یہ تحریر ان گمنام اسیرانِ قفس کے نام، جنہیں نظروں سے روپوش کر دیا گیا، جن کے نقوش ذہنوں سے محو کر دیے گئے، جن کے الم کو دل نے محسوس کرنا چھوڑ دیا، جن کا تذکرہ کرنے والوں کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا، جن کے افکار کو انتہا پسندی کا عنوان دیا گیا، جن کے اہل و عیال کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، جن کے والدین آج بھی حسرت بھری نگاہوں سے ان کی راہوں کو تکتے ہیں، جن کی بیویوں کے دامن آج بھی ان کی یاد میں اشکوں سے تر ہیں، جن کی بہنیں آج بھی اس آس پر جی رہی ہیں کہ بھائی ان کی شادی کا سامان کرے گا، جن کے بچے ان کی شفقت سے محروم کر دیے گئے، جن کے ننھے بچے ہر عید پر دہلیز کو تکتے ہیں کہ بابا کب آئیں گے۔
ہم سب کو معلوم ہے کہ جہادِ کشمیر کے ابتدائی ایام سے ہی ظالم حکمرانوں نے مسلم آبادی کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کرنا شروع کر دیا، خواہ کوئی تحریک سے وابستہ تھا یا نہ تھا، جو ملتا اسے بیڑیوں میں جکڑ دیتے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے، کبھی عدلیہ سے کسی قدر انصاف کی توقع ہوا کرتی تھی، لیکن اب وہ سہارا بھی ناپید ہے۔ نو آبادیاتی تغیرات کی رفتار اس قدر تیز کر دی گئی ہے اور کشمیریوں کو اس بے دردی سے حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے کہ جن عدالتوں میں کبھی عام کشمیری منصف ہوا کرتے تھے، اب وہاں ہندوستان سے درآمد شدہ ظالموں کے آلہ کار براجمان ہیں۔ وکلاء پر بھی ایسی سنگین پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں کہ کوئی بھی حق گوئی کی جرأت نہیں کر پاتا۔ یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش ہے، ایک ایسا منصوبہ جو نہایت سلیقے اور تدریج کے ساتھ عمل میں لایا گیا ہے۔
پھر چاہے وہ کشمیری قیدیوں کی کشمیر کی جیلوں سے ہندوستان کے مختلف بدنامِ زمانہ عقوبت خانوں میں جبری منتقلی ہو (مثلاً تہاڑ جیل، ہریانہ جیل، وارانسی جیل، آگرہ جیل، راجستھان جیل وغیرہ) یا پھر بدنامِ زمانہ غدار شیخ عبداللہ کے متعارف کرائے ہوئے کالے قانون پی ایس اے1پبلک سیفٹی ایکٹ(PSA): اس قانون کے تحت حکومت کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے ایک مخصوص مدت تک (ایک یا دو سال) حراست میں رکھ سکتی ہے، اس قانون کے مطابق کسی جرم کے ثابت ہونے سے پہلے ہی گرفتاری ممکن ہے۔(PSA) پر، ہندوستانی قانون یو اے پی اے (UAPA)2Unlawful Activities Prevention Act (UAPA): اس قانون کے تحت حکومت کسی تنظیم کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث افراد کو گرفتار کر سکتی ہے، اس قانون کے تحت گرفتاری کے بعد ضمانت حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے اور ملزم کو طویل عرصے تک بغیر چارج شیٹ کے بھی حراست میں رکھا جاتا ہے کا بے گناہ قیدیوں پر نفاذ ہو، جس کا مقصد یہ ہے کہ مقدمہ عدالت تک پہنچنے ہی نہ پائے اور ملزم سالہا سال بغیر کسی فردِ جرم کے قید میں سڑتا رہے، یہاں تک کہ اس کی بے گناہی ثابت ہونے تک اس کی زندگی تمام ہو جائے۔
ظالم یہ خام خیالی رکھتے ہیں کہ ان سفاکانہ ہتھکنڈوں سے ہمارے عزمِ مصمم کو متزلزل کر سکیں گے۔ لیکن ان کڑی صعوبتوں سے، الحمدللہ بفضل اللہ، ہمارے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں، ہمارے عزمِ جواں میں استحکام آتا ہے اور ہمارے افکار کو جِلا ملتی ہے۔ جیسا کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ مجھے قید کر دیں تو یہ میرے لیے خلوت ہے۔ اسی طرح تمہاری عقوبت گاہیں ہمارے لیے مدارس کا درجہ رکھتی ہیں، جہاں ہم اللہ تعالیٰ کے مزید قریب ہو جاتے ہیں۔ یہ واہمہ اپنے ذہنوں سے نکال ڈالو کہ تمہارے مظالم ہمارے عزم کو متزلزل کر سکتے ہیں۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا
تاریخِ اسلامی کا آغاز ہی قربانیوں سے ہوا، اور یہ قربانیاں ہمارے اسلاف کی میراث ہیں۔ ہم آزمائشوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک انعام سمجھتے ہیں، اور تمہاری سزائیں ہمارے لیے تمغوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہم تو اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب رب العزت ہمیں اپنے قول کو فعل سے ثابت کرنے کا موقع عطا فرمائے۔ اللہ کی قسم، یہ قید خانے جہاں تم ہمارے بھائیوں اور بہنوں پر ظلم ڈھاتے ہو، ایک دن ضرور مسمار ہوں گے۔ ہمیں تمہاری پالیسیوں اور قوانین کا کوئی خوف نہیں ہے۔
ہم حضرت خبیب بن عدی ، حضرت زید بن الدثنہ ، امام احمد بن حنبل، امام ابو حنیفہ، امام مالک بن انس، امام شافعی، سفیان ثوری، سعید بن جبیر، سعید بن مسیب، حسن بصری، اور سید قطب رحمہم اللہ کے روحانی فرزند ہیں۔ ہم گوانتانامو کے قیدی خالد شیخ محمد اور ولید بن عطاش اور تہاڑ کے قیدی شہید محمد افضل گورو کے نظریاتی بیٹے ہیں۔
تمہیں یہ گمان ہے کہ ہمارے محبِ جہاد برادران و خواتین کو قیدِ سلاسل میں جکڑ کر تم اس جذبہ کو کُشتہ کر سکتے ہو؟ اگر ایسا ہونا ہوتا، تو یہ تحریک شہید قائد مقبول بٹ کی اسیری کے ساتھ ہی صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہوتی۔ اگر تقدیر میں یہی رقم تھا، تو یہ کاروانِ حریت کے قائدین کی گرفتاری کے ساتھ ہی اپنی رمقِ جاں کھو بیٹھتی۔ اگر ایسا ہونا ہوتا، تو ہزاروں جوانانِ با ایمان کی گرفتاری کے ساتھ ختم ہو چکی ہوتی۔ لیکن بحمد اللہ! یہ جہاد تمہارے مظالم اور ریشہ دوانیوں کے علی الرغم، آج بھی نہ صرف زندہ ہے بلکہ تابندگی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ یہاں یہ امر بھی واضح کر دوں کہ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ مسلم، لیکن جن قائدین کا میں نے تذکرہ کیا، ان کی قربانیوں سے چشم پوشی ممکن نہیں اور نہ ہی ان پر حرف گیری کی گنجائش ہے۔ ہم برسبیلِ تذکرہ یہی کہیں گے کہ جس طرح پاکستان کے اربابِ اختیار و فوجی قیادت نے وہاں کے عوام کو سالہا سال تک فریب میں مبتلا رکھا، وہی نا انصافی ہمارے ان قائدین کے ساتھ روا رکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں اجرِ بے پایاں سے نوازے۔
1990ء سے لے کر آج تک، ہمارے سینکڑوں بھائی ان قید خانوں سے تابوتوں میں نکلے ہیں۔ کبھی یہ گمان نہ کرنا کہ ہم بھول چکے ہیں۔ ہم ابھی بھی پلوامہ کے شہید رضوان پنڈت کو نہیں بھولے ۔ ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ کس طرح تم تفتیش کے نام پر ہزاروں نوجوانوں کو اٹھا لے جاتے ہو اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑتے ہو۔ ہم یہ بھی نہیں بھولے کہ تم کس طرح ہماری بہنوں کی عصمت دری کرتے ہو۔ ہمیں وہ ہزاروں گمنام قبریں بھی یاد ہیں، اور قید و بند کے وہ گمنام قیدی بھی جن کے مقدمات لڑتے لڑتے ان کے والدین وفات پا گئے اور اب ان کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں۔ ہمیں کشمیر سے آگرہ تک ان والدین کے آنسو بھی یاد ہیں جو اپنے جوان بیٹوں کی خستہ حالی دیکھ کر ان کی آنکھوں سے رواں ہوتے ہیں۔ ہمیں وہ ماں بھی یاد ہے جو پیدل اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے نکلی تھی۔ اللہ کی قسم، ایک ایک زخم ہمارے دلوں پر نقش ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت تک زندہ رکھے جب تک ہم ان کا بدلہ نہ چکا لیں۔
ہم پر، یعنی اہلیانِ کشمیر پر، ان بھائیوں اور بہنوں کا قرض ہے۔ ہم پر ان کا اور ان کے خاندانوں کا حق ہے، یہ ہم پر ایک اسلامی اور انسانی فریضہ ہے کہ ہم قید میں پڑے ان بھائیوں، بہنوں اور ان کے اہل خانہ کی خبر گیری کریں۔ لیکن افسوس کہ معاشرے پر ریاستی جبر اور مادیت کا غلبہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ نہ تو ہمیں اپنے رشتہ داروں میں جو قید ہیں ان کی مدد کرنے کی فکر ہے اور نہ ہی اپنے محلے میں بسنے والے مصیبت زدہ خاندانوں کی دستگیری گوارا ہے۔
پیغمبرِ رحمت، محمد ﷺکا فرمان ہے:
’’بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، بیماروں کی تیمار داری کرو، اور قیدیوں کو رہائی دلاؤ۔‘‘
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کو قید سے آزاد کروائے اور اس کے لیے جو فدیہ درکار ہو، وہ ادا کرے۔
ہم کس منہ سے خود کو امتی کہلائیں، جب ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے احکامات کی تعمیل سے غافل ہیں؟ اب تو صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ مصیبت زدہ گھرانوں سے رشتے ناتے تک منقطع کیے جا رہے ہیں۔
ہمارے اسلاف نے ہمیشہ اس اہم معاملے پر زور دیا ہے۔
امام مالک فرماتے ہیں:
’’قیدیوں کو فدیہ دے کر آزاد کرانا امت پر واجب ہے، اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔‘‘
ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
’’قیدیوں کو آزاد کرانا سب سے بڑے اور افضل اعمال میں سے ایک ہے۔ اور اس مقصد کے لیے جو بھی رقم خرچ کی جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔‘‘
علامہ قرطبی تو یہاں تک فرماتے ہیں:
’’ہمارے علمائے کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ قیدیوں کو مال خرچ کر کے چھڑانا واجب ہے۔ اگر بیت المال میں ایک درہم بھی نہ بچے، تب بھی یہ فرض ساقط نہیں ہوتا۔‘‘
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصیبت میں گھرے ہوئے اپنے بھائیوں بہنوں کی مدد کرنا ہم پر کس قدر لازم ہے۔
قیدی مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے حق میں ہماری ذمہ داریاں
- دُعا: یہ سب سے مضبوط سہارا ہے، ہم پر ان کا یہ بنیادی حق ہے کہ ہم خلوصِ دل سے ان کے لیے دُعا کریں۔
- اخلاقی و معاشرتی حمایت: قید انسان کو معاشرے سے کاٹ دیتی ہے، اس لیے ہم انہیں اپنی دعاؤں اور یادوں میں زندہ رکھیں، ان کے معاملے سچائی کے ساتھ بیان کریں، ان کے حوصلے کو بلند رکھنے کی کوشش کریں، ایک پیغام، ایک خط بھی ان کے لئے بہت کچھ ہے۔
- ان کے اہلِ خانہ کی مالی مدد: یہ ایک عظیم صدقہ ہے، قیدی کے پیچھے رہ جانے والے خاندان شدید آزمائش سے گزرتے ہیں، روزگار کا خاتمہ ہو جاتا ہے، معاشرتی دباؤ بڑھ جاتا ہے، ان کے اہلِ خانہ کی کفالت (خوراک، تعلیم، رہائش وغیرہ) نہ صرف صدقہ ہے بلکہ ہم پر ایک بڑی دینی ذمہ داری ہے۔
- ان کے حق میں آواز اٹھانا اور ان کا دفاع کرنا: ان کے حق میں شعور بیدار کریں، انصاف کے لیے ذرائع اختیار کریں، وکلاء کا خرچا اٹھائیں۔
- ملاقات کرنا: نئے قوانین کے مطابق تو اب اپنے گھر والوں(خونی رشتوں) کے علاوہ کسی کو ملاقات نہیں دیا جاتا لیکن اگر کسی طرح ممکن ہو تو ان سے ملاقات کریں، خطوط یا پیغامات کے ذریعے رابطہ رکھیں، یہ انہیں احساس دلاتا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
انتہائی غم اور تشویش کی بات ہے کہ محترمہ سیدہ آسیہ اندرابی صاحبہ کو، جن پر عائد کردہ کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا، ایک ہی زندگی میں دو بار عمر قید کی سزا سنائی گئی، ان کے ساتھ ساتھ ان کی دو ساتھی خواتین، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو بھی 30 سال قید با مشقت کی سزا دی گئی ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان ماؤں کی رہائی کے لیے جدوجہد کرنے اور ان اذیت ناک قید خانوں کو مسمار کرنے کی توفیق عطا فرمائے جہاں انہیں ظالمانہ طور پر قید رکھا گیا ہے۔
وہ منافق پاکستانی جرنیل کہاں ہیں جو آسیہ اندرابی صاحبہ کو اپنی بہن قرار دیتے تھے؟ کیا غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ بہن قید تنہائی میں سسکتی رہے اور وہ خاموش تماشائی بنے رہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ نہ صرف ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مجرم ہیں، بلکہ آسیہ اندرابی صاحبہ کے بھی گنہگار ہیں۔ انہوں نے ایک کو ڈالروں کے عوض فروخت کر دیا اور دوسری کو اپنی خارجہ پالیسیوں اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے اس کا حساب ضرور لے گا۔
میں پوری امت مسلمہ سے اپیل کرتا ہوں کہ کشمیر کے ان بے گناہ قیدیوں کے حق میں آواز بلند کریں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی داستانوں کو عام کریں، کیونکہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے اور یہ جنگ حق و باطل کی جنگ ہے۔
میں اللہ رب العزت کی بارگاہ عالیہ میں دست بہ دعا ہوں کہ، اے رحیم و کریم رب، اب ہمارے حال زار پر رحم فرما۔ ہم عاجز و بے بس ہیں اور تیرے سوا کوئی ہمارا مددگار نہیں۔ الٰہی، ہماری نصرت فرما اور عرب و عجم میں جہاں کہیں بھی مظلوم مسلمان قیدی بند ہیں، ان کی رہائی کے اسباب پیدا فرما۔ آمین!
٭٭٭٭٭
- 1پبلک سیفٹی ایکٹ(PSA): اس قانون کے تحت حکومت کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے ایک مخصوص مدت تک (ایک یا دو سال) حراست میں رکھ سکتی ہے، اس قانون کے مطابق کسی جرم کے ثابت ہونے سے پہلے ہی گرفتاری ممکن ہے۔
- 2Unlawful Activities Prevention Act (UAPA): اس قانون کے تحت حکومت کسی تنظیم کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث افراد کو گرفتار کر سکتی ہے، اس قانون کے تحت گرفتاری کے بعد ضمانت حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے اور ملزم کو طویل عرصے تک بغیر چارج شیٹ کے بھی حراست میں رکھا جاتا ہے









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



