پیر کے روز (۳۰ مارچ ۲۰۲۶ء)، اسرائیل نے ایک سزائے موت کا قانون منظور کیا جس کے تحت اسے ’’دہشت گردی کے جرائم‘‘ میں مجرم قرار دیے جانے والوں کو تیزی سے 90 روزہ مدت کے اندر پھانسی دینے کی اجازت مل گئی ہے۔ فلسطینیوں کے لیے یہ قانون کوئی حیرت کی بات نہیں، یہ ان کے خاتمے کی ایک دیرینہ حکمتِ عملی کا محض ایک اور قدم ہے۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں کم از کم 87 فلسطینی قیدی اس طرح ہلاک ہوئے ہیں جسے انسانی حکومت کی تنظیمیں ’’تشدد کے کیمپوں کا نیٹ ورک‘‘ کہتی ہیں۔ ہلاکتوں کی یہ تعداد 1967ء کے بعد سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد ہے۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ کے اداروں اور مختلف ریاستوں نے تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے، فلسطینی اس قانون کو اس کی اصل حقیقت کو سمجھتے ہیں یعنی ایک ایسے عمل کو باضابطہ بنانا جو پہلے ہی جاری ہے۔
اس قانون کا وقت: فلسطینیوں کے لیے ایک پیغام
اہمیت صرف قانون کی شقوں کی نہیں بلکہ اس سیاق و سباق کی بھی ہے جس میں اسے منظور کیا گیا ہے۔ یہ اس واقعے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے بدنامِ زمانہ حراستی کیمپ سدی تیمان میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزام میں ملوث اپنے فوجیوں کے خلاف تمام الزامات واپس لے لیے۔
یہ محض اتفاق نہیں۔ اسرائیل احتساب میں استثناء کی روش کو قانونی شکل دے رہا ہے۔ ایک آبادی کو منظم جنسی تشدد کے لیے کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے جبکہ دوسری کو اب 90 دن کے اندر پھانسی کا سامنا ہے، ایک ایسے فوجی عدالتی نظام میں جو 96 فیصد فلسطینیوں کو مجرم قرار دیتا ہے اور وہ بھی اکثر ایسے اعترافات کی بنیاد پر جو تشدد کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔
یہ سب اس وقت میں بھی ہو رہا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔ صرف گزشتہ ایک ماہ میں، اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ساتھ ساتھ، مسلح اسرائیلی ملیشیاؤں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف 7,300 سے زائد خلاف ورزیاں کیں، جن میں قتل، چھاپے، گرفتاریاں، املاک کو نقصان پہنچانا اور تباہ کرنا، اور نقل و حرکت کی آزادی کو روکنا شامل ہیں۔
2023ء کے اواخر میں، جنوبی مغربی کنارے کے علاقے خیربت زانوتا کی پوری آبادی کو مسلسل آبادکار حملوں کے باعث بے دخل کر دیا گیا، جس نے وہاں رہنا ناممکن بنا دیا تھا۔ شمال میں، 2025ء میں، پناہ گزین کیمپ تباہ کیے گئے، خالی کرائے گئے، اور انہیں اسرائیلی فوجی اڈوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس سے قبل ماضی میں ختم کی گئی غیر قانونی اسرائیلی آبادیاں دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہیں اور انہیں اسرائیل کی جانب سے قانونی حیثیت دی جا رہی ہے۔
حالیہ مہینوں میں نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی شدت اور درندگی بھی بڑھ گئی ہے۔
جنوری سے مارچ کے درمیان، اسرائیلی آبادکاروں اور فوجیوں نے بچوں کو اغوا کیا، قتلِ عام کے لیے حملے کیے، فلسطینی مردوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی، حتیٰ کہ ان کی شرم گاہوں کو باندھ کر انہیں ان کے گاؤں میں گھمایا گیا، اور فلسطینی خاندانوں کو قریب سے گولیاں مار کر قتل کیا۔
ان جرائم پر کسی ایک اسرائیلی کو بھی جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ اس کے برعکس، فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے، اور جو لوگ آبادکاروں کے حملوں سے اپنی برادریوں کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں اسرائیلی فوج گرفتار کر لیتی ہے۔
سزائے موت کے قانون کا پیغام واضح اور دانستہ ہے: اسرائیلی قانونی نظام میں فلسطینیوں کے کوئی حقوق نہیں۔ ان کا خاتمہ، چاہے وہ بے دخلی کے ذریعے ہو، موت کے ذریعے، یا انہیں تھکا دینے کے ذریعے، ہی مطلوبہ نتیجہ ہے۔
فلسطینی مزاحمت کی صلاحیت کا خاتمہ
دہائیوں سے اسرائیل کو ، مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف، حتیٰ کہ اسرائیلی شہریت رکھنے والے فلسطینیوں کے خلاف بھی، امتیازی قانونی ڈھانچوں کی وجہ سے تنقید اور مذمت کا سامنا رہا ہے۔
تاہم یہ علیحدگی صرف نسلی برتری کو اجاگر کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک منظم انتظامی ٹوٹ پھوٹ پیدا کرنے کے لیے ہے۔ جنوری میں جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس نوع کے قوانین فلسطینی خود ارادیت کو مٹانے اور علاقائی، سیاسی یا ثقافتی تسلسل کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
سزائے موت کا قانون اسرائیل کی دیرینہ نسلی امتیاز اور الگ عدالتی نظام کی پالیسی کے عین مطابق ہے۔ اسے بڑی احتیاط سے اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کا اطلاق صرف فلسطینیوں پر ہو۔
اس قانون کا سب سے خطرناک پہلو اس کی امتیازی ساخت نہیں بلکہ وہ منطق ہے جو اس میں پیوست ہے۔ قانون کے تحت ’’وہ شخص جو کسی دوسرے کی جان بوجھ کر اس نیت سے جان لے کہ اسرائیل کے کسی شہری یا رہائشی کو نقصان پہنچائے، اور جس کا مقصد ریاستِ اسرائیل کے وجود کو مسترد کرنا ہو‘‘ اسے سزائے موت یا عمر قید دی جا سکتی ہے۔
صرف یہ شق ہی ایک غیر معمولی کام کرتی ہے: یہ محض تشدد کو جرم قرار نہیں دیتی بلکہ اسرائیلی قبضے کے تحت فلسطینی ہونے کی سیاسی حالت کو ہی جرم بنا دیتی ہے۔
ایک آبادکار توسیع پسند ریاست کے طور پر، اسرائیل دراصل یہ کہہ رہا ہے کہ ایک ایسی قوم جسے منظم طور پر بے دخل کیا جا رہا ہو، اسے اس بے دخلی کے خلاف مزاحمت کا بھی حق حاصل نہیں۔ یوں ایک فلسطینی جو اپنے گاؤں کو مسلح آبادکاروں کے ہاتھوں خالی ہوتے دیکھ رہا ہو ، اور جنہیں قتل و حملوں پر کوئی قانونی سزا نہیں ملتی، اب محض زندہ رہنے اور اپنے پیاروں کے تحفظ کی خواہش رکھنے پر سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی پالیسی ساز اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ فلسطینی قصبوں اور دیہات سے فلسطینیوں کی تدریجی مگر تیز رفتار بے دخلی کے دوران مزاحمت ناممکن ہو جائے۔ اس طرح، اسرائیل دراصل ایک قوم کے عدم وجود کو ادارہ جاتی شکل دے رہا ہے۔
سزائے موت کا قانون زمین کے انضمام سے متعلق ہے
سزائے موت کے قانون کو صرف قیدیوں سے متعلق پالیسی سمجھنا اس کے مقصد کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ہے۔ فلسطینی پہلے ہی اپنے گھروں اور سڑکوں پر بغیر کسی عدالت، بغیر کسی الزام، اور بغیر 90 دن کی مہلت کے قتل کیے جا رہے ہیں۔
یہ قانون، آبادکاریوں کو قانونی حیثیت دینا، فوجی عدالتیں، مسماری کے احکامات، اور غزہ کا محاصرہ ، یہ سب الگ الگ مسائل کے جواب میں بنائی گئی پالیسیاں نہیں ہیں۔ یہ ایک ہی منصوبے کے اوزار ہیں: فلسطینی زمینوں پر مکمل قبضہ، فلسطینی جسموں پر مکمل کنٹرول کے ذریعے۔ ہر ایک مختلف حالات میں مختلف لوگوں کو نشانہ بناتا ہے، مگر مقصد ایک ہی ہے۔
کسی ایک بڑے اور اچانک تطہیری عمل کے بجائے، اسرائیل ایک ایسی حقیقت تشکیل دے رہا ہے جس میں فلسطینی نہ زمین پر رہ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی مٹتی ہوئی شناخت کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ قانون پہلے سے جاری خاتمے کے ایک مکمل ڈھانچے میں محض ایک نئی تہہ کا اضافہ کرتا ہے۔
فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا آغاز اس قانون سے نہیں ہوا تھا۔ اس کا آغاز پہلی اسرائیلی بستی کے قیام سے ہوا تھا۔
[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



