اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے فلسطینیوں کو غزہ سے جبراً بے دخل کرنے کے منصوبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ غزہ کا 70 فیصد حصہ فلسطینیوں سے خالی کرایا جا چکا ہے، کاٹز نے کہا کہ اسرائیل محض امریکی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔ کاٹز نے اعلان کیا:
’’جیسے ہی ہمیں حماس کے خاتمے کی ہدایت دی جائے گی، IDF کام مکمل کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ ہم نقل مکانی کے منصوبے پر بھی عمل درآمد کر سکیں۔‘‘
مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے کے دوران کاٹز کی بات کی تردید کرتے ہوئے اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا:
’’میں آپ کو قطعی طور پر بتا سکتا ہوں کہ اسرائیلیوں کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی مرضی کے خلاف غزہ سے بے دخل کریں۔‘‘
فلسطینی عوام کو غزہ سے جبراً منتقل کرنے کے منصوبے 2023ء میں نسل کشی کے ابتدائی دنوں ہی سے منظرِ عام پر آتے رہے ہیں۔
اسرائیل نے حال ہی میں جبری منتقلی کو ’’رضاکارانہ نقل مکانی‘‘ کا نام دے دیا ہے، تاکہ ممالک کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں میں شریک ہونے پر آمادہ کیا جا سکے۔ لہٰذا، ہکابی کا بیان اس بات کی علامت نہیں ہے کہ جبری منتقلی نہیں ہو گی۔ بلکہ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اگر جبری منتقلی ہوتی ہے تو اسے اسرائیلی بیانیے کے تحت ’’رضاکارانہ نقل مکانی‘‘ کا روپ دے کر انجام دیا جائے گا۔ کاٹز نے یہ غیر مصدقہ پس منظر بھی فراہم کیا ہے کہ زیادہ تر فلسطینی غزہ چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اگر اس بات کو اسرائیل کے تشکیل دیے ہوئے ’’رضاکارانہ نقل مکانی‘‘ کے بیانیے میں شامل کر دیا جائے تو غالب امکان ہے کہ بین الاقوامی برادری معمول کی مذمتوں سے آگے کچھ نہیں کرے گی، کیونکہ ’’جبری منتقلی‘‘ کی اصطلاح ہی ختم کر دی گئی ہو گی۔ مزید یہ کہ جب بین الاقوامی برادری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں میں تعاون کرتی ہے تو استثنا اور بے مواخذگی کی نئی حدود قائم ہوتی ہیں، جس کا خمیازہ نوآبادیاتی تسلط کا شکار آبادی کو بھگتنا پڑتا ہے۔
جبری منتقلی ہوتی ہے یا نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو اس سرزمین میں واپس نہیں آنے دے گا جس پر اس نے فوجی قبضہ کر رکھا ہے اور جسے غالباً آبادکاری کے ذریعے نوآبادیاتی قبضے میں تبدیل کر دے گا۔ لہٰذا، غزہ کی آبادی کو علاقے کے باقی ماندہ صرف 30 فیصد حصے میں محدود کر دیے جانے کے باوجود اسرائیل کو اب بھی ایک سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔
نیتن یاہو غزہ پر مکمل کنٹرول کی نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ نسل کشی نے اس مقصد کے لیے میدان ہموار کر دیا ہے جسے اسرائیل حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے، ایسی سرزمین جس میں فلسطینی نہ ہوں۔
اسرائیل شاید پوری شدت کے ساتھ نسل کشی جاری رکھنے کا انتخاب کرے، وہ نسل کشی کی ایک نسبتاً سست رفتار شکل بھی جاری رکھ سکتا ہے، جس میں فلسطینیوں کو بتدریج زندہ رہنے کے تمام ذرائع سے محروم کیا جاتا رہے۔ اگر اسے امریکہ کی منظوری اور عالمی برادری میں رضامند معاونین حاصل ہو جائیں تو جبری منتقلی اسرائیل کے لیے سب سے آسان اور سب سے کم مواخذے کا سامنا کرنے والا راستہ ہو گا۔
تاہم، ہکابی کے بیان کے برعکس، اسرائیل پہلے ہی فلسطینیوں کو ان کی مرضی کے خلاف بے دخل کر چکا ہے۔ صہیونی نیم فوجی دستوں نے 1948ء کی نکبہ کے دوران ایسا کیا تھا، اور اسرائیل نے اپنی چوری کی ہوئی سرزمین پر ریاستی منصوبہ قائم کرنے کے بعد سے فلسطینی عوام کی جبری منتقلی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ نوآبادیاتی توسیع فلسطینیوں کی جبری منتقلی سے لازم و ملزوم ہے، کیونکہ آبادکار نوآبادیاتی معاشرے کے لیے جگہ پیدا کرنے کی خاطر مقامی آبادی کو بے دخل کر کے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو بسایا جاتا ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی نے پوری آبادی کو جبراً بے گھر کر دیا ہے، یہاں تک کہ اب یہ لوگ اس 30 فیصد زمین پر رہنے پر مجبور ہیں جس پر اسرائیل نے ابھی تک فوجی قبضہ نہیں کیا۔
لہٰذا یہ منصوبہ کئی دہائیوں سے موجود ہے، اور اسرائیل اب سمجھتا ہے کہ وہ جبری منتقلی کی ایک زیادہ نفیس شکل اس طرح نافذ کر سکتا ہے کہ اس پر ممکنہ حد تک کم جانچ پڑتال ہو۔
آیا امریکہ بالآخر اسرائیل کے موجودہ منصوبے سے اتفاق کرے گا یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن عالمی برادری نے نسل کشی کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کو پہلے ہی یقین دہانی کرا دی ہے کہ اسے نسلی تطہیر پر کوئی خاص اعتراض نہیں۔
[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭













