رمضان المبارک میں مسلمانوں پر کیا جانے والا ظلم و ستم
رمضان المبارک، رحمت و مغفرت والے مہینے میں مسلمانوں کے خلاف چل رہے کئی دہائیوں سے تشدد میں تیزی آئی۔
اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہنود یہ کہاں برداشت کر سکتے ہیں کہ مسلمان اپنے کی رب کی بندگی میں مصروف رہیں۔ ملک بھر میں مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا گیا، ہندو شدت پسند، پولیس انتظامیہ، عدلیہ ، گودی میڈیا، صوبائی و مرکزی سرکاریں سب مسلمانوں کو ستانے ، بدنام کرنے اور بےعزت کرنے میں لگی رہیں۔
بنارس میں ۱۴ مسلمان گنگا ندی میں افطار کرنے پر گرفتار
بنارس میں گنگا ندی کے اندر ایک کشتی میں افطاری کر رہے ۱۴ مسلمانوں کو اس الزام میں گرفتار کر لیا گیا کہ انہوں نے گنگا ماتا کا ’اپ مان‘ (توہین) کی ہے ، کیونکہ ان لوگوں نے چکن بریانی کھا کر اس کی ہڈیاں گنگا میں پھینک دی تھیں۔ یہ الگ بات ہے ہندو صبح و شام نشے میں دھت ’گنگا ماتا‘ کو اپنے پیشاب سے ناپاک کرتے رہتے ہیں ۔ ان ۱۴ مسلمان بھائیوں کی ضمانت کی عرضی تک کو رد کر دیا گیا اور اب ان کو اس سنگین جرم میں ( جو جرم ہے ہی نہیں ) ۱۰ سال قید اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے ۔
یہ بھگوا پولیس و عدلیہ کا گندہ ، بغض کی غلاظت میں لتھڑا چہرہ ہے ، جو سالوں سے مسلمانوں کو دھوکا دیتا آ رہا ہے ۔
بھوپال، مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے خلاف کاروائیاں
بھوپال، مدھیہ پردیش، ایک کالج کو گنگا جل سے اس لیے دھویا گیا کہ گزشتہ شام یہاں افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا، جہاں بعد میں مسلمانوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
سینکڑوں مسلمان مسافروں کو نماز پڑھنے اور عوامی جگہ پر روزہ کھولنے کے جرم میں بے انتہا ستایا ، ڈرایا اور دھمکایا گیا۔
عین افطاری کے وقت سینکڑوں بھگوا دہشت گردوں نے امن و سکون سے افطار کر رہے مسلمانوں پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دسیوں مسلمان زخمی ہو گئے۔
اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف جرائم
اتر پردیش میں پچھلے پانچ سالوں میں گائے رکھشہ (گائے کی حفاظت) کے نام پر ۳۵ ہزار مسلمانوں کو جیل بھیجا گیا، ۸۳ کروڑ کی پراپرٹی کو ضبط کر لیا گیا، جن میں سے ۷۸۱ پر (NSA) کے سنگین الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
پولیس کی غنڈہ گردی کا آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سنبھل ، اتر پردیش کا CO عید کی نماز سے پہلے علاقے کے علمائے کرام اور دیگر معزز لوگو کو جمع کر کے دھمکاتا ہے اور انتہائی بازاری زبان کا استعمال کرتا ہے اور سڑک پر نماز پڑھنے اور کسی بھی قسم کا پرامن احتجاج کرنے کے نتیجے میں گرفتاری کی دھمکیاں دیتا ہے ۔
ایسے واقعات سے سوشل میڈیا اور گودی میڈیا بھرا پڑا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس درد ناک صورت حال کا حل کیا ہے؟ کیا یوں ہی مسلمانان ہند ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے؟
یہود و ہنود کی خصلت سے کون واقف نہیں ہے؟ یہ مظلوموں ، کمزوروں، نہتوں پر اپنا رعب جماتے ہیں لیکن طاقت رکھنے والوں کے سامنے ٹکنے کی ہمت تک نہیں کرتے ۔ یہ بہادر نہیں بلکے بھیڑیے کی کھال میں چھپے گیدڑ ہیں ، جو نہتوں و کمزوروں کو ہی اپنی درندگی کا شکار بناتے ہیں ۔
مسلمانانِ ہند پچھلے ۷۸ سالوں میں سارے آپشنز کو آزما چکے ہیں، مسلمانوں کی حمایت و ہمدردی کا دم بھرنے والی مفاد پرست سیاسی جماعتوں کو بھی دیکھا، عدل و انصاف کا جھوٹا دعوی کرنے والی عدلیہ کو بھی دیکھا، سب کی حفاظت کا کھوکھلا نعرہ لگانے والی پولیس و انتظامیہ کو بھی دیکھا اور سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کر کے دکھانے والی گودی میڈیا کا پروپیگنڈہ بھی دیکھ لیا۔
لیکن مسلمانان ہند کے سامنے صرف اور صرف اپنی مدد آپ کا فارمولا ہی امید کی کرن نظر آتا ہے۔ اپنا اور اپنوں کا دفاع فرض ہے جس کے بغیر چارہ ہی نہیں۔ گنگا جمنی تہذیب کا نعرہ لگا کر بھی ہم نے دیکھ لیا ، ہندو مسلم بھائی بھائی چلا چلا کر بھی ہم تھک چکے۔ لیکن آخر میں ہمارے ہاتھ صرف بربادی ہی آئی۔ کیوں کہ یہ مشرکین توحید والوں کے دوست و خیر خواہ کبھی نہیں ہو سکتے۔ یہ تو منتظر رہتے ہیں کہ کب ہم غافل ہو جائیں اور یہ ہمیں کُچل دیں۔ لیکن اللہ رب العزت بہادروں کو پسند فرماتے ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔
مسلمانوں کی غیرت و بہادری کے چند کارنامے
اتم نگر، دہلی میں ایک بھگوا دہشت گرد جہنم واصل
۴ مارچ، ۲۰۲۶ء کے دن ہولی کا تہوار منایا جا رہا تھا، ہر بار کی طرح فحاشی، عریانی، بدمزگی و غنڈہ گردی کی حدوں کو پار کیا جا رہا تھا۔ لیکن اس دن اتم نگر، دہلی، میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جسے سن کر یا دیکھ کر کسی بھی زندہ ضمیر و بیدار مسلمان کا خون کھول جائے۔
ایک با عفت و با پردہ مسلمان خاتون پر ، گندے پانی سے بھرا غبارا پھینکا گیا، یہ سمجھ کر کہ یہ ایک مردہ قوم کی بہن ، بیٹی ہے، کسی کو کیا فرق پڑے گا؟
لیکن ہوا وہ جس کی اس وقت ہندوستان میں سب سے زیادہ ضرورت ہے ! وقت تھا اپنی بہن کی آبرو پر نظر ڈالنے والوں کی آنکھیں نوچنے کا ، وقت تھا ظالموں کو یہ بتانے کا کہ ابھی بھی ہم اپنا لہو دے کر اپنی ماؤں ، بہنوں کی عزت بچا سکتے ہیں، وقت تھا زمانے کو یہ بتانے کا کہ بے شک ہم سب زیر و زبر کر دیے جائیں ، لیکن ہم اب چپ نہیں بیٹھنے والے۔
ترُن نامی بھگوا دہشت گرد، جو ایک جم ٹرینر تھا، تکبر میں چور یہ سمجھتا تھا کہ وہ جو چاہے کرے ، کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ لیکن اس بد بخت کو امت کے جوانوں نے جہنم واصل جبکہ اس کا ساتھ دینے والوں کو لہو لہان کر دیا۔ وللہ الحمد۔
لیکن اس کے بعد ، ہمیشہ کی طرح پولیس و انتظامیہ کا متعصب چہرہ ایک بار پھر سامنے آیا ، جو ہمیں یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہماری جنگ اور ہمارا دفاع دراصل اس نظام سے ہے۔
لدھیانہ بھگوا غنڈوں کا حملہ دو مسلمان نوجوانوں نے ناکام بنا دیا
نجاب کے شہر لدھیانہ میں مسلمان رمضان المبارک کے مہینے میں جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ شر پسند بھگوا غنڈے اسی موقع کی تلاش میں تھے ، عین جمعہ کی نماز کے دوران شدت پسندوں نے مسلمانوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس بزدلانہ حملے کو دو نوجوان مسلمان بھائیوں نے ناکام بنا دیا جنہوں نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوؤں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ الحمد للہ یہ بھائی اکیلے ہی میدان میں ڈٹ گئے اور ہندوؤں پر ایسا جوابی حملہ اور دفاعی اقدام کیا کہ ہندو شر پسند پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔
لدھیانوی مسلمان بھائیوں کی غیرت نے مظلوم مسلمانوں کو یہ سبق دیا ہے کہ میدان میں ڈٹ کر ہی اپنا اور اپنوں کو دفاع کیا جا سکتا ہے ، کیوں کہ یہ ظالم ہنود بزدل قوم ہے ، ان کے ظلم سے بچنے کا واحد طریقہ بھی یہی ہے ۔
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



