بالادست میڈیا کی زبان محض دنیا کی عکاسی نہیں کرتی۔ وہ اسے منظم کرتی ہے، اس میں درجہ بندی قائم کرتی ہے اور سب سے بڑھ کر اسے نظم و ضبط میں لاتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی غالب لغت کے اندر بعض اصطلاحات کو باقاعدگی سے اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ اتحادیوں کو جائز اور مخالفین کو ناجائز ٹھہرایا جا سکے۔ یہ کوئی محض لسانی تفصیل نہیں بلکہ عالمی نظام کے گرد اس سے متعلق رضامندی پیدا کرنے کا ایک مرکزی طریقۂ کار ہے۔
ایک سادہ مشاہدہ اس پیٹرن کو واضح کرتا ہے: امریکہ، اس کے یورپی (اور دیگر) اتحادی اور ’’اسرائیل‘‘ جیسے ممالک کو ’’حکومتیں‘‘ چلاتی ہیں۔ جبکہ وہ ممالک جو اس سامراجی نظام کو چیلنج کرتے ہیں، جیسے ایران، کیوبا، وینزویلا اور شمالی کوریا (اور افغانستان1بین القوسین اضافہ از ادارہ۔(ادارہ))، اکثر ’’رجیمز‘‘ کہلاتے ہیں۔
یہ امتیاز ہرگز غیر جانب دارانہ نہیں۔ ’’حکومت‘‘ ادارہ جاتی قانونی حیثیت کا تاثر دیتی ہے، جبکہ ’’رجیم‘‘ عام استعمال میں شک، غیر قانونی حیثیت اور خطرے کی علامت ہے۔
یہ بگاڑ خود بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ سیاسیات میں ’’رجیم‘‘ ایک غیر جانب دار، فنی اصطلاح ہے جو اقتدار کے وسیع تر ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لیکن میڈیا کے بیانیے میں یہ ایک سیاسی لیبل بن جاتی ہے۔ کسی ملک کو ’’رجیم‘‘ کہنا اس کی وضاحت نہیں بلکہ اس پر فیصلہ صادر کرنا ہوتا ہے۔ اور یہ فیصلہ کسی بھی تجزیے سے پہلے آ جاتا ہے، یوں عوامی تاثر کو پیشگی تشکیل دیا جاتا ہے۔
یہی طریقۂ کار غیر ریاستی عناصر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
حماس جیسی تحریکوں پر خود کار طور پر ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ کا لیبل لگ جاتا ہے، جس سے ان کی تاریخی، سماجی اور سیاسی پیچیدگی مٹ جاتی ہے۔
اس انداز سے بیان کرنے میں جو چیز غائب ہو جاتی ہے وہ سیاق و سباق ہے جس میں ایسی تحریکیں جنم لیتی ہیں: قبضہ، جنگ اور قومی حقوق کی نفی۔ بین الاقوامی قانون، خصوصاً نوآبادیاتی تسلط کے خلاف جدوجہد کے تناظر میں، اقوام کے حقِ خود ارادیت، مزاحمت اور بیرونی قبضے کے خلاف جائز دفاع کو تسلیم کرتا ہے۔ اس اصول کی توثیق اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 اور بیسویں صدی کے دوران متعدد اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں کی گئی ہے۔
اس کے باوجود، مین سٹریم میڈیا شاذ و نادر ہی اس فریم ورک کو اختیار کرتا ہے۔ اس کے بجائے وہ ایسی لغت کو ترجیح دیتا ہے جو مزاحمت کو جرم بنا دیتی ہے اور تنازع کو غیر سیاسی کر دیتی ہے۔
یہ عدم توازن سب سے زیادہ ’’اسرائیل‘‘ کے معاملے میں نمایاں ہوتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون کا ایک بڑا ذخیرہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے وجود اور بستیوں کی غیر قانونی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے، مگر میڈیا شاذ ہی ’’قابض طاقت‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ اس کے برعکس، غالب بیانیہ ’’حقِ دفاع‘‘ کا ہوتا ہے۔
چنانچہ، شہری آبادیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیوں اور غزہ میں کی گئی نسل کشی کے باوجود بھی ، غالب بیانیہ یہی رہتا ہے: ’’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ہی فلسطینی مزاحمت کی کسی بھی شکل کو فوری طور پر ’’دہشت گردی‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس کا نتیجہ ایک گہری معنوی الٹ پھیر کی صورت میں نکلتا ہے: قبضہ بیانیے سے غائب ہو جاتا ہے جبکہ مزاحمت کو جرم بنا دیا جاتا ہے۔
یہ لسانی پیٹرن اتفاقاً پیدا نہیں ہوا۔ یہ سرد جنگ اور نام نہاد ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ جیسے تاریخی مراحل کے ذریعے مستحکم ہوا، جن ادوار میں زبان جغرافیائی سیاسی کشمکش کا ایک مرکزی ہتھیار بن گئی۔ تب سے، غالب میڈیا مغربی طاقت پر مبنی عالمی نظام کو جائز ٹھہرانے کا ایک ذریعہ بن کر کام کرتا رہا ہے۔
یہ طے کر کے کہ کون ’’حکومت‘‘ ہے اور کون ’’رجیم‘‘، کون ’’دفاع‘‘ کر رہا ہے اور کون ’’دہشت گردی‘‘ میں ملوث ہے، میڈیا محض خبر نہیں دیتا بلکہ ممکنات کی سرحدیں متعین کرتا ہے۔ وہ رائے عامہ کو تشکیل دیتا ہے، پابندیوں، ناکہ بندیوں اور مداخلتوں کے لیے زمین ہموار کرتا ہے، اور اقوام کے درمیان عدم مساوات کو معمول بنا دیتا ہے۔
اس کے نتائج ٹھوس ہوتے ہیں۔ ایسی اصطلاحات کا مسلسل استعمال معاشی تنہائی کی پالیسیوں کو جواز فراہم کرتا ہے جو پوری آبادیوں کو متاثر کرتی ہیں، بین الاقوامی سلامتی کے نام پر فوجی مداخلتوں کو جائز ٹھہراتا ہے، اور قوموں کو مستقل طور پر خطرے اور تشدد سے جوڑ کر ان کی انسانیت کو مسخ کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر، یہ ایک ایسا علامتی نظام تشکیل دیتا ہے جس میں کچھ زندگیاں مکمل طور پردرست تسلیم ہوتی ہیں جبکہ دیگر ہمیشہ کے لیے مشکوک ٹھہرتی ہیں۔
اس تناظر میں واضح ہو جاتا ہے کہ معاصر سیاسی جدوجہد زبان کی جدوجہد بھی ہے۔ ’’رجیم‘‘ اور ’’دہشت گردی‘‘ جیسی اصطلاحات کے استعمال پر سوال اٹھانا محض ایک علمی مشق نہیں بلکہ ایک سیاسی عمل ہے۔
یہ اس بیانیے کی ’’فطری‘‘ حیثیت کو مسترد کرنے کے لیے ہے جو غلبے کو جائز ٹھہراتا ہے اور مزاحمت کو مٹا دیتا ہے۔
اس لغت کو توڑنے کے لیے فکری دقت کے ساتھ ساتھ تنقیدی جرأت بھی درکار ہے۔ اس کے لیے یہ تسلیم کرنا لازم ہے کہ زبان بھی میدانِ جنگ کا حصہ ہے، اور الفاظ اتنے ہی فیصلہ کن ہو سکتے ہیں جتنے وہ حقائق جن کی وہ نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
کیونکہ، بالآخر، مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا کو کیسے بیان کیا جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے بیان کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔
اور جب تک یہ اختیار مرتکز رہے گا، زبان وضاحت کے لیے نہیں بلکہ جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہے گی۔ سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ بیانیہ تشکیل دینے کے لیے، آزادی دینے کے لیے نہیں بلکہ غلبہ قائم کرنے کے لیے ہوتی رہے گی۔
اس لغت کی تحلیل لہٰذا ہر اس منصوبے سے جدا نہیں ہو سکتی جو اقوام کی خودمختاری اور بین الاقوامی انصاف کے لیے کوشاں ہو۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ کسی بھی قوم کو ایسے لیبل تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے جو اس کی سزا کے لیے بہانہ بن جائے۔ یہ نام دینے، اور وجود رکھنے، کے حق کی بازیافت ہے، طاقت کی مسلط کردہ درجہ بندیوں سے ماورا۔
کیونکہ اکثر اوقات پہلی جنگ ہتھیاروں سے شروع نہیں ہوتی، وہ الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔
[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)
٭٭٭٭٭
- 1بین القوسین اضافہ از ادارہ۔(ادارہ)









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



