے جو اپنا تاریخی اور فکری تسلسل قدیم یونان اور رومی سلطنت اور دین عیسائیت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان تین نظریات کا مجموعہ یا ملغوبہ آج کی دنیا میں ایک اندازِ فکر اور ایک طریقۂ زندگی بن چکے ہیں۔ اگرچہ اس دین کی بنیادیں عیسائیت سے بھی جوڑی جاتی ہیں لیکن اس میں مذہبی حیثیت سے عیسائیت کا کوئی حصہ نہیں بلکہ دراصل یوں کہا جائے کہ عیسائیت اپنے بگاڑ کے جن مراحل سے گزر کر اس دین جدید کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں انسانوں کی اجتماعی زندگی میں اللہ کا کوئی کردار باقی نہیں یہی مقصود لے کر یہ دین جدید دیگر مذاہب پر حملہ آور ہے اور انہیں بھی (خصوصاً اسلام کو) اسی شکل میں ڈھال دینا چاہتا ہے۔ اس دین کو سمجھنے کے لیے اور اس کے خلاف مناسب پیش بندی کرنے کے لیے اس کی بنیادوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس دین کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل پانچ عوامل پر غور کرنا ہو گا۔

  1. یونان اور فلسفہ یونان کی تاریخ
  2. روم کی تاریخ
  3. دین عیسائیت کی تاریخ
  4. یورپ کی تاریخ
  5. یورپ کی فکری تبدیلی کی تاریخ

دین مغرب یا جدید جاہلیت پر سب سے گہری چھاپ تو فلسفہ یونان کی ہے اور اس کے بعد روم میں پروان چڑھنے والے یونانی فلسفوں کی جدید شکل نے اس دین پر اثر ڈالا۔ یورپ اس دین کے ارتقا کی زمین ہے۔ جبکہ دین عیسائیت وہ مذہب ہے جس سے اس دین جدید کا مقابلہ ہوا ہے اور اس نے دین عیسائیت کو شکست دی ہے۔ پس اس دین کو سمجھنے کے لیے یونان اور اس کے فلسفہ کی تاریخ، یورپ کی تاریخ اور عیسائیت کی تاریخ کو سمجھنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دین عیسائیت کی مرحلہ وار دین شرک جدید یا دین جدید جاہلیت میں تبدیلی کے مراحل کو بھی سمجھنا ہو گا۔ ذیل میں دین مغرب کے ارتقا کی تفہیم کے لیے ان ہی پانچوں عوامل کی تفصیل کو بیان کیا گیا ہے۔

یونان کی تاریخ

مغرب کی تاریخ کا آغاز یونان سے ہوتا ہے۔ یونان بحر روم کے کنارے مشرقی یورپ کا ملک ہے۔ یونان کی تاریخ کا سراغ آٹھ سو سال قبل مسیح سے ملتا ہے۔ مگر اس کا اصل عروج پانچ سو سال قبل مسیح سے ہوتا ہے۔ اس دور میں یونان کئی شہروں پر مشتمل تھا۔ ہر شہر ایک علیحدہ آزاد حکومت کی طرح کام کرتا تھا جنہیں جدید تاریخ میں شہری ریاستیں کہا جاتا ہے۔ ان شہری ریاستوں نے اپنے اپنے نظام خود واضح کر رکھے تھے۔ ان نظاموں کو وضع کرنے میں یونان کے فلسفیوں اور عالموں کا بہت بڑا کردار تھا جنہوں نے اس دور میں زندگی گزارنے، سیاست اور اخلاقیات کے نظریات پیش کیے۔ ان نظریات نے آنے والے دور میں دنیا کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ جدید یورپ اور مغرب کی زندگی میں یہ نظریات اور فلسفے ایک دین کی طرح شامل ہو گئے۔ امت مسلمہ کے زوال اور سامراج کی غلامی کے دور میں مسلمان بھی ان نظریات سے بے حد متاثر ہوئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب وہی فلسفے اور نظریات جن کو ہمارے اسلاف گمراہ اور کفریہ قرار دے چکے تھے اب انہی نظریات اور فلسفوں کو جدید مسلمان مفکر عین اسلامی بنانا کر امت مسلمہ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

یونان کی تاریخ کی تفصیل میں جائے بغیر ہم یہاں یونان کے ابتدائی دور کی ان تین ریاستوں کا جائزہ پیش کرتے ہیں جن کے نظاموں نے جدید دین مغرب کی بنیادیں ڈالی ہیں۔ یہ تین ریاستیں بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. ایتھنز
  2. سپارٹا
  3. مقدونیہ

ایتھنز شہر کا سرمایہ دارانہ جمہوری نظام(۵۰۸ ق م تا ۸۶ ق م)

پانچویں صدی قبل مسیح میں ایتھنز دو سے تین لاکھ نفوس پر مشتمل شہر تھا۔ اس کے باسی مشرک تھے۔ کئی دیوی دیوتاؤں کو پوجتے تھے۔ ان کا سماجی نظام قبائل پر مشتمل تھا۔ وہاں کے باسیوں نے اپنے شہر کا نظام چلانے کا جو نظام وضع کیا تھا وہ ہر شخص کو انفرادی آزادی اور اپنے انفرادی معاشی مفاد کے حصول کے لئے جدوجہد کی آزادی کے اصول پر قائم تھا۔ اجتماعی نظام کو چلانے کے لئے انہوں نے باہمی مشاورت کے اصول پر تین ادارے بنائے جن میں پارلیمنٹ ، کونسل اور عدالت شامل تھے۔ اس کے علاوہ شہر کا نظم ونسق چلانے کے لئے ادارتی ادارے بھی تشکیل دیے۔ اس نظام کو چلانے کے لئے اور فیصلے کرنے کے لئے اصول اور قانون وضع کیے گئے۔ ان اصولوں کولکھا بھی گیا جسے ایتھنز کا آئین کہا جاتا ہے۔ فیصلہ کرنے کا اختیار صرف ایتھنز کے بالغ آزاد مردوں کو تھا۔ ہر مرد جو کہ ایتھنز کا شہری ہو اور اس کی عمر تیس سال ہو وہ پارلمینٹ کا ممبر ہو سکتا تھا۔ اس پارلیمنٹ کا کام ایتھنز کے تمام اجتماعی معاملات کے بارے میں اجتماعی رائے سے فیصلہ کرنا تھا۔ تمام معاملات میں کثرت رائے فیصلہ کن ہوتی۔

ایتھنز کی کونسل ایک کابینہ کی طرح کام کرتی تھی اس میں دس قبیلوں کے نمائندے شامل تھے اور ہر ماہ اس کا صدر تبدیل ہو جاتا۔ صدارت ہر قبیلے میں گھمائی جاتی اور دس ماہ بعد پہلے قبیلے کے پاس آ جاتی۔ یہ کونسل کا کام حکومت کے کاموں کی نگرانی کرنے اور مذہبی معاملات پر نظر رکھنے وغیرہ جیسے کام کرتی تھی۔ ایتھنز کی عدالت تمام ہی قسم کے مقدمات کی سماعت کرتی تھی۔ اس میں جج اور جیوری بھی ایتھنز کے شہری کی حیثیت رکھنے والے لوگ ہوتے تھے۔ زیادہ تر مقدمات میں دو سو کے قریب شہری مل کر کسی مقدمے کا فیصلہ کرتے۔

ایتھنز کے اس نظام نے جدید دور کے مغربی فلسفیوں کو بے حد متاثر کیا جن میں جان لاک ، ہیوم ، روسو ہابس، کانٹ وغیرہ شامل ہیں۔ انقلاب فرانس کے بعد مغربی یورپ کے ممالک جن میں برطانیہ، فرانس اور شمالی امریکہ کے ممالک شامل ہیں، ان کے نظام آج بھی ایتھنز کی جمہوریت کو ایک مثال سمجھ کر وضع کیے گئے ہیں۔

سپارٹا کا نظام

سپارٹا بحر روم کے کنارے یونان کا ایک شہر ہے۔ اس کے باسی ایتھنز کی طرح دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے۔ پانچویں صدی عیسویں میں سپارٹا ایک آزاد ریاست تھی۔ اس کے باسیوں نے اپنے شہریوں کے لئے جو نظام وضع کیا تھا اس کا اصول یہ تھا کہ انسان معاشرے کی بہتری اور اس کی اجتماعی فلاح کے لئے پیدا ہوا ہے۔ اس لئے اس کی انفرادی زندگی کا مقصد اپنے معاشرے کی فلاح اور اس کا دفاع ہے۔ اس لیے انسان کو اپنی انفرادیت اجتماعی مفاد کے لئے قربان کرنی ہو گی اور اس کے لئے اسے تیار رہنا ہو گا۔ دوسری طرف ریاست کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی اجتماعیت کے لئے کام کر نے والے لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھے اور ان کی ضروریات کا تعین کر کے اس کا راشن اس کے لئے مقرر کر دے۔

اس نظام کو چلانے کے لئے سپارٹا کی ریاست کے سامنے دو چیلنج تھے۔ ایک یہ کہ اگر فرد اجتماعی بھلے کے لئے کام کرے گا تو اس کی انفرادی ضروریات کیسے پوری کی جائیں ؟ اس کا علاج انہوں نے یہ نکالا کہ سپارٹا کے آزاد مرد صرف اور صرف عسکری خدمات کے لئے تیار کیے جائیں گے۔ یہ عسکری لوگ دوسری قوموں سے جنگ کر کے غنیمت اور غلام حاصل کریں گئے اور یہ غلام ان کے کھیتوں میں کام کریں گے۔ ان کھیتوں سے حاصل ہو نے والی پیداوار سے سپارٹا کے شہریوں کی ضروریات پوری ہوں گی۔ یہ ایک مکمل عسکری طرز کی ریاست کا قیام تھا۔

دوسرا چیلنج سپارٹا کی ریاست والوں کے سامنے یہ تھا کہ وہ اپنے آزاد مردوں کو ایک عسکری قوت میں کیسے تبدیل کریں ؟اس کے لیے انہوں نے اپنے معاشرے کی عورتوں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی اور چھوٹی عمر سے ہی لڑکوں کو ایک تربیتی نظام میں داخل کرا دیا جاتا تھا جہاں ان کی تربیت سخت کوشی اور عسکری انداز میں کی جاتی۔ تیس سال کی عمر میں اسے باقاعدہ شہری کا درجہ دے دیا جاتا۔ سپارٹا کے نظام میں عورتوں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے اور ان کو جنگ کے لئے تیار کرنے اور اپنے بچوں کو ریاست سپارٹا پر قربان کر نے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ سپارٹا کا نظام فاشسٹوں اور کیمونسٹوں کے لئے ایک مثالی نظام تھا۔

ریاست مقدونیہ اور ہیلن ازم

مقدونیہ یونان کی وہ تیسری ریاست تھی جسے سیاسی عروج حاصل ہوا۔ اس کے بادشاہ فلپ دوئم نے یونان کی بیشتر ریاستوں کو فتح کر لیا۔ ۳۳۲ قبل مسیح میں اس کا بیٹا سکندر بادشاہ بنا۔ یہی وہ سکندر ہے جیسے تاریخ میں سکندر اعظم کہا جاتا ہے۔ سکندر نے یونان کی تمام ریاستوں کو یک جا کر کے ایک عظیم سلطنت کا قیام کیا۔ بعد میں اس نے ایران، شام ، فلسطین، مصر، افغانستان اور ہندوستان کا کچھ حصہ فتح کر لیا لیکن اس کے بعد سکندر کی فوج نے ہندوستان میں آگے جانے سے انکار کر دیا۔ مجبوراً اسے بابل (عراق) واپس آنا پڑا جہاں وہ بیمار ہو کر ۳۲ سال کی عمر میں ۳۲۲ قبل مسیح میں مر گیا۔

سکندر کے بعد اس کے جنریلوں نے اس کی سلطنت کو مصر، بابل، شام ، یونان اور فارس کی پانچ سلطنتوں میں تقسیم کر دیا۔ ان تمام سلطنتوں میں فلسفہ یونان اور اس کے ایتھنز اور سپارٹا کے طرز حکومت کے گہرے اثرات موجود تھے۔ یونانی فلسفہ اب مشرق میں پھیل رہا تھا۔ یہ دور تھا جب بنی اسرائیل بخت نصر کی غلامی سے نکل کر واپس فلسطین میں آباد ہو گئے تھے۔ یونان کے اس فلسفے نے انہیں اور زیادہ گمراہ کر دیا۔ یونانی فلسفے کے مشرقی حکومتوں پر اثرات کو ہیلن ازم کہا جاتا ہے۔ ہیلن ازم کی اصطلاح مورخین کے ہا ں اس دور کے لئے بولی جاتی ہے جو سکندر کے مرنے کے بعد سے لے کر رومیوں کی بابل پر قبضے پر مشتمل ہے۔

یونان کا زوال اور رومیوں کا عروج

یونان کی آزاد ریاستوں کا زوال رومیوں کے عروج کے دور ۱۴۴ قبل مسیح سے شرو ع ہوتا ہے کہ جب رومیوں نے پورے یونان پر قبضہ کر لیا۔ ۸۶ قبل مسیح تک تو یونانیوں کو کچھ آزادی تھی مگر بعد میں یہ رومی سلطنت کا باقاعدہ صوبہ بن گیا۔ ہیلن ازم کا زوال بھی رومیوں کے تمام مشرق وسطیٰ پر قبضے اور ۴۴ قبل مسیح میں فلسطین اور مصر پر قبضے سے ہوا جب رومی جنریل جیولیس سیزر نے مصر کی ملکہ قلوپترہ کو شکست دی تھی۔ رومیوں کی تاریخ کا ذکر ہم ان شاء اللہ آگے کریں گے۔

یونان کی تاریخ اور اس کے دنیا پر اثرات

قدیم یونان کی تاریخ شرک اور کفر کی گمراہی سے شروع ہوتی ہے اور انسانی عقل کے غلبے پر ختم ہوتی ہے۔ یونانیوں کے پاس کو ئی علم وحی کی ہدایت نہیں تھی۔ وہ دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے۔ اسی جہالت میں انسانی عقل کی جدید جاہلیت نے جنم لیا۔ یونان میں ایسے فلسفی پیدا ہونا شروع ہو گئے جنہوں نے انسان اور رب کے تعلق کو کسی نبی کی بجائے اپنی عقل سے استوار کیا۔ انہوں نے انسان اور رب کے تعلق، انسان کے دنیا سے تعلق، انسان کے مادے سے تعلق اور انسان کے اخلاق کے فلسفے پر اپنی عقل اور منطق سے بہت سے نظریات پیش کیے جن میں وحی کی ہدایت موجود نہ تھی۔ یونانی فلسفیوں میں سقراط، افلاطون اور ارسطو زیادہ مشہور ہیں۔ ان فلسفیوں نے انسان کے سامنے عقل پرستی کا ایک ایسا باب کھول دیا جس نے انسان کی گمراہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

ایتھنز میں قائم فرد کی انفرادیت اور اس کا اجتماعی نظام سے تعلق سرمایہ دانہ جمہوریت مغربی یورپ اور امریکہ کے لئے ایک مثال بن گیا، دوسری طرف سپارٹا میں قائم فرد کا ملت میں گم ہو کر رہنے کا اجتماعی نظام فاشسٹ میسولنی، ہٹلر اور کمیونسٹ کارل مارکس، لینن اور سٹالین کے لئے مشعل رہ بن گیا۔ تیسری ریاست مقدونیہ نے اپنے بادشاہ فلپ دوئم اور اس کے بیٹے سکندر اعظم کے دنیا پر سیاسی غلبے کی وجہ سےان فلسفوں اور نظام کو پوری دنیا تک پہنچا دیا۔ یونانی فلسفوں سے موجودہ اٹلی کا شہر روم بھی متاثر ہوا اور رومیوں نے جب یونان پر قبضہ کیا تو وہ بھی اس نظام اور فلسفوں سے بے حد متاثر ہوئے۔ رومیوں نے جب دنیا پر قبضہ کیا تو یونان کا فلسفہ اور رومیوں کا قانون پوری دنیا پر لاگو ہو گیا۔ جب رومیوں نے عیسائیت قبول کی تو دین عیسائیت بھی فلسفہ یونان کے اثرات اور رومی قانون کی آمیزش سے بچ نہ سکا۔ یہودیت چونکہ یونانیوں اور رومیوں دونوں کی غلام رہی ہے اس لئے اس کا ان نظاموں اور فلسفوں سے متاثر ہونا نا گزیر تھا۔ اگرچہ عیسائیت اپنی بنیاد میں ان فلسفوں کے خلاف تھی، لیکن دین میں تحریفات ہونے اور وحی الہٰی سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی ان فلسفوں سے متاثر ہو گئی۔ یوں دین عیسائیت کے آغاز میں ہی عقلیت کے شرک کا وہ بیج پڑ گیا جس نے بعد میں دین عیسائیت کی دیواروں کو کھوکھلا کر کے منہدم ہی کر ڈالا۔

فلسفہ یونان کے علاوہ یونانیوں کا دوسرا بڑا کام ایک نظام اجتماعی کا خاکہ پیش کرنا تھا جو انسان کو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہشات کے تحت زندگی گزارنے کا منظم طریقہ تھا۔ یونان کا فلسفہ اور نظم اجتماعی کا خاکہ دونوں انسان کا اپنی ذہن سے بنایا ہوا طریقہ ہے جو ہدایت الہٰی سے خالی ہے۔ ان دونوں طریقوں نے انقلاب فرانس کے بعد دین سے بیزار مغربی باشندوں کو سرمایہ دارانہ جمہوریت ، سوشلزم اور سوشل ڈیموکریسی جیسے نظام بنانے اور پوری دنیا میں پھیلانے میں مدد دی۔

یہ نظام دنیا میں آج کیسے پہنچا اس کو جاننے کے لیے ہمیں رومیوں اور مغرب میں عیسائیت کے عروج وزوال پر نظر ڈالنی ہوگی۔

رومی سلطنت کی تاریخ

رومیوں کا مذہب شرک تھا یہ بہت سےخداؤں، دیوی دیوتاؤں کو پوجتے، اپنے مرے ہوئے عظیم بادشاہوں کو بھی انہوں نے دیوتاؤں کا درجہ دے رکھا تھا۔ ان دیوی دیوتاؤں کے علاوہ رومیوں کی کئی قومیں ستارہ پرست بھی تھیں غرض یہ کہ شرک ان کی گٹھی میں پڑا ہوا تھا۔ رومی سلطنت کا آغاز آج کے ملک اٹلی کے دارالخلافہ شہر روم سے ۵۰۸ قبل مسیح میں ہوا تھا۔ روبلس نامی ایک شخص نے اپنے قبیلے سمیت اس شہر کو بسایا۔ اس کی اولاد نے اس شہر کو ترقی دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روبلس کی اولاد میں ترقی ہوئی اور یہ بہت سے قبیلوں میں تقسیم ہو گئی۔ اب روم شہر کو چلانے کے لئے ایک نظام کی ضرورت تھی۔ اس لئے شہر کا نظام چلانے کے لئے وہاں کے قبائل نے کام کی باہمی تقسیم کا نظام وضع کیا۔ یہ سلطنت روم کا آغاز تھا۔ مورخین سلطنت روم کو تین بڑے ادوار میں تقسیم کرتے ہیں :

  1. رومی جمہوریہ کا دور
  2. رومی شہنشاہیت کا دور
  3. رومی سلطنت کا زوال اور بازنطینی روم کا عروج

رومی جمہوریہ کا دور (۵۰۸ ق م سے ۴۴ ق م)

رومی سلطنت کے پہلے ہی دور کو مورخین روم کا جمہوری دور کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دور میں روم کے رہنے والے قبائل نے حکومت کو چلانے کے لئے ایک نظام وضع کیا تھا۔ اس نظام کو چلانے کے لئے شہر میں رہنے والے قبائل نے ایک ادارہ قائم کیا تھا جس کو سینیٹ کہا جاتا تھا۔ اس سینیٹ میں نمائندگی قبیلے کے شرف کے مطابق دی جاتی تھی۔ اشرافیہ کی اس حکومت میں عوام کو زیادہ نمائندگی حاصل نہ تھی۔ اس لئے آئے دن لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا تھا۔ ان جھگڑوں کو دور کر نے کے لئے ایک اور عوامی ایوان وجود میں آیا جس میں عام عوام اپنے مسائل پیش کر سکتے تھے۔ آج کے جمہوری نظام کے حامی روم کے اس دور کو اپنا مثالی نظام تصور کرتے ہیں۔ مگر یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ رومی جمہوریت آج کی جمہوریت سے مختلف تھی۔ رومی نظام کو آج کی اصطلاح میں رپبلک کہا جاتا ہے جہاں پر عوامی نمائندگی ارباب حل و عقد کے ذریعے عمل میں لائی جاتی تھی۔ یہ نظام نہ ہی آج کے ایک فرد ایک ووٹ کے نظام پر چلتا تھا اور نہ ہی یہ نظام مرد اور عورت کی مساوات کے اصول پر بنا یا گیا تھا۔ اس نظام کی بنیادیں چار بڑے اصولوں پر استوار تھیں جو درج ذیل ہیں :

  1. مثالی اخلاقی نظام
  2. رومی قانون
  3. آرڈر یا نظم
  4. اجتماعی قومی مفاد

مثالی اخلاقی نظام سے مراد یہ تھی کہ قوت کا حصول اجتماعی فائدے کے لئے کیا جائے۔ اس لئے وہی شخص حکومت کے کسی کام کا اہل ہے جو اپنے قبائلی شرف، اخلاق اور کردار کے ایک اعلیٰ معیار پر فائز ہو، اس میں شجاعت ہو اور سخاوت ہو اور اس میں اپنے انفرادی فائدے کو اپنے اجتماعی فائدے پر قربان کرنے کا جذبہ موجود ہو۔

دوسرا مثالی تصور رومی نظام میں قانون کو وضع کرنا تھا۔ اس قانون کے دو حصے تھے ایک سول قانون کہلاتا تھا اور دوسرا فوجداری قانون کہلاتا تھا۔ رومی قبائل میں اسی قانون کے تحت فیصلے کیے جاتے تھے۔ رومیوں کے اس قانون پر فلسفہ یونان کے گہرے اثرات تھے۔ رومیوں کا یہی مثالی قانون مستقبل میں انگلستان کے قانون کا ماخذ بنا اور یہی قانون آج پاکستان میں لاگو ہے۔

رومی نظم کا مطلب یہ تھا کہ یہ نظام اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے کہ جب ہر انسان کو اپنے فرائض اور حقوق سے شناسائی ہو اور وہ اس کو ادا کرنے کے لئے تیار ہو چاہے اس کی طبعیت پر کتنا ہی گراں گزرے۔ اسی سے اجتماعی نظم قائم ہو سکے گا۔ یہ اصول بھی رومیوں نے فلسفہ یونان سے حاصل کیا تھا۔

چوتھا اہم رومی اصول یہ تھا کہ معیشت کے تمام کام رومیوں کے اجتماعی فائدے کے لئے کیے جائیں گئے۔ جنگ بھی اسی مقصد کے لئے کی جائیں گی اور اس سے حاصل ہو نے والا فائدہ بھی رومیوں کو پہنچایا جائے گا۔ اس اصول نے فتوحات ، زراعت اور دوسری قوموں کو غلام بنا کر ان سے معاشی فائدہ اٹھانے کو ایک منظم نظام کی شکل دے دی۔

مغربی تاریخ کے مورخین کے مطابق ان اصولوں نے روم کے اس معاشرے کو اتنا منظم کر دیا تھا کہ دنیا پر ان کی حکومت کا قائم ہونا ایک ناگزیر عمل بن گیا تھا۔ اس لئے کہ ان کا یہ نظریہ اس وقت کی دیگر قوموں سے بہت بلند تر تھا۔ ۲۷۵ قبل مسیح تک روم کا یہ نظام موجودہ اٹلی کے پورے جزیرہ نما پر غالب آ چکا تھا۔ ۲۰۱ قبل مسیح سے ۱۴۶ قبل مسیح تک رومیوں نے مشرقی یورپ جس میں آج کا یونان ، قسطنطنیہ، بوسنیا اور البانیہ وغیرہ شامل ہیں فتح کر لیا۔

رومیوں کی شہنشاہیت کا دور(۴۴ق م سے ۴۱۰ عیسوی)

رومیوں کی شہنشاہت کا دور ۴۴ قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے اور ۴۱۰ عیسویں کو رومی سلطنت کے مغربی حصے کے زوال پر ختم ہو جاتا ہے۔ اس دور کی خاص بات رومی شہنشاہیت کا مشرق اور مغر ب دونوں اطراف میں پھیل جانا تھا۔ اٹلی کے مغرب میں آج کے جرمنی، فرانس، اور برطانیہ تھے جو کہ وحشی قبائل پر مشتمل تھے۔ جب کہ اس کے مشرق میں ایشیائی ممالک جن میں بابل و نینوا شامل تھے جو کہ آج کے عراق شام اور فلسطین پر مشتمل تھے۔ اس دور میں یہ تہذیب اور تمدن کے واحد مرکز تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب بنی اسرائیل اپنی گمراہی کے آخری کنارے پر کھڑے تھے۔ اسی دور میں ان کی ہدایت کے لئے زکریا علیہ السلام ، یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے مبعوث کیا تھا۔ اور ان انبیاء کی انہوں نے تکذیب کی اور دو انبیاء زکریاؑ اور یحییٰؑ کو شہید کر دیا۔ اب عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازشوں کا جال بچھا رہے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی انہوں نے رومی گورنر کے ساتھ مل کر اپنے گمان میں قتل کر دیا تھا۔ اس دور میں رومی سلطنت بحر روم کے چاروں اطراف میں یورپ، ایشیا اور افریقہ کے ممالک پر قابض تھی۔ رومیوں نے جس جس ملک پر بھی قبضہ کیا وہ اپنے مشرکانہ اصول، جن میں رومی نظام، قانون اور نظم ضبط شامل ہے، ان مقبوضات پر نافذ کرتے گئے۔ ان کے مقبوضات میں یہودی بھی موجود تھے اور عیسائیت، جو کہ ایک نئے یہودی فرقے کے طور پر سامنے آئی تھی، بھی موجود تھی۔ ان کے ان مقبوضات پر دین حق پر چلنے والے مسلمان (نصاریٰ) بھی شامل تھے۔ یہودی ہوں یا عیسائی یا مسلمان کو ئی بھی ان کے شرکیہ اصول ماننے پر تیار نہیں تھا۔ اس وجہ سے ان کی مملکت میں آئے دن بغاوتیں اٹھتیں تھیں۔ ایسی ہی ایک بغاوت یہودیوں کے مکابی فرقے نے بیت المقدس کو آزاد کروانے کے لئے ۷۰ء میں کی جس کے نتیجے میں رومیوں نے انہیں بیت المقدس سے نکال دیا (جو ۱۸۸۲ سال بعد ۱۹۴۸ میں یہاں واپس آ کر اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے)۔

مغربی رومی حکومت کا زوال اور بازنطینی روم کا عروج

رومی سلطنت کا زوال ۱۳۸ء سے بادشاہ ہیرڈین کے زمانے سے ہوا۔ اس کی وجہ سلطنت کی توسیع میں جمود آ جانا تھا۔ جس نے اس کی آمدن کو کم کر دیا اور اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ غلاموں کی تعداد کم ہونے سے مزدوری کی قیمت بڑھ گئی۔ ایک اور وجہ یہ ہوئی کہ رومی فوج میں غیر رومی لوگ زیادہ ہو گئے جو روم کے شہریوں کے فائدے کی جنگ کرنے کے بجائے اپنے فائدے کے لئے جنگ کرتے تھے جس نے روم کی آمدنی کو کم کر دیا۔ روم کے زوال میں آخری کیل مغربی افریقہ اور شمالی یورپ کے قبائل نے ٹھونک دی۔ ۴۱۰ء میں ویزگوٹھ قبیلے نے روم کو فتح کرکے مغرب میں رومی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔

۳۱۰ء میں رومی بادشاہ قسطنطین نے مشرقی یورپ میں بحر مرمر کے کنارے نئے روم کے نام سے ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی۔ اس شہر کا مقصد روم کے مشرقی صوبوں کے لئے ایک دار الحکومت قائم کرنا تھا۔ قسطنطین نے عیسائیت قبول کر لی اور اس کے بعد میں آنے والے بادشاہوں نے عیسائیت کو سرکاری مذہب قرار دے کر تمام مشرکانہ رسوم اور عبادت گاہوں کو بند کرا دیا۔ یہاں سے عیسائیت کے عروج کا آغاز ہوتا ہے۔ سلطنت روم کے مغرب میں زوال کے بعد اب رومیوں اور عیسائیوں کا مرکز قسطنطنیہ بن گیا۔ اب دنیا میں ایران اور روم دو بڑی طاقتیں تھیں۔ یہ سلسلہ ساتویں صدی عیسویں تک چلتا رہا اور جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں صحابہ اکرام نے شام، فلسطین اور مصر پر قبضہ کر لیا تو بازنطینی روم پسپا ہو کر قسطنطنیہ اور مشرقی یورپ میں محدود ہو گیا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ بازنطینی حکومت مشرق میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھی اور دوسری طرف وہ مغرب میں جرمن اور فرینک قبائل کے ساتھ جنگ میں مصروف تھی۔

ساتویں صدی عیسویں میں ایک فرینک سردار نے، جس کا نام شارلیمن تھا، عیسائیت قبول کر لی اور پاپائے روم کو اپنا بڑا مذہبی راہ نما مان لیا تو بازنطینی حکومت جو کہ بطریق اعظم کو اپنا بڑا مذہبی پیشوا مانتے تھے ان کے درمیان ٹھن گئی۔ یوں مشرق میں قسطنطنیہ اور مغرب میں روم عیسائیت کے دو مرکز بن گئے۔ شارلمین نے اپنی حکومت کو توسیع دے کر آج کے تمام وسطی اور مغربی یورپ پر اپنا تسلط قائم کر لیا تو پاپائے روم کے سیاسی قد میں اضافہ ہو گیا۔ بازنطینی سلطنت کا خاتمہ ۱۴۵۳ء میں عثمانی سلطان محمد فاتحؒ کے ہاتھوں ہوا جب اس نے قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیا۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

عالمی برادری کو نسلی تطہیر پر کوئی خاص اعتراض نہیں

Next Post

فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جنگ کا نیا محاذ: مصنوعی ذہانت

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | ستمبر 2026

8 اکتوبر 2026
نوائے امارت اسلامیہ (اگست ۲۰۲۶ء)
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

نوائے امارت اسلامیہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)

8 اکتوبر 2026
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن
نقطۂ نظر

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن

8 اکتوبر 2026
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

8 اکتوبر 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | سترہویں قسط

8 اکتوبر 2026
ہوئے تم دوست جس کے……
عالمی منظر نامہ

ہوئے تم دوست جس کے……

8 اکتوبر 2026
Next Post
فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جنگ کا نیا محاذ: مصنوعی ذہانت

فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جنگ کا نیا محاذ: مصنوعی ذہانت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

ستمبر و اکتوبر 2026ء
ستمبر و اکتوبر 2026ء

ستمبر و اکتوبر 2026ء

by ادارہ
8 اکتوبر 2026

Read more

تازہ مطبوعات

تر ټولو وړاندې امریکا!
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

تر ټولو وړاندې امریکا!

مرکزی خیال: شهید شیخ احسن عزیز لیکوال: معین الدِّین شَامی ژباړن: عماد الدین خالد   ډاونلوډ کړی    

اکتوبر, 2026
یہ غزہ ہے
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

یہ غزہ ہے

تالیف: فضیلۃ الشیخ محمد صلاح الدین زیدان (سیف العدل)   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
د شام د جهاد درسونه
مطبوعات حطین

د شام د جهاد درسونه

د فضيلة الشیخ ایمن الظواهري بیان «فَلْنُقَاتِلْھُمْ بُنْیَانًا مَّرْصُوْصًا» له سریزې او حاشیو سره له سریزې او حاشیو سره   ...

ستمبر, 2026
گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملوں سے متعلق شبہات اور سازشی نظریات کا رد مصنف: نعمان حجازی   ڈاؤن لوڈ کریں ...

ستمبر, 2026
سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version