جب اس دنیا کو خالق کائنات نے وجود بخشا تب انسان سے بھی پہلے اس کا دشمن دنیا میں اتر چکا تھا ۔
جی ہاں …… انسان سے بھی پہلے!
جب یہ زمین پر اترا تو اس کے پاس ایک خطرناک منصوبہ بھی تھا اور یہ منصوبہ انسانوں کو صراط مستقیم سے بھٹکانے کا تھا، جس کو قرآن نے یوں بیان کیا:
لَّعَنَهُ اللّٰهُ ۘوَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا (سورۃ النساء: ۱۱۸)
’’ جس پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور اس نے ( اللہ سے) یہ کہہ رکھا ہے کہ : میں تیرے بندوں سے ایک طے شدہ حصہ لے کر رہوں گا۔‘‘
چنانچہ اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے اس نے اول روز سے ہی یہ کوشش کی کہ کسی طریقے سے انسان کو گمراہ کر سکے۔ پھر ہر زمانے میں اس نے گمراہیوں کے مختلف حربے آزمائے اور مختلف طرح کے لوگوں کو ،مختلف طرح کے حربوں سے گمراہ کیا ۔کبھی اس نے نفسانی خواہشات کو مزین کرنے کا حربہ استعمال کیا اور ان کو ایسا مزین کیا کہ انسان ایمان ہی کو ناپسند کرنے لگا اور اس سے منہ موڑ لیا۔ کبھی اس نے طاقت کا حربہ استعمال کیا کہ جس انسان کے پاس طاقت آئی اس نے بجائے شکر و عاجزی کرنے کہ تکبر و علو کیا ،تو کبھی مال و دولت کا حربہ استعمال کیا کہ کثرتِ مالی وسائل رضا الہٰی میں خرچ کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کے بجائے اس پر بخل کیا اور اس کثرت پر فخر کیا، کبھی حکومتی منصب کا حربہ استعمال کیا کہ بجائے رعایہ کا حق ادا کرنے کے اور ان کا خیال رکھنے کے اس نے ظلم و ستم کیا اور عدل و انصاف کی دھجیاں اڑا دیں، کبھی انسانی مہارت کا حربہ استعمال کیا کہ اپنی مہارت کو رب کی نعمت جاننا اور اس کا فضل کہنے کے بجائے اسے اپنی طرف منسوب کیا اور اسے لازوال جان کر گھمنڈ کیا ۔
نیز طرح طرح کے حربے استعمال کیے کہ کسی طرح انسان گمراہ ہو جائے اور راہ مستقیم سے بھٹک جائے ،کوئی سمت نہیں چھوڑی جس سے یہ اپنا حربہ استعمال نہ کرے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ(سورۃ الاعراف:17)
’’پھر میں ان پر (چاروں طرف سے) حملے کروں گا، ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی، اور ان کی دائیں طرف سے بھی، اور ان کی بائیں طرف سے بھی۔ اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔‘‘
ان حربوں کا تیر نشانے پر لگنے کی مثال قدیم زمانے میں فرعون، قارون، ابولہب، ابرہہ کا لشکر، نمرود، قومِ عاد و ثمود ہوں یا آج کے زمانے کے امریکہ، اسرائیل، ٹرمپ، نیتن یاہو اور ان کی افواج و ان کے مہرے، جنہوں نے شیطان کے ہر حربے پر لبیک کہا اور اللہ کے قدیم دشمنوں کی راہ پر گامزن ہیں، یہ شیاطین انس اپنے قدیمی آقاؤں کی طرح ہی اسلام و اہلِ اسلام کو ضرر پہچانے کہ لیے ہر وقت تیار ہیں اور صرف تیار ہی نہیں بلکہ عملی طور پر میدان میں اتر آئے ہیں جو کہ امت مسلمہ کو کم سے کم گزشتہ 2۶ سالوں کی تاریخ سے خوب واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے ۔
شیطان و اس کے چیلے من الجن و الانس جتنی بھی کوشش کر لیں اسلام و اہل اسلام پر اپنے حربے استعمال کرنے اور ان کو کمزور کرنے یا گرانے کے لیے لیکن حکم الہٰی یہی ہے کہ آخر غالب اسلام و اہلِ اسلام ہی رہیں گے:
كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ (سورۃ المجادلۃ:21)
’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ بےشک میں اور میرے رسول ضرور غالب آئیں گے بےشک اللہ بڑا ہی قوّت والا بہت غالب ہے۔‘‘
شیطان کے چیلوں میں سے ایک ابرہہ بھی تھا جو طاقت کے نشے میں اس قدر غرق تھا کہ بیت اللہ کو گرانے کے لیے لشکر لے آیا ،اس کے لشکر میں بہت سے ہاتھی بھی تھے، نیز ہر طرح سے اس کا لشکر قوی تھا۔ تفصیلی واقعے کے لیے تفاسیر سے رجوع کیا جا سکتا ہے، میں یہاں پر صرف حضرت عبد المطلب کا وہ قول پیش کروں گا جو انہوں نے ابرہہ سے کہا تھا، وہ یہ کہ جب ابرہہ کے سامنے آپ نے اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا تو اس نے حیرت سے پوچھا ’’میں یہاں کعبہ کو گرانے کے لیے آیا ہوں، جو آپ اور آپ کے باپ دادا کا معظم و محترم مقام ہے، آپ اس کے لیے تو کچھ نہیں کہتے لیکن اپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ اس پر ابرہہ کو جواب دیتے ہوئے کہا :
’’میں اونٹوں کا مالک ہوں اس لیے انہی کا مطالبہ کرتا ہوں، کعبہ کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا۔‘‘
آخری جملہ غور طلب ہے: ’’کعبہ کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا‘‘…… بے شک!
اور پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کمزور سے پرندے جن کو ابابیل کہتے ہیں، کمزور سی جسامت، ان کا اسلحہ فقط تین کنکریاں، دو پاؤں میں اور ایک چونچ میں۔ ظاہری طور پر یہ کمزور نظر آنے والے پرندے ہیں، ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں ہیں جو کہ ظاہری اعتبار سے نقصان دہ نہیں لیکن جب یہ بظاہر کمزور دکھنے والے پرندے اپنا معمولی سا اسلحہ یعنی کنکریاں پھینکتے تو دشمن کے سر سے گھستا ہوا س کے جسم کو چیر کر ہاتھی سے گزرتا ہوا زمین پر پہنچ جاتا۔ انسان کی عقل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ آخر یہ سب کیسے ممکن ہے؟ لیکن سچ کہا جائے تو یہی نصرتِ الہٰی ہے، وہ نصرتِ الہٰی جو کبھی بھی اپنے بندوں سے دور نہیں کی جاتی اور نا ہی اس سے محروم کیا جاتا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو نصرتِ الہٰی کا مظہر ہمیں خوب دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن کب؟
نصرتِ الٰہی کا مظہر تب دیکھنے کو ملتا ہے جب بندہ اللہ پر توکل کر کے میدان کارزار میں نکلتا ہے تو اس کے لیے نصرتِ الٰہی کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ (سورۃمحمد:7)
’’اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘
نصرتِ الٰہی ہر دور میں ان خاص بندوں کے لیے ظاہر ہوتی ہے جو اللہ کے دین کی نصرت کا فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں اور نا صرف فیصلہ بلکہ عملی میدان میں بھی اتر چکے ہوتے ہیں، اپنے بندوں کو نصرت کے اثرات دکھانے کہ لیے باری تعالیٰ وقت کے ساتھ ابابیل بھیجتے رہتے ہیں، کبھی یہ ابابیل ابرہہ کے لشکر کو بھوسے کی طرح کر ڈالتے ہیں، کبھی یہ ابابیل وقت کی سپر پاور کا غرور تکبر میں ملاتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو کباڑ کا ڈھیر بنا ڈالتے ہیں، کبھی یہ ابابیل جیل کی طرح بند پنجروں کی جالی کاٹ کر صہیونیوں کو انہی کی زبان سمجھا ڈالتے ہیں، تو کبھی باری تعالیٰ کے یہ ابابیل اکیلے اپنی جان کو نصرتِ دین اور تحریضِ قتال کے لیے پیش کرتے ہیں اور پوری امت، جو مجموعی طور پر بے بس و لاچار دکھائی دے رہی ہے، کو پیغام دے جاتے ہیں کہ :
یوں نہ بیٹھے ہوئے خالی ہاتھوں کو مل
گھر بچانا ہے اپنا تو گھر سے نکل
انہی ابابیلِ باری تعالیٰ میں سے ایک یہ عمانی پائلٹ بھی ہیں، جنہوں نے دوسروں کو دیکھنے کے بجائے خود اپنی جان کو میدان میں اتار دیا ۔امت مسلمہ پر کفا رکی یلغار او ر پھر بالخصوص اہلِ غزہ پر اسرائیلی درندگی، جس کے جواب میں یہ عمانی پائلٹ اٹھا اور غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہی کیا جس کے یہ صہیونی حق دار تھے۔
فلائی دبئی(Fly Dubai)کی پرواز( FZ1073) تھی۔ فلائی دبئی کی یہ پرواز دبئی سے سات بج کر پانچ منٹ پر روانہ ہوئی جس کی منزل گوربون ائرپورٹ تھی، جو اسرائیل کے شہر تل اویو میں واقع ہے ۔پرواز کے دوران اس جہاز سے کنٹرول روم میں ایمرجنسی کوڈ بھیجا گیا، پھر کچھ ہی دیر بعد غیر قانونی مداخلت لیےسے متعلق بین الاقوامی ٹرانسپونڈر کوڈ7500بھیجا گیا۔ بعد ازاں ہنگامی طور پر جہاز کو سعودی عرب میں تبوک کے مقام پر اتار دیا گیا ۔ہوا کچھ یوں کہ امت کے درد میں ڈوبے اس عمانی کو پائلٹ(Co-Pilot) نے اپنے ساتھ سیٹ پر بیٹھے کپتان پائلٹ کو کلہاڑی کے وار سے زخمی کیا اور جہاز کے ہینڈل کو نیچے کی سمت دبایا جس سے جہاز کی رفتار تیز ہو گئی اور وہ تیزی سے زمین کی طرف جانے لگا۔ چند سیکنڈ کے اندر ہی جہاز34 ہزار فٹ کی بلندی سے 14 ہزار فٹ کی بلندی پر آگیا، ایک ٹریکنگ پیمائش میں تقریباً 31 ہزار فٹ فی سیکنڈ رفتار ریکارڈ کی گئی۔ عمانی کو پائلٹ کا مقصد جہاز کو کریش کرنا تھا جس میں یہودی سوار تھے ۔لیکن اسرائیلی بیانیے کے مطابق اسی موقع پر مسافروں نے ان کو پکڑ لیا اور زخمی حالت میں انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔
اکثر ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہو گا کہ اس سے کفار کو کیا نقصان ،یا امت کو اس طرح کے واقعات سے کیا فائدہ؟ تودیکھیے جہاں تک کفار کے نقصان کی بات ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کفار کے جہاز اور ان کے ائیر پورٹ کتنے ہیں اور کتنی مالیت کے ہیں، اگر ہم اوسطاً ایک جہاز کی قیمت دیکھیں تو اس کی قیمت 100ملین ڈالر سے 130 ملین ڈالر بنتی ہے اور ہم ائیرپورٹ کو دیکھیں اور اسی گوربون ائرپورٹ کو ہی لے لیں تو صرف اس کی تزئین و آرائش پر 14.5ملین اسرائیلی جو کہ 4.75ملین ڈالر بنتے ہیں پھر اس میں ہر ایک مشین کی مالیت الگ الگ ہے، جو مختلف کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہیں ۔اس کے علاوہ اسرائیلی پارلیمنٹ جو 1966ء میں تعمیر ہوئی جس کی قیمت6سے 8 ملین ڈالر تک ہے، جو کہ آج کے حساب سے 65 سے 85ملین ڈالر بنتے ہیں، اور 1966ء سے اب تک اندازا 4.1بلین ڈالر اس پر خرچ کیا جا چکا ہے، یاد رہے یہ صرف عمارت کی قیمت ہے، اس کے اندر اشیاء و سامان اس سے الگ قیمت رکھتا ہے ۔اب جب جہاز ان جگہوں سے ٹکرائیں گے تو کتنا نقصان ہو گا؟ یقیناً یہ عدد بہت زیادہ ہے، اسی کو سمجھنے کہ لیے ہم گیارہ ستمبر کی مثال لیتے ہیں، جہازوں اور عمارت کا نقصان تو اپنی جگہ لیکن اس واقعے سے امریکہ کی معیشت بھی نقصان میں گئی جو کہ دو سالوں میں 214 بلین ڈالر سے 421بلین ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ تو تھا مالی طور پر نقصان، اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو کفار پر اس کا رعب و دبدبہ، پھر ان پر خوف کا آ جانا اور چیخ و پکار یقیناً یہ سب بھی شامل ہیں، شاید میرے خیال سے کفار کو مالی نقصان اتنا پریشان نا کرے جتنا ایسے نفسیاتی نقصان سے پریشان ہوں گے اور دنیا ان پر تنگ ہو جانے کی کیفیت طاری ہو جائے گی۔
رہی یہ بات کہ امت کو اس سے کیا فائدہ تو دیکھیے اس طرح کے واقعات امت میں ایک امیدکی کرن پیدا کرتے ہیں کہ کوئی تو ہے جو ابھی بھی نصرتِ دین کے لیے کھڑا ہے، نیز سوئی ہوئی امت کو جھنجوڑتے ہیں کہ یہ اکیلا تن تنہا ابابیل اگر اس طرح کی جرات کر سکتا ہے، کفار کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ان کی نیندیں حرام کر سکتا ہے تو پھر وہ لوگ جن کے پاس حکومت، طاقت، اسباب سب کچھ ہے تو وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ اس عارضی دنیا کی عارضی حکومت، طاقت، اسباب چھن جانے کے ڈر سے بیٹھے رہنا اور انہیں نصرت دین کے لیے استعمال نہ کرنا یہ کوئی سمجھداری تو نہیں بلکہ دنیا و آخرت کا خسارا ہے ۔اسی کے ساتھ ساتھ اس طرح کے واقعات امت کے ہر ہر فرد کو ابھارتے ہیں کے اگرچہ وہ کمزور و بے سروسامان ہیں لیکن ان ابابیلوں سے کمزور تو نہیں جن کے پتھروں نے دشمن کو بھوسہ بنا دیا ،ہر ہر فرد کا یہ کام ہے کہ باری تعالیٰ پر توکل کرے اور خود کو نصرتِ دین و مظلوم امت کے دفاع کے لیے پیش کرے اور میدان میں قدم رکھے۔ آپ کی گاڑی ،ٹرک ،موٹرسائیکل ،بس ،کچن میں رکھی چھری، الماری میں پڑی پستول نیز عام سی لکڑی بھی ان صہیونیوں کو نقصان پہنچانے اور مظلوم امت کے لیے سہارے کا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
پھر یہ کہ مسلمانوں کو اس طرح کے واقعات برپا کرنے کی ضرورت کیوں پڑی تو اس کے جواب کے طور پر میں شہید امت شیخ اسامہ بن لادن کا یہ قول نقل کروں گا:
’’اگر ہمارے پیغامات تم تک الفاظ کے ذریعے پہنچ سکتے ،تو ہمیں ان کو جہازوں پر سوار کر کے نا بھیجنا پڑتا۔‘‘
اردو میں ایک محاورہ ہے کہ ’’لاتوں کےبھوت باتوں سے نہیں مانتے‘‘، ہم سب نے دیکھ لیا کس قدر مظاہرے ہوئے ،سڑکیں بند کی گئیں لیکن کچھ نہ ہوا اور ہر روز ہمارے مسلمانوں کا خون مثلِ پانی کے بہترا رہا۔ تو پھر ان کو انہی کی زبان میں سمجھایا جائے کہ:
وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭ (سورۃ نحل:126)
’’اور اگر تم (کسی کے ظلم کا) بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی۔‘‘
جب تک عالم کفر اپنی درندگی و مظالم دکھاتا رہے گا تب تب اللہ رب العزت کے یہ ابابیل ظاہر ہوتے رہے گے اور ان پر کاری ضربیں لگاتے رہیں گے، یہاں تک کے یہ اندھیرے ختم نا ہو جائیں ۔یہ تب تک امن نہیں دیکھ سکیں گے جب تک کہ پوری دنیا میں امت مسلمہ امن میں نہیں آ جاتی۔ باذن اللہ!
وصلی اللہ تعالی علی امام المجاھدین محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمیعن
٭٭٭٭٭













