تینتالیسویں وجہ: فتنۂ مہدیت
بعض لوگ اس موضوع کی احادیث سے اس قدر غیر معمولی وابستگی اختیار کرلیتے ہیں کہ صحیح فقہ اور فہم سے دور ہو جاتے ہیں۔ جیسے کہ بعض کہتے ہیں:
’’آج کل کے حالات میں ہماری امت کی نجات منتظر مہدی علیہ السلام کے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا ہمیں بیٹھ کر مہدئ موعود کے ظہور کا انتظار کرنا ہو گا۔ جب ان کی آمد ہو گی تو ہم ان کے ساتھ مل جائیں گے!‘‘
یہ گمراہی اور فتنے کی ایک قسم ہے، اللہ ہم سب کو بچائے، کیونکہ اے اللہ کے بندے تمہیں اللہ تعالیٰ نے مہدی علیہ السلام یا کسی اور نجات دہندہ کے انتظار میں کام چھوڑ کر بیٹھنے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ تمہیں عمل کرنے کا حکم دیا ہے، جہاد فی سبیل اللہ کا، اللہ کی طرف دعوت دینے کا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کا، اور تمام شرعی فرائض و واجبات اور ربانی امانتوں کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شریعتِ مطہرہ میں یہ سب کچھ آپ کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ کتاب و سنت اور ان کے ہم معنی مآخذ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ علماء جو انبیاء کے وارث ہیں، انہوں نے یہ سب بیان کیا ہے اور خوب واضح کر دیا ہے۔ تو پھر آپ کے پاس یہ تمام اعمال چھوڑنے کا کیا عذر باقی رہ جاتا ہے، کہ آپ بیٹھ کر یہ کہیں کہ میں مہدی علیہ السلام کا انتظار کروں گا؟ یا ایسی کوئی اور باتیں؟ یہ واضح گمراہی ہے۔ اللہ ہمیں اور آپ کو اس سے محفوظ فرمائے۔
عین ممکن ہے کہ جب واقعی مہدی علیہ السلام تشریف لائیں تو ایسا کہنے والے کو اللہ تعالیٰ توفیق سے محروم کر دیں اور الٹا یہ شخص مہدی علیہ السلام سے دشمنی برتے اور ان کے خلاف لڑنے والوں میں شامل ہو جائے!
شیخ علوان، اللہ تعالیٰ انہیں رہائی عطا کرے، فرماتے ہیں:
”لوگوں کی ایک قسم نے ہر اچھی بری بات قبول کر لی۔ ان میں کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت نہ تھی۔ انہوں نے من گھڑت روایات، جھوٹی کہانیوں اور کمزور دلیلوں کو تسلیم کر لیا۔ حاطب لیل (یعنی رات کے اندھیرے میں لکڑی چننے والے) کی طرح بن گئے۔ ان کا سلسلہ راویان ہیّان بن بیّان (یعنی غیر معروف یا غیر معتبر افراد) اور اس طبقے کے لوگوں سے بھر گیا۔
ان لوگوں کی ایک قسم خیالات اور خوابوں کی دنیا میں رہتی ہے۔ وہ حق و باطل اور سچ و جھوٹ کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں صحیح احادیث کے ساتھ ضعیف احادیث جوڑ دیتے ہیں۔ پھر ان کی سوچ مضحکہ خیز نتائج اور شاذ آراء پر منتج ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نےامام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا وقت قطعی طور پر اس دور کے کسی بادشاہ کے مر جانے کے ساتھ متعین کر دیا۔ یہ سب جہالت اور گمان پر بھروسہ ہے۔ جبکہ گمان کی بات سب سے جھوٹی بات ہوتی ہے۔ “
اللہ تعالی امام ابو عبد اللہ ، سفیان ثوری کو جزائے خیر دے۔ جن کی بصیرت گہری اور عقل پختہ تھی۔ اس نازک معاملے میں انہوں نے انتہائی حوصلے سے کام لیا۔ جلد بازی اور افراتفری نہیں مچائی۔ حفص بن غیاث نے فرمایا کہ میں نے حضرت سفیان ثوری سے کہا: اے ابو عبد اللہ! لوگوں نے مہدی علیہ السلام کے بارے میں بہت باتیں بنا ڈالی ہیں، آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا:
”اگر مہدی علیہ السلام آپ کے گھر کے دروازے کے باہر سے بھی گزر جائیں، تو ان کے معاملے سے کچھ غرض نہ رکھنا، یہاں تک کہ لوگ ان پر اکٹھے نہ ہو جائیں۔ “
صاحبِ رسوخ علماء اور ربانی داعیان ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان پر ایسی خرافات اور لغویات اثر انداز نہیں ہوتیں۔ وہ نورِ شریعت سے دیکھتے ہیں۔ جس چیز کی طرف ان کے رب کی کتاب اور ان کے نبی ﷺ کی سنت رہنمائی کر دے۔ آپ ﷺ کی طرف نسبت کی گئی صحیح اور صریح احادیث کی روشنی میں۔
جبکہ لوگوں کا ایک اور قسم کا گروہ بھی ہے جو امام مہدی علیہ السلام سے متعلق باتیں، اور اس قسم کی بشارتیں اور خوشخبریاں سن کر نفسیاتی شکست کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تعلیم دین، تبلیغِ اسلام اور امت میں پھیلی ہوئی گمراہیوں کا مقابلہ جیسے کاموں میں کوتاہی کرنے لگتے ہیں۔ اس کے سبب ان میں منفی رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ان روایات سے امیدیں باندھ کر سنجیدہ اور نتیجہ خیز کام سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہے۔ ایسے لوگوں کے پاس قلاشوں کا سرمایہ ،یعنی آرزوؤں کا اتنا ڈھیر ہوتا ہے کہ کسی کے تصور اور وہم و خیال میں بھی نہیں آ سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شیطانی جال اور اس کی چال ہے۔ یہ جھوٹا گمان اور جہل مرکب امت کو ہولناک آفتوں اور پے در پے بحرانوں سے دوچار کرتا ہے۔
وہ شخص جو اپنی نجات کے لیے سنجیدہ ہو، خوب سمجھدار ہو، اپنے فائدہ پر حریص ہو اور صاحب عزم و ہمت ہو وہی شوق و ہمت کے ان محرکات اور ان بشارتوں سے بہترین مثبت نتائج اخذ کرتا ہے۔ اور ان باتوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ، انسانیت کی آگاہی اور لوگوں کو دینی امور سے شناسائی کے لیے بہترین حوصلہ افزا عنصر گردانتا ہے، وہ دین جس پر ان کے وجود اور عزت کا انحصار ہے۔ وہ ان روایات کو اللہ کی زمین پر اللہ کی شریعت کو مستحکم کرنے، لوگوں کو ذلت اور پستی کے دلدل سے نکالنے، انہیں اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر بھروسہ اور کافروں کی دوستی سے روکنے کے لیے انتھک محنت اور عمل پیہم کا ذریعہ بناتا ہے۔
کیونکہ مہدی علیہ السلام اور دیگر بشارتوں سے متعلق احادیث ایک بہت بڑا عنصر ہے جو سفینۂ نجات میں سوار ہونے، دل و جان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے، اللہ کے حضور اعمال صالحہ لیے پیش ہونے، خالص دین اور ستھرے عقیدے کی اشاعت کرنے، اور شرعی اصولوں اور ایمانی بنیادوں کو دل کے اندر پیوست کرنے پر ابھارتا ہے۔ اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ:
بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ
”چھ واقعات سے پہلے پہلے اعمال صالحہ میں جلدی کرو، دجال، دخان ، دابۃ الارض، مغرب سے طلوع آفتاب، عوامی فتنہ اور ذاتی مصیبت (اور موت)۔“
یہ حدیث امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَفِي يَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا تَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلْ
”اگر آخرت کی گھڑی آن پڑے اور کسی کے ہاتھ میں کاشت کے لیے پنیری ہی ہو، اور وہ آخرت سے پہلے اسے بو سکے تو ضرور بوئے۔“
یہ حدیث امام احمد رحمہ اللہ نے اپنے مسند میں حضرت ہشام بن زید اور انس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔
اپنے نبی ﷺ کے اقتدا کرتے ہوئے علمائے اسلام نے اس حقیقت کا بخوبی ادراک کیا اور میراث نبوت کے حاملین نے اسے خوب سمجھا۔ چنانچہ حضرت داود بن ابی داود مدنی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے مجھ سے کہا:
إِنْ سَمِعْتَ بِالدَّجَّالِ قَدْ خَرَجَ، وَأَنْتَ عَلَى وَدِيَّةٍ تَغْرِسُهَا، فَلَا تَعْجَلْ أَنْ تُصْلِحَهَا، فَإِنَّ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ عَيْشًا
”اگر تم نے یہ سنا کہ دجال نکل آیا ہے جب کہ تم كھجور کی پنیری لگا رہے ہو، تو اسے صحیح طرح کاشت کرنے میں جلدی سے کام نہ لینا، کیونکہ دجال کے بعد بھی لوگوں کی زندگی باقی ہو گی۔“
امام بخاری کی الادب المفرد میں یہ روایت سلیمان نے بلال سے نقل کی ہے جو سلیمان نے یحیی بن سعید سے اور یحیی نے محمد ابن یحیی بن حبان سے، اور محمد نے داود بن ابی داود سے سنی تھی۔
اما م علائی فرماتے ہیں کہ :
”ان روایات کا مقصد یہ ہے کہ لوگ موت آنے سے پہلے اعمال صالحہ میں لگ جائیں۔ اور آفتوں کے نزول سے پہلے اپنے اوقات سے فائدہ اٹھا لیں۔ نبی اکرم ﷺ اس پہلو کا سب سے زیادہ خیال کرتے تھے اور اس پر سب سے زیادہ عمل کرتے تھے۔ اللہ کی رضا کی خاطر راتوں کو اتنا جاگا کرتے تھے کہ ان کے پاؤں مبارک سوج جاتے تھے۔
نبی اکرم ﷺ کی حدیث شریف (نیک اعمال میں جلدی کرو)، کے بارے میں قاضی عیاض نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے ان نشانیوں کے واقع ہونے سے پہلے اعمال کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ جب یہ نشانیاں واقع ہوں گی تو لوگوں پر دہشت طاری ہو گی۔ لوگ اعمال کو چھوڑ کر ان احوال میں مشغول ہو جائیں گے۔ یا پھر وہ وقت ہو گا جب توبہ اور قبول اعمال کا دروازہ بند ہو جاتا ہے ۔ “
مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ میں مجاہدین سے ملنے ایک مرکز گیا۔ وہاں پہنچا تو ان میں سے ایک مجاہد نے امام مہدی علیہ السلام سے متعلق کسی دھوکے باز کی باتیں سن رکھی تھیں۔ دیکھا تو اس نے وہ خندق کھودنا چھوڑ دی تھی جسے کھودنے کا اسے کہا گیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ان خندقوں کا کیا فائدہ جب امام مہدی کے ظہور کا وقت قریب آ چکا ہے۔ جب وہ ظاہر ہوں گے تو ہم ان کی تابعداری کریں گے اور فتح یاب ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے ہم سے یہ ذلت دور کر دیں گے جو ہم پر ہر سو چھائی ہوئی ہے۔ میں اس مجاہد بھائی کے ساتھ نصیحت کے لیے بیٹھا۔ اللہ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے یہ نظریہ ترک کر دیا۔
چوالیسویں وجہ: مصلحت کے معاملے میں وسعت اختیار کرنا
بعض افراد مصلحت کے معاملے میں وسعت پیدا کرتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ایسا شخص مصلحت کے نام پر اپنے جھوٹ کی توجیہ پیش کرتا ہے۔ حرام مال بھی مصلحت کے نام پر کھاتا ہے۔ طاغوتِ وقت کی موالات بھی مصلحت کے نام پر کرتا ہے۔ مصلحت کے نا م پر ہی بغیر ما انزل اللہ کا حکم نافذ کرتا ہے۔ مصلحت کے نام پر اٹل اصولوں سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ حق کو باطل بنا ڈالتا ہے اور باطل کو حق۔ ملزم کو بری اور بری کو ملزم ٹھہراتا ہے۔ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ اس نے یہ کام مصلحت کے حصول اور مفسدہ کو روکنے کے لیے کیا ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا (سورۃ الاحزاب: ۳۶)
” اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں ، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہو گیا ۔“
امام ابن کثیر فرماتے ہیں:
”پس یہ آیت تمام امور کے لیے عام ہے۔ یعنی اگر اللہ اور اس کے رسول نے کسی چیز کا حکم دے دیا تو اب کسی کو مخالفت کا حق نہیں۔ اس معاملے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں۔ نہ ہی کسی کو رائے دینے کا حق ہے نہ ہی اس کی کوئی بات قابل قبول ہے۔ جیسے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا (سورۃ النساء: ۶۵)
”تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔ “
اسی لیے اس کے بر عکس فعل پر سختی کی اور فرمایا:
وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا (سورۃ الاحزاب: ۳۶)
”اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہو گیا۔‘‘
مزید سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (سورۃ النور: ۶۳)
”تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑجائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو۔ ““
امام ابن القیم فرماتے ہیں:
”اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے واضح کر دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن کو اختیار حاصل نہیں۔ جس نے اس کے بعد اپنا اختیار استعمال کیا تو وہ واضح گمراہی میں مبتلا ہوگا۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
”جامع بات یہ ہے کہ شریعت کبھی بھی کسی مصلحت کو نظر انداز نہیں کرتی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے دین مکمل کر کے اپنی نعمت تمام کر دی۔ پس اب کوئی ایسی بات نہیں رہی جو جنت کی طرف لے جاتی ہو اور نبی ﷺ نے اس کے بارے میں نہ بتایا ہو۔ آپ ﷺ ہمیں روشن راستے پر چھوڑ گئے ہیں جس کی رات اس کے دن کی طرح روشن ہے۔ آپ ﷺ کے بعد جو بھی اس راستے سے ہٹے گا وہ ہلاکت میں جا گرے گا۔ اب جس چیز کو عقل مصلحت گردانے جبکہ شریعت میں اس کے بارے میں حکم وارد نہ ہوا ہو تو لازما وہ دو صورتوں میں سے ایک ہے۔ یا تو شریعت نے اس مصلحت کی طرف اس پہلو سے رہنمائی کی ہے جس کی طرف غور کرنے والے کی نظر نہیں گئی۔ یا پھر وہ مصلحت ہی نہیں ہے چاہے اس نے اسے مصلحت سمجھ رکھا ہو۔ “
سید قطب ’’افراح القلوب‘‘ میں فرماتے ہیں:
”میرے لیے یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ کیسے ہم کسی رذیل وسیلے کے ذریعے کسی پاکیزہ اور اعلیٰ مقصد تک پہنچ سکتے ہیں؟ پاکیزہ مقصد پاکیزہ دل کے علاوہ کہیں نہیں پنپ سکتا۔ تو ایسا دل رذیل وسیلے کو کیسے برداشت کر سکتا ہے، بلکہ ایسے وسیلے کو تلاش ہی کیسے کر سکتا ہے؟
جب ہم سر سبز و شاداب کنارے تک پہنچنے کے لیے کیچڑ کے جوہڑ میں سے گزریں گے تو کیچڑ سے آلودہ ہو کر ہی دوسرے کنارے تک پہنچ پائیں گے۔ راستے کا کیچڑ ہمارے پاؤں پر اور ہر قدم پر اپنے داغ چھوڑتا جائے گا۔ رذیل وسیلے کو اختیار کرنا بھی بالکل اسی طرح ہے۔ یہ میل ہماری روح سے لپٹ جائے گی۔ اور روح میں اپنے اثرات چھوڑ جائے گی۔ اور اس مقصد میں بھی اپنے اثرات ڈال دے گی جس تک ہم پہنچیں گے۔“
آپ نے مزید فرمایا:
”اکثر مفسرین نے فرمایا کہ (زمین میں) معصیتوں کے ارتکاب سے فساد نہ مچاؤ۔ اللہ جب پیغمبروں کو بھیج کر، شریعت کو واضح کر کے اور اللہ کی اطاعت گزاری کی طرف پکار کر زمین کی اصلاح کر دیں پھر غیر اللہ کی تابعداری کی دعوت دینے والا فساد مچانے والا ہے۔ کیونکہ غیر اللہ کی عبادت، غیر اللہ کی طرف دعوت دینا اور اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا زمین میں سب سے عظیم فساد ہے۔ بلکہ زمین کا فساد در حقیقت اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور اللہ کے حکم کی مخالفت کرنا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ (سورۃ الروم: ۴۱)
”خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے ۔ “
جو دنیا کے حالات پر غور و فکر کرے وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ زمین میں جو بھی اصلاح ہے تو اس کی وجہ اللہ کی توحید اور عبادت ، اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے۔ اور دنیا میں ہر شر، فتنے، آزمائش، قحط، دشمن کے غلبہ اور تمام دیگر برائیوں کی وجہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اور غیر اللہ کی طرف دعوت ہے۔ “
سید قطب نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْۤ اُمْنِيَّتِهٖۚ (سورۃ الحج: ۵۲)
”اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈالتا تھا۔“
”انبیاء کے بعد دعوت دینے والوں کو جذبات، گرمجوشی اور دعوت کے فروغ اور کامیابی کی شدید خواہش بسا اوقات انہیں ابھارتی ہے، اس بات پر کہ وہ آغاز میں دعوت کے چند تقاضوں سے صرف نظر کرتے ہوئے، جن کے بارے میں ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ جوہری تقاضے نہیں ہیں، بعض افراد یا شخصیات کو مائل کرنے کی کوشش کریں اور ان کے بعض معاملات میں ان کی موافقت کریں تاکہ یہ لوگ دعوت سے متنفر ہو کر اس کے مخالف نہ بن جائیں! اسی طرح یہ جذبات اور گرمجوشی انہیں اس بات پر بھی آمادہ کرتی ہے کہ وہ ایسے وسیلے اور طرز اپنائیں جو دعوت کے دقیق پیمانوں پر برابر نہیں بیٹھتے اور نہ اس کے سیدھے منہج کے موافق ہوتے ہیں۔ یہ سب اس حرص کے سبب کہ دعوت کو جلد کامیابی حاصل ہو اور وہ فروغ پا جائے۔ نیز ان کے تئیں (مصلحتِ دعوت) کو حاصل کرنے کی تگ و دو اور کوشش کے سبب۔ جبکہ دعوت کی حقیقی مصلحت بغیر کسی کمی بیشی اور ادنیٰ کجی کے منہج پر استقامت ہے۔ رہے نتائج تو وہ غیبی امور ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔
حاملین دعوت کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان نتائج کا حساب لگانا شروع کر دیں۔ بلکہ ان کے لیے ضروری یہ ہے کہ وہ دعوت کے دقیق، صریح اور واضح منہج پر چلیں۔ اور پھر اس استقامت کے نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ آخر کار ان کا انجام خیر ہی ہو گا۔
دیکھیے یہاں قرآن کریم ان کو خبردار کر رہا ہے کہ شیطان ان کی آرزووں کی تاک میں بیٹھا ہوا ہے تاکہ ان کے ذریعے دعوت کے اندر تک نفوذ پا لے۔ اور اگر اللہ نے انبیاء اور پیغمبروں کو معصوم و محفوظ کر دیا تھا کہ شیطان ان کی فطری آرزوؤں کے ذریعے ان کی دعوت تک نہ پہنچ پائے۔ تو جو لوگ معصوم نہیں ہیں انہیں اس پہلو سے شدید احتیاط اور حد درجہ پرہیز کی ضرورت ہے اس خوف سے کہ شیطان دعوت کی نصرت پر حرص اور جسے وہ (مصلحتِ دعوت) کہتے ہیں، اس پر حرص کے آڑ سے داخل نہ ہو جائے۔ (مصلحتِ دعوت) کا لفظ حاملین دعوت کی لغات سے نکال دینا چاہیے کیونکہ یہ پھسلنے کا مقام ہے اور شیطان کے جا گھسنے کا دروازہ ہے۔ جہاں سے شیطان تب داخل ہوتا ہے جب وہ (افراد کی مصلحت) کے دروازے سے داخل ہونے میں ناکام ہو جاتا ہے! (مصلحتِ دعوت) بسا اوقات ایسا بت بن جاتی ہے جس کی حاملین دعوت عبادت کرنے لگ بیٹھتے ہیں اور اس کے ہوتے ہوئے دعوت کے کھرے منہج کو بھلا ڈالتے ہیں! وہ واحد خطرہ جس سے بچنا ان کے لیے لازمی ہے وہ کسی بھی سبب اور وجہ کے تحت منہج سے انحراف کا خطرہ ہے۔ چاہے یہ انحراف کم ہو یا زیادہ۔ اللہ مصلحت کو ان سے زیادہ جانتا ہے جبکہ وہ مصلحت کو نبھانے کے مکلف بھی نہیں ہیں۔ وہ تو صرف ایک حکم کے مکلف ہیں کہ منہج سے منحرف نہ ہو جائیں اور راستے کو نہ چھوڑ دیں۔ “
٭٭٭٭٭













