۲۰۰۰ءکے ابتدائی برسوں میں، میں فلسطینی ٹیم کا حصہ تھی جو بظاہر اسرائیل کے فوجی قبضے اور فلسطینی سرزمین کی نوآبادیات کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہی تھی۔ یہ تصور اُس وقت بھی اتنا ہی بےہودہ تھا جتنا آج ہے کہ جو لوگ فوجی تسلط کے تحت زندگی گزار رہے ہوں، انہیں اپنی آزادی کے لیے ’’مذاکرات‘‘ کرنا پڑیں، اور زمین کے اصل مالکوں کو اپنی ہی زمین اسرائیل سے واپس لینے کے لیے ’’مذاکرات‘‘ کرنا ہوں۔
اُس وقت ہم فلسطینیوں کو دنیا کے کئی سربراہانِ مملکت، جن میں امریکہ اور یورپ کے رہنما بھی شامل تھے، یہ کہتے تھے کہ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں، اور آزادی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ مذاکرات ہی ہیں۔ مگر حقیقتاً یہ سراسر غلط تھا، کیونکہ دنیا میں تقریباً کوئی بھی ریاست اپنے جابروں کے ساتھ مذاکرات کر کے آزادی اور خود مختاری حاصل نہیں کر سکی۔
جب مذاکرات جاری تھے، تو اسرائیل نے اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی غیر قانونی بستیوں کو تعمیر اور توسیع دی، اور اوسلو مذاکرات کے صرف سات برسوں میں اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد دوگنی کر دی۔ دوسرے لفظوں میں، ’’مذاکرات‘‘ کے پردے میں اسرائیل نے مزید زمین چرائی۔ یہی عالمی رہنما، جنہوں نے مذاکرات پر زور دیا تھا، اور ان کے جانشین، ہمیں مسلسل یہ جھوٹ بیچتے رہے کہ اسرائیل کی طرف سے چوری کی گئی تمام زمین کامیاب مذاکرات کے ذریعے واپس کروا لی جائے گی۔
یقیناً انہوں نے کبھی کوئی پلان بی پیش نہیں کیا، حالانکہ زمین پر قبضہ اور اس کی چوری کی غیر قانونی حیثیت بین الاقوامی قانون کا بنیادی ستون ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ’’امن‘‘ اور ’’مذاکرات‘‘ کی خواہش کا راگ الاپتا رہا، جبکہ ساتھ میں مسلسل مزید فلسطینی زمین بھی ہڑپ کرتا گیا۔
چھبیس برس بعد بھی ہم وہی ہتھکنڈے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل کی تخلیق ہی ابتدا سے اسی طریقۂ کار پر ہوئی تھی۔ صہیونی منصوبے کے آغاز سے اسرائیل کا ہدف ہمیشہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو وسعت دینا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1947ء کے تقسیم کے منصوبے میں، اگرچہ دعویٰ کیا جاتاہے کہ انہوں نے اس تقسیم کو ’’قبول‘‘ کر لیا تھا (حالانکہ کسی کو یہ اختیار ہی نہ تھا کہ وہ کسی اور کی زمین بانٹے)، صہیونی حملے صرف اُن علاقوں تک محدود نہ رہے جو غیر قانونی طور پر ’’یہودی ریاست‘‘ کو الاٹ کیے گئے تھے، بلکہ اُن کا رخ اس سے کہیں باہر تک تھا۔ اسی لیے اسرائیل نے 1967ء میں شام، مصر اور اردن پر ’’پیشگی‘‘ (یعنی غیر قانونی) حملہ کیا، اور آج تک بین الاقوامی قانون اور عالمی فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور گولان کی پہاڑیوں پر غیر قانونی قبضہ اور نوآبادیاتی تسلط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم 1990ء اور 2000ء کی دہائیوں میں اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے ’’امن کی خواہش‘‘ کی پھول برساتی زبان کے برعکس، آج اسرائیلی قیادت زیادہ کھل کر سامنے آ چکی ہے: وہ اب یہ پوشیدہ نہیں رکھتی کہ اس کا ارادہ مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے، غزہ کی پٹی کو دوبارہ نوآبادیاتی کنٹرول میں لینے، اور لبنان و شام سے مزید زمین ہتھیانے کا ہے۔ اور مستقل جنگ کے پردے میں اسرائیل نے عملاً یہی کچھ کیا بھی ہے۔ اسرائیل لبنان اور غزہ کے اندر گہرائی تک جا چکا ہے، حتیٰ کہ ’’جنگ بندیوں‘‘ کے دوران بھی۔
گزشتہ چند برسوں میں اسرائیل نے نہ صرف ہسپتالوں، اسکولوں، امدادی کارکنوں، صحافیوں اور بچوں پر بمباری کو معمول بنا دیا ہے، بلکہ ہدفی قتل، اور اس سے بھی زیادہ تشویش ناک طور پر نسل کشی کو بھی معمول کا حصہ بنا دیا ہے۔ اور اسرائیل کا سامنا کرنے کے بجائے یہی عالمی رہنما اسے تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں اور بدترین بین الاقوامی جرائم پر اسے استثنا دیتے رہے ہیں۔ اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ اسرائیل مسلسل مزید زمین چوری کرتا جا رہا ہے۔
مگر جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ریاستیں زمین نہیں چرا سکتیں، وہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر قبضہ نہیں کر سکتیں۔ یہ بنیادی اصول ایک وجہ سے موجود ہے، کیونکہ اگر ریاستوں کو زمین ہتھیانے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے مزید جنگیں جنم لیتی ہیں۔ جب اسرائیل کئی ممالک میں پیش قدمی کر رہا ہے اور آزادی سے انکار کر رہا ہے، تو اصل سوال یہ ہے کہ آیا اسرائیل اُس قانونی اور عالمی نظم سے بالاتر ہو چکا ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم کیا گیا تھا، یا پھر وہ اصول، جن پر ہمارا یقین قائم کروایا گیا، دراصل قابلِ اطلاق ہی نہیں؟
لبنان پہلے ہی اُسی جال میں پھنس چکا ہے جس میں فلسطینی 1990ء کی دہائی میں پھنسے تھے، یعنی یہ یقین کر لینا کہ مذاکرات اسرائیل کو اپنی سرزمین سے نکالنے کا راستہ ہیں۔ ان مذاکرات کے اختتام پر، اگر کبھی ان کا اختتام ہوا بھی تو، لبنان اور شام کے پاس پہلے سے بھی کم زمین بچے گی، کیونکہ زمین کی واپسی کے نام پر ’’مذاکرات‘‘ کا یہ طریقہ دراصل اسرائیل کی مستقل موجودگی کا نسخہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی ایسا نظام دیکھیں گے جو آخر کار اسرائیل کا واقعی مقابلہ کرے گا، جس نے بین الاقوامی قانونی نظام کا مذاق بنا دیا ہے، یا پھر یہی نیا معمول (status quo) بن جائے گا؟
[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



